مضمون کے اہم نکات
قدم بوسی کی شرعی حیثیت
تعظیم کی نیت سے کسی کے پاؤں چومنا ناجائز اور غیر مشروع ہے۔ بعض روایات میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ذکر ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاؤں چوما کرتے تھے، لیکن یہ روایات ثابت نہیں ہیں۔ صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور تبع تابعین کے تین بہترین ادوار میں بھی اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
اس سلسلے میں وارد روایات کا جائزہ پیشِ خدمت ہے:
روایت نمبر ①
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو یہودیوں نے نبی ﷺ سے نو آیاتِ بینات کے متعلق سوال کیے، آپ ﷺ نے ان کے جوابات دے دیے، تو:
[فقبلا يديه ورجليه]
انہوں نے آپ ﷺ کے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا۔
[مُسند الإمام أحمد:18092، سنن الترمذي: 2733، السنن الكبرى للنسائي: 3527، سنن ابن ماجه: 3705، مختصرًا]
حدیث منکر ہے۔
◈ عبد اللہ بن سلمہ کا آخری عمر میں حافظہ خراب ہو گیا تھا، ان کے شاگرد عمرو بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[كان عبد الله بن سلمة قد كبر، وكان يحدثنا، فنعرف وننكر]
عبد اللہ بن سلمہ بوڑھے ہو گئے تھے۔ وہ ہمیں حدیث بیان کرتے، تو ہمیں ان سے کچھ معروف اور کچھ منکر حدیثیں ملتیں۔
[مُسند عليّ بن الجعد: 66، العِلل للإمام أحمد برواية عبد الله: 1824، الجامع لأخلاق الرَّاوي وآداب السَّامع للخطيب: 1920، واللَّفظ لهُ]
◈ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[تعرف وتنكر] یہ معروف اور منکر روایات بیان کرتے ہیں۔
[الجرح والتَّعديل لابن أبي حاتم: 74/5]
◈ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يتابع في حديثه] (ثقات کی طرف سے) ان کی روایات کی متابعت نہیں کی گئی۔
[التَّاريخ الكبير: 99/5]
◈ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”منکر“ کہا ہے۔
[السُّنن الكبرىٰ: 3527]
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس حدیث میں اشکال ہے۔ عبد اللہ بن سلمہ کے حافظے میں کچھ خرابی تھی، محدثین نے ان پر جرح بھی کی ہے۔ ممکن ہے کہ انہیں نو آیات اور دس کلمات میں اشتباہ ہو گیا ہو، کیونکہ دس کلمات تو تورات میں وصیت کی صورت میں ہیں، ان کا فرعون کے خلاف دلیل بننے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
[تفسير ابن كثير: 124/5]
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[صدوق، تغير حفظه] سچے تھے، لیکن حافظے میں خرابی ہو گئی تھی۔
[تقريب التهذيب: 3364]
◈ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے امام ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب الحافظ کو سنا، ان سے محمد بن عبید اللہ سوال کر رہے تھے کہ امام بخاری و مسلم رحمہما اللہ نے سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث کو بالکل ہی کیوں چھوڑ دیا تھا؟ اس پر انہوں نے فرمایا: کیونکہ اس کی سند خراب تھی۔ (المُستدرك على الصَّحيحين: 15/1)
اس کے بارے میں امام حاکم رحمہ اللہ کی توجیہ درست نہیں۔
معلوم ہوا کہ عبد اللہ بن سلمہ کی جس حدیث کو محدثین منکر قرار دیں گے، وہ ضعیف ہو گی اور باقی حسن ہوں گی۔
روایت نمبر ②
سیدنا زارع بن عامر رضی اللہ عنہ، جو وفدِ عبد القیس میں شامل تھے، سے مروی ہے:
[لما قدمنا المدينة، فجعلنا نتبادر من رواحلنا، فنقبل يد النبي صلى الله عليه وسلم ورجله]
