قبر پرستوں کی اصلاح حکمرانوں کا فرض امام ابن تیمیہؒ کی نصیحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

قبر پرستوں اور گمراہ لوگوں کی اصلاح مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے

(امام ابن تیمیہ کی پرزور نصیحت)

حکمران طبقے پر فرض ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور دین حق کی مدد پر کمربستہ ہوں اور اسے عوام پر نافذ کریں۔ جن امور سے روکا گیا ہے انہیں ختم کریں اور قبر پرستوں کی ان افتراءات اور اکاذیب اور بدعتوں کا قلع قمع کریں جو شریعت میں داخل کر دی گئی ہیں۔ خواہ عمداً داخل کی گئی ہوں یا جہالت اور لاعلمی کی بنا پر۔
دین اسلام کا اصل یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عظیم اور اہم فریضے کو بروئے کار لایا جائے۔ توحید نیکی کی جڑ اور شرک برائی کی انتہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق اور ہدایت دے کر مبعوث کیا گیا جنہوں نے توحید اور شرک میں فرق واضح کیا۔ حق اور باطل میں تمیز کی ہدایت اور گمراہی میں حد فاصل قائم کی۔ رشد و ہدایت اور گمراہی، نیکی اور بدی میں فرق کیا۔
اب جو شخص امر کو نہی اور نہی کو امر میں تبدیل کرنا چاہتا ہے اور دین اسلام اور شریعت مطہرہ میں رد و بدل کا خواہاں ہے خواہ لاعلمی کی بنا پر یا کسی دنیاوی لالچ کی وجہ سے اس فعل قبیح کا مرتکب ہو رہا ہو تو حاکم وقت پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کا منہ بند کرے اور کتاب و سنت کی حمایت و نصرت میں اپنی قوت خرچ کرے کیونکہ رب کریم کا پختہ وعدہ ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور مومنین کی دنیا اور آخرت میں مدد و نصرت فرمائے گا۔ پس جس خوش نصیب کے ہاتھ سے دین اسلام کی نصرت ہو جائے وہ دنیا اور آخرت میں سرخرو اور سعادت مند ہوگا۔
ورنہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ اپنے دین کی خدمت کسی اور شخص سے لے لے اور پھر ہر شخص کو اس کے عمل و کردار کے مطابق بدلہ دے کیونکہ رب کریم کی یہ صفت ہے کہ وما ربك بظلام للعبيد(تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں)۔
اور اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ حق کا ساتھ دیتا ہے اور جو شخص حق سے سرکنے اور روگردانی کی کوشش کرتا ہے اس کے بارے میں رب کریم فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ‎﴿٣٨﴾‏ إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ‎﴿٣٩﴾‏
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تمہیں کیا ہو گیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا جاتا ہے تو تم زمین سے چمٹ کر رہ جاتے ہو؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کر لیا؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیوی زندگی کا یہ سب ساز و سامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا۔ تم نہ اٹھو گے تو اللہ تمہیں درد ناک سزا دے گا۔ اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا اور تم اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“
(9-التوبة:38-39)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ‎﴿٥٤﴾‏
”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے تو (پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا۔ جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔“
(5-المائدة:54)
رب ذوالجلال نے لوگوں کو یہ نقشہ ان کی اپنی جانوں اور دوسرے لوگوں میں آئینہ کی طرح دکھلا دیا کہ وہ اپنے احکام و فرامین کی کیسے تصدیق کرتا ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رب کریم فرماتا ہے:
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ‎﴿٥٣﴾
”عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز کا شاہد ہے؟“
(41-حم السجدة:53)
والله أعلم
والحمد لله رب العالمين