پڑوسی کی وصیت و اذیت، مسلمان کی تحقیر اور گفتگو میں مبالغہ آرائی کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

پڑوسی کے متعلق وصیت کرنے کے احکامات

① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه
”جبریل علیہ السلام پڑوسی کے متعلق مسلسل مجھے وصیت کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے خیال کیا کہ وہ اس (پڑوسی) کو وارث قرار دے دے گا۔“
بخاری، کتاب الادب 6014، مسلم، کتاب البر والصلة والاداب 140 / 2624.

پڑوسی کو اذیت پہنچانے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے پڑوسی کی شکایت کرنے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اذهب فاصبر
”جاؤ صبر کرو۔“
پس وہ دو یا تین مرتبہ آپ کے پاس (شکایت لے کر) آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اذهب فاطرح متاعك فى الطريق
”جاؤ اور اپنا سامان نکال کر راستے میں رکھ دو۔“
پس اس شخص نے ایسے ہی کیا۔ لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور اس سے دریافت کرتے تو وہ انہیں اپنے پڑوسی کے سلوک کے بارے میں بتاتا۔ لوگ اس پر لعن طعن کرتے۔ پس اللہ نے بھی اس کے ساتھ یہی کچھ کیا۔ بعض لوگ اسے بددعائیں دیتے۔ پس پھر وہ شخص اپنے پڑوسی کے پاس آیا اور کہنے لگا: واپس آ جاؤ، آئندہ آپ کو میری طرف سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔
ابو داؤد، کتاب الادب 5153۔

مسلمان کو حقیر سمجھنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم، كل المسلم على المسلم حرام، دمه وعرضه وماله، إن الله لا ينظر إلى أجسامكم ولا إلى صوركم ولا إلى أعمالكم ولكن ينظر إلى قلوبكم
”کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، مسلمان مکمل طور پر دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اس کی جان، اس کی عزت اور اس کا مال اس پر حرام ہے۔ بے شک اللہ تمہارے جسموں، تمہاری صورتوں اور تمہارے اعمال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والادب 2564/32۔

گفتگو میں مبالغہ آرائی کی ممانعت

① سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يبغض البليغ من الرجال الذى يتخلل بلسانه كما تتخلل البقرة
”اللہ مبالغہ آرائی سے گفتگو کرنے والے آدمیوں کو ناپسند کرتا ہے جو اپنی زبان کو اس طرح پھیرتا ہے جس طرح گائے اپنی زبان کو گھاس کھاتے وقت پیٹتی ہے۔“
ترمذی، کتاب الادب 2853، ابوداؤد 5005۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يبغض البليغ من الرجال الذى يتحلك الكلام بلسانه كما تتحلك البقرة بلسانها
”اللہ اس بندے کو پسند نہیں کرتا جو بڑا زبان دراز ہو، وہ اپنی زبان سے باتوں کو اس طرح لپیٹے جیسے گائے اپنی زبان سے گھاس پیٹتی ہے۔“
ترمذی، کتاب الادب 2853۔