ہم مدینہ منورہ پہنچے، تو جلدی میں اپنے کجاووں سے نکلے اور نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے۔
[سنن أبي داؤد: 5225، القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي: 41، الأدب المفرد للبخاري: 975]
سند ضعیف ہے۔
ام ابان بنتِ وازع کی کسی محدث نے توثیق نہیں کی۔
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امِ ابان کو ”مجہولات“ میں شمار کیا ہے۔
[ميزان الاعتدال: 611/4]
روایت نمبر ③
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ سے کہنے لگا : اللہ کے رسول! میں مسلمان ہوں۔ مجھے کوئی ایسی چیز دکھائیں، جس سے میرا ایمان بڑھ جائے۔ فرمایا: کیا چاہتے ہو؟ کہنے لگا: آپ اس درخت کو بلائیں، وہ آپ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے درخت کو بلایا، وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور سلام کہا، آپ نے اسے واپس اپنی جگہ جانے کا کہا، تو چلا گیا، تب اس دیہاتی نے کہا:
[ائذن لي أن أقبل رأسك ورجليك]
مجھے اجازت دیجیے کہ میں آپ کا سر اور پاؤں چوموں۔ آپ ﷺ نے اسے اجازت دی، تو اس نے ایسا کر لیا۔
[مسند الدارمي: 1472، القبل لابن الأعرابي: 42، تقبيل اليد لابن المقري: 5، المستدرك للحاكم: 172/4، دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني: 291]
سند ضعیف ہے۔
صالح بن حیان قرشی ضعیف ہے۔
◈ امام حاکم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”صحیح الاسناد“ کہا، تو حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا:
[بل واه، وفي إسناده صالح بن حيان متروك]
بلکہ یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند میں صالح بن حیان متروک ہے۔
◈ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
[تاريخ ابن معين برواية الدَّارمي، ص 134، ت: 434]
◈ امام نسائی رحمہ اللہ نے ”غیر ثقہ“ کہا ہے۔
[الضعفاء والمتروكون: 295]
◈ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[عامة ما يرويه غير محفوظ]
اس کی بیان کردہ اکثر روایات غیر محفوظ ہیں۔
[الكامل في ضعفاء الرِّجال: 55/4]
◈ امام بخاری رحمہ اللہ نے ”فیہ نظر“ فرمایا ہے۔
[التَّاريخ الكبير: 275/4]
◈ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ”لیس بالقوی“ کہا ہے۔
[الضعفاء والمتروكون: 289]
◈ امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 398/4]
◈ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[يروي عن الثقات أشياء لا تشبه حديث الأثبات، لا يعجبني الاحتجاج به إذا انفرد]
ثقہ راویوں سے منسوب ایسی روایات نقل کرتا ہے، جو ثقہ راویوں کی احادیث سے میل نہیں کھاتیں۔ مجھے اس حدیث سے استدلال کرنا پسند نہیں، جس کے بیان میں یہ منفرد ہو۔
[كتاب المجروحين: 369/1]
◈ امام حربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[له أحاديث منكرة] اس نے منکر احادیث بیان کی ہیں۔
[تهذيب التهذيب لابن حجر: 387/4]
◈ امام عجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[جائز الحديث، يكتب الحديث، وليس بالقوي، وهو في إعداد الشيوخ]
یہ جائز الحدیث ہے، اس کی حدیث لکھ لی جائے گی، مگر قوی نہیں۔ اس کا شمار شیوخ میں ہوتا ہے۔ (تاريخ العجلي:225)
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هو ضعيف، ولم يوثقه أحد] ضعیف ہے، کسی نے توثیق نہیں کی۔
[مجمع الزوائد: 105/1]
روایت نمبر ④
سیدنا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کے واقعہ میں بیان کیا گیا ہے :
[أتى، فقبل قدميه]
