طلاق کا تصور: اسلام، یہودیت اور مسیحیت کا تقابلی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

صرف ایسی صورت میں طلاق جائز ہو جاتی ہے

ان تمام صورتوں اور تمام کوششوں کے ناکام ہو جانے کے بعد شوہر کے لیے جائز ہو جاتا ہے کہ وہ بہ تقاضائے ضرورت آخری چارہ کار تلاش کرے، جسے اسلام نے مشروع قرار دیا ہے تا کہ مشکلات کا حل نکل آئے اور یہ آخری چارہ کار طلاق ہے۔ اسلام نے اس طریقہ کو اختیار کرنے کی اجازت بہ کراہت دی ہے۔ اسے نہ مندوب قرار دیا ہے اور نہ مستحب، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
أبغض الحلال إلى الله الطلاق
”اللہ نے طلاق سے زیادہ کسی نا پسندیدہ چیز کو حلال نہیں قرار دیا۔“
ابو داود کتاب الطلاق باب في كراهية الطلاق ح 2178 ابن ماجه کتاب الطلاق باب ح : 2018
نیز فرمایا :
ما أحل الله شيئا أبغض إليه من الطلاق
”اللہ نے طلاق سے زیادہ کسی نا پسندیدہ چیز کو حلال نہیں قرار دیا۔“
ابو داود كتاب الطلاق باب في كراهية الطلاق ح : 2177
اور طلاق کا حلال مگر نا پسندیدہ ہونا ، اس بات سے ظاہر ہے کہ طلاق ایک رخصت ہے جسے ضرورتہً جائز قرار دیا گیا ہے۔ اسے ایسی صورت میں اختیار کیا جا سکتا ہے جبکہ گھریلو زندگی متاثر ہو جائے اور زوجین کے دلوں میں نفرت بیٹھ جائے اور وہ اس قابل نہ رہیں کہ حدود اللہ پر قائم رہ سکیں اور حقوق زوجیت ادا کر سکیں۔ بقول کسے جب وفاق کی کوئی صورت نہ رہی تو فراق سہی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ
”اگر دونوں جدا ہو جائیں گے تو اللہ ان میں سے ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے نیاز کر دے گا۔“
سورہ النساء : 130

اسلام سے قبل طلاق کا طریقہ

طلاق کو اسلام ہی نے تنہا جائز نہیں قرار دیا ہے بلکہ اسلام سے پہلے پوری دنیا میں طلاق کا طریقہ رائج تھا، بجز ایک دو قوموں کے۔ مرد جب عورت پر غصہ ہو جاتا کسی معقول وجہ سے یا ناحق تو اسے اس کے مکان سے باہر نکال دیتا اور عورت اپنی مدافعت میں کچھ نہ کر سکتی۔ نہ اس سے اس کا کوئی معاوضہ لے سکتی تھی اور نہ اس کو اور کسی قسم کا حق حاصل تھا۔
جس زمانہ میں یونانیوں نے شہرت حاصل کی اور ان کی تہذیب کا ڈنکا بج رہا تھا اس وقت ان میں بھی طلاق کسی قید اور شرط کے بغیر رائج تھی۔
اور رومیوں کے نزدیک طلاق نکاح کے وجود میں آنے ہی سے معتبر سمجھی جاتی تھی یہاں تک کہ اگر زوجین عدم طلاق کی شرط لگاتے تو منصف نکاح کے باطل ہونے کا فیصلہ دے دیتا۔
رومیوں کے قدیم قبائل کے نزدیک مذہبی نکاح کی صورت میں طلاق حرام ہو جاتی تھی، البتہ شوہر کو اپنی بیوی پر لامحدود اختیارات حاصل ہو جاتے تھے یہاں تک کہ بعض حالات میں بیوی کو قتل کرنا بھی اس کے لیے روا ہو جاتا۔ بعد میں ان کے مذہب نے طلاق کو اسی طرح مباح قرار دیا جس طرح کہ شہری قانون کی رو سے مباح تھی۔

یہودی مذہب میں طلاق

جہاں تک یہودی مذہب کا تعلق ہے اس نے بیوی کی حالت کو بہتر بنانے کا سامان کیا لیکن طلاق کو جائز قرار دے کر اس کے جواز میں بڑی وسعت پیدا کر دی۔ شوہر بیوی پر فسق کا جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں شرعاً طلاق دینے کے لیے مجبور تھا، یہاں تک کہ اگر شوہر اس کے جرم کو معاف کر دیتا تب بھی اس کے لیے طلاق دینا ضروری تھا، نیز قانون کی رو سے بھی اگر دس سال گزر جانے کے باوجود عورت کے اولاد نہیں ہوئی ہے تو طلاق دینا ضروری تھا۔
الاسلام دین عام خالد از فرید وجدی ص : 172

