مضمون کے اہم نکات
قرآن کریم پر ایمان
تمام اہلِ اسلام کا متفقہ اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم پر ایمان لانا اصول ایمانیات میں سے ایک ضروری اصل اور اہم بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم میں بہت سی آیات ایسی ہیں جن میں قرآن کریم پر ایمان لانے کے لیے امر کا صیغہ موجود ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَآمِنُوا بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ ۖ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ ﴿٤١﴾
”اور اس (کتاب) پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کی جبکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمھارے پاس ہے اور تم اس کا سب سے پہلے انکار کرنے والے نہ بنو اور تم میری آیتوں کو تھوڑی قیمت میں نہ بیچو اور مجھ ہی سے ڈرو۔“
(2-البقرة:41)
اور فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ آمِنُوا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰ أَدْبَارِهَا أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّا أَصْحَابَ السَّبْتِ ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا ﴿٤٧﴾
”اے لوگو جنھیں کتاب دی گئی! اس (قرآن) پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا، وہ اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمھارے پاس ہے، (تم ایمان لاؤ) اس سے پہلے کہ ہم چہرے بگاڑ دیں اور انھیں پیچھے کی طرف پھیر دیں یا ان پر اسی طرح لعنت بھیجیں جس طرح ہم نے سبت والوں پر لعنت بھیجی تھی اور (یاد رکھو!) اللہ کا حکم اٹل ہے۔“
(4-النساء:47)
اور فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١٣٦﴾
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ، اس کے رسول اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی اور اس کتاب پر بھی جو اس نے پہلے نازل کی۔ اور جو شخص اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور آخرت کے دن کا انکار کرے تو وہ یقیناً بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔“
(4-النساء:136)
صرف اتنا ایمان لانا کہ یہ کتاب الہی ہے یا اللہ تعالیٰ نے اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔ یہ اجمالی ایمان کافی نہیں کیونکہ سابقہ الہامی کتابوں (تورات، انجیل اور زبور وغیرہ) پر تو مجمل ایمان لانا کافی ہے لیکن قرآن کریم پر مجمل ایمان کے ساتھ ساتھ ایمان مفصل بھی ضروری ہے۔ قرآن کریم سے مندرجہ ذیل تفصیلات و عقائد ثابت ہیں:
قرآن وحی الہی ہے
قرآن وحی الہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں 27 مرتبہ اپنی طرف اس بات کی نسبت کی ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی وحی کردہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ
”اور آپ کے رب کی کتاب میں سے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے اسے تلاوت کیجیے۔“
(18 – الكهف: 27)
نیز فرمایا:
ذَٰلِكَ مِمَّا أَوْحَىٰ إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ
”یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی کی ہیں۔“
(17 – بني إسرائيل :39)
نیز فرمایا:
إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ
”اے نبی! بے شک ہم نے آپ کی طرف وحی کی جیسے ہم نے نوح اور ان کے بعد دوسرے نبیوں کی طرف وحی کی۔“
(4 – النساء :163)
اس قسم کی اور بھی آیات ہیں۔ وحی نازل کرنے کے تین طریقے بیان فرمائے ہیں، چنانچہ فرمایا:
وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ
”اور یہ کسی انسان کے لائق نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کے پیچھے سے یا اللہ تعالیٰ کسی فرشتے کو بھیج دے جو اس کے حکم سے جو کچھ چاہے اسے پہنچا دے۔“
(42-الشورى:51)
اور فرشتے سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں جیسا کہ فرمایا:
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ
”آپ فرما دیں کہ جو کوئی جبریل علیہ السلام کا دشمن ہے، تو اس نے اسے آپ کے دل پر اتارا ہے۔“
(2-البقرة:97)
نیز فرمایا:
وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٩٢﴾ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ﴿١٩٣﴾
”اور بلاشبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اسے روح الامین (جبریل علیہ السلام) لے کر نازل ہوا ہے۔“
(26-الشعراء:192، 193)
سورۂ شوریٰ کی آیت میں مذکور تیسرا طریقہ وحی (بذریعہ فرشتے) کا تذکرہ کتب احادیث میں مذکور ہے کہ جبریل علیہ السلام کبھی گھنٹی بجنے کی آواز کی طرح وحی لے کر آتے جس کا اخذ کرنا سخت تھا، پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مکمل طور پر اخذ فرماتے اور کبھی جبریل علیہ السلام دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ وغیرہ کی صورت میں نمودار ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سنایا کرتے تھے، یہ آسان طریقہ تھا۔
(صحيح البخاري، بدء الوحي، باب كيف كان بدء الوحي، حديث: 2 ، دحیہ رضی اللہ عنہ کے نام کی وضاحت کے لیے دیکھیے: سنن النسائي، الإيمان، باب صفة الإيمان والإسلام، حديث:4994.)
لہذا نزول وحی کے چار طریقے ثابت ہوئے۔
وحی عربی زبان کا لفظ ہے، لغت کے اعتبار سے اس میں بڑی وسعت ہے یہ لفظ قرآن کریم میں مختلف معانی کے لیے استعمال کیا گیا ہے:
➊ فطری تعلیم: جیسا کہ فرمایا:
وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ﴿٦٨﴾
”تیرے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ تو پہاڑوں میں گھر (چھتے) بنائے درختوں میں اور ان (چھپروں) میں جن پر لوگ (بیلیں) چڑھاتے ہیں۔“
(16-النحل:68)
➋ شیطانی وسوسہ: فرمایا:
يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا
”وہ ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی ہوئی باتیں دھوکا دینے کے لیے ڈالتے رہتے ہیں۔“
(6-الأنعام:112)
➌ دل میں الہام کرنا: فرمایا:
وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ
”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے دل میں یہ الہام کیا کہ وہ اسے دودھ پلاتی رہیں۔“
(28 – القصص:7)
اس وقت کوئی اور نبی نہیں تھا جس کے ذریعے سے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو وحی سنائی گئی ہو بلکہ صرف ان کے دل میں یہ بات ڈال دی گئی کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کو دودھ پلائیں اور اگر کوئی بات نبی کے دل میں ڈال دی جائے تو وہ وحی نبوت ہے لیکن پرویز صاحب نے وحی صرف وحی نبوت کے ساتھ مخصوص کر دی ہے اور جبریل کے ذریعے سے نازل شدہ وحی کے علاوہ کا انکار کیا ہے اور یہ قرآن سے اس کی لاعلمی کا ثبوت ہے۔ یہ غلط نظریہ انھوں نے اپنی کتاب قرآنی فیصلے ص: 231 پر بیان کیا ہے۔
قرآن منزل من اللہ ہے
قرآن کریم کے متعلق الفاظ انزال، تنزيل اور نزول کے استعمال سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اوپر سے نیچے اتارا ہے۔ اہل زمین میں سے کسی کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ
”اور ہم نے حق کے ساتھ اسے اتارا ہے اور وہ حق کے ساتھ اترا ہے۔ یعنی راستے میں بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔“
(17-الإسراء:105)
