اگر سیدنا جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت اور طرزِ حکومت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ عوام الناس کے بڑے ہمدرد اور خیر خواہ تھے، آپ اپنی رعایا کا خیال رکھتے اور ان کے لیے نہایت فکر مند تھے۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جناب حسن بصری رحمہ اللہ نے بیان کیا:
اسْتَقْبَلَ وَاللهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ مُعَاوِيَةَ بِكَتَائِبَ أَمْثَالِ الْجِبَالِ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنِّي لَأَرَى كَتَائِبَ لَا تُوَلِّي حَتَّى تَقْتُلَ أَقْرَانَهَا۔ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ، وَكَانَ وَاللهِ خَيْرَ الرَّجُلَيْنِ: أَيْ عَمْرُو، إِنْ قَتَلَ هَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ، وَهَؤُلَاءِ هَؤُلَاءِ، مَنْ لِي بِأُمُورِ النَّاسِ؟ مَنْ لِي بِنِسَائِهِمْ؟ مَنْ لِي بِضَيْعَتِهِمْ……؟
”جب حسن بن علی رضی اللہ عنہ پہاڑوں جیسا لشکر لے کر پہنچے، تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو اپنے مدمقابل کو نیست و نابود کیے بغیر واپس نہیں جانے والا، معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا ”اور اللہ کی قسم، وہ ان دونوں اصحاب میں زیادہ اچھے تھے۔“ کہ اے عمرو رضی اللہ عنہ! اگر ان دونوں لشکروں کا آپس میں جھگڑا ہو گیا تو میرے لیے لوگوں کے امور کی ذمہ داری کون لے گا، لوگوں کی عورتوں کے بارے میں اور ان کے بچوں اور بوڑھوں (کی دیکھ بھال اور حفاظت) کے بارے میں کون میرا معاون بنے گا؟“
(صحیح بخاری:2704)
یہ حضرت حسن اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے باہمی اختلاف کا ذکر ہے، مگر اسی روایت میں ہے کہ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق دونوں عظیم گروہوں میں صلح ہو گئی تھی، بہر حال غور طلب بات یہاں یہ ہے کہ جنگ کا نام سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو سب سے پہلا خیال آیا تو آخر کیا آیا؟ تو جو عوام الناس کی جان و مال کا اس قدر محافظ اور فکر مند ہو ایسا شخص لوگوں کے ناحق قتل اور ان کے مال کو لوٹنے کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
……وَدَلَالَةٌ عَلَى رَأْفَةِ مُعَاوِيَةَ بِالرَّعِيَّةِ وَشَفَقَتِهِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَقُوَّةِ نَظَرِهِ فِي تَدْبِيرِ الْمُلْكِ وَنَظَرِهِ فِي الْعَوَاقِبِ۔
”اور یہ روایت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھنے والے، مسلمانوں پر انتہائی شفیق، اور حکومتی معاملات میں بڑی گہری نظر رکھنے والے، اور تمام امور کے نتائج پر نگاہ رکھنے والے تھے۔“ (فتح الباری:67،66/13)
اور حضرت ابو مریم ازدی رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا:
دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: مَا أَنْعَمَنَا بِكَ أَبَا فُلَانٍ وَهِيَ كَلِمَةٌ تَقُولُهَا الْعَرَبُ فَقُلْتُ: حَدِيثًا سَمِعْتُهُ أُخْبِرُكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ وَلَّاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِم، احْتَجَبَ اللهُ عَنْهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ”. قَالَ: فَجَعَلَ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ۔
”میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملنے گیا، تو انہوں نے کہا: اے ابو فلاں! کیا خوب آئے ہو! – اور یہ جملہ (ما انعمنا بك) عرب لوگ (استقبال و خوش آمدید کے طور پر) بولتے ہیں- میں نے کہا کہ ایک حدیث ہے جو آپ کو سنانے کے لیے آیا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ”اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو مسلمانوں کے کسی معاملے کا والی اور ذمہ دار بنایا ہو، اور وہ ان کی ضروریات، حاجت مندی اور فقیری میں ان سے نا ملے (اور ان کے لیے اپنے دروازے بند کر لے) تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے حجاب فرما لے گا، جب کہ وہ ضرورت مند، محتاج اور فقیر ہوگا“۔ چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ضروریات اور حاجات کی دیکھ بھال کے لیے ایک آدمی مقرر کر دیا۔“
(سنن ابوداؤد:2948)
ابو اسحاق السبیعی سے روایت ہے کہ:
كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ فِي بَعْثٍ بِإِرْمِينِيَةَ، قَالَ: فَأَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ أَوْ مَجَاعَةٌ، قَالَ: فَكَتَبَ جَرِيرٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ لَمْ يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ”. قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ۔ قَالَ: فَأَقْفَلَهُمْ وَمَتَّعَهُمْ۔
”سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آرمینیہ کے لشکر میں شامل تھے، جب اہل لشکر پر قحط سالی آ گئی تو حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا“۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جناب جریر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا، وہ آئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (بذاتِ خود) یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لشکری ساز و سامان اور ضرورت کی اشیاء سے نوازا۔“
(مسند احمد: 19194)
تو ان تمام روایات کو سامنے رکھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا جو اپنی رعایا کا اتنا خیال رکھتا ہو وہ ان کا ناحق خون بہا سکتا ہے؟ اور ان کے مال لوٹنے کا حکم دے سکتا ہے؟ بھلا صحابہ کے دشمنوں کو یہ چیزیں نظر کیوں نہیں آتیں؟ ان کے لیے تو آپ اندھے بہرے اور گونگے ہو جاتے ہیں، اور منفی پہلو کو اُچھال اُچھال کر پیش کرتے ہیں، اس طرزِ عمل سے محض صحابہ پر تنقید کرنا ہی مقصود ہو سکتا ہے، حق گوئی تو بس ایک فراڈ ہے۔
انجینئر صاحب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے یزید کے خلاف قیام کے متعلق بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”او بھائی نواسہ رسول ہوگا تو دل میں برا جانے گا؟ جو ایمان کے اعلی ترین مرتبے پر فائز ہوں گے، جن کے genes میں prophet کے genes شامل ہوں گے جن کا خون prophet کا خون ہوگا وہ کیسے کر سکتے ہیں کمپرومائز؟ وہ تو سامنے آئیں گے! اور پھر سیدنا حسین کا منصب ایک عام عالم کا نہیں تھا، نواسہ رسول تھے صلی اللہ علیہ وسلم! اب قرآن پاک کی میں ایک آیت پڑھتا ہوں یہ ہمارے چودہ طبق روشن کر دے گی، سورۃ المائدہ کی 63 نمبر آیت، اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے بزرگوں کو ان کے جو بڑے بڑے لاٹ پادری تھے ان کے مولوی، ان کو address کیا ہے: لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ کیوں نہیں روکا ان کے بزرگوں نے ربانی اللہ والے بنتے پھرتے ہیں! کیوں نہیں روکا ان کے ربانی اللہ والے لوگوں نے، اور ان کے مولویوں نے ان کو گناہ کی بات کرنے سے اور ان کو حرام خوریاں کرنے سے ان کے مولویوں ان کے بزرگوں نے کیوں نہیں روکا؟ کتنے برے کرتوت وہ کیا کرتے تھے! مولوی کمپرومائز کرتے رہے، کتنا بڑا طعنہ اللہ نے یہود (کو دیا)، او بھائی! جو یہود ونصاری کو طعنہ مل رہا ہے ہمیں بھی ملے گا؟ (کیا) سیدنا حسین کو نہیں پوچھا جانا تھا قیامت والے دن کہ تم تو نواسۂ رسول تھے، تمہارے سامنے شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دھجیاں بکھیری جا رہی تھیں تم نے یہ کیوں نہیں روکا؟ بالکل پوچھا جانا تھا اور انہوں نے الحمدللہ اپنا حق ادا کیا ہے، انہوں نے یہ کر کے ہمیں تو اصلاح تک پہنچایا اپنی آخرت بھی بچا لی ہے۔“
