مضمون کے اہم نکات
کیا صحیح بخاری میں کوئی منقطع روایت ہے؟
یہ نکتہ معقول تسلیم کر لینے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ اصحاب الصحاح اور بالخصوص صحیحین کے بارے میں اہل علم نے یہ نکتہ تسلیم کیا ہے یا بس موجود اور میسر شواہد پر ہی بنیاد رکھی ہے، صحیحین میں مدلسین کے حوالے سے جمہور علماء کا موقف، بلکہ بعض کا اسے اتفاقی اور اجتماعی مسئلہ قرار دینا کہ صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایت محمول علی السماع ہے، کیا اسی معقول نکتے کی بنا پر نہیں؟ علامہ قسطلانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: [وما فيهما من حديثهم بالعنعنة ونحوها محمول على ثبوت السماع عند المخرج من وجه آخر ولم نطلع عليه تحسينا للظن بصاحبى الصحيح]
اور صحیح بخاری اور مسلم میں جو ان کی معنعن احادیث ہیں وہ اس پر محمول ہیں کہ ان کے نزدیک دوسری اسانید میں ان کا سماع ثابت ہے اگرچہ ہم ان کے سماع پر مطلع نہیں ہوئے، ہم امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ پر حسن ظن رکھتے ہوئے یہی بات کہتے ہیں۔ (ارشاد الساری:ص9 ج1)
بعض متاخرین حضرات نے جو اسے محض حسن ظن پر محمول کیا ہے اور فرمایا ہے کہ صحیحین میں مدلسین کی بعض ایسی روایات بھی ہیں جن میں تصریح سماع نہیں ملتی، ہم عرض کر چکے ہیں کہ متاخرین کے ایسے قول کا نہیں، بلکہ اعتبار متقدمین کے قول کا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے، فتح الباری مقدمہ (ص385) میں بڑی متضادی بات کہہ دی ہے کہ:
جن راویوں سے امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت لی ہے ان کی کڑی شرط کی بنا پر ان کی روایات میں دعویٰ انقطاع مدفوع ہے، اس کے باوجود مدلس کی جو روایات ‘عن’ سے ہیں ان کے طرق کی تحقیق کی جائے گی، اگر ان میں سماع کی تصریح مل جائے تو انقطاع کا اعتراض دور ہو جائے گا، ورنہ نہیں۔
اگر امام بخاری رحمہ اللہ کی شروط کی بنا پر دعویٰ انقطاع مدفوع ہے تو تدلیس یا ارسال کے دعویٰ کی صورت میں تصریحِ سماع کا فقدان انہی شروط کی بنا پر مندفع کیوں نہیں، اگر ان کی اس بات کو تسلیم کر لیں جیسا کہ بعض دیگر حضرات نے بھی ایسی روایات کے بارے میں عدمِ اطمینان کا اظہار کیا ہے تو یہ زیادہ سے زیادہ انہی روایات کے بارے میں ہے جو شواہد و متابعات کے درجہ میں ہیں نہ کہ ان روایات کے بارے میں جو اصول میں ہیں اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ان سے استدلال کیا ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ہی رقم طراز ہیں: [ليست الأحاديث التي في الصحيحين بالعنعنة عن المدلسين كلها في الاحتجاج، فيحمل كلامهم هنا على ما كان منها في الاحتجاج فقط أما ما كان في المتابعات فيحتمل أن يكون حصل التسامح في تخريجها كغيرها]
صحیحین میں مدلسین کی معنعن تمام روایات درجہٴ احتجاج میں نہیں ہیں۔ (جنہوں نے انہیں محمول علی السماع کیا ہے علامہ ابن الصلاح رحمہ اللہ اور نووی رحمہ اللہ وغیرہ) ان کا کلام یہاں انہی روایات کے بارے میں ہے جن سے احتجاج ہوا ہے، رہی وہ روایات جو متابعات میں ہیں تو ان میں دوسری روایات کی طرح تسامح کا احتمال ہے۔ (النکت:ص636 ج2)
اس سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ امام بخاری کی وسعتِ معلومات اور ان کی کڑی شرائط کی بنا پر جمہور اہل علم نے ان پر اعتماد کیا ہے، اور ظاہراً انقطاع کو صحیح بخاری میں تسلیم نہیں کیا، بالخصوص وہ روایات جو اصول میں اور استدلال کے طور پر امام بخاری رحمہ اللہ نے ذکر کی ہیں، ان پر اس قسم کے اعتراض کو قابلِ اعتنا تسلیم نہیں کیا، جس طرح کسی ایسے راوی کو جسے مجہول قرار دیا گیا ہے اور امام بخاری نے الجامع الصحیح میں اس سے روایت لی ہے، تو ایسے راوی کو ثقہ تسلیم کیا گیا ہے اور اس کی جہالت کے ارتفاع کے لیے یہی کافی سمجھا گیا ہے کہ الجامع الصحیح میں اس کی روایت ہے۔
ملاحظہ ہو: (مقدمہ فتح الباری:ص384)،(الموقظہ:ص306)
بالکل اسی طرح روایت پر انقطاع یا نکارت وغیرہ کا الزام بھی قابلِ اعتبار نہیں، بلکہ اسے متصل اور صحیح تسلیم کیا جائے گا، بالخصوص جب کہ اس قسم کا اعتراض کسی متاخر سے منقول ہو۔ ہماری اس وضاحت سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ جمہور ائمہٴ سلف نے یہ نکتہ قبول کیا ہے اور امام بخاریؒ کی جلالتِ قدر اور وسعتِ معلومات کا اعتراف کرتے ہوئے صحیح بخاری کی روایات بالخصوص وہ احادیث جنہیں امام صاحب نے اصول میں ذکر کیا ہے اور ان سے استدلال کیا ہے، کو متصل اور صحیح تسلیم کیا ہے۔ اہل اشراق اگر اس سے متفق نہیں تو اس میں ہمیں کوئی تعجب نہیں، انہوں نے تو بہت سے مسائل میں سلف کے اجتماعی موقف سے انحراف کیا ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم اس کی نشان دہی کر چکے ہیں۔
علامہ کشمیریؒ کی عبارت اور اس کا مفہوم
ہم عرض کر چکے ہیں کہ امام بخاریؒ سے لے کر تاہنوز تمام اہل علم ابو اسامہ عن ہشام کی بیان کردہ اس حدیث کو صحیح تسلیم کرتے رہے ہیں، مگر اہل اشراق اپنے مخصوص نظریات کی بنا پر ان سے متفق نہیں، اسی ضمن میں علامہ کشمیریؒ کے حوالے سے ہم نے ذکر کیا تھا کہ تصحیح و تضعیف کے مسئلہ میں متقدمین محدثین کا فیصلہ ہی قابلِ اعتبار ہے، مگر ہماری یہ بات بھی اہل اشراق کو ناگوار گزری اور اس کے بارے میں یہ سخن سازی فرمائی گئی کہ "علامہ کشمیریؒ کا موقف راوی کی عدالت اور کردار یا اس کے ضبط و اتقان کے بارے میں حکم لگانے اور اس کی بنیاد پر راویوں کے تصرف اور وہم کی نشان دہی کے بارے میں نہیں، یہی وجہ ہے کہ علامہ کشمیریؒ نے واقعہٴ افک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانے والوں میں جو حضرت حسان بن ثابت کا نام صحیح بخاری (رقم:4141) میں ہے اسے فیض الباری میں خلافِ تحقیق قرار دیا ہے۔ (ملخصاً، اشراق:ص51-52)
پہلے تو یہ دیکھئے کہ کیا فی الواقع علامہ کشمیری نے روایات کے بارے میں متقدمین محدثین کرام رحمہم اللہ کے فیصلے کی جو تحسین فرمائی ہے وہ صرف راوی کی عدالت اور اس کے ضبط و اتقان ہی سے متعلق ہے یا اس کا تعلق راوی کے تصرف اور وہم سے بھی ہے۔ چنانچہ علامہ کشمیری رحمہ اللہ کی جو عبارت ہم نے فیض الباری (:ص414 ج2) کے حوالے سے نقل کی ہے اس سے بعد کی عبارت کی مراجعت اگر اہل اشراق نے کر لی ہوتی تو یقیناً یہ بات اپنی دیدہ وری کے باوجود نہ کہتے۔ علامہ کشمیری رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: [وحينئذ إن وجدت النووى مثلاً يتكلم في الحديث والترمذى يحسنه، فعليك بما ذهب إليه الترمذى، ولم يحسن الحافظ في عدم قبول تحسين الترمذى، فإن مبناه على القواعد لا غير، وحكم الترمذى يبنى على الذوق والوجدان الصحيح وإن هذا هو العلم وإنما الضوابط عصا الأعمى]
اس لیے اگر تم دیکھو کہ مثلاً علامہ نووی رحمہ اللہ نے حدیث میں کلام کیا ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اس کی تحسین کرتے ہیں تو آپ وہ موقف اختیار کریں جو امام ترمذی رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے، حافظ رحمہ اللہ نے امام ترمذی رحمہ اللہ کی تحسین کو قبول نہ کر کے اچھا نہیں کیا۔ حافظ رحمہ اللہ کی بنیاد تو بس قواعد ہیں اور امام ترمذی رحمہ اللہ کا حکم صحیح وجدان اور ذوق پر مبنی ہے اور یہی اصل علم ہے قواعد تو اندھے کے لیے لاٹھی کی مانند ہیں۔ (فیض الباری: ص415 ج4)
غور فرمائیے: راویوں کی عدالت اور حفظ و ضبط کے قواعد کے علاوہ صحیح وجدان اور ذوق کیا ہے؟ جس کی اہمیت کے پیش نظر علامہ کشمیری رحمہ اللہ متقدمین کے فیصلے کو اولیت دیتے ہیں۔ راویوں کا وہم اور تصرف بھی اس میں شامل ہے یا نہیں؟ ہمارے نزدیک تو یہ بات بھی اہل اشراق کے غلوِ علم کی دلیل ہے کہ یہ سمجھا جائے ائمہٴ متقدمین راویوں کی عدالت، ان کے حفظ و ضبط کی لطافتوں سے تو واقف تھے، مگر ان کے تصرفات اور اوہام پر وہ مطلع نہیں ہوئے، اس کی اطلاع ماشاء اللہ اہل اشراق کے "عالی دماغ” سکالر ہی کو ہو سکی۔ بتلائیے اس فکر کو خود سری اور علمی غرور نہ سمجھا جائے تو اور کیا سمجھا جائے۔
رہی یہ بات کہ علامہ کشمیری رحمہ اللہ نے بخاری (رقم:4141) کی حدیث، جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے، کو خلافِ تحقیق قرار دیا ہے۔ تو ہم یہاں اس حوالے سے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ کیا فی الواقع تہمت لگانے والوں میں تھے یا نہیں؟ اس بحث کی تفصیل سے قطع نظر اہل اشراق سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا علامہ کشمیری رحمہ اللہ نے اس روایت کے کسی راوی کے بارے میں فرمایا ہے کہ: اس نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کو تہمت تراشنے والوں میں شمار کرنے میں غلطی کی ہے۔ اگر ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو [بحث ما نحن فيه] میں بطورِ تمثیل اس کا ذکر کرنا کیوں کر درست ہے؟ دعویٰ تو یہ ہے کہ راویوں کے عادل اور ضابط ہونے اور سند کے لحاظ سے بظاہر صحیح دکھائی دینے کے باوجود روایت راویوں کے تصرفات سے محفوظ نہیں ہوتی، اور متقدمین بسا اوقات ایسے تصرفات پر مطلع نہیں ہوتے، علامہ کشمیری رحمہ اللہ نے جب راوی کے ایسے کسی تصرف کا ذکر نہیں کیا تو اسے اپنے موقف کی تائید میں پیش کرنے میں کون سی معقولیت ہے؟ اپنی تحقیق و مطالعہ کی روشنی میں روایت میں بیان شدہ بات کی مخالفت اور روایت میں راوی کا تصرف دو علیحدہ موضوع ہیں، مگر اہل اشراق اس فرق کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے خلطِ مبحث کا شکار ہیں۔
