مضمون کے اہم نکات
سوال:
حالت روزہ میں عمداً تمباکو نوشی کر لی تو کیا حکم ہے؟
جواب:
اس کا روزہ ٹوٹ گیا، اس پر قضا واجب ہے، نیز توبہ و استغفار بھی کرے۔
سوال:
حالت روزہ میں احتلام ہوا تو کھا پی لیا، کیا حکم ہے؟
جواب:
احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جس نے یہ سمجھا کہ احتلام سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کھا پی لیا، اب اس پر روزہ کی قضا واجب ہے۔
سوال:
ایک نوکر نے کام کی شدت کی وجہ سے روزہ افطار کر دیا تو کیا حکم ہے؟
جواب:
کام کی شدت کی وجہ سے افطار کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کام کرتے کرتے بھوک و پیاس اس قدر شدید ہو کہ ہلاکت کا اندیشہ ہو تو روزہ توڑ سکتا ہے، اس پر قضا واجب ہوگی، کفارہ نہیں۔
سوال:
بیماری یا سفر کی وجہ سے روزہ توڑ دیا، کیا حکم ہے؟
جواب:
اس پر قضا واجب ہے، کفارہ نہیں۔
سوال:
ایک عورت نے شرعی عذر کی بنا پر ماہ رمضان کے روزے قضا کیے، کیا اس کا شوہر اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے؟
جواب:
کسی کی طرف سے روزے نہیں رکھے جا سکتے۔ عورت اپنے روزوں کی قضا خود دے گی، اگر نہیں دے سکتی تو روزوں کا فدیہ ادا کر دے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لا يصلي أحد عن أحد ولا يصوم أحد عن أحد ولكن يطعم عنه مكان كل يوم مدا من حنطة
”کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے نہ روزہ رکھے، بلکہ (روزے کی جگہ) اس کی طرف سے مستحقین کو ہر روز گندم کا ایک مد کھلائے۔“
(السنن الكبرى للنسائي: 2918، وسنده صحيح)
سوال:
نفل روزہ جان بوجھ کر توڑ دے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
نفل روزہ عمداً توڑ دے تو کوئی حرج نہیں۔ اس پر قضا واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ جمہور اہل علم کا مذہب ہے کہ کسی نفل کام کو شروع کیا جائے تو اختتام تک نفل ہی رہتا ہے، واجب نہیں ہوتا، سوائے نفلی حج اور عمرہ کے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ نفل جب تک شروع نہ کر دیے جائیں، نفل رہتے ہیں، لیکن جب ادا کرنا شروع کر دیا تو مکمل کرنا واجب ہے، مکمل نہ کرنے پر قضا لازم ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم فقال هل عندكم شيء فقلنا لا قال فإني إذن صائم ثم أتانا يوما آخر فقلنا يا رسول الله أهدي لنا حيس فقال أرينيه فلقد أصبحت صائما فأكل
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرے پاس آئے اور پوچھا: کیا گھر میں کھانا موجود ہے؟ عرض کیا: جی نہیں۔ فرمایا: تب میں روزے سے ہوں، پھر کسی اور دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تحفے میں حلوہ آیا ہے، فرمایا: لائیں، ویسے تو صبح میں نے روزہ رکھا تھا، پھر آپ نے حلوہ کھا لیا۔“
(صحيح مسلم: 1154)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
في الرواية الثانية التصريح بالدلالة لمذهب الشافعي وموافقيه في أن صوم النافلة يجوز قطعه والأكل في أثناء النهار ويبطل الصوم لأنه نفل فهو إلى خيرة الإنسان في الابتداء وكذا في الدوام وممن قال بهذا جماعة من الصحابة وأحمد وإسحاق وآخرون ولكنهم كلهم والشافعي معهم متفقون على استحباب إتمامه
”دوسری روایت امام شافعی اور آپ کے موافقین کی دلیل ہے کہ نفلی روزہ توڑ کر کچھ کھا لینا جائز ہے، اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا، کیونکہ یہ نفل ہے اور نفل جیسے ابتدا میں انسان کی مرضی پر ہوتا ہے، ایسے ہی اسے جاری رکھنا بھی مرضی پر موقوف ہے۔ یہ موقف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت، امام احمد بن حنبل، امام اسحاق رحمہم اللہ وغیرہم کا ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ سمیت تمام اسے مکمل کرنا مستحب سمجھتے ہیں۔“
(شرح النووي: 8/35)
❀ سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها يوم الجمعة وهي صائمة فقال أصمت أمس قالت لا قال تريدين أن تصومي غدا قالت لا قال فأفطري
”جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں آئے، میں روزہ سے تھی، پوچھا: کل آپ نے روزہ رکھا تھا؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: آئندہ کل کا ارادہ ہے؟ عرض کیا نہیں، فرمایا: تو پھر افطار کر دیں۔“
(صحيح البخاري: 1986)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
دل على أن الشروع في العبادة لا يستلزم الإتمام إذا كانت نافلة بهذا النص في الصوم وبالقياس في الباقي فإن قيل يرد الحج قلنا لا لأنه امتاز عن غيره بلزوم المضي في فاسده فكيف في صحيحه وكذلك امتاز بلزوم الكفارة في نفله كفرضه
