تمباکو نوشی، احتلام، بیماری، سفر اور نفل روزہ توڑنے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سوال:

روزے دار کے پاس کوئی شے کھانا کیسا ہے؟

جواب:

روزے دار کے سامنے کھانا کھایا جا سکتا ہے، ممانعت نہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
الصائم إذا أكل عنده صلت عليه الملائكة
”جب روزے دار کے سامنے کھایا جائے تو فرشتے اس (روزہ دار) کے لیے دعا کرتے ہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 9618، وسنده صحيح)

سوال:

کیا روزے دار کے لیے دن کے کسی حصہ میں مسواک کرنا مکروہ ہے؟

جواب:

روزے دار دن کے جس حصہ میں چاہے، مسواک کر سکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی وقت مکروہ نہیں۔

سوال:

کیا روزے دار جسم کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نہا سکتا ہے؟

جواب:

نہا سکتا ہے۔

سوال:

حالت روزہ میں خوشبو سونگھنا کیسا ہے؟

جواب:

روزہ میں خوشبو سونگھنا جائز ہے، مکروہ یا ممنوع نہیں۔

سوال:

حالت روزہ میں بوس و کنار سے انزال ہو گیا تو کیا حکم ہے؟

جواب:

اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

سوال:

کیا کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

روزہ نہیں ٹوٹتا۔

سوال:

کیا نسوار سونگھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب:

نہیں ٹوٹتا۔