مال و دولت کی حرمت اور دوسروں کا مال ناجائز کھانے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

مال و دولت کی حرمت

اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ مسلمان جس قدر چاہے مال جمع کرے، بشرطیکہ یہ جمع کرنا جائز طریقہ پر ہو اور آمدنی میں اضافہ کے ذرائع بھی جائز ہی اختیار کیے جائیں۔
بعض مذاہب میں یہ کہا گیا :
دولت مند آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوگا جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ گزر جائے۔
تو اس کے مقابلہ میں اسلام کہتا ہے :
نعم المال الصالح للرجل الصالح
”صالح مال، صالح آدمی کے لیے اچھی چیز ہے۔“
مسند احمد :197/4 ۔ مستدرك حاكم : 2/2 ۔ شرح السنة : 2495
اسلام جہاں فرد کے لیے جائز ملکیت کا قائل ہے وہاں وہ بذریعہ قانون اس کی حفاظت کا سامان بھی کرتا ہے نیز اخلاقی ہدایات کے ذریعہ بھی غصب، چوری اور مکر و فریب کے ذریعہ دوسروں کے مال میں زیادتی کرنے سے روکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان، مال اور آبرو سب کی حرمت ایک ہی سیاق میں بیان فرمائی ہے۔
بخارى كتاب المغازى باب حجة الوداع ح : 4406 ۔ مسلم كتاب القسامة باب تغليظ تحريم الدماء والاعراض والاموال ح : 1679
اور چوری کو ایمان کے منافی قرار دیا ہے۔ فرمایا :
چور مؤمن ہونے کی حالت میں چوری نہیں کرتا۔
بخاري كتاب الحدود باب ما يحذر من الحدود ح : 6772 ۔ مسلم کتاب الایمان باب بیان نقصان الايمان بالمعاصي ح : 57
قرآن نے چوری کی سزا بیان فرمائی :
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور چور مرد ہو یا عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو۔ یہ ان کے کیے کا بدلہ اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
(سورہ المائدة : 38/5)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کی رضا مندی کے بغیر اس کا ایک عصا (لکڑی) بھی لے لے۔
مسند احمد : 5/ 425 ۔ صحيح ابن حبان موارد : 1166 ۔ الاحسان : 587/7
اور ارشاد ربانی ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ
”اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ لین دین ہو آپس کی رضا مندی سے۔“
(سورہ النساء : 29)

رشوت حرام ہے

رشوت بھی لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانے کی ایک صورت ہے۔ رشوت یہ ہے کہ مال صاحب اقتدار یا سرکاری ملازم کو پیش کیا جائے تاکہ وہ اس کے حق میں یا اس کے حریف کے خلاف فیصلہ کر دے یا اس کے حریف کے کام کو مؤخر کر دے وغیرہ۔
اسلام نے حکام اور حکومت کے معاونین کے لیے رشوت ستانی کو حرام ٹھہرایا ہے۔ نہ رشوت دینا جائز ہے اور نہ اس کا قبول کرنا۔ اس طرح دونوں کے درمیان واسطہ بننا بھی ممنوع ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
”آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ اور نہ ان کو حاکموں کے آگے اس غرض سے پیش کرو کہ تمہیں کسی ایک فریق کے مال کا کوئی حصہ قصداً حق تلفی کر کے گناہ کے ساتھ کھانے کا موقع مل جائے اس حال میں کہ تم جانتے بھی ہو۔“
(سورہ البقرة : 188)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
لعنة الله على الراشي والمرتشي فى الحكم
”اللہ کی لعنت ہو حکومت کے معاملات میں رشوت دینے والے پر بھی اور رشوت لینے والے پر بھی۔“
مسند احمد : 387/2، 388 ، ترمذی کتاب الاحكام باب ما جاء في الراشي والمرتشى ح : 1336
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
لعن رسول الله الراشي والمرتشي والرائش
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور دونوں کے درمیان واسطہ بننے والے تینوں پر لعنت فرمائی ہے۔“
مسند احمد : 279/5 ، مستدرك حاكم : 103/4 ، مسند البزار : 1353 واسناده ضعیف
رشوت لینے والا اگر ظلم و زیادتی کرتے ہوئے رشوت لیتا ہے تو اس کے جرم کی سنگینی دو چند ظاہر ہی ہے۔ اور اگر عدل کرنے کی غرض سے لیتا ہے تو عدل کرنا اس کی ذمہ داری ہے اس کے عوض مال قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہود کی طرف بھیجا تاکہ وہ خراج کی مقدار مقرر کریں۔ یہود نے ان کے لیے کچھ مال کی بھی پیش کش کر دی لیکن انہوں نے دوٹوک جواب میں کہا : تم نے رشوت کی جو پیشکش کی ہے وہ حرام ہے۔ ہم رشوت نہیں کھاتے
موطا امام مالك : 703/2 ، كتاب المساقاة باب ما جاء في المساقاة ح : 2 ۔ واسناده مرسل واخرجه أحمد : 367/3 باسناد متصل
رشوت ستانی کی یہ حرمت اور اس گناہ میں شریک ہونے والوں کے بارے میں اسلام کے سخت احکام، قابل تعجب نہیں ہیں، کیونکہ کسی بھی سماج میں رشوت کا عام ہونا اس معاشرہ میں ظلم و فساد کے عام ہونے کے مترادف ہے۔ کیونکہ رشوت لے کر خلاف حق فیصلے کیے جاتے ہیں اور جس کا کام بعد میں ہونا چاہیے اس کا پہلے اور جس کا پہلے ہونا چاہیے اس کا بعد میں کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سماج میں فرائض کی انجام دہی کی اسپرٹ (روح) پیدا ہونے کے بجائے مفاد پرستی کی اسپرٹ پیدا ہو جاتی ہے۔

