اسلام میں گھر کی اہمیت، صفائی، زینت اور اسراف سے بچاؤ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

اسلام میں گھر کی اہمیت، صفائی، زینت اور اسراف سے بچاؤ

مسکن یا گھر آدمی کے لیے محفوظ مقام اور پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں وہ خانگی زندگی بسر کرتا ہے اور سماج کی قیود سے اپنے کو آزاد محسوس کرنے لگتا ہے۔ گھر میں جسم کو آرام ملتا اور نفس کو سکون۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے احسانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے :
وَاللهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ سَكَنَا
”اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا۔“
(النحل : 80)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کشادہ گھر پسند تھا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیوی سعادت خیال فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
أربع من السعادة : المرأة الصالحة، والمسكن الواسع، والجار الصالح، والمركب الهنى
”چار چیزیں باعث سعادت ہیں، نیک بیوی، وسیع مسکن، اچھا پڑوسی اور عمدہ سواری۔“
صحیح ابن حبان (الاحسان : 4032) – مستدرك حاكم (162/2) مسند احمد (1609/1)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بہ کثرت مانگا کرتے :
اللهم اغفرلى ذنبي ووسع لي فى داري وبارك لي فى رزقى
”اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے، میرے گھر میں کشادگی پیدا فرما اور میرے رزق میں برکت عطاء کر۔“
کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دُعا مانگا کرتے ہیں؟ فرمایا :
وهل تركن من شيء
”اس دُعا نے کسی چیز کو بھی چھوڑا ہے؟“
نسائي في الكبرى (24/6، ح : 9908) – ابن السني في عمل اليوم والليلة (28) رواه احمد (399/4) مختصرا – (اسناده ضعيف لا نقطاعه)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کو صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب دی ہے تا کہ یہ صفائی نظافت پسند دینِ اسلام کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہو اور ایک ایسا عنوان ہو جو مسلمانوں کو اُن لوگوں سے ممتاز کرے جن کے مذہب میں گندگی تقرب الہی کا ذریعہ ہے، چنانچہ فرمایا :
إن الله طيب يحب الطيب، نظيف يحب النظافة، كريم يحب الكرم، جواد يحب الجود، فنظفوا أفنيتكم ولا تشبهوا باليهود
”اللہ تعالیٰ پاک ہے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے، نظیف ہے نظافت کو پسند کرتا ہے، کریم ہے کرم کو پسند کرتا ہے، فیاض ہے فیاضی کو پسند کرتا ہے۔ لہذا اپنے گھروں کے صحن صاف رکھا کرو اور یہود کی مشابہت نہ کرو۔“
ترمذی کتاب الادب باب ما جاء في النظافة ح : 2799 – (واسناد ضعیف)

تعیش اور بت پرستی کے مظاہر :

اپنے گھر کو رنگ و روغن، نقش ونگار اور جائز قسم کی زیب وزینت سے آراستہ کرنے میں کوئی حرج نہیں :
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ الَّتِي اَخْرَجَ لِعِبَادِهِ
”آپ کہیے کس نے حرام ٹھہرایا اللہ کی اُس زینت کو جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہے؟“
(الاعراف : 32)
جی ہاں ! ایک مسلمان کے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر، کپڑے اور جوتے وغیرہ کے معاملہ میں جمال کو پسند کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لن يدخل الجنة من كان فى قلبه مثقال ذرة من كبر – فقال رجل : إن الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا ونعله حسنا فقال : إن الله جميل يحب الجمال
”جس شخص کے دل میں ذرہ برابر کبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ ایک شخص نے پوچھا : آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں (تو کیا یہ بھی کبر ہے؟) فرمایا : اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔“
مسلم، کتاب الایمان، باب تحريم الكبر و بيانه ح : 91
دوسری روایت میں ہے :
إن رجلا جميلا أتى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: إني أحب الجمال وقد أعطيت منه ما ترى، حتى ما أحب أن يفوقنى احد بشراك نعل، أفمن الكبر ذلك يارسول الله؟ قال : لا ولكن الكبر بطر الحق وغمط الناس
”ایک خوبصورت شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں جمال کو پسند کرتا ہوں اور مجھے جو جمال عطا ہوا ہے اس کا مشاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما ہی رہے ہیں۔ میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص جوتے کے تسمہ کے معاملہ میں بھی مجھ پر فوقیت لے جائے، تو اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا یہ بھی تکبر ہے؟ فرمایا : ”نہیں، بلکہ کبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکراؤ اور لوگوں کو حقیر خیال کرو۔“
ابوداود، کتاب اللباس، باب ماجاء في الكبر ح : 4092
البتہ غلو اسلام کو کسی چیز میں بھی پسند نہیں ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو بھی پسندیدہ نہیں قرار دیا کہ ایک مسلمان کا گھر تعیش اور اسراف کا مظہر ہو جس کی قرآن نے سخت مذمت کی ہے یا بت پرستی کا مظہر ہے جس سے اس توحید والے دین نے پوری قوت کے ساتھ جنگ کی ہے۔