”یہ حدیث دلیل ہے کہ نفلی عبادت کا آغاز کرنے پر اسے مکمل کرنا ضروری نہیں۔ روزوں میں تو یہ واضح نص ہے اور باقی عبادات میں اس پر قیاس کیا جائے گا۔ اگر کوئی کہے کہ پھر تو حج میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے! ہم کہیں گے کہ نہیں، حج اس سے مستثنیٰ ہے، کیونکہ حج فاسد ہو جائے تب بھی اسے جاری رکھنا ضروری ہے، چہ جائیکہ حج کو درمیان میں چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح فرض حج کی طرح نفل حج میں بھی کفارہ لازم ہوتا ہے، لہذا اسے دیگر عبادات پر قیاس کرنا درست نہیں۔“
(فتح الباري: 4/107)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ نے باب قائم کیا ہے:
باب صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
”نفلی روزہ اور اسے مکمل کرنے سے پہلے افطار کا بیان۔“
(السنن الكبرى: 4/455)
❀ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
آخى النبي صلى الله عليه وسلم بين سلمان وأبي الدرداء فزار سلمان أبا الدرداء فرأى أم الدرداء متبذلة فقال لها ما شأنك قالت أخوك أبو الدرداء ليس له حاجة في الدنيا فجاء أبو الدرداء فصنع له طعاما فقال كل قال فإني صائم قال ما أنا بآكل حتى تأكل قال فأكل فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال النبي صلى الله عليه وسلم صدق سلمان
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان فارسی اور سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہما میں مواخات قائم کی۔ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملنے آئے تو دیکھا کہ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کی حالت پراگندہ ہے۔ پوچھا: یہ کیا؟ کہا: آپ کے بھائی ابو درداء کو دنیا کی کوئی غرض نہیں۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ آئے اور سلمان رضی اللہ عنہ کے لیے کھانا پیش کیا۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: کھایئے، فرمایا: میں روزے سے ہوں۔ فرمایا: آپ کھائیں گے تو میں کھاؤں گا، تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کھا لیا۔ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمان نے درست کیا۔“
(صحيح البخاري: 1968)
❀ امام بخاری رحمہ اللہ کی تبویب:
باب من أقسم على أخيه ليفطر في التطوع ولم ير عليه قضاء إذا كان أوفق له
”کسی پر قسم اٹھا دی کہ وہ نفل روزہ افطار کر دے گا، اب اگر اس نے روزہ افطار کر دیا ہے تو اس پر قضا نہیں۔“
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
فيه جواز الفطر من صوم التطوع كما ترجم له المصنف وهو قول الجمهور ولم يجعلوا عليه قضاء إلا أنه يستحب له ذلك
”ترجمتہ الباب سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حدیث میں نفلی روزہ افطار کرنے کا جواز ہے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے، نیز روزہ توڑنے والے پر قضا ضروری نہیں، البتہ مستحب ہے۔“
(فتح الباري: 4/212)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے:
إنه أخبر أصحابه أنه صائم ثم خرج عليهم ورأسه يقطر فقالوا أولم تك صائما قال بلى ولكني مرت جارية لي فأعجبتني فأصبتها وكانت حسنة هممت بها وأنا قاضيها يوما آخر
”آپ رضی اللہ عنہما نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ میں روزے سے ہوں، بعد میں ان کے پاس آئے تو سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے، شاگردوں نے پوچھا: آپ تو روزے میں تھے؟ فرمایا: جی ہاں، روزے میں ہی تھا، مگر میرے پاس سے میری لونڈی گزری، وہ مجھے اچھی لگی، وہ خوب صورت بھی تھی تو میں نے اس سے مقاربت اختیار کر لی، اب اس روزے کی قضا کسی دوسرے دن دوں گا۔“
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 2/111، وسنده صحيح)
❀ انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إنه صام يوم عرفة فعطش عطشا شديدا فأفطر فسأل عدة من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فأمروه أن يقضي يوما مكانه
”آپ رحمہ اللہ نے یوم عرفہ کا روزہ رکھا، شدید پیاس لگی تو روزہ افطار کر دیا، پھر بہت سارے صحابہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اس روزے کی قضا کا حکم دیا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9093، وسنده صحيح)
سوال:
جان بوجھ کر فرض روزہ توڑنے پر قضا ہے؟
جواب:
بغیر عذر کے جان بوجھ کر فرض روزہ توڑنے پر قضا ہے، کفارہ نہیں ہے۔ مرض یا سفر کی وجہ سے روزہ افطار کر دے تو دوسرے دنوں میں قضا دے گا، جس نے جان بوجھ کر افطار کیا وہ بالا ولی قضا دے گا، نیز توبہ کرے گا۔
❀ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قاء فأفطر قال فلقيت ثوبان في مسجد دمشق فذكرت ذلك له فقال صدق أنا صببت له الوضوء
”(نفلی روزہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ توڑ دیا، کہتے ہیں: دمشق کی مسجد میں میری ملاقات ثوبان رضی اللہ عنہ سے ہوئی، میں نے اُن سے یہ بات ذکر کی تو کہنے لگے: انہوں نے سچ کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروانے کے لیے پانی میں نے ہی بہایا تھا۔“
