حدیث 25: قبر پر سبز شاخ لگانے سے عذاب قبر میں تخفیف
ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی باغ میں تشریف لے گئے تو دو آدمیوں کی آواز سنی جو اپنی قبروں میں عذاب میں مبتلا تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں دیا جا رہا۔ ان میں ایک پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کرتا تھا جبکہ دوسرا چغل خور تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سبز شاخ منگوائی، اس کے دو ٹکڑے کیے اور دونوں قبروں پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ آپ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امید ہے کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے۔“
صحيح البخاري ، الوضوء ، باب من الكبائر أن لا يستتر من بوله ، حدیث : 216 ، و مقام حدیث،ص: 231
اس حدیث کے بارے میں پرویز صاحب کے دو اعتراض ہیں: ایک تو عذاب قبر سے انکار، دوسرا اعتراض یہ ہے کہ سبز شاخ کی وجہ سے عذاب قبر میں تخفیف ہونا۔ عذاب قبر کے بارے میں تفصیلی بحث گزر چکی ہے۔ جہاں تک سبز شاخ کی وجہ سے تخفیف عذاب کے مسئلے کا تعلق ہے تو اس کا تفصیلی جواب قرآن کریم سے ثابت ہے، مثلاً ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ
”اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو۔“
(17-بني إسرائيل:44)
نیز فرمایا:
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ
”جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے سب اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔“
(62-الجمعة:1)
نیز فرمایا:
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ
”آسمان و زمین کی سب مخلوق نے اللہ کی تسبیح بیان کی۔“
(61-الصف:1)
مذکورہ بالا آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہے، خواہ جاندار ہو یا بے جان، حجر ہو یا شجر، ہر ایک کی تسبیح اس کی شان کے مطابق ہے۔ یہ تسبیح زبانِ حال سے بھی ہوتی ہے اور زبان قال سے بھی اور یہ قانون الہی ہے کہ جہاں اخلاص سے ذکر الہی اور تسبیح و تحمید کی جائے وہاں رحمت نازل ہوتی ہے، ماحول معصیت سے پاک ہو جاتا ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید سے غفلت ہو تو وہاں عذاب الہی نازل ہوتا ہے۔ باغ والوں کے قصے میں ہے کہ جب ان پر عذاب نازل ہوا تو ان میں سے بہتر شخص نے کہا:
قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ ﴿٢٨﴾ قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ﴿٢٩﴾
”کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم اس کی تسبیح کیوں نہیں کرتے، تب کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی ظالم تھے۔“
(68-القلم:28-29)
چنانچہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے تو آپ نے سبز شاخ کو تخفیف عذاب کا ذریعہ بنایا اور یہ بھی معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام اللہ تعالیٰ کے اذن سے کرتے ہیں اور یہاں اذنِ الہی شاخ کے خشک ہونے تک معلق معلوم ہوتا ہے۔ لفظ لعل ”شاید“ شک کے معنی میں نہیں بلکہ یقین کے معنی میں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں بھی لفظ لعل یقین کے معنی میں آتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ جملہ فرمایا تھا:
لعل الله أن يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين
”امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس (حسن رضی اللہ عنہ) کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے مابین صلح کرا دے۔“
صحيح البخاري، الصلح، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم للحسن، حديث: 2704
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل معجزہ اور آپ کی خصوصیت تھی۔ اگرچہ بعض علماء نے اسے عام ہی رکھا ہے۔