علامہ کشمیری رحمہ اللہ نے بخاری کی اس روایت کو کسی راوی کے تصرف کی بنا پر قطعاً ضعیف قرار نہیں دیا، بلکہ انہوں نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے اپنے بیان کو راجح اور زیادہ معتبر قرار دیا ہے، جو اشعار انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مدح میں کہے تھے، یعنی یہاں مسئلہ ان کے نزدیک گویا راجح مرجوح کا ہے، ضعفِ صحت کا نہیں جیسا کہ کج بحثی میں اہل اشراق نے سمجھا ہے۔
جہاں تک علامہ کشمیری مرحوم کے موقف کا تعلق ہے تو اس کے صحیح یا غلط ہونے کی تفصیل یہاں مطلوب نہیں ورنہ ہم عرض کرتے کہ انہوں نے یہاں دیگر تمام شارحین سے ہٹ کر جو موقف اپنایا ہے وہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ یہی نہیں، بلکہ اس بحث کے ضمن میں انہوں نے مزید ایسی باتیں کہی ہیں جو قطعاً غلط اور حقیقت کے بالکل برعکس ہیں، مگر یہ ساری تفصیل ہمارا موضوع نہیں، ہم نے صرف اتنا عرض کرنا تھا کہ انہوں نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا تعلق تصرفِ راوی سے اور صحت و ضعف کے حوالے سے قطعاً نہیں۔
احادیثِ صحیحین
ہم نے یہ بات بھی عرض کی کہ صحیحین کی صحت پر اتفاق ہے، البتہ جن چند روایات پر بعض محدثین نے تنقید کی ہے وہ اس اتفاق سے خارج ہیں اور یہ تنقید بھی اکثر و بیشتر فنی نوعیت کی ہے اور راجح مرجوح کی حیثیت سے ہے صحت و ضعف کے اعتبار سے نہیں۔ دورِ تدوینِ حدیث میں صحیحین کی احادیث کو پرکھا گیا، ان کی ایک ایک سند کو، سند کے ہر ہر راوی کو پرکھا گیا، اس کے متن کا جائزہ لیا گیا پھر کہیں جا کر ائمہٴ کرام کی یہ رائے سامنے آئی کہ صحیحین کی صحت پر اتفاق ہے۔ فنی نقطہٴ نظر سے جو اعتراضات تھے ان کے جوابات دے کر صحیحین کی اس پوزیشن کو تسلیم کیا گیا، متون کے لحاظ سے جو کلام تھا اس کا بھی ازالہ کیا گیا۔ دورِ تدوین کے بعد بھی اعتقادی یا مذہبی جمود کی بنا پر، یا عقلی و استقرائی بنیادوں پر جو اعتراضات ہوئے اہل علم نے ترکی بہ ترکی ان کے بھی جوابات دیئے، جس کی تفصیل کا یہ مقام نہیں، بلکہ آخری دور میں "نیچر، قانونِ فطرت” اور "ارتقا” کی بنیاد پر جنہوں نے حرف گیری کی انہوں نے بھی منہ کی کھائی اور اہل علم نے دودھ کا دودھ، پانی کا پانی کر دکھایا۔ شکر اللہ سعیہم
اہل علم نے تعمیری تنقید کا ہر دور میں خیر مقدم کیا، کیونکہ بحث و تحقیق سے فن میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور بہت سے مسائل کی تنقیح ہو جاتی ہے، مگر دورِ تدوین کے بعد کی تنقید بالعموم فنِ حدیث کی حیثیت سے نہیں، بلکہ اعتقادی و فکری اختلاف و انحراف کی بنا پر ہے، یہ لوگ پہلے ایک نظریہ طے کرتے ہیں یا کسی "عصری تحقیق” سے متاثر ہوتے ہیں اور کوئی صحیح حدیث اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو اس پر اپنی تنقید کے تمام نشتر چلاتے ہیں، حدیث کی تحقیق و تنقیح کے لیے محدثین نے جو اصول بنائے کبھی ان کا سہارا لیتے ہیں، کبھی حسبِ حال صحت کا ایک معیار بنا لیتے ہیں اور اس پر صحیح احادیث کو مشقِ ستم بناتے ہیں، یہی حال عصرِ حاضر میں اہل اشراق کا ہے۔
اسی بحث میں دیکھئے، اولاً: تو اہل اشراق کے "مرشدِ کامل” نے اپنی تمام تر علمی لن ترانیوں کے باوجود [وليستا بمغنيتين] کی حدیث کو ذکر ہی نہیں کیا جو ان کی ذکر کردہ روایت نمبر:949 کے صرف تین روایات کے بعد (952) ہے۔
ثانیاً: ہم نے اس روایت کی طرف توجہ دلائی تو اہل اشراق اسے ضعیف اور نا قابلِ اعتبار قرار دینے کے لیے لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئے، کیونکہ یہ ان کے موقف کے خلاف ہے اور ان کے سارے تانے بانے کو تار تار کر دیتی ہے۔
ثالثاً: اس حوالے سے ان کے ایراداتِ باردہ کا ایک، ایک کر کے جواب دیا گیا اور یہ بھی عرض کیا گیا کہ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے جن کی صحت پر اہل علم کا اتفاق ہے اور اہل اشراق کے علاوہ آج تک کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا، مگر ان کی وہی رٹ کہ مرغ کی ایک ہی ٹانگ۔
رابعاً: جس اصول کے سہارے انہوں نے یہ موقف اپنایا، اس کی تنقیح کے بعد محدثین رحمہم اللہ کے اصول پر ہی اس روایت کی صحت بیان کر دی گئی، اس سے بھی ان کی تشفی نہ ہو سکی۔
خامساً: ہم نے عرض کیا کہ: احادیث تو محفوظ ہیں، مگر ان کے تمام طرق محفوظ نہیں۔ اسے "ایک معقول نکتہ” (اشراق: ص55) تسلیم کر لینے کے باوجود وہ اس سے متفق نہیں، کیوں؟ اس کا جواب ظاہر ہے جس کی وضاحت ہم اس مضمون میں کر چکے ہیں۔
سادساً: اسی بات کو ایک اور اسلوب میں ہم نے دہرایا کہ متقدمین کی نگاہوں میں ذخیرہٴ احادیث تھا۔ ایک ایک روایت کی متعدد اسانید انہیں ازبر تھیں اور یوں لاکھوں احادیث کے وہ حافظ تھے۔ اس کے برعکس چند مطبوعہ کتابوں کی ورق گردانی سے ان سابقین محدثین کے فیصلے کے خلاف فیصلہ دینا خود سری ہے، تو جواباً ارشاد ہوتا ہے کہ یہ موقف تو "ایک خاص زاویہٴ نگاہ کا ترجمان ہے جو ہمارے زاویہٴ نظر سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ (اشراق: ص48)
جب یہ ایک "معقول نکتہ ہے” تو اسے قبول کرنا ہی معقولیت ہے، اس کے برعکس جو بھی "زاویہٴ نظر” ہے وہ غیر معقولیت پر مبنی ہے، معقولیت پر نہیں۔
سابعاً: ان کا "زاویہٴ نظر” یہ ہے کہ احادیث کی تحقیق و تنقید کے باب میں اصل معیار کی حیثیت ایک مخصوص دور کی تحقیقات کے نتائج کو نہیں، بلکہ ان علمی و عقلی اصولوں کو حاصل ہے جن کو سامنے رکھتے ہوئے علمِ حدیث کے تشکیلی دور میں اکابر محدثین نے روایات کی بے لاگ تنقید کی شان دار روایات قائم کی۔ صحیح علمی رویہ یہ ہے کہ نقدِ روایات کے باب میں نئے تنقیدی زاویوں کے امکان کی نفی نہ کی جائے، بلکہ دلائل و شواہد پر مبنی کوئی بھی تنقید سامنے آنے پر متعلقہ روایات کا از سرِ نو روایتاً و درایتاً جائزہ لیا جائے۔ (اشراق: ص48-49 جون2007ء)
عرض ہے کہ علمِ حدیث کے تشکیلی دور میں اکابر محدثین نے روایات کی بے لاگ تنقید کی جو شان دار روایت قائم کی ہے یہ تنقید کن اصولوں پر مبنی تھی؟ انہی اصولوں پر اکابر محدثین نے صحیحین کی روایات کو پرکھا، اور بالآخر یہ طے پایا کہ ان کی تمام روایات بالخصوص جو اصول و استدلال میں بیان ہوئی ہیں وہ سب صحیح ہیں اور سوائے چند روایات کے باقی تمام احادیث کی صحت پر اکابر محدثین کا اتفاق ہے اور انہیں تلقی بالقبول حاصل ہے، اور روایتِ زیرِ بحث بھی انہی روایات میں سے ایک ہے جو اصول میں ہیں اور اکابر محدثین کیا، اہل اشراق سے قبل کسی اہل علم نے اس پر کلام نہیں کیا، کیا یہ اجماعِ علمائے امت خطا اور غلطی پر قائم رہا؟
اجماعِ امت کے خلاف اب اگر اہل اشراق کی جسارت کو ہم خود سری قرار دیتے ہیں تو وہ ہم ناتوانوں پر ناراض کیوں ہیں؟ اجماع بہرحال مقدم ہے کہ فرمانِ نبوی ہے: میری امت گمراہی اور غلطی پر مجتمع نہیں ہو سکتی۔ اسی کو امام شافعی کے فرمان کے مطابق قرآنِ پاک نے [سبیل المؤمنین] سے تعبیر کیا ہے۔ اس لیے علم و عقل دونوں کا فیصلہ ہے کہ اہل اشراق کا پہلا موقف بالکل اسی طرح غلط ہے جیسے متعدد اجتماعی مسائل میں انہوں نے انحراف کر کے غلط روش اختیار کی ہے۔
رہی یہ بات کہ نقدِ روایات کے باب میں نئے تنقیدی زاویوں کے امکان کی نفی نہیں کی جا سکتی۔ الخ۔تو یہ "زاویہٴ نظر” اہل اشراق سے قبل سرسید سے غلام احمد پرویز تک وقتاً فوقتاً پڑھنے سننے میں آ رہا ہے، مستشرقین کی صدائے بازگشت سے بھی یہ تلقین ہوتی رہی اور بعض دانشورانِ ملت بھی اسی ساز میں اپنی آواز ملاتے رہے، مگر تا حال "نئے تنقیدی زاویوں” کی کوئی تعیین اور ان کی درجہ بندی نہ ہو پائی۔ نقدِ روایت کے اصول جو روایت یا درایت کے پہلو سے تھے ایک ایک کر کے مدون و مرتب ہو چکے، ہمیں بتلایا جائے کہ وہ کون سا نیا تنقیدی اصول ہے جو پہلے بیان نہیں ہوا اور اس کی تحقیق و تنقیح نہیں ہوئی۔ یہی معاملہ اصول فقہ، نحو، صرف اور معانی و بیان کا ہے۔ ان کی تسہیل و ترتیب کی افادیت کا انکار نہ اُدھر ہے نہ اِدھر، لیکن احوال و ظروف سے پتا چلتا ہے کہ بحیثیتِ فن یہ کام بہت حد تک مرتب و مکمل ہو چکا ہے، اگر مرتب شدہ نئے اصولوں کی نشان دہی اہل اشراق کریں گے تو ہم ان کے شکر گزار ہوں گے۔ علامہ شبلی رحمہ اللہ نے جو اس حوالے سے خامہ فرسائی کی، عرصہ ہوا علمائے کرام اس کی حقیقت تشت از بام کر چکے۔ اشراق کے نقطہٴ نظر میں کوئی مزید نئی بات ہو تو فرمائیں! زیرِ بحث روایت کی تحقیق میں بھی کوئی نیا اصول بیان نہیں ہوا جس کی بنیاد پر اسے ضعیف قرار دیا گیا۔ اور جو کچھ مختلف زاویوں سے کہا گیا اس کی پوزیشن قارئین کرام کے پیشِ نظر ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی اس روایت پر اشراق کی تنقید جس "ضابطہ” کی بنیاد پر ہے اس کے جواب میں یہ بھی عرض کیا گیا تھا کہ اس حدیث پر صحت کا حکم لگانے والے بعض وہ ہیں جن کا حزم و احتیاط اور ان کا تتبع سب کے ہاں مسلم ہے۔ پھر تنہا ان کے حکم پر ہی کیا موقوف، متاخرین نے بھی انہی اصولوں کے تحت ان روایات کا مزید جائزہ لیا اور ان کی موافقت کی۔ متقدمین کی نگاہوں میں ذخیرہٴ احادیث تھا۔ ایک ایک روایت کی متعدد اسانید انہیں ازبر تھیں اور یوں لاکھوں احادیث کے وہ حافظ تھے۔ الخ
ہماری اس گزارش کے جواب میں ایک بات یہ بھی کہی گئی کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ فنِ رجال و علل کے جلیل القدر امام ہیں، علمِ حدیث میں ان کی وسعتِ نظر، مہارت اور اجتہادی بصیرت پوری طرح مسلم ہے۔ ڈاکٹر عبد اللہ بن محمد رحمہ اللہ نے کتاب العلل کی ڈیڑھ سو روایات ہیں جو امام زہری رحمہ اللہ کی سند سے مروی ہیں دلائل سے امام دارقطنی رحمہ اللہ کے نتائجِ تحقیق سے اختلاف کیا، اس لیے متقدمین کی تحقیق سے اختلاف کا نتیجہ امام زہری کی روایات کی تضعیف کی صورت میں نہیں، بلکہ ان کی تصحیح و تحسین کی صورت میں نکلا۔ ملخصاً! (اشراق: ص49-50)