قرآن کریم کی بہت سی آیات میں نزول کا مادہ استعمال کیا گیا ہے اور اسی طرح مصدر انزال سے ستاون (57) مرتبه يہ لفظ آيا ہے.فرمايا:
هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ
”وہی ذات ہے جس نے آپ پر کتاب اتاری۔“
(3-آل عمران:7)
عربی لغت میں انزال کا معنی اتارنا اور نزول کا معنی اترنا ہے، البتہ انزال کبھی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیدا کردہ چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا:
أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا
”ہم نے تم پر لباس نازل کیا۔“
(7-الأعراف:26)
نیز فرمایا:
وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ
”اور ہم نے لوہا پیدا کیا۔“
(57-الحديد:25)
نیز فرمایا:
أَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ
”اور اس نے تمھارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے (نر اور مادہ) پیدا کیے۔“
(39-الزمر:6)
لیکن پیدائش کے معانی میں مادۂ نزول بالکل مستعمل نہیں جیسا کہ نزول عیسیٰ علیہ السلام، جو صحیح حدیث میں وارد ہے، کا معنی پیدائش سے کرنا غلط ہے بلکہ وہاں اترنے کے معنی میں ہے لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے تحریف کر کے ينزل فيكم ابن مريم کا معنی کیا ہے: ”پیدا ہوگا تمھارے درمیان (مثیل) ابن مریم۔“ یہ سراسر جھوٹ اور باطل تاویل ہے۔ وحی کے انزال اور نزول میں عربی لغت کا حقیقی معنی مراد ہے، یعنی اوپر سے اتارنا اور اترنا اور یہی حق بات ہے کیونکہ انزال اور نزول وحی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے لحاظ سے ہر جگہ موجود نہیں بلکہ وہ ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش عظیم پر مستوی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں سورۂ اعراف، یونس، رعد، طہ، فرقان، سجدہ اور حدید میں یہ بات نص صریح سے ثابت ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے لیے صفت علو (بلند ہونے کی صفت)، تعاليٰ کے صیغے سے چودہ مرتبہ، علي کے صیغے سے آٹھ مرتبہ، اعلیٰ کے صیغے سے دو مرتبہ، علو اور متعال کے صیغے سے ایک ایک مرتبہ مذکور ہے جبکہ فوق کا لفظ تین مرتبہ استعمال ہوا ہے، لہذا تینوں صیغے استواء على العرش، علو اور فوق عربی لغت کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے اوپر اور بلند ہونے کی صریح دلیل ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس کا کوئی مجازی معنی نہیں بتایا جیسا کہ تمام سلف صالحین کا یہی مسلک ہے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لیے حقیقی طور پر مراد ہیں جن میں مخلوق کے ساتھ تشبیہ و تمثیل نہیں، نیز تاویل کرنا بھی تحریف ہے، پس ہر ذی شعور اور مسلمان شخص کے نزدیک انزال کا حقیقی معنی مراد ہے۔ صرف ایک پرویز احمد ایسے ہیں، جنھوں نے یہاں بھی اپنی کج ذہنی اور کج روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انزال اور نزول کی تاویل کی ہے۔ لکھتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کی ذات جہت اور سمت کی تمام نسبتوں سے پاک ہے، اس لیے نزول وحی سے یہ مراد نہیں کہ کوئی چیز سچ مچ اوپر کی سمت سے نیچے آتی ہے۔ خدا تو رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے، اس لیے وحی کی خارجیت سے اصل مقصد یہ بتایا ہے کہ یہ وحی ذہن انسانی کی پیداوار نہیں اور نہ ہی اس میں صاحب وحی کے کسب و ہنر کو کوئی دخل ہے۔ اس بات کے متعلق ہر ذی عقل یہ کہہ سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے تو رگِ جاں انسان سے خارج نہیں تو وحی کی خارجیت کہاں سے ثابت ہوتی ہے۔
(کتاب آدم و ابلیس، ص : 261)
اتباع قرآن فرض ہے
اتباع قرآن فرض ہے اور اس کے لیے چھ مرتبہ امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ فرمایا:
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ
”اور یقیناً یہ میرا راستہ سیدھا ہے، لہذا تم اس کی پیروی کرو۔“
(6-الأنعام:153)
نیز فرمایا:
وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ
”اور یہ ایک بابرکت کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا ہے، لہذا اس کی اتباع کرو۔“
(6-الأنعام:155)
اسی طرح سورۂ زمر، آیت: 55، سورۂ یونس، آیت: 109 اور سورۂ قیامہ، آیت: 18 میں بھی امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔
”اتباع کرو“ کے الفاظ زیادہ تر عمل کے معنی میں استعمال کیے جاتے ہیں، جس کی تفصیل ان شاء اللہ دوسرے باب میں آئے گی۔ پس ان آیات میں مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم میں جتنے اوامر، نواہی یا احکامات موجود ہیں ان پر عمل کرنا فرض ہے۔ اللہ کے اوامر میں یہ آیت بھی موجود ہے:
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي
”آپ فرما دیں اگر تمھیں اللہ سے محبت ہے تو پھر میری اتباع کرو۔“
(3-آل عمران:31)
یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی اتباع ہم پر فرض کر دی ہے۔ نماز، روزہ، زکاۃ، حج اور دیگر عبادات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی اتباع کرنا ہم پر فرض ہے۔ لیکن پرویزی” طلوع اسلام “اس کی مخالفت کرتا ہے جسے میں ان شاء اللہ دوسرے باب میں ثابت کروں گا۔
قرآن کی زبان عربی ہے
قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا ہے، جیسا کہ بہت سی آیات میں اس کا ذکر ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا
”بے شک ہم نے اسے عربی قرآن نازل کیا ہے۔“
(12-یوسف:2)
نیز فرمایا:
بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ
”واضح عربی زبان میں (نازل کیا گیا)۔“
(26-الشعراء:195)
یعنی اس میں کوئی لفظ عجمی اور عجمی محاورہ نہیں جو الفاظ عجمی معلوم ہوتے ہیں وہ بھی اصل میں عربی زبان کے ہی تھے لیکن اہل عجم نے انھیں استعمال کر لیا، نیز اس کے عربی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے معانی اور محاورات کو اہل عرب کے طور طریقے اور قواعد کے مطابق سمجھنا اور استعمال کرنا ہوگا۔ قرآن کریم چونکہ وحی الہی اور تشریعی کتاب ہے، لہذا اس کے معانی کے مصداق کی تعیین میں شرع کا اعتبار ہوگا اور جس لفظ کا معنی شارع نے طے کر دیا ہو اسی کو لیا جائے گا، مثلاً: صلاة لغت میں اس کے معنی دعا یا اطاعت کرنا ہیں لیکن شارع نے جہاں اس کے معنی نماز بتائے ہیں تو وہی مراد لیے جائیں گے۔
زکاۃ کا لغوی معنی پاکیزگی ہے لیکن جہاں شارع نے اس کا خاص شرعی اصطلاحی معنی متعین کیا ہے تو وہاں اسی شرعی معنی کا اعتبار ہوگا، یعنی خاص مالی فریضہ۔ جبکہ انکار حدیث کے فتنے میں ملوث افراد نے قرآن کریم کے لغوی اور شرعی معانی چھوڑ کر اپنی طرف سے دور از کار تاویلات کیں جیسا کہ پرویز نے صلاۃ، زکاۃ اور حج وغیرہ کے ایسے معانی ایجاد کیے ہیں جن سے شریعت کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح سرسید احمد خان نے جنت، شجر ممنوعہ اور ہبوط آدم کی تاویلات کی ہیں۔ یہ ساری تاویلات باطل تاویلات ہیں۔ آخری ابواب میں ان شاء اللہ تعالیٰ اس کے کچھ نمونے بھی پیش کیے جائیں گے۔
ایمان بالملائکہ قرآن سے ثابت ہے
قرآن کریم میں جن اشیاء پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے ان میں فرشتوں پر ایمان لانا بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَن كَانَ عَدُوًّا لِّلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِّلْكَافِرِينَ ﴿٩٨﴾
