نفع و نقصان کا مالک صرف ایک اللہ
یہ سب اس لیے کہ زمین و آسمان میں کوئی مخلوق کسی مخلوق کے نفع و نقصان کی مالک نہیں، ارشادِ الہی ہے:
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ﴿٥٦﴾ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا ﴿٥٧﴾
”ان سے کہو پکار دیکھو ان معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو۔ وہ کسی تکلیف کو تم سے ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں، جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق۔“
(17-الإسراء:56-57)
سلف امت کی ایک جماعت جن میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس آیت سے وہ لوگ مراد ہیں جو ملائکہ اور انبیاء کی عبادت کیا کرتے تھے، جیسے سیدنا مسیح اور عزیر کے پجاری۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”کچھ لوگ جنوں کی پوجا کیا کرتے تھے، جن تو مسلمان ہو گئے لیکن یہ لوگ اپنے شرک پر ہی مصر رہے۔“
(صحیح بخاری، کتاب التفسیر: سورة بني إسرائیل، باب قل ادعوا الذين زعمتم من دونه، حدیث: 4714 ، صحیح مسلم، کتاب التفسیر: باب في قوله تعالى أولئك الذين يدعون يبتغون، حدیث: 3030)
مندرجہ بالا آیت ہر اس شخص پر صادق آتی ہے جو ملائکہ، انسانوں یا جنوں میں سے کسی کو پکارے، خواہ وہ جن یا انسان اللہ کے ہاں صالح اور مقرب ہی کیوں نہ ہو۔ ارشادِ الہی ہے:
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا ﴿٥٦﴾ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ۚ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًا ﴿٥٧﴾
”ان سے کہو پکار دیکھو ان معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اس سے قریب تر ہو جائے اور اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق ہے۔“
(17-الإسراء:56-57)
ابن عطیہ رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ ان کے معبود بذاتِ خود قربِ الہی کے متلاشی رہتے تھے۔ حقیقتِ حال یہی ہے۔ رب کی ضمیر قربِ الہی کے متلاشیوں یا سب کی طرف راجع ہے۔ وسیلہ اس سبب کو کہا جاتا ہے جو منزلِ مقصود تک پہنچانے میں مدد دے۔ توسل مقصود و مطلوب کی طلب کا نام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد اسی معنی پر دلالت کناں ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
من سال لي الوسيله
(صحیح مسلم، کتاب الصلاة: باب استحباب القول مثل قول المؤذن، حدیث: 384)
بعض مفسرین نے درجِ ذیل بحث بھی کی ہے کہ:
ایہم مبتدا، اقرب خبر ہے۔ ان سے مراد معبودانِ باطلہ ہیں۔ يدعون کی ضمیر کفار اور يتبغون کی ضمیر معبودانِ باطلہ کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ ان کی نظر اور ان کا مرکز یہ ہے کہ ان میں سے کون اللہ کے قریب زیادہ ہے۔
غزوہ خیبر کے بارے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
فبات الناس يدوكون ليلتهم أيهم يعطاها
”لوگ رات بھر اس پر غور کرتے رہے کہ وہ کون خوش نصیب ہوگا جسے صبح جھنڈا عطا کیا جائے گا۔“
(صحیح بخاری، کتاب المغازي: باب غزوة خيبر، حدیث: 4210 صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة: باب من فضائل علي بن أبي طالب، حدیث: 2406)
گویا مذکورہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ طلبِ قرب میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ابن عطیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زجاج نے دونوں ہی مقام پر ٹھوکر کھائی ہے کیونکہ اس نے آیت (ايهم اقرب) میں دو قول نقل کیے ہیں جو غلط ہیں۔ ابن جوزی نے بھی زجاج ہی کی بات نقل کی ہے اور مہدوی اور بغوی وغیرہ نے بھی ان کی اتباع کی ہے۔
ابن عطیہ رحمہ اللہ ان سب سے زیادہ عربی لغت اور معانی کے ماہر تھے، اس بارے میں ابن عطیہ رحمہ اللہ نے سیبویہ اور بصریوں کا مسلک بھی نقل کیا ہے جس سے زجاج کی ٹھوکر واضح ہو جاتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ زجاج عربی کا ماہر اور اسے بیان و معانی میں یدِ طولیٰ حاصل تھا اور اس میں بھی کوئی شک شبہ نہیں کہ اکثر امور میں زجاج، مہدوی اور بغوی وغیرہ ابن عطیہ پر فوقیت رکھتے ہیں، لیکن عربی نقطہ نگاہ سے الفاظ کی دلالت میں ابن عطیہ ان پر فائق اور زیادہ باخبر تھا۔