اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کرنے کی فضیلت
؎ رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفه ره گیا تلقین غزالی نہ رہی
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک محب سیدنا ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ان کی زبانی ہی بیان فرمایا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاجت اور وضو کے لیے پانی لے کر حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
سل فقلت: أسألك مرافقتك فى الجنة. قال: أو غير ذلك؟ قلت: هو ذاك قال: فأعني على نفسك بكثرة السجود
”کچھ مانگنا ہے تو مانگو،“ میں نے عرض کیا کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔ فرمایا: ”اس کے علاوہ؟“ میں نے عرض کیا: بس یہی ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ ”کثرت سجود سے اپنے نفس پر میری مدد کرو۔“
صحيح مسلم، کتاب الصلاة، رقم: 1093 .
دیکھیے! محبت صادق کو فرمائش کا موقع میسر آیا تو بلا تردد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت کا سوال کیا، دوسرے موقع پر پھر اسی فرمائش کو دہرایا۔ اور ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جو لوگ صبح و شام رضائے الہی کے متلاشی رہتے ہیں، ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اپنے آپ کو روکے رکھیں، چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾
”اور اپنے آپ کو انہی لوگوں کے ساتھ رکھا کریں جو اپنے پروردگار کو صبح و شام پکارتے ہیں اور اسی کی رضا کے متلاشی ہیں۔“
(18-الكهف:28)
رضائے الہی کی خاطر کیا گیا کام انسان کو بڑی بڑی مشکلات سے نجات دلوا دیتا ہے، چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ:
انطلق ثلاثة رهط ممن كان قبلكم حتى أوو المبيت إلى غار فدخلوه ، فانحدرت صخرة من الجبل فسدت عليها الغار ، فقالوا: إنه لا ينجيكم من هذه الصخرة إلا أن تدعوا الله بصالح أعمالكم ، قال رجل منهم : اللهم كان لي أبوان شيخان كبيران ، وكنت لا أغبق قبلهما أهلا ولا مالا . فنأى بي فى طلب شي يوما فلم أرح عليهما حتى ناما فحلبت لهما غبوقهما ، فوجدتهما نائمين ، فكرهت أن أغبق قبلهما أهلا أو مالا ، فلبثت والقدح على يدي أنتظر استيقاظهما حتى برق الفجر فاستيقظا فشربا غبوقهما ، اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك ففرج عنا ما نحن فيه من هذه الصخرة ، فانفرجت شيئا لا يستطيعون الخروج ، قال النبيﷺ : قال الآخر: اللهم كانت لي بنت عم كانت أحب : الناس إلى فأردتها على نفسها، فامتنعت مني حتى ألمت بها سنة من السنين فجائتني فأعطيتها عشرين ومائة دينار على أن تخلي بيني وبين نفسها ففعلت ، حتى إذا قدرت عليها . :قالت: لا أحل لك أن تفض الخاتم إلا بحقه ، فتحرجت من الوقوع عليها فانصرفت عنها وهى أحب الناس إلى وتركت الذهب الذى أعطيتها ، اللهم إن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فأفرج عنا ما نحن فيه ، فانفرجت الصخرة غير أنهم لا يستطيعون الخروج منها وقال النبيﷺ: قال الثالث: اللهم استأجرت أجراء فأعطيتهم أجرهم غير رجل واحد ترك الذى له وذهب فتمرت أجره حتى كثرت منه الأموال فجاء ني بعد حين فقال: يا عبد الله ، أذ إلى أجري ، فقلت له: كل ما ترى من أجرك من الإبل والبقر والغنم والرقيق . فقال: يا عبد الله لا تستهزى ء بي فقلت: لا أستهزى ء بك، ! فأخذه كله فاستاقه فلم يترك منه شيئا، اللهم فإن كنت فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا مانحن فيه ، فانفرجت الصخرة فخرجوا يمشون
”تم سے پہلی امتوں میں سے تین شخص تھے جو ایک ساتھ سفر پر نکلے، حتی کہ رات ہو گئی، چنانچہ رات گزارنے کے لیے وہ ایک غار میں داخل ہو گئے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد پہاڑ سے ایک بڑا سا پتھر لڑھک کر نیچے آیا جس نے غار کے دھانے کو بند کر دیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا، ان کی سمجھ میں یہی بات آئی کہ اس ابتلاء سے نجات کی یہی صورت ہے کہ تم اپنے اعمال صالحہ کے واسطے سے اللہ سے دعا کرو۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اپنے عمل کے واسطے سے دعائیں کیں۔ ان میں سے ایک نے کہا: یا اللہ! تو جانتا ہے، میرے بوڑھے ماں باپ تھے اور شام کو میں سب سے پہلے انہی کو دودھ پلاتا تھا، ان سے پہلے میں نہ تو اہل و عیال کو دودھ پلاتا اور نہ خادموں کو۔ چنانچہ ایک دن درختوں کی تلاش میں میں دور نکل گیا اور جب واپس لوٹ کر آیا، میں نے شام کا دودھ دوہا اور ان کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ سوئے ہوئے ہیں، میں نے ان کو جگانا بھی پسند نہیں کیا اور ان سے قبل اپنے اہل و عیال اور غلاموں کو دودھ پلانا بھی گوارا نہیں کیا۔ میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں پکڑے، ان کے سرہانے کھڑا، ان کے جاگنے کا انتظار کرتا رہا، حتی کہ صبح ہو گئی اور وہ بیدار ہوئے، میں نے انہیں ان کے شام کے حصے کا دودھ پلایا اور انہوں نے پی لیا۔ یا اللہ! اگر یہ کام میں نے صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا، تو ہم اس چٹان کی وجہ سے، جس نے غار کا منہ بند کر دیا ہے، جس مصیبت میں پھنس گئے ہیں، اس سے ہمیں نجات عطا فرما دے۔“ اس دعا کے نتیجے میں وہ چٹان تھوڑی سی سرک گئی، لیکن ابھی اس سے باہر نکلنا ممکن نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوسرے شخص نے دعا کی، یا اللہ! میری چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔( ایک مرتبہ )میں نے اس سے اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کا ارادہ کیا، لیکن وہ آمادہ نہیں ہوئی اور اس نے انکار کر دیا، حتی کہ ایک وقت آیا کہ قحط سالی نے اسے میرے پاس آنے پر مجبور کر دیا، میں نے اسے اس شرط پر ایک سو بیس دینار دیے کہ وہ میرے ساتھ خلوت اختیار کرے، چنانچہ وہ آمادہ ہو گئی۔ جب میں اس پر قادر ہو گیا، تو اس نے کہا میں آپ کے لیے اس مہر کو بغیر حق کے توڑنے کی اجازت نہیں دیتی، پس میں نے اس پر واقع ہونے کو برا جانا اور میں نے اسے چھوڑ دیا، حالانکہ وہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجھے پیاری تھی اور میں نے سونے کے وہ دینار بھی چھوڑ دیے جو میں نے اسے دیے تھے۔ یا اللہ! اگر میں نے یہ کام تیری رضا کے لیے کیا تھا تو یہ نازل شدہ مصیبت ہم سے دور فرمادے! چنانچہ وہ چٹان کچھ اور سرک گئی، لیکن باہر نکلنے کا راستہ اب بھی نہیں بنا۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیسرے نے دعا کی۔ یا اللہ! میں نے کچھ مزدوروں کو اجرت پر رکھا تھا، سب کو میں نے ان کی اجرت عطا کر دی، صرف ایک مزدور اپنی مزدوری لیے بغیر چلا گیا تھا۔ میں نے اس کی مزدوری کی رقم کو کاروبار میں لگا دیا، حتی کہ اس سے بہت سا مال بن گیا۔ کچھ عرصے کے بعد وہ ایک دن آیا اور آ کر کہا اللہ کے بندے! مجھے میری اجرت ادا کر دے۔ میں نے کہا ”یہ اونٹ، گائے، بکریاں اور غلام جو تجھے نظر آ رہے ہیں، یہ سب تیری اجرت کا ثمر ہے۔“ اس نے کہا اللہ کے بندے! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا ”میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا۔“ چنانچہ وہ سارا مال لے گیا، اس میں سے اس نے کچھ نہ چھوڑا۔ یا اللہ! اگر میں نے یہ کام صرف تیری رضا کی خاطر کیا ہے تو یہ مصیبت جس میں ہم پھنسے ہوئے ہیں، دور کر دے! پس وہ چٹان بالکل سرک گئی اور غار کا منہ کھل گیا اور وہ باہر نکل آئے۔“
صحیح بخاری، كتاب الإجارة، رقم: 2272 ـ صحیح مسلم، کتاب الرقاق، باب قصة أصحاب الغار الثلاثة، رقم: 6949
اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہرلمحہ اور ہر لحظہ جیسا کہ ابھی گذرا ہے کہ رضائے الہی کی تلاش میں رہتے تھے۔ ہر عمل صالح اللہ کو راضی کرنے کے لیے کرتے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی علامات بیان کرتے ہوئے ایک علامت اور نشانی یہ بھی بیان فرمائی کہ:
﴿يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا﴾
یہ لوگ اللہ کی رضا اور اس کے فضل کی جستجو میں رہتے ہیں۔“
(48-الفتح:29)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاہنے والوں میں سے سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی سیرت پڑھیے اور سنیے گا، وہ فرماتے ہیں کہ:
ها جرنا مع النبى صلى الله عليه وسلم نلتمس وجه الله فوقع أجرنا على الله ، فمنا من مات ولم يأكل من أجره شيئا ، منهم مصعب بن عمير رضي الله عنه ، ومنا من أينعت له ثمرته فهو يهدبها ، قتل يوم أحد ، فلم نجد له ما نكفنه به إلا بردة إذا غطينا بها رأسه، خرجت رجلاه، وإذا غطينا رجليه ، خرج رأسه، فأمرنا النبى صلى الله عليه وسلم أن نغطي رأسه، ونجعل على رجليه من الإذخر
”ہم نے اللہ کی رضا کی تلاش کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا اجر اللہ پر ثابت ہو گیا۔ پس ہم میں سے بعض وہ ہیں جو فوت ہو گئے اور اپنے اجر میں سے کوئی حصہ (مال غنیمت وغیرہ کی صورت میں) انہوں نے نہیں کھایا۔ اور بعض ہم میں سے وہ ہیں جن کے پھل پک گئے ہیں اور وہ اسے چن رہے ہیں۔ ان میں سے ایک سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں جو جنگ احد میں شہید ہوئے۔ انہوں نے ایک کمبل اپنے پیچھے چھوڑا تھا، جب ہم اس کے ساتھ ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پیر ننگے ہو جاتے اور جب پیر ڈھانپتے تو سر کھل جاتا۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔“
صحيح بخاري، كتاب الجنائز، باب إذا لم يحد كفنا إلا ما يواري رأسه أو قدميه غطي رأسه، رقم: 1276 – صحیح مسلم کتاب الجنائز، باب كفن الميت، رقم: 2177.
