مضمون کے اہم نکات
قرآنی دعائیں
قرآنِ مقدس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ایسی کتاب ہے کہ اس میں علوم کے جواہر و موتی ہیں۔ اس میں ضرب المثل ہیں تو گزشتہ اقوام کے حالات و واقعات، اس میں اگر وعظ و نصیحت ہے تو ساتھ شدید ڈانٹ ڈپٹ کے کلمات بھی ہیں۔
الغرض اس کتاب میں ہر پرحکمت بات موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں قرآن میں اپنی ذات سے دعا مانگنے کا حکم دیا ہے، اس کے فضائل بیان کیے ہیں، تو ساتھ ہی اپنے چنیدہ و برگزیدہ بندوں کی دعائیں و التجائیں بھی بیان کی ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایک ادعیہ اس میں بیان فرمائی ہیں۔ ان پرمغز دعاؤں میں سے چند ایک کو پڑھیے، اور انہیں یاد کر کے معمول روز و شب بنا لیں:
◈سیدنا آدم علیہ السلام کی دعا:
اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، ان کو عزت بخشی اور پھر ان کی بیوی یعنی سیدہ اماں حوا علیہا السلام کو ان کی پسلی سے پیدا کیا، اور اللہ عزوجل نے اپنی نعمت ان پر تمام کر دی اور دونوں کو حکم دیا کہ جنت میں رہیں اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں، سوائے اس درخت کے کہ جس کا کھانا اللہ نے ان کے لیے ممنوع قرار دے دیا:
﴿وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ﴾
”اور اس درخت کے قریب مت جاؤ۔“
(2-البقرة:35)
چنانچہ شیطان ان کے پیچھے لگا رہا، انہیں طرح طرح سے بہکاتا رہا، ان کے دل و دماغ میں یہ بات ڈالتا رہا کہ وہ اس شجر ممنوعہ کو کھا لینے کے بعد ہمیشہ کے لیے جنت میں رہنے لگیں گے اور کبھی بھی اس سے نہ نکلیں گے، چنانچہ ان سے بھول ہوئی اور وہ اس شجرہ ممنوعہ کو شیطان کے دھوکے میں آ کر کھ بیٹھے، جس کا نتیجہ اس شکل میں نکلا کہ انہیں اپنی خفیہ شرمگاہیں نظر آنے لگیں، اس پر وہ دونوں جنت کے درختوں کے پتے لے لے کر اپنے جسموں پر چپکانے لگے، تاکہ اپنی پردہ پوشی کریں، اور ساتھ ہی ان دونوں نے اپنی غلطی کا اللہ کے حضور اعتراف کیا، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں تعلیم دی کہ اپنی غلطی کی معافی کے لیے یہ دعا کریں:
﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”اے ہمارے رب! ہم نے اپنے تئیں خود (ظلم کر کے) تباہ کر لیا ہے۔ اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو بلاشبہ ہم خسارہ اٹھانے والوں میں ہو جائیں گے۔“
(7-الأعراف:23)
◈قوم کے لیے ہلاکت کی بددعا کے بعد اپنے خاندان اور مؤمنین کے لیے سیدنا نوح علیہ السلام کی دعا:
جب سیدنا نوح علیہ السلام کو یقین ہو گیا کہ یہ سرکش قوم ہرگز نہیں سدھرے گی، اور نہ ان کی نسل سے اچھے لوگ پیدا ہوں گے، تو مجبوراً کفار پر بددعا کرنے کے بعد آخر میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور تمام مؤمنین کے لیے مغفرت کی دعا کی جو ان کے گھر میں داخل ہوں:
﴿رَّبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا﴾
”اے میرے مالک! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو بھی، اور ہر اس شخص کو بھی جو میرے گھر میں بحالت ایمان داخل ہو، اور تمام اہل ایمان مردوں اور مومن عورتوں کو بھی بخش دے۔ مگر ظالموں (کافروں اور مشرکوں) کی تباہی میں دن بدن اضافہ فرماتا جا۔“
(71-نوح:28)
◈سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں:
سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی قرآن حکیم میں کئی دعائیں موجود ہیں، آپ کی اولین دعا تعمیر کعبہ سے متعلق ہے، جب دونوں باپ بیٹے نے مل کر گھر کی بنیاد اونچی کر لی تو سیدنا اسماعیل علیہ السلام پتھر لاتے رہے اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام جوڑتے رہے، جب مکان اونچا ہو گیا تو وہ پتھر (مقام ابراہیم) لائے، جس پر کھڑے ہو کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام جوڑتے رہے، اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام ان کو پتھر لا لا کر دیتے رہے، دونوں بیت اللہ کے اردگرد گھوم گھوم کر جوڑتے رہے، اور کہتے رہے:
﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ . … وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔﴾
”اے ہمارے رب! ہماری نیکی قبول فرما لے۔ بلاشبہ تو سنتا ہے اور خوب جانتا ہے اور ہمارے قصور معاف کر دے بلاشبہ تو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔“
(2-البقرة:127 ، 128)
✿ اللہ تعالیٰ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے باپ اور اپنی قوم کو توحید الہ العالمین کا درس دیا تو آپ سے باقاعدہ سوال و جواب ہوئے، اس گفتگو کے آخر میں آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تعریف، اس کی حمد و ثنا اور اس کی گوناگوں نعمتوں کو بیان کیا، آخر میں آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھا دیے، اور نہایت عجز و انکساری کے ساتھ کہا:
﴿رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ ۔ وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ۔ وَاجْعَلْنِي مِن وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ ۔ وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ ۔ وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ۔﴾
”اے میرے رب! مجھے اپنے دین کی سمجھ اور قوت فیصلہ عطا فرما کر مجھے نیک بندوں کے ساتھ ملا دے۔ اور آنے والے لوگوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھ اور مجھے نعمتوں بھری جنتوں کے وارثوں میں کر دے… اور جس (قیامت والے) دن لوگ (حشر کے لیے) اٹھائے جائیں مجھے رسوا نہ کرنا۔“
(26-الشعراء:83 تا 87)
◈سیدنا سلیمان علیہ السلام کا اظہار تشکر:
سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام کو پرندوں اور حشرات الارض کی بولیوں کا علم دیا گیا تھا، چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ علیہ السلام جنوں، انسانوں اور چڑیوں پر مشتمل اپنی ایک منظم و مرتب فوج کے ساتھ روانہ ہوئے، راستہ میں ان کا گزر ایک ایسی وادی سے ہوا کہ جس میں چیونٹیاں پائی جاتی تھیں، ایک چیونٹی نے اس لشکر جرار کو دیکھ کر دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ تم سب جلد از جلد اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر لاشعوری طور پر تمہیں کچل دے، اس موقع پر سیدنا سلیمان علیہ السلام مسکرانے لگے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ دعا مانگی:
﴿رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ﴾
”اے میرے رب! مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کر سکوں۔ وہ نعمت کہ جو تو نے میرے اوپر بھی کی اور میرے والدین کو بھی عنایت فرمائی ہے۔ اور میں عمل صالح کرتا رہوں، وہ عمل کہ جس سے تو خوش ہو جائے، اور مجھے اپنی رحمت کے ساتھ اپنے صالح بندوں میں داخل فرما۔“
(27-النمل:19)
◈اصحاب کہف کی دعا:
اصحاب کہف کا واقعہ قرآن مجید میں سورہ کہف میں تفصیلاً بیان ہوا ہے، اور اس میں ان کی یہ دعا بھی منقول ہے:
﴿رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا﴾
”اے ہمارے مالک! ہمیں اپنی خاص رحمت عنایت فرما۔ اور ہمارے کام سے ہمارے لیے بھلائی مقدر کر دے۔“
(18-الكهف:10)