جنت اور جہنم کے متعلق سرسید کے نظریات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

جنت اور جہنم کے متعلق سرسید کے نظریات

سرسید لکھتے ہیں: ”تمام انسانوں میں، خواہ وہ سرد ملک کے رہنے والے ہوں یا گرم ملک کے مکان کی آراستگی و خوبی، باغ کی خوشنمائی، بہتے پانی کی دل ربائی، میووں کی ترو تازگی سب کے دل پر ایک عجیب کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس کے سوا حسن، خوبصورتی سب سے زیادہ دل پر اثر کرنے والی چیز، خصوصاً جبکہ وہ انسان میں ہو اور اس سے بھی زیادہ جبکہ وہ عورت میں ہو، پس جنت کی قرة أعين کو ان کی فطری راحتوں کی کیفیات کی تشبیہ میں اور دوزخ کے مصائب کو آگ کے جلنے لہو و پیپ پلائے جانے اور تھوہر کھلائے جانے کی تمثیل میں بیان کیا ہے تاکہ انسان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ بڑی سے بڑی لذت وراحت یا سخت سے سخت عذاب وہاں موجود ہے اور درحقیقت جو لذت و راحت یا رنج و کلفت وہاں ہے ان کو اس سے کچھ بھی مناسبت نہیں ہے۔ یہ تو صرف ایک اعلیٰ راحت و احتظاظ یا رنج و کلفت کا خیال پیدا کرنے کو اس پیرایہ میں، جس میں انسان اعلیٰ سے اعلیٰ احتظاظ اور رنج کو خیال کر سکتا تھا، بیان کیا۔ یہ سمجھنا کہ جنت مثل ایک باغ کی پیدا ہوئی ہے، اس میں سنگ مرمر اور موتی کے جڑاؤ محل ہیں، باغ ہیں اور سرسبز درخت ہیں، دودھ اور شراب کی نہریں بہہ رہی ہیں، ہر قسم کا میوہ کھانے کو موجود ہے، ساقی اور خادمین نہایت خوبصورت چاندی کے کنگن پہنے ہوئے، جو ہمارے ہاں کی گھوسنیں پہنتی ہیں، شراب پلا رہے ہیں۔ ایک جنتی حور کے گلے میں ہاتھ ڈالے پڑا ہے، ایک نے ران پر سر دھرا ہے، دوسرا چھاتی سے لپٹا ہوا ہے، ایک نے لب جان بخش کا (با ایں ریش درخش) بوسہ لیا ہے، کوئی کسی کونے میں کچھ کر رہا ہے، تو کوئی کسی کونے میں کچھ، (یہ سب) بے ہودہ ہے، جس پر تعجب ہوتا ہے، اگر بہشت یہی ہے تو بے مبالغہ ہمارے خرابات اس سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔“
(تفسیر القرآن :33/1)
اس تحریر اور تمسخر و استہزا سے صریح معلوم ہوا کہ سرسید کے نزدیک جنت اور جہنم کا کوئی خارجی وجود ہے نہ اس کی کوئی حقیقت ہے بلکہ جنت اور جہنم محض تخیلات کی دنیا کے دو مختلف پہلوؤں کے نام ہیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ انھی آیات (جو جنت اور جہنم کے متعلق ہیں) کی نسبت دو مختلف دماغوں کے خیالات پر غور کرو ایک تربیت یافتہ دماغ (سرسید اس سے اپنے ہم خیال لوگ مراد لیتا ہے) خیال کرتا ہے کہ وعدہ، وعید، دوزخ و بہشت کے جو الفاظ بیان ہوتے ہیں ان سے بعینہ وہی اشیاء مقصود نہیں بلکہ ان کا بیان کرنا صرف اعلیٰ درجے کی خوشی وراحت کو فہم انسانی کے لائق تشبیہ میں لاتا ہے۔ اور ایک کوڑ مغز ملاً یا شہوت پرست زاہد (سرسید اس سے وہ لوگ مراد لیتا ہے جو قرآن کے الفاظ اور معانی کو اصل حقیقت پر سمجھتے ہیں) سمجھتا ہے کہ در حقیقت بہشت میں نہایت خوبصورت ان گنت حوریں ملیں گی، شرابیں پئیں گے، میوے کھائیں گے، دودھ شہد کی ندیوں میں نہائیں گے اور جو دل چاہے وہ مزے اڑائیں گے اور اس لغو بے ہودہ خیال سے دن رات اوامر کو بجالانے اور نواہی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
(تفسير القرآن: 35/1 )
اس تحریر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ان آیات پر، جو جنت اور جہنم کی تفصیلات کے متعلق ہیں، ایمان لاتا ہے اور انھیں حقیقت سمجھتا ہے، وہ سرسید کے نزدیک کوڑ مغز اور شہوت پرست ہے۔ مثل مشہور ہے کہ دیوانے شخص کو صحیح الدماغ لوگ بھی دیوانے معلوم ہوتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ہے کہ بے وقوف اور جاہل اہل عقل و دانش کو سفہاء (نادان، بے وقوف) سمجھتے ہیں۔ سرسید کے اس نظریے سے لازمی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کے ذریعے سے لوگوں کو دھوکا دیا ہے (نعوذ باللہ) کہ حقیقت کچھ بھی نہیں، صرف خیالی جنت اور خیالی جہنم کے لیے انھیں اوامر و نواہی پر عمل کرنے کا حکم دیا۔
