غسل خانے میں گفتگو کرنا

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال : کیا غسل خانے میں دوران غسل کوئی ضرورت کی بات کی جا سکتی ہے ؟ بعض لوگ بات کرنے کو سخت ناپسند کرتے ہیں، وضاحت کریں۔
جواب : بوقت ضرورت بیت الخلاء میں اگر کوئی بات کر لی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں حدیث ہے :
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل فرما رہے تھے تو آپ کے ہاں ام ہانی رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون ؟“ تو انہوں نے جواب میں کہا: ’’ میں ام ہانی ہوں۔ “ [بخاري، كتاب الغسل : باب التستر فى الغسل عندالناس : 280 ]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص ضرورت کے تحت بات کرے تو کوئی حرج نہیں۔ بلاوجہ گفتگو سے بچنا چاہیے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

غسل خانے میں گفتگو کرنا