”جو شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں اور جبریل و میکائیل کا دشمن ہے تو بے شک اللہ بھی کافروں کا دشمن ہے۔“
(2-البقرة:98)
اور ان کے ساتھ دشمنی کا اول درجہ یہ ہے کہ ان پر اور ان کی صفات پر ایمان نہ لایا جائے، لہذا جو شخص فرشتوں اور قرآن کریم میں ان کی مذکورہ صفات کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔
نیز فرمایا:
وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ
”لیکن نیکی تو یہ ہے کہ کوئی اللہ پر، یوم آخرت پر، فرشتوں، کتابوں، اور نبیوں پر ایمان لائے۔“
(2-البقرة:177)
مذکورہ آیت میں اور بھی بہت سی چیزوں کا ذکر ہے اور آیت کے اختتام پر فرمایا:
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ ﴿١٧٧﴾
”یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔“
(2-البقرة:177)
یعنی ایسے لوگوں ہی کو حقیقی اور سچے مومن ہونے کا خطاب دیا۔
نیز فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴿١٣٦﴾
”اے ایمان والو! اللہ پر، اس کے رسول اور اس کی کتاب پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول پر نازل فرمائی اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اس سے پہلے اس نے نازل کی اور جو شخص اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت کا انکار کرے تو وہ یقیناً بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔“
(4-النساء:136)
اور فرشتوں پر ایمان لانے میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کے ان اوصاف پر بھی ایمان لایا جائے جو قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ان میں سے بعض اوصاف درج ذیل ہیں:
● فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔
(البقرہ2 : 34)
● وہ حق چھپانے والوں پر لعنت کرتے ہیں۔
(البقرة 161:2)
● طالوت کے لیے تابوت اٹھا کر لائے تھے۔
( البقرة 248:2)
● زکریا علیہ السلام کو شام کو آواز دے کر بیٹے کی بشارت دی۔
(أل عمران 3 : 39)
● مریم علیہا السلام کے ساتھ مکالمہ کیا۔
( أل عمران 42:3-45)
● غزوہ بدر میں نصرت کے لیے ملائکہ کا نزول ہوا۔
( أل عمران 125,124:3 )
● روح قبض کرنے کے لیے آتے ہیں۔
( النساء 97:4 ، والأنعام 93:6 )
● بعض فرشتے روح اور وحی لانے والے ہیں۔
(النحل 2: 16)
● بعض فرشتے اعمال لکھنے والے ہیں۔
( الانفطار 82: 11,10)
● بعض فرشتے عرش اٹھانے والے ہیں۔
( الحاقة 17:69)
● آسمان کی طرف چڑھنے والے ہیں۔
( المعارج 4:70)
● ”فرشتے اللہ کے بندے ہیں، بیٹیاں نہیں۔“
(الزخرف 19:43)
ان کے علاوہ بھی ان کے اوصاف و اعمال ہیں، لہذا ان تمام اوصاف کے ساتھ فرشتوں پر ایمان لانا، ایمان شرعی ہے۔ اب ذرا منکرین حدیث کی تاویلات کفریہ ملاحظہ فرمائیں:
غلام احمد پرویز لکھتے ہیں:
”فرشتے کائنات کی قوتیں (جن سے رزق پیدا ہوتا ہے) انسان کے تابع ہیں، وہ سب اس کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔“
( كتاب إبليس و آدم، ص52 )
انھوں نے اس میں فرشتوں سے مراد زمینی قوت پیداوار لیا ہے اور اپنے استاد سرسید کی تقلید میں واقعہ سجود آدم کو ایک ڈرامے کا تصور دیا ہے اگر چہ دونوں کی تاویلات میں کچھ فرق ہے۔ اندازہ کریں! ایسی تاویلات تو یہودی بھی نہیں کر سکتے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ان لوگوں کا فرشتوں پر ایمان نہیں ہے۔
مسئلہ تقدیر قرآن سے ثابت ہے
قرآن کریم نے مسئلہ تقدیر کو مختلف تعبیرات سے پیش کیا ہے چونکہ یہ تعبیرات قرآن کریم کی اخبار ہیں، لہذا ان کی تصدیق ہم پر فرض ہے اور تقدیر پر ایمان لانے کا یہی معنی ہے۔ تقدیر اور قضا کیا ہے؟ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا فرمائی یا مستقبل میں جو پیدا فرمائے گا، خواہ وہ اعیان (ذوات) ہوں یا کیفیات و ہیئات، احوال و اعراض، خیر و شر، صحت و مرض، تو نگری و فقیری وغیرہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کامل کی وجہ سے انھیں ان کے پیدا کرنے سے پہلے ہی مقرر کر کے لکھ دیا ہے اور اب اس کے مطابق یہ چیزیں وجود میں آتی ہیں۔ پہلے مقرر کرنے کو تقدیر کہا جاتا ہے اور بعد میں اس کا وجود میں آنا قضا ہے۔ بسا اوقات تقدیر وقضا ایک ہی معنی میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور یہ ایک بنیادی اسلامی عقیدہ ہے جبکہ معتزلہ، قدریہ، دہریہ اور منکرین حدیث وغیرہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ ہم اس مسئلے کے متعلق پہلے قرآنی تعبیرات کا اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں:
❀ تعبیر اول: مادہ ”قدر“ کا استعمال
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا
”اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کیا۔“
(25-الفرقان:2)
اس میں ہر چیز کی تقدیر کا ذکر ہے، نیز فرمایا:
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ
”ہم ہی نے تمھارے درمیان موت مقدر کر دی ہے۔“
(56-الواقعة:60)
اس میں صرف موت کی تقدیر کا ذکر ہے، نیز فرمایا:
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ﴿٣٨﴾ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ
”اور سورج اپنے ٹھکانے (پر پہنچنے) کے لیے رواں دواں رہتا ہے، یہ نہایت غالب، خوب جاننے والے (اللہ) کا اندازہ ہے۔ اور چاند کی ہم نے (اٹھائیس) منزلیں مقرر کر رکھی ہیں۔“
(36 – یس:38-39)
پہلی آیت میں سورج کی تقدیر اور دوسری آیت میں چاند کی منازل کی تقدیر کا ذکر ہے، نیز فرمایا:
وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ
”اور اس کے ہاں ہر چیز کی ایک مقدار (مقرر) ہے۔“
(13-الرعد:8)
نیز فرمایا:
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَهُ بِقَدَرٍ
”بلاشبہ ہم نے ہر چیز ایک مقرر اندازے کے مطابق پیدا کی ہے۔“
(54-القمر:49)
ان دونوں آیات میں ہر چیز کی تقدیر کا ذکر ہے، نیز فرمایا:
قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
”بے شک اللہ نے ہر چیز کے لیے تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔“
(65-الطلاق:3)
نیز فرمایا:
وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدْرًا مَقْدُورًا
”اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ تقدیر ہوتی ہے۔“
(33-الأحزاب:38)
اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے تمام امور کی تقدیر کا ذکر ہے۔
❀ تعبیر دوم: مادۂ قضا قرآن کریم میں مادہ قضا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بعض فرامین درج ذیل ہیں۔ فرمایا:
قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ
”اس معاملے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے جس کی بابت تم مجھ سے پوچھ رہے تھے۔“
(12-يوسف:41)
یہاں قضا، بمعنی تقدیر ہے، یعنی ایک شخص کو صلیب پر چڑھایا جانا اور دوسرے کی نجات پہلے ہی سے مقرر کر دی گئی ہے، نیز فرمایا:
وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا
”اور یہ (عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت باپ کے بغیر) پہلے سے مقرر شدہ معاملہ تھا۔“
(19-مریم:21)
نیز فرمایا:
كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا
”جہنم پر ہر شخص کا وارد ہونا تیرے رب کے نزدیک فیصلہ شدہ بات ہے۔“
(19-مریم:71)