اس قسم کی بے ہودہ باتوں کے بعد ایسے لوگوں کے کافر ہونے میں کسی مسلمان کے نزدیک شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اب پرویز صاحب کے خیالات سن لیں:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ
”اور قیامت یقیناً آنے والی ہے۔“
(15 – الحجر: 85)
❀ پرویزی تفسیر: اس کی تفسیر یوں کرتے ہیں: ”جس انقلاب کے لیے تم جدو جہد کر رہے ہو وہ تو آکر رہے گا۔“
پرویز صاحب کے نزدیک الساعة سے مراد انقلاب نظام ربوبیت ہے۔ تو اس کے خیال کے مطابق ہر نبی پر نظام ربوبیت نازل ہوتا رہا اور وہ آخر یہ انقلاب برپا کر کے رہتے۔ الساعة کے اس مفہوم کے لیے کوئی قرینہ نہیں اور نہ ہی یہ مفہوم کسی لغت میں ہے۔ اور انبیاء علیہم السلام کو وحی کے ذریعے سے دعوت الوہیت مع توحید ربوبیت دی گئی جیسا کہ فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ ‎﴿٢٥﴾‏
”اور ہم نے آپ سے قبل کوئی رسول نہیں بھیجا مگر یہ کہ ہم نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، لہذا میری ہی عبادت کرو۔“
(21-الأنبياء:25)
ربوبیت (نظام چلانے) کا عقیدہ اکثر مشرکین بھی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ خالق اور مدبر ہے جیسا کہ بہت سی آیات قرآنی اس پر دلالت کرتی ہیں۔
پرویز صاحب کے نزدیک قیامت کا مفہوم عام ہے جو ہر آن مسلمان پر طاری رہتی ہے، چنانچہ کہتے ہیں: مسلمان جو قیامت بھی صرف (مانتا ہے) جو مرنے کے بعد آئے گی وہ اس قیامت سے کوئی تعلق نہیں رکھتا جو اس کی ایک ایک سانس میں پوشیدہ ہے۔ اور اس جنت اور دوزخ سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا جو قدم قدم پر اس کے سامنے ہے۔ نہ وہ اس میزان کو دیکھتا ہے جس میں قوموں کے اعمال حیات ہر آن تلتے رہتے ہیں۔
( قرآنی فیصلے ، ص : 332 )
انھوں نے اس عبارت میں قیامت، جنت و جہنم اور میزان کے دنیا میں وجود کا نظریہ پیش کیا ہے مگر قرآن کریم کی اصطلاحات کو مدنظر نہیں رکھا۔ سلیم کے نام اکیسویں خط میں لکھتے ہیں: قرآن ماضی کی طرف نگاہ رکھنے کے بجائے ہمیشہ مستقبل کو سامنے رکھنے کی تاکید کرتا ہے، اسی کا نام ایمان بالآخرت ہے اور وبالآخرة هم يوقنون (2 – البقرة :4)کا یہی مطلب ہے۔
(مكتوبات : 124/2)
میزانِ اعمال کے متعلق لکھا ہے: قرآن کہتا ہے کہ اب وہ دور سرمایہ داری گزر گیا۔ اب وہ زمانہ ربوبیت کا آرہا ہے جس میں انصاف کی رو سے میزان کھڑی کی جائے گی۔ اس میزان کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کسی مزدور کی محنت میں کوئی کمی نہیں کر سکے گا اور محنت کرنے والے کی محنت کا ذرہ ذرہ نتیجہ خیز ہوگا، اس کا حساب زمیندار یا سرمایہ دار نہیں کیا کرے گا کہ محنت کش کا حصہ کیا ہے اور اس کا حصہ کتنا۔
( نظام ربوبیت ،ص: 256)
پرویزیت کے حامی بتلائیں کہ قرآن کریم میں یہ معنی و مفہوم کس آیت اور کون سی سورت میں ہے؟ ان کے نزدیک اعمال کا تول اور حساب کتاب نظام ربوبیت کے دن ہوگا اور اس دن حساب صرف مزدور اور سرمایہ دار کا لیا جائے گا باقی کسی کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا۔
اسی طرح پرویز صاحب کے نزدیک یوم الحشر کی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تمام نوع انسان (ذاتی مفاد کے پیچھے بھاگنے کے بجائے) خدا کی ربوبیت عامہ کے قیام کے لیے اٹھ کھڑی ہوگی۔ ان کے ہاں
يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
”جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“
(83- المطففين: 6)
کی یہی تفسیر ہے، حالانکہ اس آیت سے
أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ لِيَوْمٍ عَظِيمٍ
”بلاشبہ وہ بہت بڑے دن کے لیے اٹھائے جائیں گے“
(83- المطففين: 5، 4)
ہے جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ قیام بعث بعد الموت کے بعد ہوگا لیکن پرویز صاحب بہت سی آیات کو ہڑپ کر لیتے ہیں۔
اسی طرح پرویز صاحب کے نزدیک آخرت کی کامیابی کا معیار صرف دنیا کی خوش حالی ہے۔
(نظام ربوبیت، ص: 193)
جبکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت کی کامیابی ایمان اور عمل صالح پر موقوف ہے۔ بہت سی قرآنی آیات اس پر دلالت کرتی ہیں۔