وہ آئے اور آپ ﷺ کے دونوں قدم چومے۔
[الرُّخصة في تقبيل اليد لابن المُقري: 14، المُعجم لأبي يعلى: 89]
سند سخت ضعیف ہے۔
① ام ہیثم بنت عبد الرحمن بن فضالہ سعدیہ کے حالاتِ زندگی نہیں مل سکے۔
②،③ ابو عبد الرحمن بن فضالہ اور ابو فضالہ بن عبد اللہ وغیرہ کی توثیق درکار ہے۔
روایت نمبر ⑤
ابو برہ یسار مولیٰ عبد اللہ بن سائب مخزومی سے مروی ہے:
[دخلت مع مولاي عبد الله بن السائب علىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقمت إلىٰ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقبلت رأسه ويده ورجله]
میں اپنے مولیٰ عبد اللہ بن سائب کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف گیا اور آپ کا سر، ہاتھ اور پاؤں چوم لیے۔
[الرُّخصة في تقبيل اليد لابن المقري: 24]
سند سخت ضعیف ہے۔
① ابو الحسن احمد بن محمد بن عبد اللہ بن عاصم ضعیف ہے۔
◈ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ضعيف الحديث، ولست أحدث عنه]
اس کی حدیث ضعیف ہوتی ہے۔ میں اس سے روایت نہیں لیتا۔
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 71/2]
◈ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[منكر الحديث، يوصل الأحاديث]
یہ منکر الحدیث ہے۔ یہ منقطع احادیث کو موصول بیان کر دیتا تھا۔
[الضعفاء الكبير: 71/2]
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی ایک حدیث کے بارے میں لکھا ہے:
[ما هٰذا الحديث ببعيد من الوضع]
بعید نہیں کہ یہ حدیث گھڑنتل ہی ہو۔
[تاريخ الإسلام: 1096/5]
① احمد کے باپ محمد بن عبد اللہ بن قاسم کے حالات نہیں مل سکے۔
② احمد کے دادا عبد اللہ بن قاسم کی توثیق نہیں ملی۔
روایت نمبر ⑥
مفسر امام اسماعیل بن عبد الرحمن بن ابی کریمہ سدی رحمہ اللہ (127ھ) سے سورۃ المائدہ (111) کی تفسیر میں مروی ہے:
ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا: میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: فلاں۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی طرف بڑھے اور پاؤں چوم لیا۔
[تفسير الطَّبري: 17/9]
سدی رحمہ اللہ تابعی ہیں اور بلاواسطہ نبی کریم ﷺ سے بیان کر رہے ہیں، لہذا یہ روایت مرسل ہے، جو کہ ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے۔
روایت نمبر ⑦
صہیب مولیٰ عباس سے مروی ہے :
[رأيت عليا يقبل يد العباس ورجليه، ويقول: يا عم! ارض عني]
میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اور پاؤں چومتے ہوئے کہہ رہے تھے: چچا جان! مجھ سے راضی ہو جائیے۔
[الأدب المُفرد للبخاري: 976، الرُّخصة في تقبيل اليد لابن المقري: 15، تاريخ دِمَشق لابن عساكر: 372/26]
سند ضعیف ہے۔
صہیب مولیٰ عباس کو صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”الثقات:4/381″میں ذکر کیا ہے، لہذا ”مجہول الحال“ ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[صهيب لا أعرفه] صہیب کو میں نہیں جانتا۔
[سير أعلام النُّبلاء: 94/2]
روایت نمبر ⑧
امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
[جاء إلىٰ محمد بن إسماعيل البخاري، فقبل بين عينيه، وقال: دعني حتىٰ أقبل رجليك يا أستاذ الأستاذين، وسيد المحدثين، وطبيب الحديث في علله]
آپ رحمہ اللہ امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ کے پاس آئے، ان کے ماتھے کا بوسہ لیا اور کہا: اجازت دیجیے کہ میں آپ کے پاؤں چوم لوں، اے استاذوں کے استاذ، اے محدثین کے سردار اور اے عللِ حدیث کے ماہر!
