توحید باری تعالیٰ: اللہ کا کوئی ہمسر، شریک یا مثل نہیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

توحید باری تعالیٰ

توحید باری تعالیٰ سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ اللہ کا کوئی ہم پایہ نہیں اور نہ ہی کسی کے ساتھ اس کی مثال دی جا سکتی ہے۔ کیونکہ وہ اپنی ذات، صفات اور افعال میں یکتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی اس کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس سے محبت رکھی جائے، اس پر توکل کیا جائے، اس کی اطاعت کی جائے یا اس سے دعا وغیرہ کی جائے۔ رب کریم نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ۚ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا ‎﴿٦٥﴾
”وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں۔ پس تم اس کی بندگی کرو اور اس کی بندگی پر ثابت قدم رہو۔ کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟“
(19-مریم:65)
تمام مخلوق میں کوئی ایسا نہیں جو اللہ کا ہم نام ہو اور نہ ہی کوئی اس کا مستحق ہے کہ اللہ کے اسماء میں سے اس کا نام رکھا جائے۔ اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جس کا نام معنوی لحاظ سے اس کا ہم پایہ ہو۔ جیسے حی، قیوم، علیم، قدیر وغیرہ۔ اور نہ ہی کوئی ایسا ہے جو ذات اور موجود کے لحاظ سے اس کا ہم پایہ ہو۔ نہ کوئی الہ کہلانے کا مستحق ہے نہ رب اور خالق۔
ارشاد الہی ہے:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‎﴿١﴾‏ اللَّهُ الصَّمَدُ ‎﴿٢﴾‏ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ‎﴿٣﴾‏ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ‎﴿٤﴾‏
”کہو وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔“
(112-الاخلاص:1-4)
اس آیت کریمہ سے واضح ہوا کہ نہ اللہ کا کوئی کفو ہے، نہ ہم مرتبہ، نہ مثیل اور نہ ہی برابر۔
مزید ارشادات الہی کو غور سے پڑھئے:
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ۖ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ ‎﴿١﴾
”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیاں اور روشنی پیدا کیں۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں۔“
(6-الانعام:1)
قَالُوا وَهُمْ فِيهَا يَخْتَصِمُونَ ‎﴿٩٦﴾‏ تَاللَّهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ‎﴿٩٧﴾‏ إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ‎﴿٩٨﴾‏
”پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس جہنم میں اوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے۔ وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ کہیں گے کہ اللہ کی قسم! ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے جب ہم تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔“
(26-الشعراء:96-98)

اللہ ہی داتا ہے

وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ ‎﴿٧٣﴾‏ فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ‎﴿٧٤﴾‏
”اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں۔ پس اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔“
(16-النحل:73-74)