61- Mas’alah, HUSAINIAT our Yazeediat ka TAHQEEQI Jaizah – 47:39
اس سے مرزا صاحب کی مراد یہ ہے کہ یزید کی طرف سے اسلام اور اسلامی ریاست کا جو نقصان ہو رہا تھا، ناحق قتل و غارت ہو رہی تھی تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا اس کے خلاف قیام حق اور واجب تھا، اور انہوں نے ظلم کے خلاف کھڑے ہو کر اپنا حق ادا کر دیا تھا۔ تو ہماری گزارش ہے کہ مرزا صاحب کی بیان کردہ آیت اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی کار کردگی سامنے رکھیں، اور اسی سے اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ اگر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں کوئی ناجائز قتل کیا گیا یا آپ رضی اللہ عنہ نے ناحق قتل کرنے اور لوگوں کے ناحق مال لوٹنے کا حکم دیا ہوتا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے تھی یا نہیں؟ بیعت توڑنی چاہیے تھی یا قائم رکھنی چاہیے تھی؟ ان کے خلاف خروج کرنا چاہیے تھا یا بقول مرزا صاحب کے اللہ نے یہود و نصاری کے علماء اور بزرگوں کو جو طعنہ دیا کہ………… اس طعنے کا مخاطب بننا چاہیے تھا؟ (نعوذ باللہ!) بلکہ مرزا صاحب کے مطابق جو نواسہ رسول ہوگا وہ دل میں برا جانے گا؟ جو ایمان کے اعلی ترین مرتبے پر فائز ہوں گے، جن کے جینز میں prophet کے جینز شامل ہوں گے، جن کا خون prophet کا خون ہوگا وہ کیسے کر سکتے ہیں کمپرومائز؟ وہ تو سامنے آئیں گے! اور پھر سیدنا حسین کا منصب ایک عام عالم کا نہیں تھا، نواسہ رسول تھے صلی اللہ علیہ وسلم! تو جناب مَن جس دن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح فرما کر خلافت و اقتدار ان کے حوالے کیا، اس دن سے لے کر آخری سانس تک بیعت توڑنا یا خروج کرنا تو دور کی بات سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے ایک کلمہ بھی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کہنا ثابت نہیں، تو اگر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا تھا تو ان ہستیوں نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ مخالفت کیوں نہ کی؟ بیعت کیوں نہ توڑی؟ لہٰذا یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ایسا کوئی ناجائز کام سرزد ہوا ہی نہیں تھا۔ اگر ہوتا تو یہ اعتراض اٹھانے والے سب سے پہلے صحابہ کرام ہی ہوتے مگر کسی صحابی سے بھی ایسا کچھ منقول نہیں جو عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ فرما رہے ہیں، بلکہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت پر حسن و حسین سمیت تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہونا ان کی بیان کردہ خبر کی تردید کرتا ہے۔
اور رہا جناب حسین رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا گیا خط جو کہ مرزا صاحب تاریخ ابن کثیر کے حوالے سے پیش کرتے ہیں، تو جس دن وہ کسی صحیح سند کے ساتھ پیش کیا جائے گا تو اس پر بھی بات کر لیں گے، کیونکہ فی الحال تو ہم آپ سے یہی سنتے آئے ہیں کہ تاریخ کوڑ کباڑ ہے، اور آپ کا مقدمہ بخاری و مسلم اور صحیح الاسناد پر کھڑا ہے۔
بہر حال محدثین میں سے بھی کسی نے عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ رحمہ اللہ کی بات کو قبول نہیں کیا ہے، اور نا ہی کسی نے آپ کی موافقت کی ہے بلکہ ائمہ اس کی نفی اور تردید ہی کرتے ہیں۔
امام ابو العباس قرطبی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی زیر بحث حدیث کی شرح میں لکھا:
وما ذكره عبد الرحمٰن عن معاوية إغياءٌ في الكلام على حسب ظنه وتأويله، وإلا فمعاوية لم يعرف من حاله ولا من سيرته شيء مما قاله له۔
”اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق جو جناب عبدالرحمٰن نے بیان کیا وہ تو صرف ان کے گمان اور تاویل کی حد تک ہے، ورنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی سیرت سے ایسا کچھ بھی ثابت نہیں جو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا۔“ (المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم:53/4)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأجمعت الرَّعَايَا عَلَى بَيْعَتِهِ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ كَمَا قَدَّمْنَا، فَلَمْ يَزَلْ مُسْتَقِلًّا بِالْأَمْرِ فِي هَذِهِ الْمُدَّةِ إِلَى هَذِهِ السَّنَةِ الَّتِي كَانَتْ فِيهَا وَفَاتُهُ، وَالْجِهَادُ فِي بِلَادِ الْعَدُوِّ قَائِمٌ، وَكَلِمَةُ اللهِ عَالِيَةٌ۔ وَالْغَنَائِمُ تَرِدُ إِلَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ، وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ فِي رَاحَةٍ وَعَدْلٍ، وَصَفْحٍ وَعَفْوٍ۔
”تمام رعایا 41ھ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت پر متفق ہوئی، پھر اپنی وفات (60ھ) تک آپ رضی اللہ عنہ ہی حکمران رہے، (آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں) دشمنانِ اسلام کے علاقوں میں جہاد جاری رہا، اور اللہ کا کلمہ بلند تھا، اطراف زمین سے مال غنیمت آ رہا تھا، اور آپ رضی اللہ عنہ کی طرف سے مسلمان رعایا کو راحت و عدل مہیا تھا اور ان سے عفو و درگزر کے ساتھ پیش آیا جاتا۔“
(البدایۃ والنہایۃ:119/8)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ:
فَلَمْ يَكُنْ مِنْ مُلُوكِ الْمُسْلِمِينَ مَلِكٌ خَيْرٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ……..
”مسلمانوں کے بادشاہوں میں سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی بادشاہ نہیں گزرا۔“
(منہاج السنۃ:232/6)
امام ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وأول ملوك المسلمين معاوية وهو خير ملوك المسلمين۔
”مسلمانوں کے پہلے بادشاہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں، اور آپ رضی اللہ عنہ ایک اچھے بادشاہ تھے۔“ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ :722/2)
اور رہا جناب عبدالرحمٰن رحمہ اللہ کا یہ دعویٰ کرنا، تو یہ بعض اوقات فہم کے اختلاف کی وجہ سے ہو جاتا ہے کہ ہم کسی معاملے کو ایک طرح سے دیکھ رہے ہوں مگر تصویر کا دوسرا رخ ہم پر مخفی ہو، عام انسان تو دور کسی نبی سے بھی اس کا امکان ہے، سورہ کہف میں موجود وہ واقعہ معروف ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے ملے تو ان سے عرض کی کہ کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو آپ کو عطا کیا گیا ہے۔ خیر اس سفر میں جہاں کئی واقعات پیش آئے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے ایک لڑکے کو قتل کر دیا تو اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان پر اعتراض کیا اور اسے قتلِ ناحق جانا، قرآن کے الفاظ ہیں: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا ”پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ انہوں نے ایک لڑکے کو پایا تو اس (خضر علیہ السلام) نے اسے قتل کر دیا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ: کیا آپ نے ایک پاکیزہ جان کو بغیر کسی جان کے عوض قتل کر دیا؟ بیشک آپ نے تو بہت برا عمل کیا“ (الکہف:74) جبکہ حضرت خضر علیہ السلام نے بعد میں اس کی وضاحت فرمائی اور بیان کیا کہ یہ میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ اللہ کے حکم سے کیا ہے۔
