سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی گستاخی کا عبرتناک انجام

فونٹ سائز:
تحریر: فضیلۃ الشیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے گستاخ کا انجام 

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اللہ، رسول اللہ ﷺ، اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم کے محبوب ہیں، لہٰذا ان سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ اہل سنت تمام صحابہ کا ادب و احترام کرتے ہیں، ہر صحابی کو اس کا حق دیتے ہیں۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت اور ان کا احترام ضروری ہے، ان کی جناب میں گستاخی کرنا بے ادبی اور عذابِ الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

مخضرم تابعی، ابورجاء عطاردی رحمہ اللہ (105ھ) کہتے ہیں:

لا تسبوا عليا، ولا أهل هذا البيت، إن جارا لنا من بني الهجيم قدم من الكوفة فقال: ألم تروا هذا الفاسق ابن الفاسق؟ إن الله قتله، يعني الحسين عليه السلام، قال: فرماه الله بكوكبين في عينه، فطمس الله بصره.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو برا نہ کہیں، بنو ہجیم سے تعلق رکھنے والا ہمارا ایک پڑوسی جو کوفہ سے آیا تھا، اس نے کہا: دیکھو اس فاسق ابنِ فاسق کو یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو، نعوذ باللہ! اللہ نے اس کو ہلاک کر دیا۔ اللہ نے اس کی آنکھوں میں دو آسمانی انگارے لگائے اور اس کی بینائی ختم ہو گئی۔

(فضائل الصحابۃ لأحمد بن حنبل: 972، المعجم الکبیر للطبرانی:3/112 ح2830، وسندہ صحیح)