اسلام میں نکاح کی اہمیت اور رہبانیت کی ممانعت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

اسلام میں رہبانیت نہیں ہے

اسلام نے جنسی خواہش کو بے لگام نہیں چھوڑا ہے کہ شتر بے مہار کی طرح جس راہ پر چاہے چل پڑے بلکہ اس پر مضبوط گرفت رکھی ہے چنانچہ اسلام نے زنا ہی کو نہیں اس کے اسباب و متعلقات کو بھی حرام قرار دیا ہے۔ لیکن دوسری جانب اسلام ایسے رجحانات کا مخالف ہے جو فطری خواہش سے متصادم ہوں، یا اس کو سرے سے ختم کر دینا چاہتے ہوں۔ اسی لیے اسلام نے نکاح کی ترغیب دی ہے اور غیر شادی شدہ رہنے یا اپنے کو خصی کر لینے کی ممانعت کی ہے۔ لہذا کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ استطاعت کے باوجود نکاح سے اس بنا پر اعراض کرے کہ وہ دنیا سے قطع تعلق کر کے اللہ کا ہو کر رہنا چاہتا ہے۔ یا یکسو ہو کر عبادت کرنا چاہتا ہے۔
بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ترک دنیا کا رجحان پیدا ہو گیا تھا۔ لیکن جوں ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ ترک دنیا اسلام کی راہ سے انحراف اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض ہے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نصرانی افکار کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔
سیدنا ابو قلابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
اراد أناس من اصحب رسول الله أن يرفضوا الدنيا ويتركوا النساء ويترهبوا فقال رسول الله فغلظ فيهم المقالة ثم قال: إنما هلك من كان قبلكم بالتشديد، شددو اعلى أنفسهم فشدد الله عليهم فأولئك بقايا هم فى الديار والصوامع، فاعبدوا الله ولا تشركوا به وحجوا واعتمروا واستقيموا يستقم بكم
کچھ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تارک الدنیا بننے، عورتوں کو چھوڑ دینے اور رہبانیت اختیار کرنے کا ارادہ کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا : تم سے پہلے کے لوگ دین میں تشدد اختیار کرنے کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے جب تشدد اختیار کیا تو اللہ نے بھی ان کے ساتھ تشدد کا معاملہ کیا۔ ان ہی کے یہ اخلاف (برے جانشین) ہیں جو دیار اور خانقاہوں میں پائے جاتے ہیں، پس اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ حج کرو عمرہ کرو اور راستی اختیار کرو کہ تمہارے ساتھ بھی راستی کا معاملہ کیا جائے۔
تفسیر طبری (917) – تفسیر در منثور (140/3) – كتاب الزهد لعبد الله بن المبارك (ص/ 136 ح / 1031) و اسناده ضعيف لارساله ولبعضه شاهد عند ابی داود (4904)
راوی کہتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
اے ایمان لانے والو ! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ ٹھہراؤ اور نہ حد سے تجاوز کرو۔ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
(سورہ المائدہ : 87)
اور مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جیسے لوگوں نے چاہا کہ وہ تجرد کی زندگی گزاریں اور اپنے آپ کو خصی بنا لیں اور ٹاٹ کا کپڑا پہنیں۔ اس پر مذکورہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی۔
تفسیر طبری (10/7-11)
صحیح بخاری وغیرہ کی روایت ہے :
إن رهطا من الصحابة ذهبوا إلى بيوت النبى يسألون ازواجه عن عبادته، فلما أخبروا بها كأنهم تقالوها ثم قالوا أين نحن من رسول الله وقد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر فقال احدهم أما أنا فاصوم الدهر فلا أفطر وقال الثاني وآنا أقوم الليل فلا أنام وقال الثالث وأنا اعتزل النساء فلا أنزوج آبداء – فلما بلغ إلك النبى صلى الله عليه وسلم بين لهم خطأهم وعوج طريقهم وقال لهم إنما أنا أعلمكم بالله واخشاكم له ولكنى أقوم وآنام واصوم وأفطر وآتزوج النساء فمن رغب عن سنتي فليس مني
صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گیا تاکہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا حال معلوم کریں۔ جب ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے خیال کیا کہ یہ عبادت کم ہے۔ اور کہنے لگے کہاں ہم اور کہاں اللہ کا پیغمبر! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو تمام اگلے پچھلے گناہ اللہ معاف کر چکا ہے۔ پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا : میں تو مسلسل روزے رکھوں گا۔ اور دوسرے نے کہا : میں رات بھر عبادت کروں گا بالکل نہیں سوؤں گا۔ اور تیسرے نے کہا : میں عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کروں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی غلطی اور کجروی ان پر واضح کرتے ہوئے فرمایا : میں تم میں سب سے زیادہ اللہ کو جاننے والا اور اس سے ڈرنے والا ہوں لیکن رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ جو کوئی میرے طریقہ سے انحراف کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
بخاري كتاب النكاح باب الترغيب فى النكاح ح : 5063 – مسلم کتاب النکاح باب استحباب النكاح ح : 1401
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
رد رسول الله على عثمان بن مضعون التبتل ولو أذن له لا ختصينا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو تجرد کی زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم اپنے آپ کو خصی کر لیتے۔“
بخاري كتاب النكاح : باب ما يكره من التبتل ح : 5073 – مسلم كتاب النكاح باب استحباب النكاح : 1402
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج فإنه أغض للبصر وأحصن للفرج
اے نوجوانو ! تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نکاح کر لے کیونکہ نکاح غض بصر اور شرمگاہ کی حفاظت کا باعث ہے۔
بخاری کتاب النکاح باب قول النبي من استطاع منكم الباءة ح 5065 – مسلم کتاب النکاح باب استحباب النكاح ح : 1400
اسی بنا پر بعض علماء کہتے ہیں کہ نکاح کرنا مسلمان پر فرض ہے۔ باوجود استطاعت کے نہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اور دیگر علماء کی رائے میں اس شخص پر فرض ہے جو نکاح کا مشتاق ہو اور اپنے لیے اندیشہ محسوس کرتا ہو۔
مسلمان کے لیے مناسب نہیں ہے کہ رزق کی تنگی یا ذمہ داریوں کے اندیشہ کے پیش نظر اپنے آپ کو نکاح سے روکے رکھے۔ بلکہ اسے کوشش کرنی چاہیے اور اللہ کے فضل و اعانت کا امیدوار ہونا چاہیئے جس کا وعدہ اللہ نے ان لوگوں سے کیا ہے جو عفت و پاکدامنی کی خاطر نکاح کرتے ہیں۔ ارشاد الہی ہے :
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
”اور تم میں سے جو لوگ متجرد ہوں اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں ان کا نکاح کر دو۔ اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔“
(سورہ النور : 32)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
ثلاثة حق على الله عونهم الناكح الذى يريد العفاف والمكاتب الذى يريد الآداء والغازي فى سبيل الله
”تین اشخاص ایسے ہیں کہ ان کی مدد اللہ کے ذمہ ہے۔ ایک نکاح کرنے والا جو طالب عفت ہو دوسرا وہ مکاتب غلام جو مال ادا کر کے آزاد ہونا چاہتا ہو اور تیسرا اللہ کی راہ کا مجاہد۔“
مسند احمد : 437/2 ترمذی کتاب فضائل الجهاد باب ماجاء في المجاهد والناكح ح : 1655 – نسائي كتاب النکاح باب معونة الناكح الذي يريد العفاف ح : 3220 – ابن ماجه کتاب العتق باب المكاتب ح : 2518