یہاں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی ہیں اور قتل کا مشاہدہ بھی خود فرما رہے ہیں پھر بھی وہ اسے قتل ناحق سمجھ رہے ہیں، تو عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ رحمہ اللہ تو نا ہی نبی ہیں اور نا ہی صحابی، تو کیا ان سے کسی چیز کے سمجھنے میں خطا نہیں ہو سکتی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ ایک قتل کو قتلِ ناحق سمجھ رہے ہوں مگر حقیقت میں ایسا ہو ہی نا؟ لہٰذا بغیر کسی صریح دلیل کے ایسی باتوں کو اچھال کر کسی کو بھی مطعون کرنا جائز نہیں۔
آپ دیکھیں! کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور جناب علی رضی اللہ عنہ کے درمیان تنازعہ ہو گیا اور عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو ظالم، جھوٹا، غدار اور خائن تک کہہ دیا۔ (صحیح بخاری:7305، صحیح مسلم:1757)۔ اب کسی بھی مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ آنکھیں بند کر کے بس ان کلمات کی رٹ لگانا شروع کر دے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو مطعون کرے؟ بلکہ ہم کہیں گے کہ یہ ان کا باہمی اختلاف تھا اور ضرور عباس رضی اللہ عنہ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
قصاص عثمان رضی اللہ عنہ کو لے کر صحابہ میں ایک بہت بڑا اختلاف واقع ہوا، ایسا فتنہ تھا کہ ہر فریق خود کو حق پر اور مخالف کو ظالم سمجھ رہا تھا، جنگ جمل کے موقع پر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یا تو آج ظالم مارا جائے گا یا مظلوم، اور مجھے لگتا ہے کہ میں ناحق قتل کر دیا جاؤں گا۔ (صحیح بخاری:3129)، اور مخالف کون ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ! اور وہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو ظالم سمجھ رہے تھے حالانکہ یہ جناب زبیر رضی اللہ عنہ کی اجتہادی خطا تھی۔ تو کیا ہم بغیر پس منظر دیکھے، فریقین کے بیانات اور آراء کو سمجھے بغیر بس ظالم ظالم کی رٹ لگائیں تو کیا یہ جائز ہوگا؟ بلکہ جب تمام تفصیلات کو دیکھا جائے گا تو یہی نتیجہ اخذ ہوگا کہ یہ ایک اجتہادی مسئلہ تھا اور جناب علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔
اور اسی معرکہ میں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے، تو آپ رضی اللہ عنہ کا بیٹا جب علی رضی اللہ عنہ سے ملا تو کہا: آپ نے میرے والد کو قتل کیا اور میرا مال غصب کیا (ناحق طریقہ سے چھینا) ہے۔ (الطبقات الکبری:225/3، المستدرک للحاکم:3348) وہی خبر جو عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ سے مل رہی ہے کیا یہ بیانات اسی نوعیت کے نہیں؟ کیا ان روایات کو بھی حق گوئی کے نام پر اچھال کر جناب علی رضی اللہ عنہ کے متعلق اشکالات پیدا کیے جاتے ہیں؟ بہر کیف ہماری ان گزارشات کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کسی بھی مدعی کی بات کو لے کر بغیر اس معاملے کی حقیقت، تفصیلات اور پس منظر کو جانے مدعا علیہ کے خلاف ایک حتمی اسٹیٹمنٹ نہیں دے دینی چاہیے۔ اور یہاں عبدالرحمٰن کے دعوے پر کوئی دلیل، تفصیل یا کوئی ایک بھی واقعے کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی ان کے بیان کی تردید کرتی ہے۔ اور ایک عمومی حدیث بھی ہے جو کہ انجینئر صاحب کے ریسرچ پیپر میں پہلی حدیث ہے کہ: ”میرے صحابہ امت کے لیے باعث امن ہیں۔“ (صحیح مسلم:6466) پھر صحابہ کرام اور دیگر تابعین کے بیانات بھی اس کے بالکل برعکس ہیں۔ اور ہم نے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی رعایا پر نہایت شفیق اور مہربان تھے، ان کی جان و مال اور عزت و عصمت کی حفاظت کرنے والے اور ان کی ضروریات کا خاص خیال رکھنے والے تھے۔