اشراق کی روایتی طنز و تعریض سے قطع نظر ان کے کلام کا خلاصہ ہم نے عرض کر دیا۔ صحیحین کی روایات کے حوالے سے ہم نے جو بات عرض کی تھی، اس سے صرفِ نظر کر کے "متقدمین محدثین” میں سے امام دارقطنی رحمہ اللہ کی العلل پر نقد و تبصرہ سے اہل اشراق نے یہ تاثر دیا ہے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ تو متقدمین محدثین میں سے ہیں، جن کی نگاہوں میں ذخیرہٴ حدیث تھا، ایک ایک روایت کی متعدد اسانید انہیں ازبر تھیں، لیکن دورِ حاضر کے ایک فاضل نے ان سے اختلاف کیا، اور نتیجہ امام دارقطنی رحمہ اللہ سے مختلف نکلا، اس لیے صحیحین کی روایات پر نقد و تبصرہ اور نئے تنقیدی زاویوں کے امکان کی نفی نہیں ہونی چاہیے، ان کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ مگر ان کی یہ بات بھی درست نہیں۔
اولاً: تو راقم کے کلام میں "متقدمین محدثین” کے الفاظ جس تناظر میں تھے، افسوس اہل اشراق نے اس پر توجہ نہیں دی، صحیحین کی وہ روایات جن پر ائمہٴ محدثین میں سے کسی نے تنقید نہیں کی وہ روایات یقیناً صحیح ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کے اتفاق کے علاوہ ان کے معاصرین اور متاخرین کی ہمنوائی نے ان احادیث کی صحت کو یقینی بنا دیا ہے۔ "متقدمین محدثین” اور متقدمین محدثین میں سے کسی ایک کی رائے کا فرق محسوس کر لیتے تو وہ شاید یہ تکلف نہ فرماتے۔
ثانياً: امام دارقطنی رحمہ اللہ کی العلل کے حوالے سے یہ بات اہل اشراق کے لیے انکشاف کا باعث ہوئی ہو، ہمارے لیے اس میں کوئی فکرمندی کی بات نہیں۔ ان کی الالزامات والتتبع کا جو تتبع حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اور علامہ نووی رحمہ اللہ نے کیا اہل اشراق اس سے یقیناً واقف ہیں، امام دارقطنی رحمہ اللہ بلاشبہ عظیم محدث ہیں اور علمِ حدیث میں ان کی اجتہادی بصیرت بھی مسلم ہے، تاہم امام بخاری رحمہ اللہ کے تقابل میں ان کی جو پوزیشن تھی علامہ کشمیری رحمہ اللہ کی زبان سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، فرماتے ہیں:
[إن الدارقطنى يمشى على القواعد الممهدة عندهم فينازعه من القواعد، وشأن البخارى أرفع من ذلك فإنه يمشى على اجتهاده وينظر إلى خصوص المقام وشهادة الوجدان، وإنما القواعد لغير الممارس على حد التحديد للعوام فيما لم يرد التحديد من الشارع. الخ]
امام دارقطنی رحمہ اللہ تو ان قواعدِ مصطلحہ کی بنیاد پر اختلاف کرتے ہیں جو ان کے ہاں پائے جاتے ہیں، مگر امام بخاری رحمہ اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے، وہ اپنے اجتہاد پر عمل کرتے ہیں اور مقام کی خصوصیت اور وجدان کی شہادت کو ملحوظ رکھتے ہیں، قواعد تو غیر ماہرین اور عوام کی پابندی و تحدید کے لیے ہوتے ہیں جن کے بارے میں شارع علیہ السلام کی تحدید وارد نہیں ہوتی۔ (فیض الباری:ص57 ج1)
یہی وجہ ہے کہ صحیح بخاری پر امام دارقطنی رحمہ اللہ کے انتقاد کو اہل علم نے قبول نہیں کیا، اہل اشراق کو اتنی بات تو ملحوظِ خاطر رکھنی چاہیے کہ زیرِ بحث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر تو امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کیا، کسی اور محدث نے بھی اعتراض نہیں کیا، امام دارقطنی رحمہ اللہ کے سہارے پر اگر کچھ حضرات تنقید کا حق سمجھتے ہیں تو یہ بات بھی سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ ان کی منتقدہ احادیث کے علاوہ باقی احادیث کو محدثین نے یقینی طور پر صحیح تسلیم کیا، ان کے اس فیصلے کے بعد پھر ان احادیث پر محض اپنے نظریات کے تحفظ میں تنقید [سبیل المؤمنین] سے انحراف نہیں تو اور کیا ہے؟
ہشام بن عروہ کی روایات
ہشام بن عروہ بالاتفاق ثقہ اور حجت ہیں، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے انھیں الامام، الثقہ، شیخ الاسلام کے القاب سے یاد کیا ہے۔ (السیر:ص34 ج6)
زیرِ بحث روایت میں وہ اپنے والد عروہ عن عائشہ کی سند سے روایت کرتے ہیں، اس روایت پر نقد کرتے ہوئے پہلے تو یہ تاثر دیا گیا کہ ایک کے علاوہ باقی روایات میں امام ہشام کا اپنے باپ سے سماع نہیں، اس بارے میں ان کی اس غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا تو انھوں نے تسلیم کر لیا کہ ہشام کا اپنے والد سے سماع نکتہٴ اختلاف نہیں، دوسرا اعتراض یہ تھا کہ عراق جانے کے بعد ہشام اپنے والد سے روایات بیان کرنے میں غیر محتاط ہو گئے تھے، اس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ روایت ہشام سے ان کے بصری تلامذہ بھی بیان کرتے ہیں،
جواباً فرمایا گیا کہ اعتراض کا تعلق اہل کوفہ کی روایات سے نہیں، بلکہ کوفہ میں ہشام کی بیان کردہ مرویات سے ہے، اس لیے ان سے روایت کرنے والے کسی بھی شہر سے ہوں، اگر انھوں نے ہشام سے کوفہ میں آنے کے بعد ہی سماع کیا ہے تو ان کی مرویات کا حکم اس دور کی دیگر مرویات سے مختلف نہیں ہو سکتا، ہم نے عرض کیا محترم! ہشام سے یہ روایت ابو اسامہ حماد بن اسامہ نے بیان کی ہیں وہ گو کوفی ہیں، مگر انھیں ہشام سے جو اختصاص حاصل تھا اس حوالے سے امام احمد نے وضاحت فرما دی ہے کہ ہشام سے روایت کرنے میں حماد بن اسامہ سے بہتر روایت کرنے والا اور کوئی نہیں، وہ ان سے چھ سو احادیث بیان کرتے ہیں اور ستر کے قریب تو وہ روایات ہیں جو بخاری اور مسلم میں ہیں، انھوں نے ہشام سے حماد کی منفرد روایات کی بھی تحسین کی ہے۔امام احمد رحمہ اللہ کی ان وضاحتوں کے بعد کوئی عقل مند کہہ سکتا ہے کہ ابو اسامہ حماد بن اسامہ عراقی ہیں؟ ہشام کی عراق میں بیان کردہ روایات مخدوش ہیں، لہذا ابو اسامہ کی یہ روایت بھی ان کے وہم کا نتیجہ ہے۔ ہماری اس وضاحت کے باوجود افسوس یہ کہہ کر اطمینان کا اظہار کر لیا گیا کہ اپنے حالیہ مضمون میں مولانا محترم نے اس نکتے سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔ (اشراق:ص185)
قارئین اشراق تو یقیناً اسے صحیح باور کریں گے کہ سچ ہے ان کا فرمایا ہوا، مگر ان سے التماس ہے کہ پہلے اشراق جون 2007ء، شمارہ نمبر:6، ص72 کی سطر 13-14 ملاحظہ فرمائیں، جس میں ہم نے عرض کیا ہے کہ رہی یہ بات کہ ہشام کے بصری تلامذہ نے بھی ان کے کوفہ آنے کے بعد سماع کیا ہے، مدینہ میں نہیں تو اس کی وضاحت آئندہ آ رہی ہے۔ اس کے بعد اس کا ص41 کی سطر 20، 21، 23 ملاحظہ فرمائیں۔ جسے ہم ابھی اوپر نقل کر آئے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ حماد بن اسامہ کی ہشام سے پانچ یا چھ روایات کی نشان دہی کرتے جن کے بارے میں محدثین نے صراحت کی ہو کہ ان میں حماد سے خطا ہوئی ہے اور اس کی بھی نفی کرتے کہ حماد کو ہشام سے کچھ اختصاص حاصل نہیں، مگر وہ یہ تو نہ کر سکے الٹا طفل تسلی کے طور پر کہہ دیا کہ "ہمارے اس نکتے سے کوئی تعرض نہیں فرمایا گیا۔ سبحان اللہ
یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گی کہ ہشام کے کوفہ جانے کے حوالے سے جو اعتراض اہل اشراق نے اٹھایا ہے اور فرمایا ہے کہ ہشام کی مدینہ طیبہ میں بیان کی ہوئی روایات تو درست ہیں کوفہ میں بیان کی ہوئی محل نظر ہیں اور یقینی طور پر متصل نہیں، اپنے حالیہ مضمون میں انھوں نے اس کی غیر شعوری طور پر نفی کی ہے، فرماتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملے کی روایت ہشام عن عروہ عن المسور بن مخرمہ کی سند سے نقل کی گئی ہے، ہشام کے شاگردوں میں زائدہ، اسماعیل بن زکریا، علی بن مسہر، ابو ضمرہ، لیث بن سعد، مفضل بن فضالہ، ابو اسامہ، حماد بن سلمہ، ابو معاویہ اور عبدہ اسے عن المسور بن مخرمہ کے الفاظ سے نقل کرتے ہیں، جبکہ امام مالک رحمہ اللہ نے اسے إن المسور بن مخرمہ أخبرہ کے الفاظ سے روایت کیا ہے، امام دارقطنی رحمہ اللہ العلل (ص201 ج2) میں فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول کہ مسور بن مخرمہ نے ہشام کو خبر دی، ان کا وہم ہے۔ کیونکہ ان کے برعکس ‘عن’ سے روایت کرنے والے راویوں کی تعداد زیادہ ہے۔ (اشراق: ص63-64 حاشیہ)
اہل اشراق انصاف فرمائیں ہشام سے یہ روایت کرنے والے امام مالک رحمہ اللہ مدنی ہیں یا نہیں، ان کے مقابلے میں جن جن کا نام لیا گیا وہ سب کوفی اور مصری ہیں، بجز ابو ضمرہ انس بن عیاض کے، امام مالک رحمہ اللہ تو کوفہ گئے ہی نہیں، جب کہ ابو ضمرہ کے بارے میں احتمال ہے کہ اس نے بھی ہشام سے کوفہ ہی میں سماع کیا ہے جیسے لیث اور مفضل کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا ہے، اگر بصری راویوں کی روایت میں یہ احتمال موجود ہے کہ انھوں نے ہشام کے عراق جانے کے بعد سماع کیا ہے تو ابو ضمرہ، لیث اور مفضل کے بارے میں یہ احتمال کیوں نہیں؟ مگر امام مالک کے بارے میں یہ احتمال قطعاً نہیں ہو سکتا، لیکن اس کے باوجود ہشام سے امام مالک شیخ اہل المدینہ کی روایت مرجوح اور ان کے مقابلے میں دوسروں کی روایت راجح، یہاں امام مالک کی سند کو مرجوح قرار دینا کیا اہل اشراق کے دعویٰ کے منافی نہیں؟
غلطی ہائے مضامین مت پوچھ
یہاں یہ بات مزید بڑی عجیب ہےفرمایا یہ گیا ہے کہ معنعن روایت کی کسی ایک آدھ سند میں تحدیث کی صراحت آ جائے تو کیا اس میں راوی کے تصرف کا احتمال نہیں ہوتا اور کیا وہ اتصال کا حتمی قرینہ قرار پا جاتی ہے، اسی "فیصلے” کی تائید میں انھوں نے امام مالک کی ہشام سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ کی روایت کو امام دارقطنی رحمہ اللہ کے حوالے سے پیش کیا، گویا اہل اشراق کے نزدیک راوی مدلس نہ ہو تو اس کی ہر روایت میں اتصال کی صراحت ہی اس کے متصل ہونے کا حتمی قرینہ ہے، معنعن ہونے کی صورت میں اگر کوئی راوی سماع کی صراحت کر دیتا ہے تو اس میں راوی کے تصرف اور انقطاع کا احتمال باقی رہے گا، حالانکہ ان کی یہ رائے قطعاً غلط ہے۔ جمہور محدثین تو راوی مدلس نہ ہو اور مروی عنہ سے اس کی معاصرت ہو اس کی معنعن روایت کو متصل قرار دیتے ہیں، لیکن امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ لقا کی شرط بھی اتصال کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ مقدمہٴ صحیح مسلم اور اصولِ حدیث کی تمام کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے جس کی تفصیل یہاں تطویل کا باعث بنے گی، اگر اہل اشراق اپنے اس موقف پر کبار محدثین کی شہادت پیش کر دیں تو ہم ان کے شکر گزار ہوں گے، ورنہ ہم سمجھیں گے کہ ان کا یہ موقف بھی اسی طرح غلط ہے جیسے ثقہ کی زیادتی کے بارے میں ان کا موقف غلط ہے اور صحیحین کی اس روایت کے بارے میں غلط ہے۔