[معرفة عُلوم الحديث للحاكم: ص 113، تاريخ بغداد للخطيب: 121/15، تاريخ ابن عساكر:52/ 68، التقييد لِمعرفة رُواة السنن والمسانيد لابن نُقطة: 331، وسنده حسن]
امام مسلم رحمہ اللہ نے ایسا محض فرطِ جذبات میں کہہ دیا، نیز اس میں یہ کہیں نہیں کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ کے قدموں کو چوما ہو، البتہ ماتھے پر بوسہ دیا ہے۔
تعظیم کی نیت سے قدم بوسی بے ثبوت عمل ہے، صحابہ، تابعین اور خیر القرون کے مسلمانوں میں یہ عمل نہیں ملتا۔
بعض شبہات:
قدم بوسی کے متعلق روایات کا محدثین کے اصولوں کے مطابق جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام سے کچھ ثابت نہیں۔ سلف سے بھی باسندِ صحیح اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ لہٰذا اولیا وصالحین کے پاؤں چومنا جائز نہیں۔
مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب (1971ء) لکھتے ہیں:
اولیاء اللہ کے ہاتھ پاؤں چومنا اور اس طرح ان کے بعد ان کے تبرکات بال و لباس وغیرہ کو بوسہ دینا، ان کی تعظیم کرنا مستحب ہے۔ احادیث اور عملِ صحابہ کرام سے ثابت ہے، لیکن بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔
[جاء الحق: 368/1]
اولیاء اللہ کے ہاتھ چومنا جائز ہے، لیکن اسے بھی عبادت نہیں بنانا چاہیے۔ رہا پاؤں چومنا، تو یہ ثابت ہی نہیں، چہ جائیکہ مستحب ہو! جہاں تک تبرکات کی بات ہے، تو وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ خاص ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد خلفائے راشدین جیسے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی چھوڑی ہوئی چیزوں کو کسی صحابی یا تابعی نے تبرک نہیں بنایا۔
مفتی نعیمی بریلوی صاحب مزید لکھتے ہیں:
ان احادیث و محدثین و علماء کی عبارات سے ثابت ہوا کہ بزرگان کے ہاتھ پاؤں اور ان کے لباس، نعلین، بال غرضیکہ سارے تبرکات، اسی طرح کعبہ معظمہ، قرآنِ مجید، کتبِ احادیث کے اوراق کا چومنا جائز اور باعثِ برکت ہے، بلکہ بزرگانِ دین کے بال و لباس و جمیع تبرکات کی تعظیم کرنا۔
[جاء الحق: 399/1]
نبی کریم ﷺ کے آثارِ مبارکہ کے علاوہ کسی بھی ولی و صالح انسان کے آثار سے تبرک حاصل کرنا جائز نہیں، تو بوسہ دینا کیسے جائز ہوا؟ کعبہ معظمہ، قرآنِ مجید اور کتبِ احادیث کے اوراق چومنے پر کوئی دلیلِ شرعی نہیں، یہ غیر مشروع عمل ہے۔ اگر یہ کوئی نیک کام ہوتا، تو صحابہ وتابعین جیسے اسلافِ امت اس سے کیونکر غافل رہتے؟
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا، تو فرمایا:
[لولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك، ما قبلتك]
اگر میں رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا، تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔
(صحیح البخاري: 1597، صحیح مسلم: 1270)
معلوم ہوا کہ جس چیز کا بوسہ شریعت سے ثابت نہ ہو، اسے بوسہ دینا ناجائز اور غیر مشروع ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
[قال شيخنا في شرح الترمذي: فيه كراهية تقبيل ما لم يره الشرع بتقبيله]
ہمارے شیخ (حافظ عراقی رحمہ اللہ) جامع ترمذی کی شرح میں فرماتے ہیں: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جس چیز کو بوسہ دینے کی تعلیم شریعت نے نہ دی ہو، اسے بوسہ دینا مکروہ ہے۔
(فتح الباري: 463/3)
