دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتا
عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها …. وإني مخبركم عني ، إني أنا المسيح الدجال وإني يوشك أن يؤذن لي فى الخروج فأخرج فأسير فى الأرض فلا أدع قرية إلا هبطتها فى أربعين ليلة غير مكة وطيبة فهما محرمتان على كلتاهما ، كلما أردت أن أدخل واحدة منهما استقبلني ملك بيده السيف صلتا يصدني عنها وإن على كل نقب منها ملائكة يحرسونها
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ : میں تمہیں اپنے متعلق آگاہ کرتا ہوں، میں مسیح دجال ہوں اور عنقریب مجھے خروج کی اجازت دے دی جائے گی تو میں نکلوں گا اور زمین پر پھروں گا اور میں مکہ و مدینہ کے سوا ہر بستی (شہر) کو چالیس راتوں میں روند ڈالوں گا کیونکہ یہ (مکہ و مدینہ) دونوں مجھ پر حرام ہیں۔ جب کبھی میں ان میں سے کسی ایک کی طرف داخل ہونے کے ارادے سے نکلوں گا تو تلوار لہراتا ہوا فرشتہ میرا استقبال کرے گا جو مجھے ان میں داخل ہونے سے مانع ہوگا اور ان دونوں شہروں کے ہر راستے پر فرشتے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے۔
مسلم : كتاب الفتن باب قصة الجساسة 2942 ابو داؤد 4325 ترمذی 253 نسائی 3547 ابن ماجة 2045 حمیدی 177/1 احمد 419/6 ، 420 ، 461 ، 464 دلائل النبوة 416/5
عن أنس بن مالك رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : المدينة يأتيها الدجال فيجد الملائكة يحرسونها فلا يقربها الدجال قال ولا الطاعون إن شاء الله
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مدینے میں دجال آئے گا تو یہاں فرشتوں کو اس کی حفاظت پر مامور پائے گا چنانچہ نہ دجال اس کے قریب آسکتا ہے اور نہ ہی طاعون۔ ان شاء الله
بخاری : کتاب الفتن : باب لا يدخل الدجال المدينة 7134 مسلم 1387 احمد 493 ، 312/2
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال مشرق کی طرف سے خارج ہوگا اور مدینے کا رخ کرے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ احد پہاڑ کے پاس پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ ملک شام کی طرف پھیر دیں گے اور شام میں ہی یہ دجال ہلاک ہوگا۔
مسلم : كتاب الحج : باب صيانة المدينة من دخول الطاعون والدجال اليها 1380 احمد 537/2 ترمذی 2234
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : خلاصی والا دن، تمہیں کیا معلوم خلاصی والا دن کون سا ہے؟ تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا پھر فرمایا : دجال نکلے گا اور احد پہاڑ پر چڑھ کر مدینے کی طرف دیکھے گا تو اپنے ساتھیوں (لشکر والوں) سے پوچھے گا کیا تم یہ سفید محل دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسجد ہے۔ پھر وہ مدینے کی طرف آئے گا تو ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو پائے گا پھر وہ (مدینے کے قریب) دلدلی زمین پر پڑاؤ کرے گا۔ مدینہ تین مرتبہ حرکت (زلزلہ) پیدا کرے گا جس کے نتیجے میں ہر منافق، منافقہ، فاسق اور فاسقہ دجال کی طرف نکل جائے گا۔ پس یہ ہے (یوم الخلاص) خلاصی والا دن۔
احمد 455/4 حاکم : كتاب الفتن 474/4 حلية الأولياء 214/6 المعجم الكبير 230/18 مجمع الزوائد 661/3 ابن حبان 5838 كنز العمال 248/12
دجال كے ليے سب سے سخت لوگ كون سے ثابت هوں گے؟
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال : ما زلت أحب بني تميم منذ ثلاث سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فيهم سمعته يقول : هم أشد أمتي على الدجال ، قال : وجاءت صدقاتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : هذه صدقات قومنا ، وكانت سبية منهم عند عائشة فقال : أعتقيها فإنها من ولد إسماعيل
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں، میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا : کہ یہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت مخالف ثابت ہوں گے۔ پھر (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ بنو تمیم کے ہاں سے زکوٰۃ کا مال آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ یہ ہماری قوم کی زکوٰۃ ہے۔ بنو تمیم کی ایک عورت قید ہو کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (غلام) تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے آزاد کر دو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔
بخاری : كتاب العتق : باب من ملك من العرب 2543 احمد 514/2 مسلم 2525 السنن الكبرى 11/7
ایک روایت میں ہے کہ (ایک مرتبہ) بنو تمیم والوں کی زکوٰۃ میں تاخیر ہوئی تو ایک آدمی نے (طنزاً) کہا کہ یہ بنو تمیم والے تو زکوٰۃ بھیجنے میں سستی کر دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی تو فرمایا : بنو تمیم تو میری بڑی پیاری قوم ہے اس کے بارے میں ہمیشہ اچھی بات ہی کیا کرو یہ لوگ دجال کے لئے سب لوگوں سے بڑھ کر لمبے لمبے نیزوں سے (حملہ کرنے) والے ثابت ہوں گے۔
احمد 230/4 مجمع الزوائد 16/10 کنز العمال 61/12
دجال بیت اللہ اور بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکتا :
عن سمرة بن جندب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابون آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى … إنه سيظهر على الأرض كلها إلا الحرم وبيت المقدس وإنه يحصر المؤمنين فى بيت المقدس فيزلزلون زلزالا شديدا ثم يهلكه الله تبارك وتعالى وجنوده
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ تیس جھوٹے ظاہر ہوں گے جن میں سب سے آخر میں کانا دجال ہوگا جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی۔ وہ ساری زمین پر قبضہ جمالے گا مگر بیت اللہ اور بیت المقدس تک رسائی نہ پاسکے گا۔ بیت المقدس میں (موجود) مسلمانوں کا محاصرہ کرے گا تو ان (مسلمانوں) کو شدید زلزلوں کا سامنا ہوگا بالآخر اللہ تعالیٰ دجال اور اس کے لشکروں کو تباہ و برباد کر دیں گے۔
احمد 22/5 مجمع الزوائد 448/2 المعجم الكبير 227/7 الاصابة 26/4 فتح الباری 706/6