عن عبد الله بن عمرو بن العاص أنه قال وقف رسول الله فى حجة الوداع بمنى للناس فجاءوا يسألونه فجاءه رجل فقال يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح فقال اذبح ولا حرج فجاء رجل آخر فقال يا رسول الله لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي فقال له ارم ولا حرج قال فما سئل رسول الله عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں لوگوں کے لئے کھڑے ہوئے تو لوگ آپ کے پاس مسائل پوچھنے آئے۔ ایک آدمی نے آکر کہا: یا رسول اللہ! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے قربانی ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی ذبح کرلے اور کوئی حرج نہیں ہے۔“ پھر دوسرا آدمی آیا اور کہا: یا رسول اللہ! مجھے پتا نہیں تھا، میں نے جمرات کو کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی ذبح کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنکریاں مارلے اور کوئی حرج نہیں ہے۔“ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا کہ: ”کر لو اور کوئی حرج نہیں ہے۔“
تحقيق :
صحيح صرح ابن شهاب بالسماع عند البخاری (1738)
تخريج :
متفق عليه
الموطا ( روایت یکی 421 1970 20 23281) (التمہید 94/7 وقال : لهذا حديث صحيح الاستند کار : 911 وأخرجه البخاری (1736،83) ومسلم (1306) من حدیث مالک به.
تفقہ :
➊ اگر لاعلمی کی وجہ سے کنکریاں مارنے یا قربانی کرنے میں کوئی تقدیم و تاخیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اور کوئی دم (بکری ذبیح کرنا) واجب نہیں ہے۔
➋ علم ہونے کے بعد اگر کوئی لازمی عمل ترک ہو گیا تو دم دینا پڑے گا۔
❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے:
من نسي من نسكه شيئا أو تركه فليهرق دما
”جو شخص اپنے حج و عمرہ سے کوئی لازمی عمل بھول جائے یا ترک کر دے تو اس شخص پر دم ہے یعنی اسے بکری ذبح کر کے مساکین حرم میں تقسیم کرنی پڑے گی۔“
(السنن الکبری للبیہقی: 5/ 30 وسنده صحیح، الموطا امام مالک: 419 ح 968 وسنده صحیح)
➌ ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی حاجی قربانی والے دن (10 ذوالحجہ) شام سے پہلے طواف نہ کر سکے تو اس پر احرام کی ساری پابندیاں دوبارہ لوٹ آئیں گی یعنی اسے طواف زیارت تک دوبارہ احرام باندھنا پڑے گا۔
دیکھئے سنن ابی داود (1999) سندہ حسن و صححہ ابن خزیمہ (2958)
➍ حج و عمرے کے تفصیلی مسائل کے لئے میری (مترجم و محقق) کتاب ”حاجی کے شب و روز“ دیکھیں۔ (موطا روایۃ ابن القاسم ص 148-149)