استدلال کے سقم کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
تبرکات کا چومنا جائز ہے۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے: [وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ] یعنی اے بنی اسرائیل! تم بیت المقدس کے دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور کہو: ہمارے گناہ معاف ہوں۔ اس آیت سے پتہ لگا کہ بیت المقدس، جو انبیاءِ کرام کی آرامگاہ ہے، اس کی تعظیم اس طرح کرائی گئی کہ وہاں بنی اسرائیل کو سجدہ کرتے ہوئے جانے کا حکم دیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ متبرک مقامات پر توبہ جلد قبول ہوتی ہے۔
[جاء الحق از نعیمی: 368/1]
جس جگہ سجدے کا حکم دیا گیا تھا، وہاں انبیا کی قبریں ہیں، بالکل بے دلیل مفروضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا کہ آپ اس شہر میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں۔ اولیا کی قبروں والی بات کسی مسلمان مفسر نے نہیں کی۔ مفسرین نے اس سجدہ کو سجدۂ شکر قرار دیا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
[أي شكرا لله تعالى على ما أنعم به عليهم من الفتح والنصر، ورد بلدهم إليهم، وإنقاذهم من التيه والضلال]
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدے کا حکم دیا گیا کہ اللہ نے انہیں فتح ونصرت عطا فرمائی، انہیں ان کا علاقہ واپس دے دیا اور پستی وگمراہی سے نجات دی۔
(تفسير ابن كثير: 247/1، طبعة المهدي)
اہلِ علم نے نبی ﷺ کی قبر کو بوسہ دینا اور اسے چھونا مکروہ اور بدعت خیال کیا ہے۔
زمین بوسی:
علما وعظما کے سامنے زمین کو بوسہ دینا حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
احناف کی معتبر کتب میں لکھا ہے:
[كذا ما يفعلونه من تقبيل الأرض بين يدي العلماء والعظماء فحرام، والفاعل والراضي به آثمان، لأنه يشبه عبادة الوثن، وهل يكفران؟ على وجه العبادة والتعظيم كفر، وإن على وجه التحية لا، وصار آثما مرتكبا للكبيرة]
اسی طرح جو علما و عظما کے سامنے زمین بوسی کا عمل کیا جاتا ہے، یہ بھی حرام ہے۔ اسے کرنے والا اور اس پر راضی ہونے والا، دونوں گناہ گار ہیں، یہ بت پرستی کے مشابہ ہے۔ کیا ایسا کرنے والے کو کافر کہا جائے گا؟ [اس میں تفصیل ہے]۔ اگر وہ عبادت اور تعظیم کی بنا پر ایسا کر رہا ہے، تو یہ عمل کفر ہے اور اگر بطورِ تحیہ ہے تو حرام نہیں، لیکن ایسا کرنے والا گناہ گار، بلکہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔
[ردّ المحتار لابن عابدين: 383/6، تبيين الحقائق للزَّيلعي: 25/6، مجمع الأنهر لشيخي زاده: 542/2، البناية للعَيْني: 198/12]
ایک کتاب میں لکھا ہے:
[تقبيل الأرض بين يدي العلماء والزهاد فعل الجهال، والفاعل والراضي آثمان]
علما و زہاد کے سامنے زمین بوسی جاہلوں کا فعل ہے اور ایسا کرنے والا اور اس پر راضی ہونے والا، دونوں گناہ گار ہیں۔
(فتاویٰ عالمگیری: 369/5)
علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ) فرماتے ہیں:
[لأنه يشبه عبادة الوثن]
کیونکہ یہ بتوں کی عبادت کے مشابہ ہے۔ (البناية في شرح الهداية: 198/12)
الحاصل:
نبی کریم ﷺ کی قدم بوسی کے بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔ صحابہ کرام، تابعینِ عظام اور تبع تابعین کے دور میں قدم بوسی کا وجود نہیں ملتا۔ یوں قدم بوسی اور زمین بوسی ناجائز اعمال وافعال ہیں۔