مضمون کے اہم نکات
عقیقہ کا حکم
عقیقہ واجب، سنتِ مؤکدہ یا مکروہ عمل ہے، اس بارے میں علماء کے مختلف مذاہب ہیں۔ ذیل میں ہم ان مذاہب اور ہر مذہب کے دلائل، پھر راجح مذہب کی نشاندہی کریں گے:
مذہبِ اول:
حسن بصری، داؤد ظاہری اور ظاہریہ کا مذہب ہے کہ عقیقہ واجب ہے۔
نيل الأوطار: 140/5. المغنى مع الشرح الكبير: 121/11۔
وجوبِ عقیقہ کے قائلین کے دلائل حسبِ ذیل احادیث ہیں۔
① سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل غلام رهينة بعقيقته، تذبح عنه يوم سابعه، ويحلق، ويسمى
”ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے (عقیقہ) ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔“
صحيح بخارى، كتاب العقيقة، باب اماطة الأذى عن الصبی في العقيقة: 5472۔ سنن أبي داود، كتاب الضحايا، باب في العقيقة: 2838۔ جامع ترمذی، کتاب الأضاحي، باب من العقيقة: 1522۔ سنن نسائی، كتاب العقيقة، باب متى يعق: 4235۔ سنن ابن ماجه، كتاب الذبائح، باب العقيقة: 3165۔ مسند أحمد: 7/5، 12
خطابی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”اس حدیث کے مفہوم کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، چنانچہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس حدیث کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں کہ جس بچے کا عقیقہ نہ ہو اور وہ بچپن میں فوت ہو جائے تو وہ روزِ قیامت اپنے والدین کی شفاعت نہیں کرے گا اور دوسرے قول کے مطابق اس سے مقصود یہ ہے کہ عقیقہ بہرصورت لازم ہے اور نومولود کے لیے عقیقہ ایسے لازم ہے، جیسے مرتہن (قرض کے عوض گروی رکھنے والا) کے ہاتھ میں گروی چیز لازم ہوتی ہے (یعنی جیسے گروی چیز حاصل کرنے کے لیے قرض خواہ کو قرض لوٹانا لازم ہے، اسی طرح نومولود کے لیے عقیقہ لازم ہے) اور یہ قولِ ثانی عقیقہ کے وجوب کے قائلین کے موقف کو قوت دیتا ہے۔“
نيل الأوطار: 141/5۔ عون المعبود: 42/8۔
② سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مع الغلام عقيقة، فأهريقوا عنه دما، وأميطوا عنه الأذى
”ہر بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، سو اس کی طرف سے خون بہاؤ (عقیقہ کرو) اور اس سے میل کچیل دور کرو (یعنی سر کے بال مونڈ دو)۔“
صحيح بخارى، كتاب العقيقة، باب اماطة الأذى عن الصبي في العقيقة : 5472۔ سنن أبي داؤد، كتاب الضحايا، باب في العقيقة: 2839۔ جامع ترمذی، کتاب الأضاحي، باب الأذان في أذن المولود: 1515۔ سنن ابن ماجه، كتاب الذبائح، باب العقيقة: 3164۔ مسند أحمد: 314/4۔ صحيح ابن خزيمه: 2067۔
③ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نعق عن الغلام شاتين، وعن الجارية شاة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کریں۔“
حسن: جامع ترمذى، كتاب الأضاحي، باب ما جاء في العقيقة: 1513۔ سنن ابن ماجه، كتاب الذبائح، باب العقيقة: 3163۔ مسند أحمد: 31/6۔ مسند أبو یعلى: 4648۔ (عبد اللہ بن عثمان عظیم صدوق اور باقی تمام راوی ثقہ ہیں)
احادیثِ الباب دلیل ہیں کہ نومولود کی طرف سے عقیقہ واجب ہے، کیونکہ عقیقہ کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، نیز ”رهينة“ (بچہ عقیقہ کے عوض گروی ہے) کے الفاظ نص ہیں کہ عقیقہ واجب ہے اور اسے کسی بھی صورت استحباب پر محمول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جیسے گروی چیز کو قرض ادا کیے بغیر حاصل کرنا ناممکن ہے، اسی طرح نومولود کی پیدائش کے شکریہ کی ادائیگی کے لیے عقیقہ لازم و واجب ہے۔
مذہبِ ثانی:
جمہور علماء کا موقف ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔
نيل الأوطار: 140/5۔
① ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
والعقيقة سنة فى قول عامة أهل العلم: منهم ابن عباس، وابن عمر، وعائشة، وفقهاء التابعين، وأئمة أهل الأمصار