رہی اس موقف پر ان کی العلل للدارقطنی کی مثال تو یہ بھی امام دارقطنی رحمہ اللہ کے کلام پر عدمِ تدبر کا نتیجہ ہے، یا عجلت میں وہ امام دارقطنی کی بات سمجھ نہیں سکے۔
اولاً: فرمایا گیا کہ: ہشام کے شاگردوں میں سے زائدہ، اسماعیل بن زکریا، علی بن مسہر، ابو ضمرہ، لیث بن سعد، مفضل، ابو اسامہ، حماد، ابو معاویہ اور عبدہ اسے عن المسور بن مخرمہ کے الفاظ سے نقل کرتے ہیں۔
حالانکہ ہشام سے یہ حضرات عن المسور بن مخرمہ سے نہیں بلکہ [ہشام عن ابیہ عن سلیمان بن یسار عن المسور بن المخرمہ] کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: [فرواه زائدة و إسماعيل بن زكريا، وعبدة وغيرهم عن هشام بن عروة عن أبيه عن سليمان بن يسار عن المسوربن مخرمة] (العلل:ص201 ج2)
ثانياً: امام دارقطنی رحمہ اللہ کے اس کے بعد کلام کا ترجمہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: امام مالک کا یہ قول کہ مسور بن مخرمہ نے ہشام کو خبر دی ان کا وہم ہے، حالانکہ مسور بن مخرمہ نے ہشام کو نہیں عروہ کو خبر دی ہے۔ الفاظ ہیں: [وقول مالك عن هشام عن أبيه أن المسور بن مخرمة أخبره وهم منه]
معلوم نہیں یہاں مسور نے ہشام کو خبر دینے کی بات، ہشام "خولیہ” کا نتیجہ ہے یا یہ سہوِ کتابت ہے۔
ثالثاً: یہاں سرے سے صراحتِ سماع اور معنعن یعنی [عن المسور بن مخرمة اور إن المسور بن مخرمة أخبره] کا کوئی مسئلہ ہی نہیں، امام دارقطنی رحمہ اللہ تو کہنا چاہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے جو [ہشام عن أبيه إن المسور بن مخرمة أخبره] سے روایت کی ہے کہ عروہ اسے براہِ راست مسور سے بیان کرتے ہیں اس میں امام مالک رحمہ اللہ کا وہم ہے کیونکہ ہشام کے متعدد شاگرد عروہ اور مسور بن مخرمہ کے مابین سلیمان بن یسار کا واسطہ ذکر کرتے ہیں، یعنی اصل مسئلہ سلیمان بن یسار کے واسطے کا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے ہشام سے جو بلا واسطہ بصراحتِ سماع عروہ کی مسور سے روایت ذکر کی، اس میں امام مالک رحمہ اللہ کا وہم ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے [الأحاديث التي خولف فيها مالك] (ص81-82) میں بھی یہی بات کہی ہے اور فرمایا ہے کہ [هذا لم يسمعه عروة من المسور] یہ حدیث عروہ نے المسور سے نہیں سنی، اور دلیل یہی ہے کہ ایک جماعت نے اسے بواسطہ سلیمان بن یسار، مسور بن مخرمہ سے بیان کیا ہے۔
رابعاً: اہل اشراق کے علم میں یہ تو ہو گا کہ عروہ مدلس نہیں ہیں، اور "عروة عن المسور” کی روایات صحیح بخاری میں موجود ہیں، اور کتبِ تراجم میں عروہ کے مشائخ میں المسور بن مخرمہ کا نام بھی موجود ہے۔ اس لیے بھی یہاں صراحتِ سماع یا معنعن کا مسئلہ [ظلمات بعضها فوق بعض] کا مصداق ہے۔
خامساً: امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہ بھی تو فرمایا ہے کہ: [ورواه جرير وعبدالله بن إدريس وعيسى بن يونس ومحمد بن دينار عن هشام عن أبيه عن المسور]
کہ اس روایت کو جریر، عبد اللہ بن ادریس، عیسیٰ بن یونس، محمد بن دینار، ہشام عن عروة عن المسور کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ (العلل: ص210 ج2)
درمیان میں سلیمان بن یسار کا واسطہ ذکر نہیں کرتے۔ مگر اس کے باوجود امام دارقطنی رحمہ اللہ سلیمان بن یسار کے واسطے ہی سے اسے صحیح قرار دیتے ہیں۔ جس سے یہ بات تو ثابت ہوئی کہ امام مالک رحمہ اللہ اسے بلا واسطہ ذکر کرنے میں منفرد نہیں ہیں۔ مگر افسوس اہل اشراق نے امام دارقطنی رحمہ اللہ کے پورے کلام کو نقل ہی نہیں کیا۔
سادساً: یاد رہے کہ امام مالک، جریر، عبد اللہ بن ادریس، عیسیٰ اور محمد بن دینار کے علاوہ عبد اللہ بن نمیر اور وکیع بھی اسے "ہشام عن عروة عن المسور” سے بلا واسطہ ہی روایت کرتے ہیں۔ المصنف لابن ابی شیبہ (ص25 ج11)، ابن سعد (ص350 ج3) مسائل الامام احمد بروایة ابنہ عبداللہ (ص193 ج1) وغیرہ۔ بلکہ ابو الزناد بھی عروة عن المسور روایت کرتے ہیں۔ (شرح اصول اعتقاد اھل السنہ: ص825 ج4)،(الزھد لاحمد:127)
اس لیے امام مالک رحمہ اللہ اسے بلا واسطہ بیان کرنے میں منفرد نہیں، یہ روایت المزید فی متصل الاسانید کی ایک مثال ہے، جو انواعِ علوم الحدیث کی ایک نوع ہے۔ اسے "سلیمان بن یسار” کا اضافہ کرنے والوں کی بنیاد پر امام دارقطنی رحمہ اللہ کا منقطع قرار دینا درست نہیں یہی بات قدرے تفصیل سے شیخ سلیم ہلالی حفظہ اللہ نے الموطا کے حواشی (ص286-287 ج1) میں کہی ہے۔ اہل اشراق اسے بھی امام دارقطنی رحمہ اللہ کے اوہام میں شمار کر لیں۔ جیسا کہ انھوں نے ڈاکٹر عبد اللہ بن محمد حسن کی کتاب مرویات [الإمام الزهري المعلة في كتاب العلل] کے حوالے سے ان کے اوہام کا اشارہ کیا، اور امام دارقطنی رحمہ اللہ کے نتائجِ تحقیق سے اختلاف کا اظہار کیا ہے۔ اس لیے اس روایت کی سند میں اختلاف کو اپنے نقطہٴنظر کی تائید میں پیش کرنا بہرحال غلط ہے اور کئی اصولی بے خبریوں پر مشتمل ہے۔
سابعاً: ہشام سے امام مالک کی یہی ایک روایت نہیں جس کی سند میں ہشام کے دوسرے تلامذہ نے امام مالک سے اختلاف کیا ہے، بلکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے [الأحاديث التي خولف فيها مالك بن أنس] میں اور روایات بھی ذکر کی ہیں۔ چنانچہ پہلی حدیث امام مالک، [ہشام بن عروہ عن ابیہ عن أسماء بنت أبي بكر] کی سند سے روایت کرتے ہیں جسے انھوں نے الموطأ کتاب الحج، باب لبس الثیاب المصبغة في الإحرام میں روایت کیا ہے۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: یحییٰ بن سعید القطان، ابو اسامہ حماد بن اسامہ، حماد بن زید وغیرہ اسے [هشام عن فاطمة بنت المنذر عن أسماء] کی سند سے روایت کرتے ہیں، [وهو الصواب] اور وہ ہی درست ہے۔ (الأحاديث التي خولف:ص76)
امام بیہقی رحمہ اللہ نے السنن (ص59 ج5) میں یہ اختلافِ سند امام مسلم سے بھی نقل کیا ہے کہ امام مالک کے علاوہ ہشام کے باقی تلامذہ حماد بن اسامہ ابو اسامہ، حاتم بن اسماعیل، ابن نمیر اسے ہشام سے بواسطہٴ فاطمہ عن اسماء بیان کرتے ہیں عروہ کے واسطہ سے نہیں۔ ابن ابی شیبہ (رقم:12872) میں عبدہ بن سلیمان بھی ہشام عن فاطمہ کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ غور فرمائیے ہشام سے یہ روایت کرنے والے بصری اور کوفی ہیں، صرف حاتم بن اسماعیل مدنی ہیں اور وہ بھی اصلاً کوفی ہیں، بعد میں مدینہ طیبہ کو اپنا مسکن بنا لیا تھا اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔
مگر یہ تفصیل معلوم نہیں ہو سکی کہ وہ کوفہ سے کب گئے ہیں۔ انکی وفات 187ھ میں ہوئی ہے جب کہ ہشام ایک عرصہ پہلے 145ھ یا 146ھ میں فوت ہوئے۔ اور حاتم رحمہ اللہ کے مشائخ کی فہرست میں مدنی اور کوفی اساتذہ کا ذکر ہے۔ ان کے علاوہ بصری اور کوفی تلامذہ ہشام سے جس سند سے روایت کرتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ نے ان کی مخالفت کی ہے۔ اہل اشراق کے نقطہٴ نظر پر چاہیے تو یہ تھا کہ امام مالک رحمہ اللہ کی روایت کو راجح قرار دیا جاتا کہ وہ مدنی ہیں اور مدینہ ہی میں انھوں نے ہشام سے سماع کیا ہے، مگر امام دارقطنی رحمہ اللہ ہشام سے بصری اور کوفی تلامذہ کی روایت کو راجح قرار دیتے ہیں، جس سے ہمارے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ ہشام کے مدینہ طیبہ سے جانے کے بعد کی تمام روایات محل نظر نہیں، جیسا کہ اہل اشراق باور کرنا چاہتے ہیں، ہمارے نزدیک تو یہ دونوں اسانید درست ہیں، عروہ عن مسور کے واسطہ سے جیسا کہ امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا اور عروہ عن سلیمان بن یسار عن مسور کے واسطہ سے بھی۔
انھوں نے اپنے موقف کی تائید میں امام ابن عبدالبر کی التمہید (ص 119-120 ج12) کے حوالے سے ایک عبارت نقل کی ہے جس میں ہشام کے بعض تلامذہ مثلاً حماد بن سلمہ، ابو عوانہ اور وہیب وغیرہ کی نقل کردہ ایک روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس میں امام مالک رحمہ اللہ کی روایت راجح ہے اور ان کے مخالف جو حماد و وہیب وغیرہ اہل عراق نے بیان کی ہے وہ کمزور ہے کہ وہ انھوں نے مدینہ سے جانے کے بعد بیان کی ہے۔ ملخصاً (اشراق:ص59-60)
بلاشبہ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے یہ فرمایا، مگر اہل اشراق نے اس کے متصل بعد یہ کہہ کر کہ: یہاں ہشام کی مذکورہ روایت پر کی جانے والی تنقید سے اتفاق یا اختلاف زیرِ بحث نہیں۔ اپنے موقف کی کمزوری کی طرف اشارہ کر دیا، جب اصولاً علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ کے موقف سے اتفاق ہے تو اس روایت پر ان کے تبصرہ پر بھی اتفاق ہونا چاہیے، یہ طرزِ فکر بجائے خود ان کے موقف کی کمزوری کی چغلی کھا رہا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے غالباً علم میں ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف حماد اور وہیب وغیرہ نے جو الفاظ ہشام سے بیان کیے ہیں ان میں تطبیق و توفیق کی صورت پائی جاتی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ کا موقف وہیب وغیرہ کی روایت کے مطابق ہے، دونوں میں کوئی ایسا تضاد نہیں کہ ان میں تطبیق نہ ہو سکے۔