حکام کے آگے ہدیئے پیش کرنا

اسلام رشوت کو حرام قرار دیتا ہے خواہ اس کی کوئی صورت اور کوئی نام بھی ہو۔ رشوت کو ہدیہ کے نام سے پیش کرنے سے اس کی حرمت حلت میں تبدیل نہیں ہو جاتی۔
حدیث میں ہے :
من استعملناه على عمل فرزقناه رزقا فما أخذه بعد ذلك فهو غلول
”جس کو ہم نے کسی کام پر مقرر کر دیا اور اس کے معاش کا بھی انتظام کر دیا ، اگر اس کے بعد وہ جو کچھ لے گا وہ خیانت ہوگی۔“
ابو داود كتاب الخراج باب في ارزاق العمال ح : 2943
سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا۔ آپ سے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے۔ تو انہوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدیہ تھا اور ہمارے لیے رشوت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل کو قبیلہ ازد کے صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے کچھ مال اپنے لیے روک رکھا اور کہا : یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ میرے لیے ہدیہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر برہم ہوئے اور فرمایا : اگر تم سچے ہو تو اپنے باپ یا ماں کے گھر میں بیٹھے رہتے اور پھر دیکھ لیتے کہ ہدیہ تمہارے پاس آتا ہے یا نہیں۔ پھر فرمایا :
مالي استعمل الرجل منكم فيقول: هذا لكم وهذا لي هدية ألا جلس فى بيت أمه ليهدى له، والذي نفسي بيده لا يأخذ احد منكم شيئا بغير حق إلا أتى الله يحمله يوم القيامة ببعير له رغاء أو بقرة لها خوار أو شاة تبعر – ثم رفع يديه حتى رؤي بياض إبطيه ثم قال: اللهم هل بلغت
”کیا بات ہے کہ جس شخص کو میں عامل مقرر کرتا ہوں وہ کہتا ہے : یہ تمہارے لیے ہے اور یہ میرے لیے ہدیہ ہے؟ وہ اپنی ماں کے گھر میں نہ بیٹھا رہا کہ ہدیہ اس کے پاس آجاتا ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے جو شخص بھی کوئی چیز بغیر حق کے لے گا وہ اللہ کے ہاں اس مال کو اپنے اوپر لادے ہوئے آئے گا (قیامت کے روز)۔ تو دیکھو تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اپنی گردن پر اونٹ، گائے یا بکری کو اٹھائے ہوئے نہ آئے اس حال میں کہ یہ جانور چیخ رہے ہوں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل کی سفیدی دکھائی دینے لگی اور فرمایا: اے اللہ میں (حق بات) پہنچا چکا۔“
بخاری کتاب الاحكام باب هدايا العمال ح : 7174 ۔ مسلم کتاب الامارة باب تحريم هدايا العمال ح : 1832
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ان شدید احکام کے پیش نظر قاضی اور والی کو چاہیے کہ وہ خود کو اپنے ماں باپ کے گھر میں فرض خیال کر لے۔ منصب سے معزولی کی صورت میں اسے اپنی ماں کے گھر میں رہتے ہوئے جو کچھ ملتا تھا اس کو منصب پر رہتے ہوئے حاصل کرنا جائز ہوگا۔ اور جس کے بارے میں اسے یہ معلوم ہو کہ یہ منصب کی بنا پر مل رہا ہے تو اس کا لینا بھی حرام ہوگا۔ رہے احباب کے وہ ہدیئے جن کے بارے میں اشکال محسوس ہو کہ معزول ہونے کی صورت میں اسے ملتے یا نہیں تو وہ مشتبہ ہیں بہر نوع مؤمن کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
احیاء علوم الدين كتاب الحلال والحرام : 137/2