❀ تعبیر سوم: مادہ کتاب : یعنی ہر بات اللہ تعالیٰ نے پہلے سے لکھ رکھی ہے اور اس کتاب کا نام لوح محفوظ، کتاب مکتوب، کتاب مبین اور ام الکتاب ہے۔ اس کے متعلق بہت سی آیات ہیں۔ فرمایا:
وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ
”اور اللہ نے تمھارے مقدر میں جو لکھ رکھا ہے اسے تلاش کرو۔“
(2-البقرة:187)
اس سے مراد اولاد ہے، نیز فرمایا:
قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا
”کہہ دیجیے۔ ہمیں تو صرف وہ (مصیبت پہنچے گی) جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے۔“
(9-التوبة:51)
اور فرمایا:
مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ
”زمین میں اور تمھاری جانوں پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تو کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔“
(57-الحديد:22)
ان دونوں آیتوں کا مضمون یہ ہے کہ انسان کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ پہلے سے لکھی ہوتی ہے، نیز فرمایا:
وَلَوْلَا أَنْ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ
”اور اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ان کا جلاوطن ہونا لکھ دیا تھا۔“
(59-الحشر:3)
یعنی بنو نضیر کے یہود کی جلاوطنی پہلے ہی سے لکھی ہوئی تھی۔ اور فرمایا:
وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
”اور کوئی تر چیز اور کوئی خشک چیز ایسی نہیں جو واضح کتاب میں لکھی ہوئی نہ ہو۔“
(6-الأنعام:59)
نیز فرمایا:
كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
”ہر چیز واضح کتاب میں ہے۔“
(11-هود:6)
ہر چیز کا رزق، اس کا ٹھکانا اور اس کے دفن ہونے کی جگہ پہلے سے کتاب مبین میں لکھی ہوئی ہے، نیز فرمایا:
لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ
”ہر وعدے کے لیے لکھا ہوا وقت ہے۔ “
(13 – الرعد :38 )
نیز فرمایا:
وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَعْلُومٌ
اور ہم نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس ( کی تباہی) کے لیے میعاد مقرر تھی۔
(15 – الحجر: 4 )
نیز فرمایا:
كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا
یہ (فیصلہ) کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔
(17 – بني إسراء :58)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص اور ہر بستی کی ہلاکت پہلے سے لکھی ہوئی ہے۔ نیز فرمایا:
وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي كِتَابٍ
”اور ہم نے ہر چیز کو ایک کتاب میں گن رکھا ہے۔“
(13-الرعد:38)
نیز فرمایا:
وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ
”اور ہم نے ہر شے کو واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے۔“
(36-یس:12)
ان دونوں آیتوں میں ہر ایک چیز کے متعلق کتابت کا ذکر ہے۔
ان آیات کو غور و فکر کے ساتھ بار بار پڑھنے سے مسئلہ قضا و قدر پر ضرور یقین پیدا ہو جاتا ہے اور یہ چھٹا ایمانی رکن ہے جیسا کہ حدیث جبریل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
”أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره“
”ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، نیز تو اس کی اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لائے۔“
(صحیح مسلم، الإيمان، باب بیان الإيمان والإسلام، حدیث: 8)
لیکن چونکہ پرویزیت اصل میں ایمان کی جڑیں کاٹنے کا ذریعہ ہے، لہذا پرویز صاحب کے نزدیک تقدیر پر ایمان لانا مجوسیت ہے۔ ان کا کہنا ہے: ”اس طرح جب ایک دفعہ فرقہ بندی ہو گئی تو پھر اس کے بعد چل سو چل۔
مجوسی اساورہ (بصرہ میں آباد ہونے والے عجمی مجوسی اساورہ کہلاتے تھے۔) نے یہ سب کچھ اس خاموشی سے کیا کہ کوئی بھانپ ہی نہ سکا کہ اسلام کی گاڑی کس طرح دوسری پڑی پر جا پڑی۔ انھوں نے تقدیر کے مسئلہ کو اتنی اہمیت دی کہ اسے مسلمانوں کا جزو ایمان بنا دیا، چنانچہ ہمارے ایمان میں والقدر خيره وشره من الله تعالىٰ کا چھٹا جزو انھی کا داخل کیا ہوا ہے۔“
( قرآنی فیصلے بحوالہ آئینہ پرویزیت)
اپنی کتاب قرآنی فیصلے میں لمبی بحث کے آخر میں تقدیر، اجل اور موت کے متعلق لکھتے ہیں: ”یہ تصور قرآن کے منشا کے خلاف ہے۔“ پھر فرمانِ الٰہی نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ کا معنی لکھتے ہیں : ”ہم نے تمھارے درمیان موت کے پیمانے مقرر کر دیے ہیں۔“
( قرآنی فیصلے، ص: 260 )
یہ ترجمہ عجیب و غریب اور فہم سے خالی ہے۔ قرآن میں تحریف کرتے ہوئے بھی کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کی گئی۔ آپ کو یہ ترجمہ کسی بھی لغت میں نہیں ملے گا۔ جہاں تک تقدیر کے متعلق اس سوال کا تعلق ہے کہ کسی چیز کے وجود میں آنے سے قبل اس کا اندازہ کیسے لگایا گیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور ہر چیز کو جاننے والا ہے جیسا کہ اس نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس کا تذکرہ کیا ہے۔
بعض ذہنوں میں یہ شبہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ تقدیر ماننے سے انسان مجبور محض بن جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تقدیر ایک غیبی مسئلہ ہے جس کا انسان کو کوئی علم نہیں، لہذا صرف اسے ماننے پر مجبوری لازم نہیں آتی کیونکہ دوسری طرف انسان کے لیے مشیت اور ارادہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ثابت فرمایا ہے:
فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ
”پس جو چاہے (اس پر) ایمان لائے اور جو چاہے منکر رہے۔“
(18-الكهف:29)
اسی طرح سورۂ فرقان (25:58) اور سورۂ مدثر (74:37 و 55) میں آیا ہے۔ بلکہ انسان کی اپنی مشیت اور ارادے میں آزادی شاء کے صیغے سے نو مرتبہ، شئت کے لفظ سے دو مرتبہ، شئتما دو مرتبہ، شئتم پانچ مرتبہ، تشاءون دو مرتبہ، يشاء دو مرتبہ، يشاءون دو مرتبہ اور صیغہ نشاء سے ایک مرتبہ بیان ہوا ہے۔ ان سب آیات میں بندے کے لیے اثبات مشیت کا ذکر ہے اور اسی طرح صفت ارادہ ماضی کے مختلف صیغوں سے بیس مرتبہ اور مضارع کے صیغوں سے اس سے بھی زیادہ مرتبہ وارد ہے، لہذا انسان صاحب ارادہ و اختیار ہے، پس اس صفت سے متصف شخص کو مجبور نہیں کہا جا سکتا۔ اسی ارادہ و اختیار کی وجہ سے انسان اللہ تعالیٰ کے احکام کا مکلف ہے۔ جزا و سزا (مکافات عمل) اسی پر مبنی ہے۔ اس مسئلے میں یہ کتاب زیادہ تفصیل کی متحمل نہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں تقدیر الہی اور اس کی کتابت کا صریح ذکر موجود ہے اور اس مسئلے میں پرویزی تاویلات خالص دھوکا ہیں اور عقیدہ تقدیر کو مجوسی تحریک کا نام دینا صریح کفر ہے۔
معجزات
قرآن کریم میں جتنے معجزات اور خرق عادت واقعات کا ذکر ہے انھیں کسی تحریف و تاویل کے بغیر ماننا ایمان بالقرآن کا ایک لازمی جزو ہے۔ اس قسم کے امور جو انبیاء علیہم السلام کے ہاتھوں یا ان کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ظاہر ہوتے ہیں وہ معجزہ کہلاتے ہیں اور جب اس طرح کے امور اللہ کے کسی ولی سے ظاہر ہوں تو انھیں کرامت کہتے ہیں۔ تمام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ ان امور کے ظاہر ہونے میں انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ ان سے ایسے امور کا ظاہر ہونا ایسے ہی ہے جیسے قلم سے کتابت۔ اس کتابت میں قلم کا کوئی اختیار نہیں۔ انھی امور کی چند مثالیں درج ذیل آیات میں ہیں:
(1) سورۂ بقرہ کی آیات (55، 56، 73، 243، 258، 259) میں اسی دنیا میں موت کے بعد معجزہ و کرامت کے طور پر دوبارہ زندہ ہونا ثابت ہے جس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور سورۂ آل عمران (49:3) میں عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا ذکر ہے۔
پرویزی لاجواب ہو گیا: ایک مجلس میں مجھ سے ایک پرویزیت زدہ شخص نے پوچھا کہ مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ فلاں فلاں واقعے میں انسان اس دنیا میں موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوا، حالانکہ یہ قرآن کے قانون کے خلاف ہے کیونکہ قرآن کے قانون کے مطابق انسان مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ اٹھایا جائے گا جبکہ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا میں فوت ہوئے اور اسی دنیا میں دوبارہ زندہ کیے گئے۔ یہ تو قانون قرآن کے خلاف ہے۔ میں نے اس سے پوچھا: قیامت کے روز دوبارہ زندہ کیے جانے کو آپ کیوں تسلیم کرتے ہیں؟ اس نے کہا: یہ قرآن میں مذکور ہے۔ میں نے کہا: دنیا میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کے واقعات بھی تو قرآن میں مذکور ہیں
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَبِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ
”کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض حصے کا انکار کرتے ہو۔“
(2-البقرة:85)
وہ شخص لا جواب ہو کر خاموش ہو گیا۔
(2) یحییٰ علیہ السلام کی ولادت اس حالت میں ہوئی کہ اس عمر میں والدین عام طور پر افزائش نسل کے اہل نہیں ہوتے۔
(3- أل عمران :39)
(3) عیسیٰ علیہ السلام کا باپ کے بغیر پیدا ہونا۔
(3- أل عمران :47)
(4) مریم علیہا السلام کو ظاہری اسباب کے بغیر بند کمرے میں رزق پہنچنا۔
(3- أل عمران :37)
(5) اسحاق علیہ السلام کی ولادت اس حالت میں ہوئی کہ اس عمر میں والدین عام طور پر افزائش نسل کے اہل نہیں ہوتے۔
(11 – هود :71)
(6) صالح علیہ السلام کے دور میں کسی عام سبب کے بغیر پہاڑ سے اونٹنی کا ظاہر ہونا۔
(11 – هود :64)
(7) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ اسراء و معراج۔
(17 – بني إسراء :1 ) (53 – والنجم: 13-18)
(8) اصحاب کہف کا غار میں دھوپ سے بچنا۔
(18 – الكهف: 17)
اور کوئی ظاہری سبب ان کا معاون نہیں تھا، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے انھیں لوگوں سے محفوظ رکھا اور 309 سال غار میں سلائے رکھا۔
(18 – الكهف: 18 – 25)
(9) موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بن جانا، پھر واپس عصا بن جانا اور ہاتھ کا چمکدار بن جانا۔
(20 – طہ :22-20)
(10) ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں محفوظ رہنا۔
(21 – الأنبياء :69 )
(11) ملکہ سبا کے تخت کا ایک ہی لمحے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچایا جانا۔
(27 – النمل :40)
(12) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے ہو جانا۔
(54 – القمر: 1)
(13) اصحاب فیل کو کنکریوں کی بارش کے ذریعے سے تباہ و برباد کرنا۔
(105 – الفيل :5-1 )
قرآن کریم میں اس قسم کی اور بھی واضح آیات مذکور ہیں جو خرق عادت ہیں، لہذا انھیں معجزات اور کرامات سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن اس باب میں سرسید نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: ”ہمارا معجزات سے انکار اس بنا پر ہے کہ قرآن مجید سے معجزات اور کرامات، یعنی ظہور امور کا بطور خرق عادت، یعنی خلاف فطرت یا خلاف جبلت کے امتناع پایا جاتا ہے جس کو ہم مختصر لفظوں میں یوں تعبیر کرتے ہیں کہ کوئی امر خلاف قانون قدرت نہیں ہوتا۔“
(تفسير القرآن: 37/1)
سر سید نے اس عبارت میں معجزے سے انکار کرنے میں دھوکہ دہی سے کام لیا کہ پہلے تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ معجزہ خلاف قانونِ قدرت چیز ہوتی ہے اور قرآن مجید سے یہ بات ثابت ہے کہ کوئی چیز قانونِ قدرت کے خلاف واقع نہیں ہو سکتی، لہذا معجزہ بھی واقع نہیں ہو سکتا اور اگر یہ معاملہ قانونِ قدرت کے تحت ہے، پھر وہ معجزہ نہیں ہے کیونکہ جس شخص کو یہ قانونِ قدرت معلوم ہو جائے وہ اسے وجود میں لا سکتا ہے۔ یہ اس کے استدلال کی توضیح تھی۔ اس استدلال میں انھوں نے دھوکہ دہی سے کام لیا ہے، بات یہ ہے کہ معجزہ کسی کے نزدیک بھی قدرت الہیہ کے خلاف نہیں ہوتا بلکہ خلاف عادت ہوتا ہے اور مخلوق کی قدرت سے خارج ہوتا ہے، لہذا مذکورہ غلط استدلال سے انکار معجزات جہالت ہے، پھر انھوں نے قرآن مجید میں مذکور معجزات کی ایسی مضحکہ خیز تاویلات کی ہیں جن کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں، مثلاً: ابراہیم علیہ السلام کی آگ کی تاویل کرتے ہوئے کہا: ”یہ کفار کی طرف سے مخالف تدبیریں تھیں۔“
( تفسير القرآن، دیباچہ 17/1 )
اصحاب فیل کے متعلق ترميهم بحجارة من سجيل کا معنی کیا ہے کہ ابرہہ کے لشکر میں چیچک کی وبا پھوٹ پڑی تھی جس کی وجہ سے اس کی فوج ہلاک ہو گئی۔
موسیٰ علیہ السلام کے عصا اور ید بیضا کے متعلق کہا کہ یہ کیفیت جو موسیٰ علیہ السلام پر طاری ہوئی، یہ اسی قوت نفس انسانی کا ظہور تھا۔ یہ کوئی معجزہ یا فوق الفطرت چیز نہ تھی۔ انھوں نے اپنے خیال سے وہ عصا پھینک دیا کہ شاید یہ سانپ یا اژدہا ہے، جبکہ وہ لکڑی تھی اس میں فی الواقع کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کے لیے دریا کا خشک ہونا اور اس میں راستے بننے کے متعلق کہا کہ کوئی دریا پھٹا نہ کوئی خلاف عادت معجزہ ظہور میں آیا بلکہ اس دریا کی سمندر کی طرح عادت تھی کہ اس میں مدوجزر، چڑھنا اترنا، آنا فانا ہوا کرتا تھا۔
(تفسير القرآن تفسير سورة البقرة : 102,101/1 :آیت 47 وتفسير سورة الأعراف، بيان عصائے موسی بیان یدبيضا: 171/3-173 :آیت 104)
اور پتھر سے جاری ہونے والے بارہ چشموں کے متعلق لکھتے ہیں کہ حجر سے مراد پہاڑ اور ضرب سے مراد سفر کرنا ہے، یعنی اپنی لاٹھی کے سہارے پہاڑ پر چل، اس پہاڑ کے پرے ایک مقام ہے جہاں پانی کے بارہ چشمے جاری ہیں۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات کا انکار کر کے ایسی تاویلات کیں جو قرآن کی فصاحت و بلاغت کے یکسر خلاف ہیں۔
(تفسير القرآن، تفسير سورة البقرة: 113/1 ، آيت: 47)
یہ تو پرویز صاحب کے مقتدا سرسید احمد خان کا نظریہ تھا۔ ان کی اندھی تقلید کرتے ہوئے پرویز صاحب کا انکار معجزات کا نیا طریقہ سن لیں۔
وہ کہتے ہیں: ”قرآن میں الفاظ کا ترجمہ نہیں ہو سکتا بلکہ الفاظ کا مفہوم بیان کیا جائے۔“
( كتاب مفهوم القرآن)
پھر انھوں نے اس قانون کو قرآنی آیات میں تحریف اور بالخصوص آیات معجزات میں تاویل کرنے کے لیے حیلہ بنا کر معجزات کا انکار کیا۔ پرویز صاحب انکار معجزات میں سرسید کے ساتھ موافقت رکھتے ہیں، بس طریقہ کار مختلف ہے۔ آیات معجزات بیان کرنے سے پہلے ہم معنی مفہوم اور ترجمے کے الفاظ کی وضاحت پر اجمالاً نظر ڈالتے ہیں:
❀ لفظی معنی: یہ وہ معنی ہے جو لغت کے لحاظ سے اس لفظ سے مقصود ہوتا ہے اور کبھی لفظی معنی کو مصداق بھی کہہ دیتے ہیں۔
❀ مفہوم: وہ مقصود ہے جو لفظی معنی سے سمجھ میں آتا ہے، اس کی دو اقسام ہیں:
➊ مفہوم موافق: جو لفظی معنی کے ساتھ اثبات کے پہلو سے برابر ہو۔
➋ مفہوم مخالف: جو لفظی معنی کے مخالف سمت، یعنی نفی کے طور پر دلالت کرتا ہو۔
