بن مانگے کسی چیز کا مل جانا اور صدقہ کرنے والوں کی برائی بیان کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

بن مانگے کسی چیز کا مل جانا

① سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی چیز عطا کرتے تو میں عرض کرتا: آپ اسے مجھ سے کسی زیادہ ضرورت مند کو دے دیں۔ وہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خذه إذا جاءك من هذا المال شيء و أنت غير مشرف ولا سائل فخذه فتموله و إن شئت فكله و إن شئت فتصدق به ، وما لا فلا تتبعه نفسك
”اگر بن مانگے اور انتظار کیے بغیر تمہارے پاس اس طرح کا مال آ جائے تو اسے لے لیا کرو اور اسے اپنے مال میں ملا لیا کرو اور اگر آپ چاہیں تو اسے کھا لیں اور اگر چاہیں تو اسے صدقہ کر دیں اور جو مال ایسا نہ ہو تو اس کے پیچھے نہ پڑو۔“
سالم بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں، اسی لیے سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کسی سے کوئی چیز مانگا نہیں کرتے تھے اور اگر کوئی چیز (بن مانگے) عطا کی جاتی تو وہ اسے واپس نہیں کیا کرتے تھے (اسے قبول کر لیتے تھے)۔
بخارى، كتاب الزكاة 1473۔ مسلم، كتاب الزكاة 1045۔

صدقہ کرنے والوں کی برائی بیان کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا تو ہم اپنی کمر پر اٹھا اٹھا کر صدقہ کا مال لائے۔ پس ایک آدمی آیا تو اس نے بہت کچھ صدقہ کیا۔ لوگوں نے کہا: یہ تو ریا کار ہے۔ اور ایک آدمی آیا تو اس نے ایک صاع (تقریباً سوا دو کلو) صدقہ کیا تو وہ لوگ کہنے لگے: اللہ اس سے بے نیاز ہے۔
پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
﴿الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْ﴾
”جو لوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر صدقہ کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں اپنی محنت مزدوری کے سوا کچھ اور میسر ہی نہیں…“
بخاري، كتاب تفسير القرآن 4668۔ مسلم، كتاب الزكاة 1018/72۔