رفع ظلم کے لیے رشوت

جس شخص کی حق تلفی ہو رہی ہو اور بجز رشوت کے کوئی صورت اس کے حصول کی نہ ہو یا اس پر ظلم کیا جا رہا ہو اور سوائے رشوت کے اس کا دفعیہ (حل) ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں افضل یہ ہے کہ صبر سے کام لیا جائے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے رفع ظلم اور حصول حق کی بہتر صورت پیدا فرمائے، لیکن اگر اس مجبوری کی بنا پر اسے رشوت دینا پڑے تو گناہ رشوت لینے والے کے سر ہوگا دینے والے پر نہیں ہوگا بشرطیکہ اس نے دوسرے تمام ذرائع سے کام لیا ہو اور وہ نتیجتاً بے سود رہے ہوں، نیز وہ رشوت دے کر ظلم کو دور کرنا یا اپنا حق وصول کرنا چاہتا ہو نہ کہ دوسروں کی حق تلفی کرنا مقصود ہو۔
بعض علماء اس سلسلہ میں ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”تم میں سے کوئی شخص میرے پاس سے اپنی بغل میں صدقہ کا مال دبائے نکل جاتا ہے حالانکہ وہ اس کے لیے آگ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب اس کے لیے آگ ہے تو آپ اسے کس طرح دیتے ہیں؟ فرمایا : کیا کروں وہ اس طرح مانگتے ہیں کہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتے اور اللہ عزوجل کو یہ بات پسند نہیں کہ میں بخل سے کام لوں۔“
مسند احمد : 16/3-4 ۔ صحيح ابن حبان موارد : 848 ۔ الاحسان : 174/5-175 ۔ مسند ابی یعلی : 1327 مسند البزار : 924 ، 925
جب اصرار و دباؤ کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سائل کو مال دیا کرتے تھے اور یہ جانتے ہوئے دیا کرتے تھے کہ یہ لینے والے کے حق میں آگ ہے، تو ظلم کو دفع کرنے اور اپنا تلف شده حق وصول کرنے کی ضرورت کا دباؤ قبول کرنا کیونکہ جائز نہ ہوگا ؟