لیکن دونوں صورتوں میں شرط یہ ہے کہ وہ اہل لغت کے محاورات کے مطابق ہو، البتہ کبھی لفظی معنی کو مفہوم بھی کہہ دیا جاتا ہے۔
ترجمہ: دراصل تعبیر اور عنوان کو کہا جاتا ہے، خواہ اس کا معنی ہو یا مفہوم یا مضمون، جیسا کہ ترجمان اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دو اجنبی زبان والوں کے درمیان رابطے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے اور دوسرے کو سمجھانے کے لیے ایسی تعبیر کرتا ہے کہ جس سے اس کا مضمون دوسرے کو سمجھ آجائے۔
ہاں، یہ بات طے ہے کہ جتنی فصاحت و بلاغت عربی الفاظ کے ذریعے سے قرآن میں سموئی گئی ہے اتنی فصاحت و بلاغت کسی دوسری لغت میں نہیں پائی جاتی، مثلاً: ”الحمد لله“ کے جملے میں الف لام کا مقصد، حمد کا پورا معنی اور جملہ اسمیہ لانے میں جتنی فصاحت و بلاغت ہے وہ بمشکل ہی دوسری لغت میں آ سکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم قرآن کریم کے ہر لفظ و جملے کے حوالے سے یہ قانون لاگو کر دیں اور قطعی فیصلہ صادر کر دیں کہ قرآن کریم کا ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ اکثر مفردات ایسے ہیں جن کے لفظی معانی اہل لغت کو معلوم ہیں اور اس سے ہر اہل لغت اپنی لغت کی تعبیر کر سکتا ہے۔ اسی طرح ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ترجمہ چھوڑ کر مفہوم لینے میں یہ شرط ہے کہ عربی محاورے کے تحت ہو لیکن آپ کو آگے چل کر معلوم ہو جائے گا کہ پرویز صاحب نے مفہوم لینے کے بہانے قرآنی الفاظ کے ایسے معانی بیان کیے ہیں جن کا مفہوم، محاورہ عرب سے بہت دور ہے کیونکہ عربی زبان والے اب بھی موجود ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ پرویز صاحب نے فلاں لفظ اور فلاں آیت کا یہ مفہوم مراد لیا ہے کیا یہ مفہوم آپ کے نزدیک عربیت کی بنیاد پر درست ہے؟ تو ان کا جواب یقیناً نفی میں ہوگا۔
اب ہم پرویزی مفہوم کی بنا پر آیات معجزات کے حوالے سے چند مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ انھوں نے مفہوم کے بہانے کتنے قطعی اور یقینی معجزات کا انکار کیا ہے۔
➊ ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں پھینکا جانا: انھوں نے آگ کا معنی عداوت اور انتقام کی آگ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی آگ کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ”سلامتی والی، ٹھنڈی ہو جا“ کیسے ہو سکتا ہے؟
➋ فرمان الٰہی:
فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ
”پھر تو چار پرندے لے اور انھیں اپنے ساتھ مانوس کر لینے کے بعد ٹکڑے کر دے۔“
(2-البقرة:260)
پرویز صاحب مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: چار پرندے لو، وہ شروع میں تم سے دور بھاگیں گے۔ انھیں آہستہ آہستہ اس طرح سدھاؤ کہ وہ تم سے مانوس ہو جائیں۔ آخر میں لکھتے ہیں: بس حق سے نامانوس لوگوں میں زندگی پیدا کرنے کا یہی طریقہ ہے۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا طریقہ بتلا رہا ہے جبکہ پرویز صاحب نے اس کا تعلق جاہل قوموں کے ساتھ جوڑ دیا۔ کیا جاہل لوگوں کے احیا کا یہ طریقہ ہے کہ چار پہاڑوں پر پرندے رکھ کر ان کو آواز دو؟ اس کی کیا مناسبت ہے؟ فصرهن کے معنی میں تفصیلی تحقیق ہم نے اپنی تفسیر احسن الکلام میں بیان کر دی ہے کہ اس کا معنی مانوس کرنا نہیں، اگر ہے تو اس کے ساتھ قطع (کاٹنے) کا حکم ضرور لگانا پڑے گا جس کا قرینہ اس آیت میں موجود لفظ جُزْء ہے کیونکہ اجزاء قطع کرنے سے پیدا ہوئے ہیں۔
➌ فرمان الٰہی ہے:
فَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ مُوسَىٰ أَنِ اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْبَحْرَ
”تب ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مار۔“
(26-الشعراء:63)
❀ پرویزی مفہوم: ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی جماعت کو (فلاں سمت سے) سمندر یا دریا کی طرف لے چلو اور وہاں اس کو اس راستے سے پار لے جاؤ جو خشک ہو چکا ہے۔
فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ
”تو وہ پھٹ گیا، پھر (سمندر کا) ہر ٹکڑا یوں ہو گیا جیسے عظیم پہاڑ۔“
(26 – الشعراء :63)
جب صبح نمودار ہوئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ دونوں جماعتیں عظیم ٹوڈوں کی طرح ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑی ہیں۔
(تفسير القرآن : 841/1)
انھوں نے عصا کا معنی ”جماعت“، اضرب کا معنی ”لے جا“، انفلق کا معنی ”صبح کا نمودار ہونا“، فرق سے مراد ”دونوں جماعتیں“ کیا ہے۔ یہ مفہوم سراسر نا قابل فہم اور باطل ہے، یہ واضح طور پر پرویز صاحب کی ذہنی اختراع ہے، جو حقیقت سے بالکل دور ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل فرعون کے لشکر کا مقابلہ کرنے کی تاب کہاں رکھتے تھے۔
➍اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَقُلْنَا اضْرِبْ بِعَصَاكَ الْحَجَرَ
”تو ہم نے کہا: اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔“
(2 – البقرة : 60)
❀ پرویزی مفہوم: تو ہم نے اس کی راہنمائی اس مقام کی طرف کر دی جہاں بارہ چشمے مستور تھے، وہ اپنی جماعت کو لے کر وہاں پہنچا۔ چٹان پر سے مٹی ہٹائی۔
دیکھیے: قلنا کا معنی راہنمائی کرنا، اضرب لے جانا، عصا ”جماعت“، الحجر ”چٹان سے مٹی ہٹانا“۔ اللہ تعالیٰ کے عظیم کلام میں اپنی طرف سے پیوند کاری تحریف معنوی نہیں تو اور کیا ہے؟
➎ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ
”اور اے موسیٰ! یہ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟“
( 20 – طہ:17)
❀ پرویزی مفہوم: اے موسیٰ! تم ان امکانات و ہدایات پر قوت اور برکت ہر دو نکات و نگاہ سے غور کرو اور بتاؤ کہ تم انھیں کیسا پاتے ہو؟
قَالَ هِيَ عَصَايَ أَتَوَكَّوُ عَلَيْهَا وَأَهُشُّ بِهَا عَلَىٰ غَنَمِي
”اس نے کہا: یہ میری لاٹھی ہے، میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں۔“
( 20 – طہ:18)
❀ پرویزی مفہوم: موسیٰ نے کہا: یا بار الہی! یہ احکام کیا ہیں، میرے لیے سفر زندگی کے لیے بہت بڑا سہارا ہے انھی کے ذریعہ اب میں اپنے ریوڑ (بنی اسرائیل) کو جھنجھوڑتا ہوں۔
قَالَ أَلْقِهَا يَمُوسَىٰ
”اللہ نے فرمایا: اے موسیٰ! اسے پھینک دے۔“
( 20 – طہ:19)
❀ پرویزی مفہوم : حکم ہوا کہ تم نے ٹھیک سمجھا اب انھیں لوگوں کے سامنے پیش کرو۔
فَأَلْقَهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَىٰ
”پھر جب اس نے اسے پھینکا، تب وہ دوڑتا ہوا سانپ بن گیا۔“
( 20 – طہ:20)
❀ پرویزی مفہوم: اس کے بعد جب موسیٰ علیہ السلام نے اس مہم پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ ان احکام کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا آسان کام نہیں، انھوں نے ایسا محسوس کیا کہ وہ ضابطہ نہیں اژدہا ہے جو بڑی تیزی سے دوڑتا ہے۔
مندرجہ بالا مفہوم کو ذرا عقل اور قانون عربیت کے میزان پر تولو، انھوں نے اب عصا کا معنی احکامات و ہدایت کیا ہے جبکہ پہلے جماعت کا معنی کیا تھا۔ اتوکؤ کا مفہوم سفر زندگی کا سہارا غنمي سے مراد بنی اسرائیل القها کا معنی ”لوگوں کے سامنے پیش کرو“۔ (وہاں لوگ کہاں تھے) حية کا معنی مشکل کام، تو یہ ایک تصوراتی اژدہا تھا۔
دیوانے لوگوں کا کلام سوچ اور سمجھ سے عاری ہوتا ہے، اسی لیے پرویز صاحب نے ایک جگہ عصائے کلیمی اور اژدہا بنے کو حقیقت پر محمول کیا ہے، لکھتے ہیں: ”عصائے موسیٰ نے وہ کرشمہ دکھایا کہ خود ساحرین فرعون نے صداقت کے سامنے گردنیں جھکا دیں۔ اسے مذہبی اصطلاح میں معجزہ کہا جاتا ہے۔“