ہم نے عرض کیا تھا کہ مدینہ طیبہ سے جانے کے بعد ہشام کی تمام روایات کے بارے میں یہ کہنا کہ انھیں یقینی طور پر متصل قرار نہیں دیا جا سکتا، محدثین کی تصریحات کے خلاف ہے، چنانچہ تہذیب کے حوالے سے ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ہشام کوفہ میں تین بار آئے، پہلی بار آئے تو کہتے تھے [حدثنی أبی قال سمعت عائشة] یعنی ارسال نہیں کرتے تھے، بلکہ سماع کی صراحت کرتے تھے۔ دوسری بار آئے تو [أخبرنی أبی عن عائشة] کہتے تھے اور تیسری بار آئے تو [أبی عن عائشة] کہتے تھے۔ یعنی باپ سے اور باپ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ (تہذیب:ص50 ج11)،(السیر:ص34 ج6 وغیرہ)
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[ما أحسن حديث الكوفيين عن هشام بن عروة أسندوا عنه أشياء، قال وما أرى ذلك إلا على النشاط يعني أن هشاماً ينشط تارة فيسند ثم يرسل مرة أخرى]
ہشام سے اہل کوفہ کی حدیث کس قدر اچھی ہے وہ اس سے کچھ روایات اسناد کے ساتھ بیان کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ میں اسے ہشام کے نشاط کا نتیجہ سمجھتا ہوں جب وہ نشاط میں ہوتے تو سند بیان کرتے اور جب پریشانی کی سی کیفیت ہوتی تو مرسل بیان کرتے۔ (شرح العلل لابن رجب: ص679 ج2)
انصاف شرط ہے کہ اگر کوفہ جانے کے بعد ہشام کی روایات یقینی طور پر متصل نہیں تو کوفہ میں ان کی روایات کو صراحتِ سماع سے ذکر کرنا اور اسناد کے ساتھ بیان کرنے کا کیا مقصد ہے، بالخصوص حماد بن اسامہ کی ہشام سے روایات جو صحیحین میں ہیں اور امام احمد رحمہ اللہ نے کی ایسی روایات کی تحسین کی ہے۔ تو پھر ابو اسامہ حماد بن اسامہ کی ہشام سے روایت پر ان کے کوفی ہونے کی بنا پر نقد محض ضد اور اپنے موقف کی غلط وکالت نہیں تو اور کیا ہے؟
مزید دیکھیے کہ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے:
[أثبت الرواة عن هشام الثوري ومالك ويحيى القطان وابن نمير والليث بن سعد]
ہشام سے روایت کرنے میں سب سے زیادہ ثبت سفیان ثوری، مالک، یحییٰ القطان، ابن نمیر اور لیث بن سعد ہیں۔ (شرح العلل لابن رجب:ص680)
غور فرمائیے: ان میں مدنی تو صرف امام مالک رحمہ اللہ ہیں جب کہ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ، امام عبد اللہ بن نمیر رحمہ اللہ دونوں کوفی ہیں اور امام یحییٰ القطان بصری اور امام لیث مصری ہیں۔ اگر ہشام کی کوفہ میں سب کی سب روایات یقینی طور پر متصل نہیں تو امام مالک کے علاوہ دیگر کوفی اور بصری تلامذہ کو سب سے زیادہ ثبت کہنے کا کیا فائدہ ہے؟ اس لیے علی الاطلاق ہشام کی روایات کو بایں طور رَد کر دینا کہ یہ انھوں نے مدینہ سے باہر بیان کی ہیں اور اس سے روایت کرنے والے کوفی راوی ہیں، کسی طور پر درست نہیں، بلکہ اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔
ہمیں اہلِ اشراق کی اس بات سے اتفاق ہے کہ اہلِ کوفہ کی نقل کردہ روایات میں یہ واضح تقسیم موجود نہیں کہ فلاں روایات انھوں نے ہشام کے پہلے سفر میں سنی ہیں اور فلاں مرویات دوسرے اور تیسرے سفر میں۔ لیکن اہلِ کوفہ ہی کے جن راویوں کی ہشام سے روایات کو وہ مثبت، صحیح اور حسن قرار دیتے ہیں کیا انصاف کا تقاضا نہیں کہ انھیں صحیح تسلیم کیا جائے اور بلاوجہ محض اپنے موقف کے خلاف سمجھتے ہوئے انھیں رَد نہ کیا جائے۔ بلکہ ہمارے نزدیک تو ان کا ’روایات‘ کے حوالے سے یہ مطالبہ بھی اصول شکنی ہے۔ راوی اگر مختلط و متغیر ہو تو اس کی روایات میں تفریق اور اس کی صحیح اور غیر صحیح روایات میں تمیز و تقسیم اس کے راویوں کی بنا پر ہوتی ہے کہ کس کس راوی نے اس سے حالتِ اختلاط میں سنا ہے اور کس نے اختلاط سے قبل۔ اصولِ حدیث کی تمام کتابوں میں یہ تفصیل موجود ہے۔ جس کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں، اس کے برعکس اہلِ اشراق کا یہ مطالبہ کہ کون سی مرویات اس نے اختلاط سے پہلے بیان کی ہیں اور کون سی بعد میں، اسے ان کا اصولی شاہکار کہنا چاہیے، محدثینِ کرام کا یہ اصول قطعاً نہیں۔
کیا ہشام مختلط ہیں؟
ہشام بن عروہ کے بارے میں ایک نزاع یہ ہے کہ آیا وہ مختلط ہیں یا نہیں، ہم نے عرض کیا تھا کہ حافظ ابن القطان رحمہ اللہ نے ان کے اختلاط کا ذکر کیا ہے، مگر حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سخت تردید کی ہے، اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ کہہ کر کہ [لم نره في ذلك سلفا]، ابنِ قطان رحمہ اللہ کا اس قول میں کوئی سلف نہیں‘ اس کی تردید کی ہے، مگر اہلِ اشراق کو اس سے اختلاف ہے وہ فرماتے ہیں کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے اس قول کا مفہوم یہ ہے، ’آخری عمر میں ہشام کے حافظے میں تغیر واقع ہونے کی نشان دہی سب سے پہلے ابن القطان الفاسی رحمہ اللہ نے کی ہے، کیونکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقدمہ فتح الباری (ص199 ج1) میں ابن القطان رحمہ اللہ کی یہ کہہ کر تائید کی ہے کہ ہشام کے ثبت ہونے پر اتفاق ہے، البتہ بڑھاپے میں اس کا حافظہ متغیر ہو گیا تھا اس لیے تیسری مرتبہ عراق آمد کے موقع پر اس سے سماع کرنے والوں کی روایات بھی حافظے کی خرابی سے متاثر ہوئیں، اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس بات سے تو اختلاف کیا ہے کہ ہشام کے حافظے میں تغیر اختلاط کے درجے تک پہنچ گیا تھا تاہم نفسِ تغیر کو انھوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ میزان (اشراق: ص59)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے کلام کے بارے میں راقم نے جو عرض کیا تھا کہ [لم نره في ذلك سلفا] کے الفاظ سے انھوں نے امام ابن قطان رحمہ اللہ کے اس دعویٰ کی تردید کی ہے کہ ہشام کو اختلاط ہو گیا تھا۔ اس کے برعکس اہلِ اشراق نے جو مفہوم متعین کیا ہے وہ محلِ نظر ہے کیونکہ اس قسم کا تبصرہ کئی مقام پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کیا ہے اور اس سے ان کی تردید ہی مفہوم ہوتی ہے۔ مثلاً عبدالملک بن مسلم بن سلام الحنفی ابو سلام کی امام ابن معین وغیرہ سے توثیق نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: [قال ابن عبد البر في الاستيعاب في ترجمة عمرو بن ميمون الأودى: عبد الملك بن مسلم وعيسى بن حطان ليسا ممن يحتج بحديثهما، كذا قال، ولم أر له سلفاً في ذكره عن عبد الملك هذا]
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے استیعاب میں عمرو بن میمون اودی کے ترجمہ میں کہا ہے کہ عبدالملک بن مسلم اور عیسیٰ بن حطان دونوں ایسے نہیں کہ ان کی حدیث سے استدلال کیا جائے۔ اسی طرح انھوں نے کہا ہے مگر میں نے عبدالملک رحمہ اللہ کے بارے میں سلف سے ایسی بات نہیں دیکھی۔ (تہذیب:ص425 ج6)
غور فرمائیں یہاں سلف کے مقابلے میں ان کی بات کس تناظر میں سمجھی جائے گی؟
اسی طرح مروان بن محمد بن حسان کے ترجمہ میں ائمہ متقدمین سے ان کی توثیق و توصیف نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
[وضعفه أبو محمد بن حزم فأخطأ لأنا لا نعلم له سلفاً في تضعيفه إلا ابن قانع وقول ابن قانع غير مقنع]
انھیں امام ابن حزم نے ضعیف کہہ کر غلطی کی ہے، کیونکہ اس کی تضعیف میں ابن قانع کے علاوہ ان کا کوئی سلف نہیں، اور ابن قانع کا قول قناعت نہیں کرتا۔(تہذیب:ص96 ج10)
لیجیے یہاں تو صراحت سے ابن حزم کا قول اس لیے غلط قرار دیا ہے کہ اس میں ان کا کوئی سلف نہیں، ابن قانع نے اگرچہ یہی بات کہی ہے مگر وہ اس فن میں اس لائق نہیں کہ اسے معتبر تسلیم کیا جائے۔
اسی طرح علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے ایک حدیث کو ضعیف کہا تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:
[لم أر لابن عبد البر في تضعيفه سلفاً] کہ اس کو ضعیف کہنے میں ان کا کوئی سلف نہیں۔ (تہذیب:ص 345 ج3 ترجمہ زہیر بن عباد)
اور مزید فرمایا کہ: یہ حدیث جمعہ کی فضیلت میں ہے، اسے ابن ماجہ نے ایک اور سند سے روایت کیا ہے اور خود ابن عبد البر رحمہ اللہ نے فرمایا: کہ اس کے متعدد طرق ہیں جن میں بعض، بعض کی تقویت کرتے ہیں۔
ان مقامات پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے الفاظ کہ میں نے اس میں ان کا سلف نہیں دیکھا، یا اس میں ان کا کوئی سلف نہیں، سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس سے ان کا مقصد اس موقف کی تردید ہے، محض اطلاع یا اخبار نہیں، جیسا اہلِ اشراق نے فرمایا ہے۔ رہی یہ بات کہ ہدی الساری میں ہشام کے تغیرِ حفظ کا ذکر خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کیا ہے اس لیے ان کے اس جملہ سے انکار مراد لینا درست نہیں، تو عرض ہے کہ اہلِ اشراق ذرا سنجیدگی سے غور فرمائیں کہ ہشام بن عروہ کے بارے میں جس نوعیت کے تغیر کا ذکر انھوں نے کیا اور اس پر امام یعقوب بن شیبہ کا قول ذکر کیا یہ قول تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تہذیب (ص45 ج11) میں بھی ذکر کیا ہے۔ اگر تغیر کی یہی بنیاد ہے تو پھر تہذیب ہی میں حافظ ابن القطان رحمہ اللہ کےقول پر [لم نره فى ذلك سلفا] کہنے کا کیا جواز باقی رہتا ہے؟
یہی نہیں، بلکہ اسی ہدی الساری میں ہشام کے ترجمہ میں کیا یہ جملہ بھی اہلِ اشراق کی نظر سے نہیں گزرا کہ [وقد احتج بهشام جميع الأئمة] تمام ائمۂ حدیث ہشام کی احادیث سے استدلال پر متفق ہیں۔ آخر مختلط کے بارے میں یہ علی الاطلاق اتفاق چہ معنی دارد؟ یہی نہیں اسی ہدی الساری میں [فصل فى تمييز أسباب الطعن فى المذكورين] کے تحت (ص464) ہشام بن عروہ کا ذکر موجود ہے۔ اور وہ یوں کہ [ذكر بالتدليس أو الإرسال] کہ ہشام پر کلام تدلیس یا ارسال کی بنا پر کیا گیا ہے۔