اپنے مال میں اسراف کرنا حرام ہے

جس طرح دوسروں کے مال کی حرمت ہے اسی طرح انسان کے اپنے مال کی بھی حرمت ہے۔ اسے نہ ضائع کرنا چاہیے اور نہ اسراف سے کام لے کر ادھر ادھر بکھیر دینا چاہیے۔ افراد کے مال میں تمام امت (غرباء و فقراء) کا حق ہے اور تمام مالکوں کے بعد وہی اس کی مالک ہے۔ اس لیے اسلام نے امت کو یہ حق دیا ہے کہ وہ نادان لوگوں کے مال کو روکے۔
قرآن میں ہے :
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا
”اور اپنے مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے نادانوں کے حوالہ نہ کرو البتہ اس سے انہیں کھلاؤ پہناؤ اور ان سے بھلے طریقہ پر بات کرتے رہو۔“
(سورہ النساء : 5)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت سے مخاطب ہو کر کہا ہے أَمْوَالَكُمُ (تمہارے مال) حالانکہ بظاہر یہ ان کے مال نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ حقیقتاً افراد کا مال مجموعی طور پر امت کا مال ہے اس لیے أَمْوَالَكُمُفرمایا۔
اسلام، انصاف پسند اور اعتدال کا دین ہے اور امت مسلمہ امت معتدل بھی ہے۔ اور مسلمان ہر معاملہ میں اعتدال کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو اسراف اور تبذیر سے منع فرمایا۔ نیز بخل اور تنگی کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے۔
فرمایا :
يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ
”اے اولاد آدم ! ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنی زینت اختیار کرو اور کھاؤ پیو۔ البتہ اسراف نہ کرو۔ بلاشبہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“
(سورہ الاعراف : 31)
اسراف یہ ہے کہ جو چیزیں اللہ نے حرام ٹھہرائی ہیں ان میں خرچ کیا جائے خواہ کم خرچ کیا جائے یا زیادہ مثلاً : شراب، مخدرات عقل، سونے چاندی کے برتن وغیرہ یا اپنے نفس اور دیگر لوگوں پر مال اڑایا جائے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مال کو ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
بخاری کتاب الرقاق باب ما يكره من قيل وقال 6473 ، مسلم کتاب الاقضية باب النهي عن كثره المسائل ح : 593/14
یا جس چیز کی ضرورت نہ ہو اس میں بے دریغ اتنا خرچ کیا جائے کہ ہاتھ خالی ہو جائے۔
امام رازی رحمہ اللہ آیت : يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ ۖ قُلِ الْعَفْوَ(سورہ البقرة : 219) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خرچ کرنے کا سلیقہ سکھایا ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرمایا :
رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی اور فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہوتے ہیں۔
(سورہ الاسراء : 26)
اور فرمایا :
نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو۔
(سورہ الاسراء : 29)
نیز فرمایا :
جو خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف سے کام لیتے ہیں اور نہ تنگی سے۔
(سورہ الفرقان : 67)
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : جب تم میں سے کسی شخص کے پاس مال ہو تو وہ اپنے نفس سے ابتدا کرے پھر جو اس کے زیر کفالت ہوں ان پر اور ان کے بعد دوسرے لوگوں پر خرچ کرے۔
مسلم كتاب الزكوة باب الابتداء في النفقة بالنفس ثم اهله ح : 997
نیز فرمایا :
”بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو (خرچ کرنے کے بعد بھی) غنی رہنے دے۔“
مسند احمد : 434/3 ، طبراني في الكبير : 149/12 وهو متفق عليه بلفظ آخر انظر بخاری : 1427 ، مسلم : 1034 ، اخرجه ابوداود في الزكوة : 1676 بلفظ ان خير الصدقة ما ترك غنى عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک شخص انڈے کے بقدر سونا لے آیا اور عرض کیا : اسے صدقہ میں قبول فرمائیے۔ قسم سے! میرے پاس اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اعراض فرمایا۔ لیکن وہ شخص پھر سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لاؤ اور اس کو غصہ کی حالت میں لے کر اس کی طرف اس طرح پھینک دیا کہ اگر کسی کے لگ جاتا تو اس کے چوٹ آجاتی۔ پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنا سارا مال لے کر آجاتا ہے اور پھر بعد میں لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے بیٹھ جاتا ہے۔ صدقہ وہ ہے جو غنی کی حالت کو برقرار رکھتے ہوئے کیا جائے۔ اسے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔“
ابو داود كتاب الزكوة باب الرجل يخرج من ماله ح : 1673 ۔ سنن الدارمی : 391/1 ۔ مستدرك حاكم : 413/1 و اسناده ضعيف
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے ایک سال کی خوراک ذخیرہ کر کے رکھتے تھے۔
بخاري كتاب النفقات باب حبس الرجل قوت سنة على اهله ح : 5357 ، مسلم کتاب الجهاد باب حكم الفي ح : 1757
دانشور کہتے ہیں :
فضیلت افراط و تفریط کے درمیان ہے۔ ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا فضول خرچی ہے اور بہت کم خرچ کرنا بخل ہے۔ اور بہترین صورت اعتدال کی ہے اور یہی مطلب ہے قُلِ الْعَفْوَ کا۔ اس دقیق نکتہ کو ملحوظ رکھنے پر شریعتِ محمدیہ کا دارو مدار ہے کیونکہ یہود کی شریعت پوری طرح سخت گیری پر مبنی ہے اور نصاری کی شریعت پوری طرح سہل انگاری پر۔ شریعت محمدیہ ہی ان تمام امور میں متوسط ہے۔ اسی لیے وہ ان سب کے مقابلہ میں کامل ترین شریعت ہے۔
تفسیر رازی ج : 6 ص : 51