مسیحی مذہب میں طلاق

مسیحی مذہب طلاق کے معاملہ میں بالکل منفرد ہے۔ اس نے یہودی مذہب کی مخالفت کی اور انجیل نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے طلاق کو حرام قرار دیا۔ نیز طلاق دینے والے مرد اور مطلقہ عورت کا نکاح حرام ٹھہرایا۔ متی کی انجیل میں ہے :
”یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑے اسے طلاق نامہ لکھ دے لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے وہ اس سے زنا کراتا ہے۔ اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے۔“
اور مرقس کی انجیل میں ہے :
جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے وہ اس پہلی کے برخلاف زنا کرتا ہے۔ اور اگر عورت اپنے شوہر کو چھوڑ دے اور دوسرے سے بیاہ کرے تو زنا کرتی ہے۔
مرقس : 10-11-12
انجیل میں اس تحریم کی علت یہ بیان کی گئی ہے :
”جسے خدا نے جوڑا ہے اسے آدمی جدا نہ کرے۔“
متی 19 : 6
یہ جملہ معناً اپنی جگہ بالکل صحیح ہے لیکن اسے طلاق کی حرمت کے لیے علت قرار دینا قابل تعجب ہے۔ اللہ کی طرف سے زوجین کے جوڑے جانے کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ اس نے نکاح کی اجازت دی ہے اور اسے مشروع ٹھہرایا ہے۔ اب اگر اس نے کچھ ضرورتوں کی بنا پر طلاق کی اجازت دے دی تو یہ تفریق بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوئی اگر چہ انسان نے تفریق کا یہ کام انجام دیا ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ جسے اللہ نے جوڑا ہے اسے جدا کرنے والا انسان نہیں ہے بلکہ اللہ ہی ہے۔ کیا زنا کی صورت میں دونوں کو جدا کرنے والا اللہ نہیں ہے؟ اسی طرح زنا کے علاوہ تفریق کے اور اسباب بھی ہو سکتے ہیں؟

طلاق کے مسئلہ میں مسیحی مذہب کا اختلاف

اگر چہ انجیل نے زنا کی صورت میں طلاق کو حرمت سے مستثنیٰ کر دیا ہے لیکن کیتھولک مذہب نے اس استثناء کی تاویل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ در حقیقت یہاں کوئی استثناء ہے ہی نہیں اور نہ طلاق دینے کی کوئی گنجائش ہے۔ طلاق کا تو مسیحی مذہب میں وجود ہی نہیں ہے۔ رہی زنا کی علت تو وہ فی نفسہ عقد کو فسخ کرنے والی ہے اس لیے زنا کی صورت میں مرد کے لیے نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے کہ عورت کو چھوڑ دے۔
اس کے برعکس پروٹسٹنٹ مذہب کے پیرو کار طلاق کو مخصوص صورتوں میں، مثلاً بیوی کے زنا کرنے یا شوہر کی خیانت وغیرہ کرنے کی صورت میں جائز قرار دیتے ہیں۔ انجیل متی کے بیان پر یہ اضافہ ہے جو انہوں نے کیا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں طلاق دینے والے مرد اور مطلقہ عورت دونوں کا بعد میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونا حرام ٹھہرایا ہے۔
رہے آرتھوڈوکس (Orthodox) مذہب کے پیرو کار تو مصر میں ان کی مذہبی مجالس نے بیوی کے زنا کے ارتکاب اور چند دیگر اسباب کی بنا پر طلاق کو جائز قرار دیا ہے۔ ان اسباب میں سے تین سال تک بیوی کا بانجھ رہنا، متعدی امراض اور جھگڑوں کا طویل سلسلہ جس میں صلح کی طرف سے نا امیدی، جیسے اسباب شامل ہیں۔ لیکن یہ اسباب انجیل پر اضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مذہب کے محافظ دوسروں سے ان اسباب کی بنا پر طلاق کا جواز منوا نہیں سکے ہیں۔ اور اسی بنا پر مصر کی مسیحی عدالت نے ایک مسیحی عورت کا دعویٰ جس کے ذریعہ اس نے اپنے تنگدست شوہر سے طلاق طلب کی تھی، مسترد کرتے ہوئے یہ ریمارک دیا ہے کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ دین کے بعض علمبرداروں اور اس مجلس کے ممبروں نے ایسے اسباب کی بنا پر طلاق کو جائز قرار دیا ہے جس کی کوئی سند انجیل میں موجود نہیں ہے۔