غور فرمائیے: آخر کیا وجہ ہے کہ ہشام پر اختلاط کا سبب انھوں نے کیوں ذکر نہیں کیا؟ یہ بات بھی اس بات کی مؤید ہے کہ وہ ہشام کو مختلط قرار نہیں دیتے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے [أبو أسامة حماد بن أسامة عن هشام عن عروة عن عائشة رضي الله عنها] کی سند سے ایک روایت (2563) [کتاب المکاتب، باب استعانة المكاتب وسؤاله الناس] میں ذکر کی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کے ایک جملہ پر یہ کہہ کر اعتراض کیا ہے کہ ہشام اس میں منفرد ہیں مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
[وأثبت الرواية آخرون وقالوا هشام ثقة حافظ والحديث متفق على صحته فلا وجه لرده]
دوسرے حضرات نے اس کو ثابت و درست قرار دیا ہے اور انھوں نے فرمایا ہے کہ ہشام ثقہ حافظ ہیں اور حدیث کی صحت پر اتفاق ہے اس لیے اسے رَد کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ (فتح الباری:ص191 ج5)
اندازہ کیجیے یہ سند بھی بعینہ وہی ہے جو غنائے جاریتین کی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ہشام کی تدلیس و ارسال اور اس کے تغیر کا ذکر کر کے امام شافعی کی تائید کر سکتے تھے، مگر انھوں نے ایسا ہرگز نہیں کیا، بلکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس اختلافی قول کو دعویٰٔ اتفاق کے منافی نہیں سمجھا، مگر حدیثِ غنائے جاریتین کی صحت کے بارے میں متقدمین میں سے کسی ایک کا اختلاف بھی مذکور نہیں، البتہ اہلِ اشراق کو اپنی روشن خیالی اور موقف کی مخالفت میں یہ ضعیف نظر آتی ہے، ہشام بھی موردِ الزام ٹھہرے ہیں اور حماد بن اسامہ بھی۔ سبحانك هذا بهتان عظيم
ہشام کے تغیر کے حوالے سے یہ بھی اہلِ اشراق نے فرمایا ہے کہ: امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس بات سے تو اختلاف کیا ہے کہ ہشام کے حافظے میں تغیر اختلاط کے درجے تک پہنچ گیا تھا، تاہم نفسِ تغیر کو انھوں نے بھی تسلیم کیا ہے۔ (بحوالہ میزان، اشراق:ص59)
جنابِ من! وہ نفسِ تغیر کیا اور کیسا ہے جسے حافظ ذہبی نے تسلیم کیا ہے، ان کے الفاظ ہیں:
[نعم الرجل تغير قليلا ولم يبق حفظه كهو في حال الشبيبة فنسى بعض محفوظه أو وهم، فكان ماذا ! أهو معصوم من النسيان]
ہاں، آدمی کو کچھ تغیر لاحق ہو جاتا ہے اور اس کا حفظ و ضبط ویسا نہیں رہتا جیسا عالمِ شباب میں ہوتا ہے تو وہ بعض یادداشت بھول جاتا ہے یا اس کے بارے میں وہم ہو جاتا ہے، پھر کیا ہوا، کیا وہ نسیان سے معصوم ہے؟ (میزان:ص301 ج4)
بڑھاپے میں یہ ’’تغیر‘‘ جو وہم و نسیان کے درجہ میں ہے، اصطلاحی ’’تغیر‘‘ وہ یہاں مراد قطعاً نہیں لے رہے، بلکہ مزید وضاحت سے فرماتے ہیں کہ [ومثل هذا يقع لمالك ولشعبة ولوكيع ولكبار الثقات] یہ صورت امام مالک، امام شعبہ، امام وکیع اور بڑے بڑے ثقات کو بھی پیش آتی ہے۔ (میزان: ص 302 ج 4)
کیا ہم کہیں گے کہ ان حضرات کو بھی ’’تغیر‘‘ کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا؟ اگر نہیں تو ہشام ہی آنکھ کا شہتیر کیوں ہیں؟ کہ ان کے ’’تغیر‘‘ کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ متغیرین و مختلطین کے حوالے سے دو کتابیں معروف ہیں، ایک علامہ ابراہیم الحلبی المتوفی 841ھ کی [الاغتباط بمن رمى بالاختلاط]۔ انھوں نے ہشام بن عروہ کے بارے میں علامہ ابن قطان کا قول نقل کیا، مگر ساتھ ہی حافظ ذہبی کی تردید نقل کر کے معاملہ صاف کر دیا۔ دوسری علامہ ابن الکیال المتوفی (939ھ) کی [الكواكب النيرات]، اس میں انھوں نے ہشام کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا، اس لیے ان کی طرف اصطلاحی تغیر یا اختلاط کا انتساب قطعاً درست نہیں۔
اس آخری دور میں جب وہ تیسری بار کوفہ آئے تو ان سے وکیع، ابن نمیر اور محاضر نے سماع کیا، اور اسی دور میں وہ اپنے والد کی روایت میں تساہل کا شکار رہے۔ امام یعقوب بن شیبہ کے الفاظ ہیں:
[والذى نرى أن هشاماً تسهل لأهل العراق أنه كان لا يحدث عن أبيه إلا بما سمعه منه فكان تسهل أنه أرسل عن أبيه مما كان يسمعه من غير أبيه عن أبيه]
ہماری رائے میں ہشام اہل عراق کو تاثر یہ دیتے تھے کہ وہ اپنے والد سے صرف وہی روایات نقل کرتے ہیں جو انھوں نے ان سے سنی ہیں، اس میں ان کی بے احتیاطی یہ تھی کہ انھوں نے وہ روایات بھی اپنے والد کی نسبت سے نقل کر دیں جو انھوں نے ان سے براہِ راست نہیں، بلکہ بالواسطہ سنی تھیں۔ (تہذیب:ص45 ج11)
یہ ہے وہ اصل صورت امام یعقوب بن شیبہ کی نظر میں، جو ہشام کی عراق جانے کے بعد پیدا ہوئی، اور یہی وہ صورت ہے جو تہذیب میں یوں بیان ہوئی، کہ ہشام کوفہ میں تین بار آئے، پہلی مرتبہ وہ باپ اور ان کے استاد کی روایت میں سماع کی صراحت کرتے تھے۔ دوسری بار آئے تو وہ باپ سے سماع کی صراحت کرتے اور جب تیسری بار آئے تو [ابی عن عائشہ] کہتے، باپ سے سماع کی صراحت نہیں کرتے تھے۔ یہی وہ تیسری نوبت ہے جس کے بارے میں امام یعقوب نے فرمایا: کہ وہ عراق آنے کے بعد تساہل کا شکار ہو گئے کہ باپ سے وہ روایات نقل کر دیں جو انھوں نے براہِ راست نہیں سنی تھیں۔ یعنی ارسال و تدلیس کی یہ صورت تیسری آمد پر تھی۔ پہلی اور دوسری آمد میں وہ اپنے والد عروہ کی روایت میں سماع کی صراحت کرتے تھے۔ اس وضاحت سے اہلِ اشراق کی وہ غلط فہمی بھی دور ہو جاتی ہے کہ وکیع، ابن نمیر اور محاضر کی روایات صرف تغیرِ حفظ کے دور کی ہیں۔ جسے انھوں نے بڑی طول بیانی سے اشراق (ص58-59) میں بیان کیا ہے۔
راقم نے پہلے یہ عرض کیا تھا کہ ہشام کے ارسال کا تعلق دوسری اور تیسری بار سے متعلق ہے، مگر امام یعقوب رحمہ اللہ اور تہذیب کی دوسری عبارت سے تقابل کے بعد یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ صورت تیسری بار سے متعلق ہے پہلی اور دوسری سے نہیں، کیونکہ پہلی اور دوسری آمد میں تو وہ اپنے والد سے سماع کی صراحت کرتے تھے جیسا کہ اس کے الفاظ ہیں: [وقدم الثانية فكان يقول أخبرني أبي] مگر تیسری بار سماع کی وہ صراحت نہیں کرتے تھے۔ اور یہی بات امام یعقوب رحمہ اللہ نے فرمائی ہے کہ: وہ آخر میں اپنے والد سے سماع کی صراحت نہیں کرتے تھے۔ اس لیے یہ صورت آخری بار کے متعلق ہے۔
کیا ہشام بن عروہ مدلس ہیں؟
ہشام کے بارے میں ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ وہ مدلس ہیں۔ ان کے بارے میں ہم نے جو کچھ عرض کیا تھا اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
① صحیحین میں مدلس یا مختلط کی روایت جمہور کے نزدیک درست ہے ان میں تدلیس و اختلاط کا راوی پر الزام محلِ بحث نہیں، الا یہ کہ جہاں دلائلِ قطعیہ سے انقطاع ثابت ہو۔
② ہشام پر تدلیس کا الزام ہی صحیح نہیں جیسا کہ حافظ صلاح الدین کیکلدی اور حافظ العلائی نے فرمایا ہے۔ امام یعقوب کے قول کی بنا پر علامہ ابن العراقی رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مدلس کہا ہے، مگر ان کا یہ استدلال امام مسلم رحمہ اللہ اور دارقطنی رحمہ اللہ کی تصریحات کی روشنی میں درست نہیں۔
③ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اگر مدلس قرار دیا ہے تو اسے پہلے طبقہ کے مدلسین میں شمار کیا ہے، جس کے بارے میں خود انھوں نے وضاحت کی ہے کہ ان کی تدلیس بڑی نادر ہے، بلکہ اکثر نے ارسال سے تجوز کرتے ہوئے انھیں مدلس قرار دیا ہے۔
ہماری یہ گزارشات ’’صحیحین میں مدلسین کی روایات‘‘ کے عنوان سے ہیں جو اسی اشراق صفحہ 28تا33 صفحات پر مشتمل ہیں۔ اب آئیے اہلِ اشراق کے نئے خدشات کا جائزہ لیتے ہیں۔ چنانچہ اب فرمایا گیا ہے کہ راقم نے ’’تازہ مضمون میں سرے سے ہشام کو مدلس تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے۔ مولانا محترم اسے اگر گستاخی نہ سمجھیں تو ہم پلٹ کر ان سے پوچھنا چاہیں گے کہ اگر آپ کے نزدیک ہشام مدلس نہیں ہیں تو اپنے مضمون میں اس کی معنعن روایات کو متصل قرار دینے کے لیے اس غیر متعلق ضابطے کا حوالہ ہی کیوں دیا کہ صحیحین میں مدلسین کا عنعنہ [محمول علی السماع] ہے؟ (اشراق: ص61)
نسیان تو انسان کے خمیر میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ: آدم علیہ السلام کو نسیان ہوا اس کی ذریت بھی اس کا شکار ہوگی۔ (ترمذی: 3076)
اس لیے اہلِ اشراق جمع خاطر رکھیں ایسی بھول چوک پر ان کی تنبیہ پر ہیچ مداں، ان کا شکر گزار ہے۔ مگر انھیں خود انصاف کرنا چاہیے کہ ہشام کو مدلس اور اس کی باپ سے روایت کو غیر متصل بنانے کے لیے معرفۃ العلوم للحاکم (ص104) کے حوالے سے جو کچھ انھوں نے بیان کیا تھا کیا اس کی تردید راقم نے نہیں کی تھی؟ اور امام حاکم نے جس بنیاد پر انھیں مدلسین میں شمار کیا ہے جب پہلے سے ہم نے اس کی تردید کی ہے تو ہشام کو مدلس قرار نہ دینے کی بات نئی اور ’’غیر متعلق‘‘ کیوں کر ہوئی؟ اہلِ اشراق نے بھی ہماری اسی تنقیح پر بالآخر اس کا اعتراف کیا تھا کہ ہشام کا اپنے والد سے سماع نکتۂ اختلاف نہیں رہا، گو انھوں نے اس کا اعتراف جناب افتخار تبسم صاحب کے سمجھانے سے ہی کیا، مگر امام حاکم کا اس حکایت سے ہشام کی تدلیس پر استدلال اور اس پر ہمارا تعاقب تدلیس کا انکار نہیں تو اور کیا ہے؟
دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ کہ ’’امام مسلم رحمہ اللہ اور دارقطنی رحمہ اللہ وغیرہ نے راوی پر طاری ہونے والی وقتی مزاجی کیفیات سے پیدا ہونے والی وصل و ارسال کی جس صورت کا ذکر کیا ہے وہ اپنی جگہ بالکل درست ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جس کی نشان دہی امام یعقوب رحمہ اللہ اور ابن حجر رحمہ اللہ پوری صراحت و وضاحت سے کر رہے ہیں اور امام مسلم رحمہ اللہ کی بیان کردہ صورت سے بالکل مختلف ہے اور اس کو کسی طرح اس پر محمول نہیں کیا جا سکتا، اس طرزِ عمل کو اگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے قول کے مطابق تدلیس کہا جائے تو روایت کے انقطاع کے ساتھ ساتھ خود ہشام کی شخصیت عیب دار ہو جاتی ہے اگر اسے اصطلاحی تدلیس پر محمول نہ کیا جائے تو عادتاً اور معمولاً ارسال کا طریقہ اپنا لینا اس سے بہر حال ثابت ہوتا ہے۔ ملخصاً (اشراق:61-62-63)
