رسول اللہ ﷺ کا مقام، شرحِ قرآن اور وحی خفی کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عقائد اہل السنۃ والجماعۃ

سوال: اللہ کے نازل کردہ دین میں محمد رسول اللہ ﷺ کا کیا مقام ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو رسالت کے ساتھ مخصوص فرما کر آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی مکمل تشریح کا حکم دیا: [وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الذِّکۡرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیۡہِمۡ] اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے، تاکہ جو (ارشادات) نازل ہوئے ہیں وہ لوگوں سے بیان کر دو۔ (النحل:44)

آیت کریمہ کے اس حکم میں دو باتیں شامل ہیں:

[1] الفاظ اور ان کی ترتیب کا بیان (یعنی) قرآن مجید کا مکمل متن امت تک اس طرح پہنچا دینا جس طرح اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔

[2] الفاظ، جملہ یا مکمل آیت کا مفہوم و معانی بیان کرنا تاکہ امتِ مسلمہ قرآنِ حکیم پر عمل کر سکے۔

سوال: قرآن مجید کی جو شرح رسول اللہ ﷺ نے فرمائی اس کی کیا حیثیت ہے؟

جواب: دینی امور میں رسول اللہ ﷺ کے فرامین اللہ کے حکم کے مطابق ہوتے ہیں: [وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی]

[اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے]،[ وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے] (النجم:3، 4)

اس لیے فرمایا: [مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ] جس نے رسول (ﷺ) کی اطاعت کی پس تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (النساء:80)

یہی وجہ ہے کہ دینی امور میں فیصلہ کن حیثیت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو حاصل ہے، فرمایا: [فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ] پس اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر تم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو۔(النساء:59)
معلوم ہوا اسلام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی پیروی کا نام ہے۔

سوال: کیا انبیاء علیہم السلام کو کتب کے علاوہ بھی وحی آتی ہے؟

جواب: یقیناً انبیاء علیہم السلام کو کتبِ سماوی کے علاوہ بھی وحی آتی ہے اور اس وحی پر عمل بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اللہ کے کلام پر۔ کتاب کے علاوہ وحی کی اقسام میں سے ایک قسم انبیاء کے خواب ہیں، ابراہیم علیہ السلام کا خواب ملاحظہ فرمائیں: [فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعۡیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الۡمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذۡبَحُکَ فَانۡظُرۡ مَاذَا تَرٰی ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افۡعَلۡ مَا تُؤۡمَرُ ۫ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیۡنَ]،[فَلَمَّاۤ اَسۡلَمَا وَ تَلَّہٗ لِلۡجَبِیۡنِ]،[وَ نَادَیۡنٰہُ اَنۡ یّٰۤاِبۡرٰہِیۡمُ]،[قَدۡ صَدَّقۡتَ الرُّءۡیَا ۚ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُحۡسِنِیۡنَ]

[پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑ د ھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے! بلاشبہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو دیکھ تو کیا خیال کرتا ہے ؟ اس نے کہا اے میرے باپ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے کر گزر، اگر اللہ نے چاہا تو تو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا ]،[ تو جب دونوں نے حکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پر گرا دیا]،[ اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم ! ]،[ یقینا تو نے خواب سچا کر دکھایا، بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں] (الصافات:102تا105)

اس آیت میں خواب میں بیٹے کو ذبح کیے جانے والے عمل کو اللہ کا حکم کہا گیا ہے۔

سوال: کیا رسول اللہ ﷺ پر بھی خواب میں وحی ہوئی؟

جواب: رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر طواف کر رہے ہیں، چونکہ یہ خواب بھی وحی کی قسم میں سے تھا، لہذا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ روانہ ہوئے لیکن کفارِ مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر آپ ﷺ کو روک دیا اور وہاں صلح حدیبیہ ہوئی، جس کی رو سے یہ طے پایا کہ آپ اس سال کی بجائے اگلے سال بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ آپ ﷺ کے خواب کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم میں خلجان پیدا ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے پوچھا: کہ کیا آپ ﷺ نے ہمیں خبر نہیں دی تھی کہ ہم مکہ میں داخل ہوں گے؟آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! میں نے تمہیں بتایا تھا مگر میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ ایسا اسی سفر میں ہو گا۔واپسی پر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائیں: [لَقَدۡ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوۡلَہُ الرُّءۡیَا بِالۡحَقِّ ۚ لَتَدۡخُلُنَّ الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ] بلا شبہ اللہ نے اپنے رسول (ﷺ) کو سچا خواب دکھایا، تم ضرور مسجد حرام میں امن و امان سے داخل ہو گے، اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ (الفتح:27)

معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی خواب میں وحی ہوئی۔

سوال: کیا قرآنِ حکیم کے علاوہ وحی کے ذریعے احکامات نازل ہوئے؟

جواب: بلا شبہ قرآن مجید کے علاوہ بھی احکامات نازل ہوئے۔ مثلاً مسلمانوں کا پہلا قبلہ بیت المقدس تھا جس کی طرف17-16 سال تک منہ کر کے مسلمان نماز ادا کرتے رہے۔ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کا حکم قرآن حکیم میں نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَا جَعَلۡنَا الۡقِبۡلَۃَ الَّتِیۡ کُنۡتَ عَلَیۡہَاۤ اِلَّا لِنَعۡلَمَ مَنۡ یَّتَّبِعُ الرَّسُوۡلَ مِمَّنۡ یَّنۡقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیۡہِ] اور ہم نے وہ قبلہ جس پر آپ اب تک تھے اس لیے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرتا ہے۔ (البقرة:143)

معلوم ہوا کہ بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرنے کا حکم اللہ نے بذریعہ وحی خفی دیا۔ قرآن حکیم کے علاوہ دوسری وحی کو وحی خفی (سنت) بھی کہتے ہیں۔