طلاق کے معاملہ میں مسیحیت کی ان پابندیوں کا نتیجہ

ان پابندیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحیت کے پیروکار اپنے دین سے سرکشی کر بیٹھے اور انجیل کی ہدایت سے اس طرح نکل گئے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے اور جس کو اللہ نے جوڑا تھا اس کو جدا کر کے رہے۔ چنانچہ مسیحی مغرب نے ایسے شہری قوانین بنائے کہ ان کا اس قید دوام سے نکلنا جائز ہو گیا، اور امریکہ وغیرہ بہت سے ممالک نے تو طلاق کے جواز کے معاملہ میں بالکل چھوٹ دے دی۔ گویا کہ وہ انجیل کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معمولی اسباب کی بنا پر لوگ طلاق کا ہتھیار استعمال کرنے لگے۔ اور جب اس انتہا پسندی کے نتیجہ میں ازدواجی زندگی اور خاندانی نظام میں انتشار پیدا ہوا تو ان کے عقلاء و زعماء کے نزدیک قابل شکایت قرار پایا۔ یہاں تک کہ معاملات طلاق کا ایک مشہور جج یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ عنقریب ان کے ملک سے ازدواجی زندگی ختم ہو جائے گی اور عورت مرد کے درمیان اباحیت اور انارکی کی صورت میں تعلقات قائم ہوں گے۔ اور ازدواجی زندگی کی حیثیت آج تجارتی کمپنی کی ہے جس کے دونوں حصے دار معمولی اسباب کی بنا پر معاہدہ کو توڑ دیتے ہیں۔ یہ صورت حال تمام مذاہب کی ہدایت کے خلاف ہے۔

طلاق کے معاملہ میں مسیحیت کا منفرد رویہ

دین کی تعلیمات سے ہٹ کر عائلی قوانین کو شہری قوانین کے مطابق ڈھالنے کی مثال غالباً مغربی مسیحیت کے سوا کہیں نہیں ملے گی۔ اہل مذاہب اپنی عائلی زندگی کو مذہبی تعلیم کے تابع رکھتے ہیں، لیکن اہل مسیحیت ہی ایک ایسی قوم ہے کہ جس نے اس سلسلہ میں اپنے دین سے انحراف کیا اور خاص طور سے طلاق کے معاملہ میں، کیونکہ ان کا اپنا احساس یہ تھا کہ اس کی تعلیمات طلاق کے معاملہ میں خلاف حیات ہیں۔ انسانی مزاج اس سے نا آشنا ہے اور انسانی زندگی پر اس کا انطباق درست نہیں۔
حقوق الانسان فی الاسلام از ڈاکٹر علی عبد الواحد وافی ص : 88

مسیحیت وقتی علاج تھا ، نہ کہ شریعت عامہ

طلاق کے معاملہ میں انجیل میں جو کچھ مذکور ہے اگر وہ صحیح ہو اور بالفرض قرون اولیٰ میں اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کیا گیا تھا، تب بھی یہ بات واضح ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے پیش نظر دوامی اور عمومی شریعت بنانا نہ تھا جو تمام انسانوں کے لیے ہو۔ آپ کا مقصد تو یہ تھا کہ یہود نے اللہ کی بخشی ہوئی رخصتوں کے معاملہ میں جو حد سے تجاوز کیا ہے اور انہوں نے طلاق کے معاملہ میں جو غلو کیا ہے اس کی مخالفت کی جائے۔ انجیل متی میں ہے کہ جب فریسیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کا امتحان لینا چاہا تو آپ سے پوچھا :
کیا ہر ایک سبب سے اپنی بیوی کو چھوڑ دینا روا ہے؟ اس نے جواب میں کہا : کیا تم نے نہیں پڑھا کہ جس نے انہیں بنایا اس نے ابتدا ہی سے انہیں مرد اور عورت بنا کر کہا کہ اس سبب سے مرد باپ اور ماں سے جدا ہو کر اپنی بیوی کے ساتھ رہے گا اور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے۔ پس وہ دو نہیں بلکہ ایک جسم ہیں، اس لیے جسے خدا نے جوڑا ہے اسے آدمی جدا نہ کرے۔ انہوں نے اس سے کہا : پھر موسیٰ علیہ السلام نے کیوں حکم دیا ہے کہ طلاق نامہ دے کر چھوڑ دی جائے؟ اس نے ان سے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام نے تمہاری سخت دلی کے سبب سے تم کو اپنی بیویوں کو چھوڑ دینے کی اجازت دی مگر ابتدا سے ایسا نہ تھا۔ اور میں تم سے کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرامکاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے اور کوئی چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ بھی زنا کرتا ہے۔
متی 19 : 1 تا 10
یہ بات معقول نہیں ہے کہ سیدنا مسیح علیہ السلام طلاق کے اس حکم کو دائمی شریعت کی حیثیت دینا چاہتے تھے کیونکہ آپ کے حواری اور مخلص تلامذہ نے خود اس حکم کو بوجھل قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا : اگر مرد کا بیوی کے ساتھ ایسا ہی حال ہے تو بیاہ کرنا ہی اچھا نہیں۔
متی 19 : 10
کیونکہ ایسی صورت میں نکاح کرنے کا مطلب اپنی گردن میں ایسا طوق ڈال دینا ہے جس سے چھٹکارا کسی طرح ممکن نہیں، خواہ مرد کا دل بیوی کی طرف سے کتنا ہی متنفر ہو اور وہ اس سے کتنا ہی کبیدہ خاطر ہو اور خواہ دونوں کے مزاج اور رجحانات میں کتنا ہی اختلاف ہو۔