عید الاضحیٰ کی تکبیرات کے اوقات، عورتوں کا حکم اور صحیح الفاظ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

تکبیرات کے اوقات

تکبیرات کہنے کے مخصوص اوقات نہیں ہیں بلکہ ان دنوں تمام اوقات میں تکبیرات کا اہتمام مستحب عمل ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
كان عمر رضى الله عنه يكبر فى قبته بمنى فيسمعه أهل المسجد فيكبرون ويكبر أهل الأسواق حتى ترتج منى تكبيرا
”عمر رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمے میں تکبیرات کہتے اور ان کی تکبیرات سن کر اہل مسجد اور بازار میں موجود لوگ تکبیرات کہتے حتیٰ کہ منیٰ تکبیر کی آواز سے گونج اٹھتا۔“
وكان ابن عمر يكبر بمنى تلك الأيام وخلف الصلوات وعلى فراشه وفي فسطاطه ومجلسه وممشاه وتلك الأيام جميعا
”ابن عمر رضی اللہ عنہ منیٰ کے دنوں میں، نمازوں کے بعد، اپنے بستر پر، اپنے خیمے میں، اپنی مجلس میں اور چلتے پھرتے ان تمام دنوں میں تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
وكان النساء يكبرن خلف أبان بن عثمان وعمر بن عبد العزيز ليالي التشريق مع الرجال فى المسجد
”اور عورتیں تشریق کی راتوں میں ابان بن عثمان اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پیچھے مردوں کے ساتھ مسجد میں تکبیرات کہتی تھیں۔“
صحيح بخاری کتاب العيدين، باب التكبير ايام منى و إذا غدا إلى العرفة ۔

فوائد:

① حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”امام بخاری رحمہ اللہ نے اس موقف کو اختیار کیا ہے کہ تکبیرات کے دنوں میں تمام اوقات میں سبھی افراد (مرد و زن اور مقیم و مسافر) کے لیے تکبیرات کہنا مشروع ہیں اور مذکورہ بالا آثار اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔“
فتح البارى : 595/2.
② امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”راجح مسئلہ یہ ہے کہ محض نمازوں کے بعد مخصوص اوقات میں تکبیرات کہنا مستحب نہیں بلکہ تکبیرات کے تمام دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے اور اوپر بیان کردہ آثار اس کی دلیل ہیں۔“
نيل الأوطار: 334/3.
③ ایام تشریق میں تکبیرات کے مخصوص اوقات نہیں ہیں بلکہ ان دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے۔
فقه السنه : 307/1.
نیز جس روایت میں فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کہنے کی تخصیص ہے، وہ روایت ضعیف ہے، جو سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر فى صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق حين يسلم من المكتوبات
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک (اس وقت) فرض نمازوں سے سلام پھیرتے وقت تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
دار قطنی : 49/2 : 1717 – نصب الراية : 406/3۔ إسناده ضعيف جداً۔
عمرو بن شمر متروک اور جابر بن یزید بن حارث جعفی ضعیف اور کذاب راوی ہے۔

عورتیں بھی تکبیرات کہیں گی:

جس طرح عیدین میں مردوں کو تکبیرات کہنے کا حکم ہے، عورتیں بھی اس حکم میں شامل ہیں اور عورتوں کے لیے بھی تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے۔ اس کے مزید دلائل حسب ذیل ہیں:
① صحیح بخاری میں ترجمۃ الباب میں مذکور ہے:
وكان النساء يكبرن خلف أبان بن عثمان وعمر بن عبد العزيز ليالي التشريق مع الرجال فى المسجد
”اور عورتیں تشریق کی راتوں میں ابان بن عثمان اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پیچھے مسجد میں مردوں کے ساتھ تکبیرات کہتی تھیں۔“
تاہم عورتوں کے تکبیرات کہنے کی مشروعیت کے بارے میں علماء کی مختلف آراء ہیں:
① مالک اور شافعی کا مذہب ہے کہ ایام تشریق میں نمازوں کے بعد عورتوں پر تکبیرات کہنا لازم ہے۔
② ابو حنیفہ کہتے ہیں: ایام تشریق میں عورتیں تکبیرات نہیں کہیں گی۔
③ ابو یوسف اور محمد کا موقف ہے کہ عورتوں کے لیے تکبیرات ایسے ہی مشروع ہیں جیسے مردوں کے لیے تکبیرات مشروع ہیں۔
شرح ابن بطال:192/4۔
④ سفیان ثوری کی رائے ہے کہ عورتیں نماز باجماعت ادا کرنے کی صورت میں تکبیرات کہیں گی، امام احمد رحمہ اللہ نے بھی اسی قول کو احسن کہا ہے۔
⑤ البتہ امام احمد رحمہ اللہ سے ایک دوسرا قول منقول ہے کہ عورتیں تکبیرات نہ کہیں، کیونکہ تکبیر ایسا ذکر ہے جس میں آواز بلند کرنا مشروع ہے اور اذان کی تکبیرات میں آواز بلند کرنا عورت کے لیے جائز نہیں۔
المغنى مع الشرح الكبير : 248/2.
اس مسئلہ میں راجح موقف یہ ہے کہ بلا تعیین و تخصیص عورتیں بھی تکبیرات کے دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہہ سکتی ہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
”تکبیرات کے اوقات (اور تکبیرات کون کہے)، اس بارے میں کافی اختلاف ہے:
① بعض علماء نے تکبیرات کا وقت نماز کے بعد مخصوص کیا۔
② کچھ علماء نے نوافل کے بجائے فرض نمازوں کے بعد کا وقت تکبیرات کے لیے خاص کیا۔
③ بعض علماء نے تکبیرات کو عورتوں کے بجائے مردوں کے ساتھ خاص کیا ہے۔
④ کچھ نے منفرد کے بجائے نماز باجماعت کی تخصیص کی ہے۔
⑤ بعض نے قضا نماز کو چھوڑ کر ادا نماز کی شرط عائد کی ہے۔
کچھ علماء نے مسافر کے سوا مقیم کی قید لگائی ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلہ کو اختیار کیا ہے کہ تکبیرات کہنا (تمام اوقات اور) تمام افراد (مرد، عورت، مقیم و مسافر سبھی کے لیے) مشروع و جائز ہے اور ترجمۃ الباب میں منقول آثار اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔“
فتح البارى : 595/2.

