مضمون کے اہم نکات
عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: کیا امِ موسیٰ، مریم اور دیگر کسی غیر نبی پر وحی نہیں آئی؟
جواب: اس امت سے قبل ایسا ہوا مگر اب ایسا ممکن نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نبوۃ میں سے کچھ باقی نہیں رہا سوائے مبشرات کے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: مبشرات کیا ہیں؟ فرمایا: اچھے خواب۔ [بخاری، كتاب التعبير، باب المبشرات:6990]
اور فرمایا: مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ [بخاری، كتاب التعبير، باب الرؤيا الصالحة جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة:6987]
غیر نبی کا خواب شیطان کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے، اس لیے خواب یقینی خبر کا ذریعہ نہیں۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا: جو کوئی برا خواب دیکھے تو وہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرے، پھر وہ اس کا نقصان نہ کر سکے گا۔
[بخاری، كتاب التعبير، باب الرؤيا من الله: 6985]
آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ [بخاری، كتاب التعبير، باب الرؤيا من الله:6984]
آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: تم سے قبل بنی اسرائیل میں ایسے افراد تھے (جو نبی نہیں تھے لیکن) اس کے باوجود فرشتوں نے ان سے کلام کیا، اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوتا تو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہوتا۔ [بخاری، كتاب فضائل أصحاب النبي ﷺ، باب مناقب عمر بن الخطاب أبي حفص القرشي العدوي رضي الله عنه: 3689]
سوال: جس طرح بادشاہ سے ملنے کے لیے وزیر کی سفارش کی ضرورت ہوتی ہے، کیا اس طرح اللہ سے ملنے کے لیے اولیاء اللہ کی سفارش کی ضرورت نہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ بادشاہوں جیسا نہیں ہے کیونکہ بادشاہ سلطنت کا مکمل انتظام خود کرنے سے فطرتاً عاجز ہوتا ہے۔ اسے ایسے معاونین کی ضرورت ہوتی ہے جو نہ صرف امورِ سلطنت میں اس کی معاونت کرتے ہیں بلکہ درحقیقت یہ لوگ بادشاہ کی حکومت میں شریک ہوتے ہیں اور اس لیے
[1] کبھی بادشاہ سفارش قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
[2] کبھی بادشاہ کو سفارش کرنے والے سے کوئی غرض ہوتی ہے۔
[3] کبھی اسے سفارش کرنے والے کی سرکشی کا خوف ہوتا ہے۔
[4] کبھی سفارش کرنے والے کے کسی احسان کا بدلہ دینا مقصود ہوتا ہے۔
[5] کبھی وہ سفارش کرنے والے کی محبت میں مجبور ہو کر قانون تبدیل کر کے اس کی سفارش قبول کرتا ہے۔
جب کہ اللہ کے متعلق ایسا سوچنا کفر و شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ] اے ایمان والو! جو مال ہم نے تمہیں دیا ہے اس کو اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کر لو جس میں نہ اعمال کا سودا ہو گا، نہ دوستی اور نہ سفارش کام آئے گی اور کافر ہی ظالم ہیں۔ (البقرة:254)
سوال: کیا دعا میں کسی فوت شدہ نبی یا ولی کا واسطہ دیا جا سکتا ہے؟
جواب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی یا کسی دوسرے فوت شدہ نبی کی ذات کے وسیلے سے کبھی دعا نہیں کی۔ آپ ﷺ کی زندگی میں اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد دونوں صورتوں میں آپ ﷺ کا وسیلہ یکساں ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے بجائے آپ ﷺ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دعا کے لیے نہ کہتے بلکہ رسول اللہ ﷺ کا وسیلہ دیتے۔ دعا میں محمد ﷺ، آلِ محمد یا کسی ولی اور پیر کا وسیلہ بعض اوقات انسان کو شرک تک پہنچا دیتا ہے، جب کہ اعتقاد رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کسی محبوب کے واسطے کا محتاج ہے، جیسا کہ بادشاہ یا افسرانِ بالا ہوتے ہیں۔ ایسا کہنے سے خالق کی مخلوق سے مشابہت لازم آتی ہے۔ کیونکہ کسی کو واسطہ اسی کا دیا جاتا ہے جس سے وہ ڈرتا یا جس کی محبت میں مجبور ہو جائے یعنی اس کے نام سے وہ لاچار ہو جائے اور انکار کرنا مشکل ہو۔ اللہ تعالیٰ ان سب نقائص سے پاک ہے۔
سوال: جب آدم علیہ السلام جنت سے نکالے گئے تو کیا انہوں نے محمد ﷺ کے وسیلہ سے دعا نہیں کی تھی؟
جواب: آدم علیہ السلام کی دعا قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے: [رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ] اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم ضرور تباہ ہو جائیں گے۔ (الأعراف:23)
آدم علیہ السلام نے محمد ﷺ کا واسطہ نہیں دیا، یہ روایت موضوع ہے کیونکہ اس حدیث کا راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم اپنے والد سے موضوع روایات بیان کرتا ہے۔ (التوسل للعلامہ ناصر الدین البانی)
حافظ ذہبی اور امام ابن تیمیہ نے اسے موضوع کہا۔ قرآن مجید میں انبیاء اور اولیاء کی بہت سی دعائیں مذکور ہیں۔ نماز کے اندر ہر مسلمان بہت سی دعائیں کرتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے دن کے مختلف اوقات میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو بہت سی دعائیں سکھائی ہیں، لیکن کسی دعا میں یہ موجود نہیں کہ اے اللہ! میری مصیبت کو بحق فلاں، بطفیل فلاں، بصدقہ فلاں، بوسیلہ فلاں دور فرما، اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کسی وکیل کی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ] مجھ سے دعائیں کرتے رہو میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔ (المؤمن:60)
سوال: مسلمانوں کو غلبہ کب نصیب ہو گا؟
جواب: مسلمانوں کو غلبہ اس وقت ملے گا جب وہ انبیاء علیہ السلام کی دعوت قبول کریں گے۔(یعنی)
[1] توحیدِ باری تعالیٰ پر ایمان لائیں گے اور شرک کی تمام اقسام سے دست بردار ہو جائیں گے۔
[2] توحید کا پرچار کرتے ہوئے عقیدہ کو بنیاد بنا کر کثیر مسلمان ایک جماعت یعنی جسدِ واحد کی طرح ہو جائیں۔ گویا کہ فرقہ بندی کا جنازہ نکل جائے اور خالص توحید کی برکت سے کل دنیا کے اندر بہت سے مسلمانوں کا رخ دینِ حنیف کی طرف مڑ جائے۔
[3] دینِ اسلام کے لیے لڑنے کی حسبِ استطاعت تیاری کریں گے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا] اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ تم میں سے جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہ ان کو زمین میں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے۔ ان کے لیے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کی حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا۔ پس وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ (النور: 55)