اہلِ توحید ہی شفاعت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں:
مضمون کے اہم نکات
الفرع الثالث: من فضائل شهادة لا إله إلا الله: أنها العهد الذي يتخذه الموحد عند الله
تیسری فرع:
کلمۂ "لا إله إلا اللہ” کی فضیلتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ وہ عہد ہے جو موحّد بندہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے لیے اختیار کرتا ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان:
[لَا یَمۡلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا] وہ سفارش کے مالک نہ ہوں گے مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔ [سورۃ مریم:87]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما:
عن ابن عباس رضي الله عنهما في قوله: [اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا] [سورۃ مریم:87] قال: العهد؛ شهادة أن لا إله إلا الله، ويتبرأ إلى الله من الحول والقوة، ولا يرجو إلا الله۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
[اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا] مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔ "کے بارے میں منقول ہے”، انہوں نے فرمایا:
اس عہد سے مراد اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور بندہ اپنی ہر قوت و قدرت سے بے زاری ظاہر کرتے ہوئے خود کو اللہ کے سپرد کر دے، اور اللہ ہی کے سوا کسی سے امید وابستہ نہ رکھے۔
[تفسير الطبري جامع البيان:15/633]
امام سمعانی رحمہ اللہ:
وقال السمعاني: (قوله: [اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا] [سورۃ مریم:87] يعني: لا يشفعون إلا لمن اتخذ عند الرحمن عهدا، فالعهد هو "لا إله إلا الله”. ويقال: لا يشفع إلا من اتخذ عند الرحمن عهدا يعني: لا يشفع إلا مؤمن.
امام سمعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: [اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا] مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔ کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف اسی شخص کی شفاعت کریں گے جس نے رحمٰن کے ہاں عہد لے رکھا ہو، اور اس عہد سے مراد ”لا إله إلا الله“ ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ: شفاعت صرف وہی شخص کرے گا جس نے رحمٰن کے ہاں عہد لے رکھا ہو، یعنی شفاعت کرنے والا صرف مومن ہوگا۔ [تفسير السمعاني:3/315]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ:
وقال ابن كثير في تفسير العهد: (هو شهادة أن لا إله إلا الله، والقيام بحقها)
اور حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے عہد کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور اس گواہی کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ [تفسير ابن كثير:5/261 تحت الایۃ: سورۃ مریم 87]
علامہ شنقیطی رحمہ اللہ:
وقال الشِّنقيطيُّ: أي: لا يملك من جميعهم أحد الشفاعة إلا من اتخذ عند الرحمن عهدا وهم المؤمنون، والعهد: العمل الصالح والقول بأنه لا إله إلا الله، وغيره من الأقوال يدخل في ذلك، أي: إلا المؤمنون فإنهم يشفع بعضهم في بعض، كما قال تعالى: [يَوْمَئِذٍ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا] [طہ:109]، وقد بين تعالى في مواضع أخر: أن المعبودات التي يعبدونها من دون الله لا تملك الشفاعة، وأن من شهد بالحق يملكها بإذن الله له في ذلك، وهو قوله تعالى: [وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ الْآيَةَ] [الزخرف:86]، أي: لكن من شهد بالحق يشفع بإذن الله له في ذلك۔
اور علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یعنی ان سب میں سے کوئی بھی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتا، سوائے اس شخص کے جس نے رحمٰن کے ہاں عہد لے رکھا ہو، اور اس سے مراد اہلِ ایمان ہیں۔ عہد سے مراد نیک عمل اور یہ اقرار ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور اس مفہوم میں دوسرے حق اقوال بھی داخل ہیں۔ یعنی اہلِ ایمان ہی شفاعت کریں گے اور ان میں سے بعض، بعض کے حق میں شفاعت کریں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [يَوْمَئِذٍ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا] اس دن سفارش نفع نہ دے گی مگر جس کے لیے رحمان اجازت دے اور جس کے لیے وہ بات کرنا پسند فرمائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقامات پر بھی واضح فرمایا ہے کہ وہ معبود جنہیں لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، شفاعت کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، البتہ جو شخص حق کی گواہی دے، وہ اللہ کی اجازت سے شفاعت کا اختیار رکھتا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ الْآيَةَ] اور وہ لوگ جنھیں یہ اس کے سوا پکارتے ہیں، وہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتے مگر جس نے حق کے ساتھ شہادت دی۔ (یعنی) جو شخص حق کی گواہی دے گا، وہ اللہ کی اجازت سے شفاعت کرے گا۔
[أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن:3/516]
سیدنا ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ:
عن أبي هريرة رضي الله عنه: أنه قال: قلت: يا رسول الله، من أسعد الناس بشفاعتك يوم القيامة؟ فقال: لقد ظننت يا أبا هريرة أن لا يسألني عن هذا الحديث أحد أول منك، لما رأيت من حرصك على الحديث، أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة: من قال: لا إله إلا الله خالصا من قبل نفسه۔
سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ کون حاصل کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اے ابوہریرہ! میرا بھی خیال تھا کہ یہ حدیث تم سے پہلے اور کوئی مجھ سے نہیں پوچھے گا، کیونکہ حدیث کے لینے کے لیے میں تمہاری بہت زیادہ حرص دیکھا کرتا ہوں۔ قیامت کے دن میری شفاعت کی سعادت سب سے زیادہ اسے حاصل ہو گی جس نے کلمہ "لا إله إلا الله” خلوص دل سے کہا۔ [صحیح البخاری:6570]
ابن بطال رحمہ اللہ:
قال ابن بطال: أن الشفاعة إنما تكون فى أهل الإخلاص خاصة، وهم أهل التصديق بوحدانية الله، ورسله، لقوله صلى الله عليه وسلم: خالصا من قلبه، أو نفسه۔
امام ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شفاعت خاص طور پر اہلِ اخلاص ہی کے لیے ہوگی، اور اہلِ اخلاص وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہیں؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘جو خلوصِ دل، یا خلوصِ جان کے ساتھ [لا إله إلا الله] کہے۔ [شرح صحيح البخاري-ابن بطال:1/176]
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ:
وقال ابن القيم: وفي قوله في حديث أبي هريرة: «أسعد الناس بشفاعتي من قال: لا إله إلا الله» سر من أسرار التوحيد، وهو أن الشفاعة إنما تنال بتجريد التوحيد، فمن كان أكمل توحيدا كان أحرى بالشفاعة۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: [أسعد الناس بشفاعتي من قال: لا إله إلا الله] "میری شفاعت کا سب سے زیادہ حق دار وہ شخص ہوگا جس نے ،،لا إله إلا الله،، کہا۔”
میں توحید کے اسرار میں سے ایک عظیم راز پوشیدہ ہے، اور وہ یہ کہ شفاعت خالص توحید کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا جس شخص کی توحید جتنی زیادہ کامل ہوگی، وہ شفاعت کا اتنا ہی زیادہ مستحق ہوگا۔
[تهذيب سنن أبي داود:3/314 الرقم:4578]
سیدنا ابو ھریرۃ رضی اللہ عنہ:
عن أبي هريرة رضي الله عنه: قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لكل نبي دعوة مستجابة، فتعجل كل نبي دعوته، وإني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة، فهي نائلة إن شاء الله، من مات من أمتي لا يشرك بالله شيئا۔
سیدنا ابوہریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے اور میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے چھپا رکھا ہے، جب کہ ہر نبی جلدی کرتے ہوئے (دنیا میں) دعا کر چکا ہے۔ میری شفاعت ہر اس انسان کو حاصل ہو گی ان شاء اللہ! جو میری امت سے اس حال میں فوت ہو گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ہو گا۔ [صحیح المسلم:199]
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ:
قال ابن تيمية: ما يحصل للعبد بالتوحيد والإخلاص من شفاعة الرسول وغيرها لا يحصل بغيره من الأعمال وإن كان صالحا كسؤاله الوسيلة للرسول فكيف بما لم يأمر به من الأعمال بل نهى عنه؟ فذاك لا ينال به خيرا لا في الدنيا ولا في الآخرة مثل غلو النصارى في المسيح عليه السلام فإنه يضرهم ولا ينفعهم. ونظير هذا ما في الصحيحين عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال: {إن لكل نبي دعوة مستجابة وإني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة فهي نائلة إن شاء الله من مات لا يشرك بالله شيئا}. وكذلك في أحاديث الشفاعة كلها إنما يشفع في أهل التوحيد فبحسب توحيد العبد لله وإخلاصه دينه لله يستحق كرامة الشفاعة وغيرها. وهو سبحانه علق الوعد والوعيد والثواب والعقاب والحمد والذم بالإيمان به وتوحيده وطاعته فمن كان أكمل في ذلك كان أحق بتولي الله له بخير الدنيا والآخرة.
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "بندے کو توحید اور اخلاص کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور اس کے علاوہ جو دوسری فضیلتیں حاصل ہوتی ہیں، وہ دوسرے اعمال کے ذریعے اس درجے میں حاصل نہیں ہوتیں، اگرچہ وہ اعمال نیک ہی کیوں نہ ہوں، جیسے اللہ تعالیٰ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقامِ وسیلہ مانگنا۔ پھر ان اعمال کا کیا حال ہوگا جن کا شریعت نے حکم ہی نہیں دیا، بلکہ ان سے منع فرمایا ہے؟ ایسے اعمال کے ذریعے نہ دنیا میں کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے اور نہ آخرت میں۔ اس کی مثال نصاریٰ کا مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلو کرنا ہے؛ یہ غلو انہیں نقصان پہنچاتا ہے، فائدہ نہیں دیتا۔ اور اسی کے مشابہ وہ حدیث ہے جو صحیح بخاری و صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "ہر نبی کے لیے ایک مقبول دعا ہے، اور میں نے اپنی وہ دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے۔ پس اللہ نے چاہا تو یہ شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا۔” اسی طرح شفاعت سے متعلق تمام احادیث میں شفاعت اہلِ توحید ہی کے لیے ہے۔ لہٰذا بندہ جس قدر اللہ کے لیے اپنی توحید کو خالص کرے گا اور اپنے دین کو اسی کے لیے خالص رکھے گا، اسی قدر وہ شفاعت اور دیگر عزت و اکرام کا زیادہ مستحق ہوگا۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے وعدہ و وعید، ثواب و عقاب، مدح و مذمت کو اپنے اوپر ایمان، اپنی توحید اور اپنی اطاعت کے ساتھ وابستہ فرمایا ہے۔ پس جو شخص ان امور میں زیادہ کامل ہوگا، وہ دنیا و آخرت کی بھلائیوں میں اللہ تعالیٰ کی ولایت و نصرت کا زیادہ حق دار ہوگا۔” [مجموع الفتاوى:27/ 440-441]