حائضہ عورتیں بھی تکبیرات کہیں گی!

عیدین میں حائضہ عورتوں کو بھی تلقین ہے کہ وہ تکبیرات کا اہتمام کریں۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كنا نؤمر أن نخرج يوم العيد حتى نخرج البكر من خدرها حتى نخرج الحيض فيكن خلف الناس فيكبرن بتكبيرهم ويدعون بدعائهم يرجون بركة ذلك اليوم وطهرته
”ہمیں عید کے دن (عید گاہ میں) پہنچنے کا حکم دیا جاتا تھا، حتیٰ کہ (ہمیں حکم ہوتا کہ) ہم دوشیزہ کو اس کی خلوت گاہ سے اور حائضہ عورتوں کو بھی نکالیں اور وہ (حائضہ عورتیں) لوگوں کے پیچھے رہیں اور ان کی تکبیرات کے ساتھ تکبیرات کہیں، ان کی دعاؤں کے ساتھ دعا کریں اور وہ اس دن کی برکت اور گناہوں سے پاکی کی امید رکھیں۔“
صحيح بخاری، کتاب العيدين، باب التكبير ايام مني و إذا غدا إلى عرفة : 971.

تنبیہ:

① ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
وينبغي لهن أن يخفضن أصواتهن حتى لا يسمعهن الرجال
”عورتوں کے لیے مناسب ہے کہ وہ پست آواز میں تکبیرات کہیں حتیٰ کہ مرد ان کی آواز نہ سن سکیں۔“
المغنى لابن قدامه مع الشرح الكبير : 248/2.
② ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
”جب عورتیں باجماعت نماز ادا کریں تو وہ بھی مردوں کے ساتھ تکبیرات کہیں، اس میں کوئی اختلاف نہیں:
ولكن المرأة تخفض صوتها بالتكبير
لیکن تکبیرات کہتے وقت عورت اپنی آواز پست رکھے۔“
فتح الباری لابن رجب : 58/7.

تکبیرات کے الفاظ:

یاد رکھیے! تکبیرات کے متعلق الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں بلکہ اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب آئندہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الصبح من غداة عرفة يقبل على أصحابه فيقول: على مكانكم، ويقول: الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کی صبح جب نماز فجر ادا کرتے تو اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر کہتے، اپنی جگہوں پر برقرار رہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات: اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد کہتے تھے۔“
دار قطني : 50/2 – أرواء الغليل : 47/3 إسناد ضعيف جدا۔ عمرو بن شمر متروک اور جابر بن یزید بن حارث جعفی ضعیف اور کذاب راوی ہے۔
البتہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بسند صحیح تکبیرات کے الفاظ منقول ہیں۔
① ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:
كان سلمان يعلمنا التكبير يقول: كبروا الله، الله أكبر، الله أكبر مرارا، اللهم أنت أعلى وأجل من أن تكون لك صاحبة أو يكون لك ولد أو يكون لك شريك فى الملك أو يكون لك ولي من الذل وكبره تكبيرا، الله أكبر تكبيرا، اللهم اغفر لنا، اللهم ارحمنا
”سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہمیں تکبیرات کے الفاظ کی تعلیم دیتے تھے، وہ کہتے تم اللہ کی کبریائی بیان کرو (یعنی) بار بار اللہ اکبر کہو، (پھر یہ کلمات کہو):
اللهم أنت أعلى وأجل من أن تكون لك صاحبة أو يكون لك ولي من الذل وكبره تكبيرا، الله أكبر تكبيرا، اللهم اغفر لنا، اللهم ارحمنا
اے اللہ تو اس سے بالا و برتر ہے کہ تیری بیوی ہو، یا تیری اولاد ہو، یا بادشاہت میں تیرا کوئی شریک ہو، یا کمزوری میں تیرا کوئی مددگار ہو، اور اس کی خوب بڑائی بیان کرو، اللہ واقعی سب سے بڑا ہے، اسے خوب بڑائی کے ساتھ بیان کرو، اے اللہ ہمیں بخش دے، اے اللہ ہم پر رحم فرما۔“
صحيح : مصنف عبدالرزاق: 290/11 : 20581، بیهقی: 316/3۔
حافظ ابن حجر نے اس اثر کو باعتبار سند صحیح ترین قرار دیا ہے ۔
فتح الباری: 595/2.