عیسائیوں کے شرکیہ عقائد قرآن کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

عیسائیوں کے شرکیہ عقائد

ان آیات میں اللہ نے وضاحت سے بیان کیا کہ سیدنا مسیح علیہ السلام اگرچہ رسول تھے لیکن اس کے باوجود اللہ کے بندے تھے۔ جس نے مسیح علیہ السلام کی عبادت کی، اس نے ایسے شخص کی عبادت کی جو نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ ارشادِ الہی ہے:
لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ ‎﴿٧٢﴾‏ لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّا إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ‎﴿٧٣﴾‏ أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ‎﴿٧٤﴾‏ مَّا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ الطَّعَامَ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الْآيَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ‎﴿٧٥﴾‏ قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۚ وَاللَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ‎﴿٧٦﴾‏
”یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے! حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے ایک ہے، حالانکہ ایک اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اس کو دردناک سزا دی جائے گی۔ پھر کیا یہ اللہ سے توبہ کیوں نہیں کرتے اور اس سے معافی کیوں نہیں مانگتے، اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا۔ اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے، اس کی ماں ایک راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جاتے ہیں؟ ان سے کہو کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے۔“
(5-المائدة:72-76)