اس بحث کے ضمن میں اہلِ اشراق نے طنز و تعریض کے جو نشتر چلائے ان سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہم نے ان کے کلام کا خلاصہ انھی کے الفاظ میں پیش کر دیا ہے۔ امام یعقوب بن شیبہ کا کلام ہم نے اس لیے ذکر نہیں کیا کہ پہلے وہ نقل ہو چکا ہے اور اس کےبارے میں ہم وضاحت بھی کر چکے ہیں۔ رہی یہ بات کہ امام یعقوب بن شیبہ اور امام مسلم کا کلام بالکل مختلف ہے تو:
اولاً: عرض ہے کہ دونوں میں کیا تفاوت ہے؟ بس یہی کہ امام یعقوب رحمہ اللہ نے یہ صورت ہشام کے عراق جانے کے بعد کی ذکر کی کہ تب وہ ایسی روایات جو والد سے براہِ راست نہیں سنی ہوتی تھیں وہ اپنے والد کی نسبت سے بیان کر دیتے تھے۔ جب کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اسی صورت کو مطلق رکھا اور والد کی روایت میں ہی نہیں، بلکہ اوپر کی سند میں بھی ان کے اس طرزِ عمل کا ذکر کیا اور اس کی مثالیں بھی ذکر کیں، انھی میں ایک مثال انھوں نے یہ ذکر کی ہے کہ ایوب سختیانی، ابن مبارک، وکیع، ابن نمیر وغیرہ ایک روایت ہشام عن عروة عن عائشة کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ جب کہ لیث بن سعد، داود العطار، حمید الاسود، وہیب بن خالد اور ابو اسامہ اسے ہشام سے بواسطہ عثمان بن عروہ عن عروة عن عائشة کی سند سے روایت کرتے ہیں۔ غور فرمائیے دونوں اسانید ہشام کے مدنی تلامذہ پر مشتمل نہیں، اہلِ اشراق تو شاید امام یعقوب رحمہ اللہ کے قول کی بنا پر اسے عراقی روایت سمجھ کر اس میں ہشام کا تصرف قرار دیں، بلکہ پہلی سند کو ہشام کی تدلیس کا نتیجہ سمجھیں، مگر امام مسلم رحمہ اللہ اس بنا پر نہ یہ فرق کرتے ہیں نہ ہی ہشام کو مدلس کہتے ہیں، بلکہ اسے وہ ارسال اور ہشام کی طبعی حالت پر محمول کرتے ہیں۔ اہلِ اشراق اپنے جذبات سے ہٹ کر اگر امام مسلم رحمہ اللہ کی دی ہوئی مثالوں پر غور کر لیتے تو شاید ان کے اور امام یعقوب کے موقف میں کوئی جوہری فرق نہ پاتے۔
ثانیاً: امام یعقوب رحمہ اللہ کے بیان سے نتیجہ کیا نکلا؟ یہی جو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: [هذا هو التدليس] جس سے اہلِ اشراق نے اپنے جذبات میں یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ، اس سے ہشام کی شخصیت بھی بطور ایک راوی کے عیب دار ہو جاتی ہے۔ چلے! فرض کرو ہشام اس اعتبار سے ’’عیب دار‘‘ ٹھہرے، مگر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ہی سے یہ بھی تو پوچھیے کہ یہ ’’عیب داری‘‘ کیسی ہے؟ ہم عرض کر چکے ہیں کہ انھوں نے طبقات المدلسین اور النکت میں ہشام کو پہلے طبقہ میں شمار کیا جن کی تدلیس نادر ہوتی ہے اور ان کے ارسال پر تجوزاً تدلیس کا اطلاق کیا گیا ہے، انھوں نے تو فرمایا کہ دوسرے طبقے کے مدلسین کی تدلیس کو ائمہ نے محتمل قرار دیا ہے لہٰذا اس کے بعد پہلے طبقے کے ہشام کی تدلیس کی پوزیشن ہی کیا رہ جاتی ہے، تقریب میں بھی انھوں نے [ربما دلس] ہی کہا، کجا عراق میں ہشام کی یہ ’عادت‘ اور کجا اس کی بنا پر [ربما دلس] کا فیصلہ۔ بلکہ ہدی الساری مقدمہ فتح الباری (ص464) میں بخاری کے راویوں پر اسبابِ طعن ذکر کرتے ہوئے ہشام کا جو عیب ذکر کیا ہے وہ [ذكر بالتدليس أو الإرسال] کہ اس پر تدلیس یا ارسال عیب ہے، یہاں [أو الإرسال] کیا ہوا؟ گویا وہی بات جو النکت میں طبقۂ اولیٰ کے مدلسین کے بارے میں کہی گئی ہے۔ لہٰذا اہلِ اشراق ہشام کو ’عیب دار‘ سمجھتے ہیں تو ہم اس سے انھیں روک نہیں سکتے بلکہ ہم ان کی یہ مجبوری سمجھتے ہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ انھیں ایسا ’عیب دار‘ بہرحال قرار نہیں دیتے۔
ثالثاً: علامہ عبدالرحمن المعلمی رحمہ اللہ نے بھی فرمایا ہے کہ [والتحقيق أنه لم يدلس قط] تحقیق یہی ہے کہ ہشام بالکل مدلس نہیں اور مقدمۂ صحیح مسلم کے حوالے سے بھی انھوں نے وہی بات فرمائی جو ہم نے عرض کی کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے ہشام کو اس اسلوب کے باوجود مدلس قرار نہیں دیا۔ بلکہ انھوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ایسی روایات جن میں ہشام نے ایسا کیا ہے وہ نادر ہیں اور ان میں ان کے اور ان کے والد عروہ کے مابین ان کے بھائی عثمان اور محمد بن عبدالرحمن بن نوفل یتیم عروہ جیسے ثقہ راوی ہی ہیں [لاشک فیہ] جس میں کوئی شک و ریب نہیں۔ (التنکیل:ص503-504 ج2)
لہٰذا جب وہ عثمان ایسے ثقہ راوی کو ہی حذف کرتے ہیں تو انقطاع کے اعتراض میں کوئی وزن نہیں رہتا۔
رابعاً: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ امام یعقوب رحمہ اللہ کے قول کی بنا پر [ربما دلس] کہتے ہیں، اور مدلسین کے پہلے طبقہ میں شمار کرتے ہیں۔ جن کی تدلیس نادر ہوتی ہے یا ان کے ارسال پر تدلیس کا اطلاق ہوتا ہے، تدلیس یا ارسال کی یہ صورت بہرحال نادر تھی، مگر اہلِ اشراق کا فتویٰ ہے کہ ہشام نے یہ طریقہ عادتاً اور معمولاً اپنا لیا تھا۔ کیا کسی بھی محدث نے اسے کثیر الارسال یا کثیر التدلیس قرار دیا ہے؟ انصاف شرط ہے کہ اگر ہشام عادتاً یا معمولاً ارسال کرتے ہوتے تو امام مسلم رحمہ اللہ ان کی اس ’عادت‘ کو طبیعت کے نشاط و انقباض پر محمول کرتے؟ مرسل تو امام مسلم کے نزدیک مردود ہے ان کی اس ’عادت‘ کا یوں دفاع چہ معنی دارد؟ ہماری اس وضاحت سے اہلِ اشراق کے ایراداتِ باردہ کی حقیقت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے اور ثابت ہو جاتا ہے کہ ہشام نہ مدلس ہیں اور نہ ہی ان کی کثیر روایۃ مشائخ سے معنعن احادیث محدثین کے ہاں منقطع ہیں۔ ان میں عدمِ اتصال کا شبہ اہلِ اشراق کا پیدا کردہ ہے محدثینِ کرام کا نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ الصحاح میں ان کی معنعن روایات قبول کرتے ہیں۔
اسحاق بن راشد کی زیادت
غنائے جاریتین کی حدیث کو امام زہری بھی عروہ سے بیان کرتے ہیں اور امام زہری کے تلامذہ میں صرف اسحاق بن راشد ہیں جو اس روایت میں [فسبهما وخرق دفيهما] کے الفاظ ذکر کرتے ہیں، لیکن یہ الفاظ محلِ نظر ہیں، کیونکہ اسحاق بن راشد کی امام زہری سے روایات میں کلام ہے، حتیٰ کہ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ [ليس هو في الزهرى بذاک اور امام محمد بن یحییٰ الذہلی] جن کا امام زہری رحمہ اللہ کی روایات میں اختصاص محدثین کے ہاں معروف ہے، فرماتے ہیں: [هو مضطرب الحديث فى حديث الزهرى] امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی اس کی زہری سے روایات کو قوی قرار نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس کی کوئی روایت ایسی نہیں لی جس میں وہ زہری رحمہ اللہ سے روایت کرنے میں منفرد ہوں، بلکہ مقروناً ہی روایت لی ہے۔ ثقہ راوی جب ایسے راوی سے روایت کرے، جس سے روایت کرنے میں محدثین نے اس پر کلام کیا ہو اور وہ اس روایت میں یا کوئی زیادت ذکر کرنے میں منفرد ہو تو اس کا تفرد قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ اہلِ اشراق نے ہماری انھی گزارشات پر روایتی انداز سے جو تبصرہ کیا اس سے قطع نظر جو کچھ انھوں نے فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ: اسحاق کی بعض دیگر روایات میں وہم کے پائے جانے سے یہ کیسے لازم آیا کہ زیرِ بحث زیادت میں بھی وہ وہم کا شکار ہوا ہے؟ ہم نے گزارش کی تھی کہ اس کے لیے واحد قرینہ یہ ہے کہ اس روایت کو نقل کرنے والے زہری کے دیگر تمام تلامذہ اس جملے کو نقل نہیں کرتے، ہمارے نزدیک اسی اصول کا اطلاق ہشام کے شاگردوں میں سے ابو اسامہ کی بیان کردہ زیادت [وليستا بمغنيتين] پر بھی ہونا چاہیے۔ (اشراق:ص56-57)
اہلِ اشراق کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ انصاف سے فرمائیں کہ اسحاق عن الزهرى کی جو پوزیشن محدثینِ کرام کے ہاں ہے کیا وہی پوزیشن ’’ابو اسامہ عن ہشام‘‘ کی ہے؟ عرض ہے کہ قطعاً نہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اگر وہ اپنے مخصوص زاویۂ فکر کے تحفظ سے گریز کرتے ہوئے انصاف کریں گے تو وہ بھی یہی فیصلہ دیں گے کہ دونوں کی پوزیشن یکساں نہیں۔ ’’ابو اسامہ عن ہشام‘‘ کی سند بالاتفاق حجت ہے، بلکہ ابو اسامہ کی ہشام سے منفرد روایات کو بھی محدثین نے صحیح اور درست قرار دیا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں ہم باحوالہ اس پر بحث کر چکے ہیں، مگر اسحاق کی امام زہری سے روایت ہی میں محدثین نے کلام کیا ہے اور اس کی ایسی منفرد روایت کو امام بخاری نے تو قبول ہی نہیں کیا، اس لیے دونوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھ کر اسحاق عن الزہری کے تفرد کے تناظر میں ابو اسامہ عن ہشام کے تفرد پر اعتراض بے انصافی پر مبنی نہیں تو اور کیا ہے؟ بلکہ یہ اسلوبِ تحقیق خوئے بدرا بہانۂ بسیار کا مصداق ہے۔
گانے والیاں کون تھیں؟
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس غنائے جاریتین کی روایت میں ایک محلِ بحث بات یہ بھی تھی کہ [جاریتین] کا لفظ کس مفہوم میں وارد ہوا ہے۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ حافظ ابن جوزی، حافظ ابن تیمیہ، علامہ نووی، حافظ ابن قیم وغیرہ رحمہم اللہ اس سے مراد چھوٹی بچیاں لیتے ہیں، جب کہ اہل اشراق کا اصرار ہے کہ اس سے مراد ’’لونڈیاں‘‘ ہیں، ’’لونڈیاں‘‘ ہی نہیں، بلکہ وہ تو انھیں ’’پیشہ ور مغنیہ‘‘ اور ’’ماہرِ فن مغنیات‘‘ قرار دیتے ہیں، اور اس حدیث پر ’’عید پر موسیقی‘‘ کا عنوان قائم کر کے ’’موسیقی‘‘ کے جواز کا فتویٰ دیتے ہیں، اور اسے ’’مباحاتِ فطرت‘‘ میں شمار کرتے ہیں۔ یہ ساری تفصیل پہلے قارئینِ کرام کے علم میں آ چکی ہے۔