( معراج انسانیت، ص : 703)
لیکن اس کی مخالفت میں مندرجہ بالا تفسیر خالصتاً معجزے سے انکار ہے۔ یہ دیوانگی ، سراسیمگی یا خواہش پرستی نہیں تو اور کیا ہے؟
➏ فرمان الٰہی ہے:
وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ
”وہ جھولے میں لوگوں سے باتیں کرے گا۔“
(3-آل عمران:46)
پرویز صاحب نے ایک جگہ ”مهد“ کا معنی گہوارہ لکھا ہے۔
(لغات القرآن، ص : 1572 )
لیکن اپنی تفسیر میں اس کا معنی چھوٹی عمر کیا ہے، پھر اس کی تفسیر اس طرح بیان کرتے ہیں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جو کچھ کہا وہ خود اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ یہ باتیں سچ سچ گہوارے میں لیٹے ہوئے نہیں کی گئیں۔ یہ اس زمانے کی باتیں ہیں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت مل چکی تھی۔
( تفسیر القرآن ص : 129)
دیکھیں اس بیان میں واقعہ مریم اور قصہ ولادت عیسیٰ علیہ السلام کے مقصد کو یکسر بدل دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کی پاک بازی کے لیے یہ معجزہ عطا فرمایا کہ بچے نے ماں کی گود میں باتیں کیں تاکہ لوگ مریم کی عفت اور پاک دامنی پر یقین کریں جبکہ پرویز صاحب نے یہ سارا معاملہ بدل دیا۔
➐ فرمان الٰہی ہے:
وَأُحْيِي الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ اللَّهِ
”اور میں (عیسیٰ) اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں۔“
(3-آل عمران:49)
❀ پرویز صاحب اس کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں: ”مختصر یہ کہ ذلت و خواری کی یہ موت جو اس وقت تم پر چاروں طرف سے چھا رہی ہے ایک نئی زندگی میں بدل جائے گی۔“ یہ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا صریح انکار ہے، نیز انھوں نے تحریف کے ذریعے سے عیسیٰ علیہ السلام کے دوسرے معجزات کا بھی انکار کیا ہے۔
➑ یونس علیہ السلام کے متعلق فرمانِ الٰہی ہے:
فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ ﴿١٤٣﴾ لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿١٤٤﴾
”پھر اگر وہ تسبیح نہ کرتا تو اس کے پیٹ میں قیامت تک پڑا رہتا۔“
(37-الصافات:143-144)
❀ پرویزی مفہوم: لیکن اس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے اور مچھلی کی گرفت سے اپنے آپ کو چھڑا لیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا اور بہت اچھا تیراک نہ ہوتا تو مچھلی اسے نگل لیتی اور پھر وہ قیامت تک باہر نہ آ سکتا، یعنی کبھی باہر نہ آ سکتا۔
پرویز صاحب نے خیال کیا کہ المسبحين سباحت ”پانی میں تیرنا“ سے ماخوذ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یونس علیہ السلام کو مچھلی نے نہیں نگلا تھا بلکہ وہ دریا میں گر پڑے اور تیراکی کی وجہ سے اس سے بچ گئے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سابح کا معنی ہے، تیرنے والا جبکہ مسبح تو بہر صورت تسبیح سے ماخوذ ہے، نیز دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کے تسبیح پڑھنے کا ذکر کیا ہے:
لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
”تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو پاک ہے، بلاشبہ میں ظالموں میں سے تھا۔“
(21-الأنبياء:87)
اگر مچھلی نے انھیں نہیں نگلا تو پھر الظلمات ”اندھیرے“ کا کیا مطلب؟ اتنی تحریف تو یہود بھی نہیں کر سکے!
➒ ایوب علیہ السلام کے متعلق قرآن میں بیان کیا گیا ہے۔
إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَانُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ
”جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور تکلیف پہنچائی ہے۔“
(38-ص:41)
❀ پرویزی مفہوم: وہ ایک سفر میں بڑی جانکاہ مصیبتوں میں مبتلا ہوا۔ اس کے ساتھی اس سے بچھڑ گئے، پانی ختم ہو گیا۔ وہ سفر کی تھکان اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو رہا تھا۔ مزید برآں سانپ نے اسے ڈس لیا۔ اس طرح اسے مصائب اور تکالیف کے ہجوم نے گھیر لیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ارْكُضْ بِرِجْلِكَ ۖ هَٰذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ
”اپنا پاؤں (زمین پر) دے مار (اور لو) یہ ایک ٹھنڈا چشمہ نکل آیا نہانے اور پینے کے لیے۔“
( 38- ص: 42)
❀ پرویزی مفہوم: ہم نے اس کی ایسے مقام کی طرف راہنمائی کردی جہاں ٹھنڈے پانی کا چشمہ تھا۔ وہ وہاں پہنچا تو پانی پیا، نہایا، مارگزیدہ پاؤں کو پانی میں رکھ کر ہلاتا رہا جس سے حدت رفع ہوئی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ
”اور اپنے ہاتھ میں تیلیوں کا مٹھا لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔“
(38-ص:42)
❀ پرویزی مفہوم: وہ جڑی بوٹیوں سے اپنا علاج کرتا رہا اس طرح اسے شفا ہو گئی۔ اس نے اس تکلیف کو بڑی پامردی سے برداشت کیا اور کہیں بھی ہمارے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔
پرویز صاحب کا پیش کردہ یہ مفہوم ایک گپ کے سوا کچھ نہیں، سفر کا ذکر، شیطان کا معنی سانپ، ساتھی بچھڑنا، سفر کی تھکان، اركض کا معنی ہلانا، جڑی بوٹیوں وغیرہ سے علاج کرنا، یہ معانی کس لغت سے اخذ کیے گئے ہیں اور اس طرح کی قرآنی خانہ پری انھوں نے کہاں سے سیکھی؟ بالفرض ان کا یہ من گھڑت قصہ صحیح ہے تب کوئی ان سے پوچھے کہ پانی کے ذریعے سے مارگزیدہ پاؤں کا شفا حاصل کرنا بھی تو ایک معجزہ ہے کیونکہ دنیا میں بہت چشمے ہیں لیکن ان میں تو یہ صفت کمال موجود ہی نہیں۔
➓ اصحاب فیل کے قصے میں سرسید صاحب نے ایک خاص طرز سے تحریف کی تھی، جیسا کہ پہلے (ص:51) میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ پرویز صاحب نے اپنے الگ طریقے سے تحریف کی، تاہم دونوں نے کوشش کی کہ اس قصے میں سے معجزے کا پہلو ختم کر دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
”اور ان کے اوپر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے۔“
(105 – الفيل :3 )
❀ پرویزی مفہوم: چیلوں اور گدھوں کے جھنڈ (جو عام طور پر لاشوں کے ساتھ ساتھ اڑتے ہیں کیونکہ انھیں فطری طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انھیں بہت سی لاشیں کھانے کو ملیں گی) ان کے سروں پر منڈلاتے ہوئے آ گئے اور اس طرح تم نے دور سے بھانپ لیا کہ پہاڑ کے نیچے کوئی لشکر آ رہا ہے، چنانچہ تم نے پہاڑ پر چڑھ کر ان پر سخت پتھراؤ کیا۔
( تفسير القرآن، ص: 1484 )
واہ واہ! کس قدر عجیب فہم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بے شمار جنگیں ہوئیں۔ چیلوں اور گدھوں نے وہاں یہ فطری علم استعمال نہیں کیا بلکہ کسی بھی تاریخی جنگ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ بفرض محال ایسا ہوا بھی ہے تو بھی یہ معجزہ ہوا۔ سجيل اس مٹی کو کہتے ہیں جو آگ میں پک کر پتھر بن جائے۔ پرویز صاحب نے بھی لغات القرآن میں اس کا معنی کنکر لکھا ہے۔
( لغات القرآن، ص: 852 )
تو ایسے کنکر پہاڑوں کے اوپر کیسے ملتے ہیں، پھر ان کے مارنے سے ہاتھی کیسے ہلاک ہوئے۔ (عقل تسلیم نہیں کرتی) پھر ترميهم میں ترمی تو مؤنث کا صیغہ ہے جس کا فاعل ابابیل کے علاوہ یہاں کوئی اور نہیں ہو سکتا جبکہ پرویز صاحب نے اسے جمع مذکر مخاطب کا صیغہ سمجھا۔ تعجب ہے ایسی تفسیر پر!