ہم مرزا صاحب کے تمام اصولوں کے مطابق آپ کے اس اعتراض کا جواب دے چکے ہیں، اور آپ مرزا صاحب کے اصولوں کی بے اصولی بھی دیکھ رہے ہیں کہ ایک جگہ جو اصول بناتے ہیں کسی دوسری جگہ خود ہی اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں، اور اس جگہ تو آپ نے اصول شکنی کا اعلیٰ ریکارڈ لگا رکھا ہے، اور عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو چھری پھیر رکھی ہے، اور اگر آپ میں حق گوئی کی اتنی ہی تڑپ ہوتی تو آپ مثبت پہلو بھی بیان کریں نہ۔ انجینئر صاحب یہ سب بیان کر کے ہم پر طعن کرتے ہیں کہ ہم حق چھپاتے ہیں حالانکہ آپ اس حق کی حقیقت تو جان ہی چکے ہیں مگر کیا خود انجینئر صاحب اس حوالے سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں جو احادیث میں آیا ہے، اور صحابہ و تابعین کے اقوال جو ہم پیش کرتے ہیں میں سے کچھ بھی بیان کرتے ہیں؟ کبھی بھی نہیں! تو پھر اصل حق چھپانے والا کون ہے؟ عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ رحمہ اللہ کے اس بیان کو صحابہ و دیگر تابعین کے اقوال کے خلاف پیش کرنا تو اپنی جگہ، لیکن ظلم کی انتہا تو یہ ہے کہ آپ اس بے دلیل قول کی بنیاد پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں وارد شدہ صحیح حدیث (اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے حق میں دعا) کو جھٹلاتے اور اس کا انکار کیا کرتے ہیں جو کہ فضائل سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں ذکر کی گئی کہ ”اے اللہ معاویہ کو ہدایت والا بنا اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما“ (سنن ترمذی:3842) اس حدیث کو متقدمین محدثین نے تو صحیح کہا اور اسی طرح علامہ ناصر الدین البانی، شیخ زبیر علی زئی، مولانا ارشاد الحق اثری اور علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری نے بھی حسن اور صحیح قرار دیا ہے۔ اور یہ سب انجینئر صاحب کے بقول دور حاضر کے عظیم محققین حدیث ہیں، بلکہ علامہ البانی رحمہ اللہ کو تو آپ محدث اعظم سعودی عرب اور مولانا زبیر علی زئی رحمہ اللہ کو محدث اعظم پاکستان قرار دیتے ہیں۔ تو جب یہ تمام حضرات ایک حدیث کو صحیح کہنے پر متفق ہیں، اس کے باوجود مرزا صاحب ان کی بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، اور وجہ کیا ہے؟ آپ اپنے اکثر بیانات میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے کریکٹر اور اس حدیث کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ جو ہدایت والا ہوگا اس کے اعمال ایسے ہوں گے کیا؟ پھر آپ یہی زیر بحث مسلم کی روایت بیان کرتے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون! کیا وہ کوئی آیت ہے؟ حدیث ہے یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت ہے؟ تو ایک بے دلیل قول کی بنیاد پر ایک صحیح حدیث کو غیر ثابت قرار دینا کیا علم کی معراج نہیں؟ کیا کوئی حدیث کسی تابعی کے تبصرے کی محتاج ہوتی ہے کہ اگر اس حدیث کے خلاف کسی انسان کا قول آ گیا تو وہ حدیث ہی غیر ثابت بن گئی؟ یہ مرزا صاحب کی الٹی چال ہے، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر کوئی حدیث اصولِ محدثین پر ضعیف ہے تو وجہ ضعف بیان کی جائے، اور اگر حدیث صحیح ہے- جیسا کہ ہم نے اس حدیث کی تحقیق میں دلائل کی روشنی میں ثابت کیا- تو اس حدیث کی بنیاد پر عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ رحمہ اللہ کے بیان کو غلطی پر محمول کرنا چاہیے، کیوں کہ ہمارے پاس کسوٹی تو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے نا کہ کسی کا قول۔ اور پھر انجینئر صاحب کا مشہور مقولہ کہ ”میرے نبی سا ہے ہی کوئی نئی، بابے تے شے ای کوئی نئی“ بھی یہی سبق دیتا ہے، مگر کیا اس مقام پر انجینئر صاحب اپنے اس اصول پر کھڑے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں۔
❀❀❀