جاریتین سے لونڈیاں مراد لینے کی تائید میں پہلے یہ فرمایا گیا کہ ’’صحیح بخاری کے شارح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کا مفہوم لونڈیاں مراد لیا ہے۔‘‘ ہم نے عرض کیا کہ وہ تو لونڈیاں سمجھتے ہوئے بھی انھیں پیشہ ور مغنیہ قرار نہیں دیتے۔ تازہ ارشاد ہوتا ہے کہ، ان لونڈیوں کو پیشہ ور مغنیہ قرار دینے کی بات ہم نے ہرگز ابن حجر رحمہ اللہ کی طرف منسوب نہیں کی۔ (اشراق:ص65)
جنابِ من! دو ٹوک الفاظ سے اگر نہیں کہا تو آپ کے اس ارشاد کا کیا مفہوم و مقصد ہے کہ پیشہ کے طور پر گانا گانے کا احتمال چھوٹی بچیوں کے بارے میں نہیں، بلکہ لونڈیوں ہی کے بارے میں پیدا ہو سکتا ہے۔ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے غالباً انھی قرائن کی بنا پر ان کو لونڈیوں کے معنی میں لیا ہے۔بات تو صاف ہے کہ جب آپ ’پیشہ کے طور پر گانا گانے‘ کا تعلق لونڈیوں ہی سے تسلیم کرتے ہیں تو وہ لونڈیاں پیشہ ور مغنیہ کیوں نہ ہوئیں؟ ’پیشہ کے طور پر گانا گانے‘ اور ’پیشہ ور مغنیہ‘ کے مابین فرق کیا ہے؟ انھیں گانے والی ’لونڈیاں‘ تو تسلیم کیا جائے، مگر ان کے ’پیشہ ور مغنیہ‘ ہونے کا انکار کیا جائے، عجیب تضاد فکری یا پریشان خیالی ہے۔
چلیے ہم فرض کرتے ہیں کہ اہل اشراق نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی طرف ان لونڈیوں کے ’پیشہ ور مغنیہ‘ ہونے کا انتساب نہیں کیا، مگر انھوں نے لونڈیوں کے پیشہ ور ہونے کی جو نفی کی اس کا مفہوم کیا ہے۔ تازہ ارشاد اس حوالے سے یہ ہوا کہ ان کی نفی یہ ہے کہ: ’کوئی عورت مغنیات کے معروف طریقے کے مطابق لے، سُر اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ اور بے ہودہ اشعار کے ذریعے سے ہیجان خیزی اور شوق انگیزی کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرے، وہ اس بات کی نفی نہیں کرتے یہ دونوں لونڈیاں باقاعدہ اور معمولاً گانے والی تھیں۔ (اشراق:ص66)
چلیے ہم فرض کر لیتے ہیں وہ ’لونڈیاں باقاعدہ گانے والی‘ تھیں، مگر ’مغنیات کے معروف طریقے لے، سُر اور آواز کے اتار چڑھاؤ‘ کے ساتھ گانے والی نہ تھیں۔ مگر پلٹ کر پہلے یہ دیکھیے کہ پہلے اسے ان لونڈیوں کے ’غنا‘ سے استدلال کیا تھا۔ پہلے تو اس حدیث پر ’عید پر موسیقی‘ کا عنوان قائم کیا گیا۔ بتلایا جائے کہ موسیقی، معمول کے گانے کو کہتے ہیں یا باقاعدہ فن اور ترکیب کے ساتھ لے، سُر اور آواز کے اتار چڑھاؤ کو کہتے ہیں؟
اسی ضمن میں فرمایا گیا کہ گانے والیاں جو ماہر فن مغنیات تھیں۔ نیز یہ بھی کہ ’لازم ہے کہ اس سے لونڈیاں ہی مراد لیا جائے اور لونڈیاں بھی وہ جو ماہر فن مغنیات کی حیثیت سے معروف تھیں۔ (اشراق:ص20 مارچ2004ء)
یہی بات اشراق (ص28 مارچ2006ء) میں دہرائی گئی اور اس موقف کا بھرپور دفاع کیا گیا۔ ہم نے عرض کیا تھا کہ انھوں نے سادہ آواز سے اشعار پڑھے تھے، اس پر بڑے غیظ و غضب سے فرمایا گیا کہ تغنیان کے معنی یہ کرنا کہ ’وہ سادہ آواز سے اشعار پڑھ رہی تھیں‘ کس بنا پر کیا گیا ہے؟ کسی رائج لفظ کے مفہوم، اطلاق اور مصداق میں تصرف اور اسے نئے معنی پہنانے کا اختیار ہمیں یا آپ کو کس نے دیا ہے؟ (اشراق:ص39 مارچ2006ء)
جب اہلِ اشراق لونڈیوں کے اس گانے کو ’موسیقی‘ کے جواز کی دلیل بتاتے ہیں اور سادہ آواز سے نہیں، بلکہ ’ماہرِ فن مغنیات‘ کی طرح گا، گا کر اشعار پڑھنے سے تعبیر کرتے ہیں، تو پھر ہماری اس تعبیر سے اب انکار کیوں ہے کہ اہلِ اشراق کا ’اپنے چبائے ہوئے نوالوں کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے منہ میں دینا کوئی دانشمندی نہیں۔ (الاعتصام و اشراق:ص43 جون2007ء)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جاریتان کا مفہوم لونڈیاں لیں اور انھیں پیشہ ور مغنیہ قرار نہ دیں مگر اہلِ اشراق انھیں پیشہ ور مغنیہ سمجھیں اور لونڈیاں ہونے پر اصرار حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے قول سے کریں، اس کے ساتھ اب یہ فرمائیں کہ ’ان لونڈیوں کو پیشہ ور مغنیہ قرار دینے کی بات ہم نے ہرگز ابن حجر رحمہ اللہ کی طرف منسوب نہیں کی‘ بتلائیے اس ہوشیاری کو ہم کیا نام دیں!
لیکن اگر انھوں نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی دونوں باتوں کو تسلیم کر لیا ہے تو یہ تبدیلی خوش آئند ہے۔ اس سے ’’عید پر موسیقی‘‘ اور ’’ماہرِ فن مغنیات‘‘ کے مظاہرے پر جواز کا استدلال ہباءً منثوراً ہو کر رہ جاتا ہے۔
رہی یہ بات کہ [وليستا بمغنيتين] کے قائل کا منشا ان لونڈیوں کے پیشہ ور مغنیہ ہونے کے احتمال کی نفی ہے اور یہ احتمال چھوٹی بچیوں کے بارے میں پیدا نہیں ہوتا۔ پیشہ ور مغنیہ کا احتمال بالغ لڑکیوں، خواہ وہ آزاد ہوں یا لونڈیاں، کے بارے میں پیدا ہونا زیادہ قرینِ قیاس ہے اور اس کی نفی کر رہا ہے۔ (اشراق:ص66)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ جاریتین سے موسیقی کے جواز پر استدلال ہے یا ’تغنیان‘ سے؟ ظاہر ہے کہ غنا کے جواز کی بنیاد ان کا گانا ہے محض ’’جواری‘‘ ہونا نہیں، اگر وہ ’’جواری‘‘ بچیاں تھیں تو کیا غنا کے جواز کا استدلال ختم ہو جاتا ہے؟ اور کیا دس بارہ سال کی بچیاں یہ شغل اختیار نہیں کر سکتیں؟ بچوں کے اس شغل کا مظاہرہ کیا آج بھی میڈیا پر موجود نہیں؟ لہٰذا جب بنائے استدلال غنا ہے تو راوی نے اس کی نفی کی ہے کہ وہ ماہر فن مغنیہ کے گیت نہ تھے۔ بتلائیے اس پر اشکال کیا ہے؟
پھر یہ بات تو عجیب ہے کہ ’’پیشہ ور مغنیہ ہونے کا احتمال بالغ لڑکیوں، خواہ وہ آزاد ہوں یا لونڈیاں، کے بارے میں پیدا ہونا زیادہ قرین قیاس ہے‘‘ اب یہاں ان پیشہ ور مغنیہ کے بارے میں ’’بالغ آزاد لڑکیوں‘‘ کا احتمال کہاں سے آ گیا۔ اب تک وہ لکھتے رہے ہیں کہ ’’عرب معاشرت میں لونڈیاں ہی اس فن کو بطور ایک پیشے کے اختیار کیا کرتی تھیں۔‘‘ (اشراق:ص36 ستمبر2006ء)
اس لیے یہاں ’’آزاد بالغ لڑکیوں‘‘ کا احتمال بہرحال درست نہیں، یہ طریقہ بچیوں یا لونڈیوں ہی کا تھا جیسا کہ پہلے ہم اس سلسلۂ مضامین میں وضاحت کر چکے ہیں۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ جاریتین کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جو فرمایا: کہ اس سے مراد لونڈیاں ہیں، انھوں نے ان لونڈیوں کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک ان میں حمامہ تھی اور الاصابہ میں انھوں نے اس کا ذکر حمامہ المغنیہ کے لقب سے کیا ہے۔ جب کہ دوسری کا نام زینب تھا جیسا کہ المحاملی سے انھوں نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے، اور انھی کے حوالے سے اشراق (ص66) میں ان ناموں سے ان کے لونڈیاں ہونے کے ثبوت میں ذکر ہے۔
عرض ہے، پہلی روایت پر تبصرہ پہلے ہم ایک مضمون میں کر چکے ہیں، اہل اشراق کی اس پر خاموشی بظاہر اس کو تسلیم کر لینے کی دلیل ہے، اگر وہ مزید اس پر اپنے زاویۂ فکر سے گفتگو کرتے تو ہمارے لیے بھی کچھ مزید عرض کرنے کی تقریب ہو جاتی۔
رہی زینب کے بارے میں روایت تو اس کی سند خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے الاصابہ میں زینب الانصاریہ کے ترجمہ میں ذکر کی ہے۔ مگر وہ سند ہی قابل اعتبار نہیں، اس کا ایک راوی صفوان بن ہبیرہ ہے جسے خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لین الحدیث قرار دیا ہے۔ (تقریب:ص153) اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں لا یعرف کہا ہے۔ (المغنی:ص309 ج1)، اور میزان (ص316 ج2) میں اس کی حدیث کو منکر قرار دیا ہے۔
ایک دوسرا راوی ابو الاصبغ ہے جس کا ذکر امام بخاری نے الکنی (ص5) میں کیا اور انھی کے حوالے سے بعد کے حضرات نے بھی اس کا ذکر کیا ہے، مگر کسی نے اس کی توثیق نہیں کی، اس نے یہ روایت ’’جمیلہ‘‘ سے لی ہے اور اس کا تذکرہ بھی کہیں نہیں ملتا۔ اب انصاف فرمائیں، جس کا ایک راوی کمزور یا مجہول، دوسرا اور تیسرا بھی غیر معروف ہو ایسی روایت سے استدلال کہاں تک درست ہے!
اس لیے جب یہ بنیاد ہی درست نہیں تو اس پر اعتماد بھی درست نہیں، اس سلسلے کی باقی روایات پر ہم پہلے بھی نقد کر چکے ہیں جس کے بارے میں اہل اشراق نے خاموشی ہی مناسب سمجھی ہے۔ اس لیے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ہوں یا علامہ کشمیری، انھوں نے اگر مراد لونڈیاں لی ہیں تو اس کی کوئی مضبوط اور قابل اعتماد بنیاد نہیں، اس لیے ہم یہی عرض کریں گے کہ ثبت العرش ثم انقش۔
یہاں آخر میں ہم اہل اشراق کے ایک معتمد خاص جناب محمد رفیع مفتی صاحب کا حوالہ پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں اور یہ محض اس لیے کہ
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
چنانچہ موصوف نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کا ترجمہ یوں کیا ہے:
جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان دف بجانے والی بچیوں کو منع کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو انھیں منع کرنے سے روک دیا۔ (تصویر کا مسئلہ: ص83 مطبوعہ المورد)
لہٰذا اگر ’’دل‘‘ کی یہ بات منہ سے نکل ہی گئی ہے تو شهد شاهد من أهلها کے مطابق اسے قبول کر لینے میں کوئی حجاب مانع نہیں ہونا چاہیے۔
اسی کے ساتھ ہم اپنی معروضات ختم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں اسی صراطِ مستقیم پر قائم رکھے جس پر انبیائے کرام، صدیقین، شہداء اور سلف صالحین تھے۔ آمین۔
خادم العلم والعلماء
ارشاد الحق اثری عفی عنہ