یہ اس لیے کہ رضائے الہی کی خاطر کیا جانے والا عمل جنت میں بلندی درجات کا باعث ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
إن العبد ليتكلم بالكلمة من رضوان الله لا يلقي لها بالا يرفعه الله بها درجات ، وإن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالا يهوي بها فى جهنم
”بندہ اللہ کی رضا مندی کی بات کرتا ہے، اس کی طرف اس کی توجہ بھی نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے۔ اور بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں ہوتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الرقاق، باب حفظ اللسان، رقم: 6478.
ہمارے لیے اُسوہ حسنہ رسول مکرم، آقائے دو جہاں، والی بطحا علیہ الصلوۃ و السلام کی ذات گرامی ہے، دیکھیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے اللہ کو راضی کرنے میں منہمک ہیں۔ حالانکہ آپ کا رب تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر راضی تھا، (در حقیقت اس میں ہمارے لیے درس ہے۔)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے بستر پر گم پایا، چنانچہ میں آپ کو تلاش کرنے لگی کہ اچانک میرے ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوؤں پر جا پڑے، آپ حالت سجدہ میں تھے، آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے:
اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك، وبمعافاتك من عقوبتك، وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك، أنت كما أثنيت على نفسك .
”اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے سے تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کے ذریعے سے تیری سزا سے اور تیری ذات کے ذریعے سے تیرے قہر و غضب سے پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے، جیسے تو نے خود اپنی تعریف بیان کی ہے۔“
صحيح مسلم، کتاب الصلاة، باب مايقال في الركوع والسجود، رقم: 1090.
جو شخص رضائے الہی کی خاطر کسی کی ملاقات اور زیارت کے لیے جاتا ہے، تو اس کا مہمان نواز خود اللہ تعالی بن جاتا ہے، اور اس کی مہمان نوازی جنت کی صورت میں کرتا ہے، چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ما من عبد أتى أخا له يزوره فى الله إلا نادى مناد من السماء: أن طبت وطابت لك الجنة، وإلا قال الله فى ملكوت عرشه: عبدي زار في، وعلى قراه، فلم أرض له بقرى دون الجنة .
”جو کوئی بندہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے بھائی کے پاس اس کی زیارت کی غرض سے آتا ہے تو آسمان سے منادی اعلان کرتا ہے کہ تو خوش ہو جا، تیرے لیے جنت عمدہ و اچھی ہو چکی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے عرش کی بادشاہت میں فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے میری رضا کے لیے زیارت کی، مجھ پر اس کی مہمان نوازی لازم ہے، لہذا میں نے اس کے لیے مہمان نوازی کے طور پر صرف جنت کو ہی پسند کیا ہے۔“
صحيح الترغيب والترهيب، رقم: 2579 ـ السلسلة الصحيحة، رقم: 2632 .
امام ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رضائے الہی کی خاطر محبت کرنے کی علامت اور نشانی یہ ہے کہ انسان اپنے بھائی کی رضا کی تلاش میں رہے، اور اس کا خیال رکھے۔“
سير أعلام النبلاء: 391/1.
اور حذیفہ بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی شخص کے متعلق مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ وہ مجھ سے رضائے الہی کی خاطر دشمنی اور بغض رکھتا ہے تو میں اپنے آپ پر رضائے الہی کی خاطر اس کی محبت حاصل کرنا لازم کر لوں۔
سير أعلام النبلاء: 283/9.