⓫ واقعہ اسراء میں پرویز صاحب نے مسجد اقصیٰ کا معنی مدینہ کی طرف کشادہ سرزمین کیا ہے اور اس واقعے کو ہجرت کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ کیا کسی عربی لغت یا عجم کے عرف میں یا یہود و نصاریٰ کے نزدیک مسجد اقصیٰ سے مراد مدینہ کی طرف کشادہ سرزمین آج تک کبھی کسی نے سنا ہے؟ ایسی تاویلات تو عقل مندوں کے نزدیک نہایت تعجب کی بات ہوتی ہیں۔
قرآن کریم میں ان کے علاوہ اور بھی نصوص ہیں جو معجزات پر دلالت کرتی ہیں۔ پرویز صاحب نے ان سب میں تحریف کر کے اعجازی صورت ختم کر دی بلکہ انھوں نے لکھا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے سوا کوئی معجزہ نہیں دیا گیا۔
(مکتوبات سلیم کے نام خط : 36/3 اور تفسیر معارف القرآن: 731/4)
آخرت پر ایمان
ایمانیات میں ایک اہم رکن آخرت پر ایمان لانا ہے۔ اسی لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے ساتھ اکثر مقامات پر آخرت پر ایمان لانے کا ذکر آتا ہے۔ قرآن کریم میں اس عقیدے کی تفصیلات میں درج ذیل آٹھ عنوانات ہیں:
➊ نفخہ اولی: پہلی مرتبہ صور پھونکنے سے عالم دنیوی، آسمان، زمین اور پہاڑ وغیرہ سب فنا ہو جائیں گے جبکہ نفخہ ثانیہ، یعنی دوسری مرتبہ صور پھونکنے سے مردے زندہ ہو کر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔ اس کے متعلق بہت سی آیات ہیں: (6-الأنعام:73 ، 27-النمل:87، 39-الزمر:68 ، 69-الحاقة:13) اس میں فنا کا ذکر ہے (18-الكهف:99، 20-المؤمنون:102 ، 36-یس:51 ، 78-النبا:18 ، 50-ق:20) اس میں بعث بعد الموت کا ذکر ہے۔ اسی طرح آسمان کے حالات (21-الأنبياء:104 ، 25-الفرقان:25 ، 52-الطور:9) زمین کے حالات، (14-إبراهيم:48 ، 39-الزمر:69،68 ، 44-ق:44) اس کے متعلق اور بہت سی آیات ہیں۔ پہاڑوں کے حالات: (18-الكهف:7 ، 20-طه:105 ، 27-النمل:88، 52-الطور:10 ، 69-الحاقة:14) ان کے علاوہ بھی بہت سی آیات میں ان کا ذکر ہے۔
➋ سوال، حساب ، عرض اور وزن اعمال : سوال کے متعلق چند آیات: (7-الأعراف:6 ، 15-الحجر:92، 16-النحل:52 ، 33-الأحزاب:15)
حساب کے متعلق: (2-البقرة:202،284 ، 3-آل عمران:19،199 ، 5-المائدة:4 ، 6-الأنعام:52،62،69)
عرض کے متعلق: (18-الكهف:48، 69-الحاقة:18، 11-هود:18 ، 42-الشورى:45)
وزن اعمال کے متعلق: (7-الأعراف:8،9 ، 21-الأنبياء:47 ، 23-المؤمنون:102،103 ، 6،17-القارعة)
➌ دنیا میں اعمال کا لکھا جانا اور آخرت میں نامہ اعمال کی تقسیم: اعمال لکھے جانے کے متعلق آیات: (3-آل عمران:181 ، 4-النساء:81، 10-یونس:21 ، 19-مریم:79)
نامہ اعمال کی تقسیم: (17-بنی إسرائیل:13،14،71 ، 18-الكهف:49 ، 39-الزمر:29)
➍ انبیاء ، فرشتوں اور مومنوں کی شہادت سے متعلق آیات: (2-البقرة:143 ، 4-النساء:141،151 ، 5-المائدة:117 ، 11-هود:18 ، 22-الحج:78، 28-القصص:75 ، 73-المزمل:15)
انسان کے اعضاء کی شہادت: (24-النور:24 ، 36-یس:65 ، 41-فصلت:20،22) اپنی جان پر شہادت: (6-الأنعام:130 ، 7-الأعراف:37)
➎ نسبی تعلقات ختم ہونا، ایک دوسرے سے بھاگنا، دوستی اور بلا اذن شفاعت کا نہ ہونا: ان کا ذکر ان آیات میں ہے: (2-البقرة:48،123،254 ، 7-الأعراف:53 ، 21-الأنبياء:28 ، 23-المؤمنون:101، 26-الشعراء:100 ، 43-الزخرف:67 ، 80-عبس:34)
➏جنت، اہل جنت ، جہنم ، اہل جہنم اور آخرت کے تفصیلی احوال: جنت اور اہل جنت: (2-البقرة:35،81،240 ، 3-آل عمران:133،151 ، 4-النساء:192 ، 13-الرعد:35 ، 29-العنكبوت:58 ، 43-الزخرف:70)
جہنم اور اہل جہنم (2-البقرة:39،81،217 ، 3-آل عمران:116 ، 5-المائدة:72)
آخرت کے متعلق: (10-یونس:26 ، 11-هود:23 ، 25-الفرقان:24 ، 36-یس:55)
اہل جنت کا جنت میں ہمیشہ رہنے کا ذکر 40 مرتبہ اور اہل جہنم کا جہنم میں ہمیشہ رہنے کا ذکر 39 مرتبہ آیا ہے۔
➐ قرآن کریم میں قیامت کے لیے 33 نام آئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے صفاتی نام ہونے پر ایمان لانا فرض ہے جبکہ جنت کے لیے بارہ اور جہنم کے لیے آٹھ نام ہیں۔ یہ ساری چیزیں ایمانیات میں داخل ہیں۔
➑ آخرت پر ایمان لانا فرض اور حصول جنت کا باعث ہے دیکھیں: (2-البقرة:62،177 ، 3-آل عمران:114 ، 6-الأنعام:92)
انکارِ آخرت کفر اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں داخلے کا باعث ہے: (4-النساء:136 ، 6-الأنعام:31 ، 7-الأعراف:147 ، 9-التوبة:29 ، 16-النحل:22) میں نے انھی آیات کریمہ پر تفصیلاً اپنی کتاب ”الفرائد الربانية“ میں روشنی ڈالی ہے۔ یہ آٹھ عنوانات اس لیے بیان کیے گئے ہیں کہ آخرت پر ایمان لانے میں یہ ساری چیزیں شامل ہیں۔ پس جو شخص میزان، حساب، جنت یا جہنم کا منکر ہو تو اس کا آخرت پر ایمان صحیح نہیں اور ایسے ہی لوگ منکرین حدیث ہیں، لہذا ان کا اس بارے میں عقیدہ جاننا ضروری ہے۔