غلام احمد پرویز کے نزدیک جنت اور جہنم کا مفہوم

سلیم کے نام گیارہویں خط، (ص:159) میں لکھا ہے: ”جس طرح مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کو عرش پر بٹھا رکھا ہے، اسی طرح انھوں نے جنت کو بھی دوسری دنیا کے ساتھ مختص کر رکھا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جنت اور دوزخ اسی دنیا سے شروع ہو جاتے ہیں۔“
دوسری جگہ لکھتے ہیں: فسوف تعلمون میں یہ نہیں کہا گیا کہ قیامت میں جاکر دیکھ لینا کہ کون جنت میں جاتا ہے اور کون جہنم میں۔ کہا یہ گیا ہے کہ ذرا توقف کرو ہمارا پروگرام پورا ہو لینے دو تم ابھی دیکھ لو گے کہ جنت کس کے حصے میں آتی ہے۔
(نظام ربوبیت، ص: 218 )
یہ نظریہ سراسر قرآنی آیات کے خلاف ہے۔
اسی طرح ایک جگہ لکھتے ہیں: ”بہر حال مرنے کے بعد جنت اور جہنم مقامات نہیں ہیں بلکہ انسانی ذات کی کیفیات ہیں۔“

نوٹ: ہم نے باب اول میں قرآن کریم کے متعلق آٹھ عقیدے بیان کیے ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ قرآن کریم کی تعلیمات کیا ہیں اور منکرین حدیث سرسید اور پرویز صاحبان کا عقیدہ کیا ہے۔ یہ فرق ظاہر کر کے واضح کیا ہے کہ منکرین حدیث خصوصاً پرویز صاحب قرآن کریم پر بھی وہ ایمان نہیں رکھتے جو قرآن کریم کا مطلوب ہے۔ اس قسم کی قطعی آیات میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے، لہذا وہ جاہل لوگ جو پرویز صاحب کی کتابوں کی تلبیسات سے متاثر ہو رہے ہیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم کا مطالعہ پرویز صاحب کی عینک سے نہ کریں بلکہ وہ عربی لغت، محاورہ عرب، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور صحابہ کرام کے فہم کی روشنی میں کریں۔ یہی صراط مستقیم ہے جو انسان کے لیے دنیوی اور اخروی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ فرمایا:
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ
”اور بے شک یہ ہے میری راہ جو سیدھی ہے، لہذا اسی پر چلو اور دوسری راہوں پر نہ چلو کہ یہ راہیں تم کو اس راہ سے جدا کر دیں گی۔“
(6-الأنعام:153)