(سنن أبي داود: 2381، سنن الترمذي: 87، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (8)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1956) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1097) نے صحیح کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (1/426) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ امام ابن مندہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إسناده متصل صحيح
”اس کی سند متصل صحیح ہے۔“
(التلخيص الحبير لابن حجر: 2/190)
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ روزہ قے آنے سے نہیں ٹوٹا، بلکہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اختیار سے روزہ توڑ دیا۔ یقینا یہ نفلی روزہ ہوگا۔ اس مفہوم سے تمام دلائل میں تطبیق ہو جاتی ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے:
من قاء وهو صائم فليفطر
”جس نے روزے کی حالت میں (جان بوجھ کر) قے کی، وہ افطار کر دے۔“
(السنن الكبرى للنسائي: 3118، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
من استقاء وهو صائم فعليه القضاء ومن ذرعه القيء فليس عليه القضاء
”جس نے روزے کی حالت میں جان بوجھ کر قے کی، اس پر قضا ہے اور جسے خود بخود قے آئی، اس پر قضا نہیں ہے۔“
(موطأ الإمام مالك: 1/304، وسنده صحيح)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
في رجل تقيأ لم يتعمد ذلك في رمضان فقال أبي أرى أن لا يعيد صوم ذلك فقلت لأبي فإن هو تقيأ تعمد ذلك قال أرى أن يعيد الصوم ذلك اليوم وليس عليه كفارة
”جس شخص کو رمضان کے روزے میں قے آ جائے، اس نے ایسا جان بوجھ کر نہ کیا ہو تو میرے مطابق وہ روزے کی قضا نہیں دے گا۔ (یعنی اس کا روزہ برقرار رہے گا۔) میں (عبداللہ بن احمد) نے والد گرامی سے پوچھا: اگر کوئی جان بوجھ کر قے کرے؟ فرمایا: میرے مطابق وہ اس روزے کی قضا دے، لیکن اس پر کفارہ نہیں ہے۔“
(مسائل الإمام أحمد برواية ابنه عبد الله، ص 184)
جان بوجھ کر قے کرے تو فرض روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس پر قضا ہے، تو جب جان بوجھ کر کھا پی لے تو اس پر بھی قضا ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقضوا الله الذي له فإن الله أحق بالوفاء
”اللہ تعالیٰ کا حق ادا کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کا حق ادا کیا جائے۔“
(صحيح البخاري: 7315)
روزہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اگر جان بوجھ کر توڑ دے گا تو قضا کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا حق پورا کرے گا۔
❀ جابر بن زید رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ جو شخص جان بوجھ کر رمضان کا روزہ توڑ دے، وہ کیا کرے؟ فرمایا:
ليصم يوما مكانه ويصنع مع ذلك معروفا
”اس کی قضا میں ایک روزہ رکھے، نیز کوئی نیکی بھی کرے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9775، وسنده صحيح)
❀ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو جان بوجھ کر رمضان کا روزہ توڑ دے، فرمایا:
يستغفر الله من ذلك ويتوب إليه ويقضي يوما مكانه
”وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے اور ایک روزے کی قضا دے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9778، وسنده صحيح)
تنبیہ:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ذرعه القيء وهو صائم فليس عليه قضاء وإن استقاء فليقض
”جس کو روزے کی حالت میں خود بخود قے آ جائے، اس پر قضا نہیں ہے (یعنی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا) اور جو قصداً قے کرے، اس پر قضا لازم ہے۔“
(مسند أحمد: 2/498، سنن أبي داود: 2380، سنن الترمذي: 720)
یہ حدیث معلول ہے۔ اس حدیث پر امام احمد بن حنبل اور امام بخاری رحمہما اللہ جیسے ائمہ علل نے جرح کی ہے، اسے مرفوع بیان کرنا خطا ہے۔
سوال:
روزے کی حالت میں غشی آ جائے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
روزے کی حالت میں غشی آ جائے تو روزہ برقرار ہے۔
❀ نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان ابن عمر يصوم تطوعا فيغشى عليه فلا يفطر
”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نفل روزہ کے دوران بے ہوش ہو جاتے تو روزہ نہیں توڑتے تھے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 8110، وسنده صحيح)
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا يدل على أن الإغماء خلال الصوم لا يفسده
”یہ اثر دلیل ہے کہ دوران روزہ غشی آ جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا۔“
(السنن الكبرى، تحت الرقم: 8110)