مضمون کے اہم نکات
حکم الإحسان لغیر الضارین من الکفار
بے ضرر کفار سے حسن سلوک کا حکم
اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی نہ رکھنے والے کفار سے عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق حسن سلوک کرنے کاحکم ہے۔
[لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ]،[اِنَّمَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ اَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَ ظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ]
جن لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملہ میں کوئی جنگ نہیں کی نہ ہی تمہیں گھر سے نکالا ہے ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے تمہیں اللہ تعالیٰ منع نہیں فرماتا، اس لئے کہ اللہ تو انصاف کرنے والوں کوہی پسند کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں سے محبت کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے تمہارے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ کی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہیں بے گھر کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کی، ایسے کافروں سے جو لوگ دوستی کریں گے وہ ظالم ہیں۔ (سورۃ الممتحنہ:8-9)
اسلامی حکومت کے وفادار، ذمیوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
[عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة، وإن ريحها توجد من مسيرة أربعين عاما]
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ذمی کو (ناحق) قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھے گا جبکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے آتی ہے۔ [صحیح البخاری:3166]
[عن عمر رضي الله عنه، قال: وأوصيه بذمة الله وذمة رسوله صلى الله عليه وسلم أن يوفى لهم بعهدهم، وأن يقاتل من ورائهم ولا يكلفوا إلا طاقتهم]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (دنیا سے رخصت ہوتے وقت بعد میں بننے والے خلیفہ کو) وصیت فرمائی کہ میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ ذمیوں سے کئے ہوئے عہد کو اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ سمجھتے ہوئے پورا کرے ان کی جانیں بچانے کے لئے (غیر ذمی کافروں سے) لڑے اور ان کی طاقت سے زیادہ انہیں تکلیف نہ دے (یعنی ان کی استطاعت سے زیادہ جزیہ وصول نہ کرے۔) [صحیح البخاری:3052]
مشرک ماں باپ کی اسلام دشمنی کے باوجود ان کے ساتھ ادب اور احترام کے ساتھ پیش آنے کا حکم ہے۔
[وَ اِنۡ جَاہَدٰکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشۡرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡہُمَا وَ صَاحِبۡہُمَا فِی الدُّنۡیَا مَعۡرُوۡفًا ۫ وَّ اتَّبِعۡ سَبِیۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ]
اور اگر والدین تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا جسے تو نہیں جانتا، تو ان کی بات ہرگز نہ مان لیکن دنیا میں ان دونوں کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ، اور پیروی اس شخص کے راستے کی اختیار کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے، پھر تم سب کو میری طرف پلٹنا ہے میں تم کو بتاؤں گا جو کچھ تم عمل کرتے رہے ہو۔ (سورۃ لقمان:15)
[عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما، قالت: قدمت علي أمي وهي مشركة في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاستفتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلت: وهي راغبة، أفأصل أمي؟ قال: نعم، صلي أمك]
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا (بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ) کہتی ہیں میری والدہ اس زمانے میں مدینہ آئی جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش مکہ کے درمیان صلح (حدیبیہ) ہو چکی تھی، اس کا والد (یعنی سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کا نانا) بھی اس کے ساتھ تھا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میری ماں آئی ہے اور اسے اسلام سے سخت نفرت ہے اس سے کیسا سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس سے اچھا سلوک کر۔ [صحیح البخاری:2620]
اگر کوئی کافر یا مشرک مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا چاہئے۔
[عن جبير بن مطعم، عن أبيه، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال في أسارى بدر: لو كان المطعم بن عدي حيا، ثم كلمني في هؤلاء النتنى لتركتهم له]
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا: کہ اگر مطعم بن عدی آج زندہ ہوتا اور مجھ سے ان گندے قیدیوں کو رہا کرنے کی درخواست کرتا تو میں انہیں اس کی خاطر رہا کر دیتا۔ [صحیح البخاری:4024]
وضاحت:
مطعم بن عدی مشرک تھا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے افسردہ اور زخمی حالت میں واپس تشریف لائے تو مکہ میں داخل ہونے کے لئے مطعم بن عدی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پناہ دی تھی اس احسان کا بدلہ اتارنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ادا فرمائے تھے۔
مصیبت میں مبتلا کافر یا مشرک کی مدد کرنے پر بھی اجر و ثواب ہے۔
[عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: بينا رجل يمشي فاشتد عليه العطش، فنزل بئرا فشرب منها، ثم خرج، فإذا هو بكلب يلهث يأكل الثرى من العطش، فقال: لقد بلغ هذا مثل الذي بلغ بي، فملأ خفه، ثم أمسكه بفيه، ثم رقي، فسقى الكلب، فشكر الله له، فغفر له، قالوا: يا رسول الله، وإن لنا في البهائم أجرا، قال: في كل كبد رطبة أجر]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی سفر میں جارہا تھا کہ راستے میں اسے سخت پیاس لگی اسے ایک کنواں ملا اس میں اترا اور پانی پی کر باہر آگیا، اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے کیچڑ چاٹ رہا ہے۔ آدمی نے سوچا اس کتے کو بھی پیاس کی وجہ سے ویسی ہی تکلیف ہوگی جیسی مجھے تھی، چنانچہ وہ (دوبارہ) کنویں میں اترا اپنا جوتا پانی سے بھرا اور اسے منہ میں تھام کر باہر نکلا اور کتے کو پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر افزائی فرمائی اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا جانوروں کے ساتھ حسن سلوک پر بھی اجر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر زندہ کے ساتھ حسن سلوک پر اجر ہے۔ [صحیح البخاری:2363]
دوران جنگ قتال میں حصہ نہ لینے والے کافروں اور مشرکوں کو قتل کرنا منع ہے۔
[عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: وجدت امرأة مقتولة في بعض مغازي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قتل النساء، والصبيان]
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کسی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت قتل کی گئی دیکھی تو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ [صحیح البخاری:3015]
کسی کافر یا مشرک کو امان دینے کے بعد قتل کرنا منع ہے۔
[عن عمرو بن الحمق الخزاعي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أمن رجلا على دمه فقتله، فإنه يحمل لواء غدر يوم القيامة]
سیدنا عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی کو جان کی امان دینے کے بعد قتل کیا وہ قیامت کے دن غداری کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوگا۔ [سنن ابن ماجۃ:2688]
اسلام قبول کرنے کے لئے کفار یا مشرکین پر جبر کرنے کی اجازت نہیں۔
[لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ قَدۡ تَّبَیَّنَ الرُّشۡدُ مِنَ الۡغَیِّ ۚ فَمَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالطَّاغُوۡتِ وَ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسۡتَمۡسَکَ بِالۡعُرۡوَۃِ الۡوُثۡقٰی لَا انۡفِصَامَ لَہَا ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ]
دین کے معاملہ میں زبردستی نہیں ہے، نیکی اور گمراہی ایک دوسرے سے الگ کردی گئی ہے جس شخص نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ اللہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔ (سورۃ البقرۃ:256)
دوران جنگ اگر کوئی کافر یا مشرک اسلامی تعلیمات سمجھنا چاہے تو اسے پناہ دے کر دین کی تعلیمات سمجھانی چاہئیں اگر وہ ایمان نہ لائے تو اسے بحفاظت اس کے ٹھکانے پر پہنچانے کا حکم ہے۔
[وَ اِنۡ اَحَدٌ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ اسۡتَجَارَکَ فَاَجِرۡہُ حَتّٰی یَسۡمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبۡلِغۡہُ مَاۡمَنَہٗ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡلَمُوۡنَ]
اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے (تاکہ اللہ کا کلام سنے) تو اسے پناہ دو یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے (اگر وہ ایمان نہ لائے تو) اسے واپس اس کے ٹھکانے تک پہنچا دو۔ یہ اس لئے کرنا چاہئے کہ مشرک جانتے نہیں۔ (سورۃ التوبہ:6)
دینی مفاد کے پیش نظر کافر یا مشرک کی عیادت کرنا جائز ہے۔
[عن أنس رضي الله عنه، أن غلاما ليهود كان يخدم النبي صلى الله عليه وسلم فمرض، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده، فقال: أسلم فأسلم]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لئے تشریف لائے (عیادت کے بعد) اسے فرمایا: مسلمان ہوجا، اور وہ مسلمان ہوگیا۔ [صحیح البخاری:1356]
کافروں اور مشرکوں کی زندگی میں ان کے لئے ہدایت کی دعا کرنی جائز ہے۔
[عن أبي هريرة رضي الله عنه، قدم الطفيل بن عمرو على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إن دوسا قد عصت وأبت، فادع الله عليها، فظن الناس أنه يدعو عليهم، فقال: اللهم اهد دوسا وأت بهم]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ (دوسی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قبیلہ دوس نے (اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کی اور (ایمان لانے سے) انکار کیا ان کے لئے بددعاء فرمائیں۔ لوگ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے واقعی بددعاء فرمائیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یا اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں میرے پاس لے آ۔ [صحیح البخاری:4392]
وضاحت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بعد قبیلہ دوس ایمان لے آیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دی۔