”اکثر اہل علم مثلاً ابن عباس رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ، عائشہ رضی اللہ عنہا، فقہائے تابعین رحمہم اللہ اور ائمہ کا قول ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔“
المغنى مع الشرح الكبير: 120/11۔
② حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کا بیان ہے:
فأما أهل الحديث قاطبة وفقهاؤهم وجمهور أهل السنة فقالوا: هي من سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم
”جمیع محدثین و فقہاء اور جمہور اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ (عقیقہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“
تحفة المودود بأحكام المولود، ص: 28۔
ان علماء کے موقف کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سئل النبى صلى الله عليه وسلم عن العقيقة، فقال: لا يحب الله العقوق، كأنه كره الاسم، وقال: من ولد له ولد، فأحب أن ينسك عنه فلينسك
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لفظ عقوق کو ناپسند کرتا ہے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام (عقیقہ) ناپسند کیا۔ پھر فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے نسیکہ (جانور ذبح) کرنا چاہے تو نسیکہ کرے۔“
حسن : سنن أبي داود : 28442۔ سنن نسائی : 4217۔ مسند أحمد : 182/2۔ مستدرك حاكم : 238/4۔
فوائد:
① شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: حدیث میں ”من أحب“ کے الفاظ میں عقیقہ میں اختیار دینا وجوب کو ختم کرتا ہے اور اس کو استحباب پر محمول کرنے کا متقاضی ہے۔
نيل الأوطار : 44/5۔
② حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں ”من أحب“ کے الفاظ میں اشارہ ہے کہ عقیقہ کرنا واجب نہیں، بلکہ سنتِ مؤکدہ ہے۔
التمهيد لابن عبد البر: 311/4۔
③ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
وليست العقيقة بواجبة، ولٰكنها يستحب العمل بها، وهى من الأمر الذى لم يزل عليه الناس عندنا
”عقیقہ واجب نہیں، بلکہ مستحب عمل ہے اور ہمارے ہاں ہمیشہ سے لوگ اس پر عمل پیرا رہے ہیں۔“
مؤطا مالك، كتاب العقيقة، باب الحمل في العقيقة: 295۔
مذہبِ ثالث:
ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور احناف کا مذہب ہے کہ عقیقہ نہ واجب ہے نہ سنت، بلکہ جاہلیت کی ایک رسم ہے۔
نيل الأوطار : 141/5۔ المغنى مع الشرح اللكبير : 120/11۔
دلیل:
احناف کی دلیل گزشتہ روایت کے یہ الفاظ ہیں: لا يحب الله العقوق (اللہ تعالیٰ لفظ عقوق کو ناپسند کرتے ہیں)۔ احادیث میں تحریف کرنے اور اپنے مذہب کی تقویت کے لیے احادیث کا مفہوم تبدیل کرنے میں احناف کا کوئی ثانی نہیں اور حدیث کے جزء سے معنی مراد لینے کی ایک مثال مذکورہ حدیث ہے، پھر حق تو یہ ہے کہ حدیثِ رسول کا علم ہونے پر اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دیتے اور علماء و مجتہدین عامی لوگوں کو قولِ امام کے بجائے قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی دعوت دیتے لیکن یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہے، چنانچہ غلام رسول سعیدی بریلوی کی دیدہ دلیری دیکھیے، وہ لکھتے ہیں: ”اگر کوئی شخص تقلیدِ محض کی پستی سے نہیں نکلا تو اس کو عقیقہ کرنے سے منع کرنا چاہیے، یا کم از کم یہ کہنا چاہیے کہ عقیقہ مباح ہے اور کارِ ثواب نہیں اور اس کو یہ نہیں چاہیے کہ امامِ اعظم کے قول کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر یہ کہے کہ امامِ اعظم کے نزدیک عقیقہ سنت ہے، لیکن سنتِ مؤکدہ یا سنتِ ثابتہ نہیں اور اگر وہ میدانِ تحقیق میں وارد ہے تو اس کو یہ کہنا چاہیے کہ عقیقہ سنت اور مستحب ہے، کیونکہ احادیثِ صحیحہ میں اس کا ثبوت ہے اور تمام امت نے ان احادیث کو قبول کیا ہے اور امامِ اعظم کو یہ احادیث نہیں پہنچیں، ورنہ وہ عقیقہ کو مکروہ نہ کہتے، کیونکہ اس زمانہ میں نشر و اشاعت کے ذرائع اور وسائل اتنے میسر نہیں تھے جتنے اب ہیں، یہاں امام کے قول کے خلاف حدیث پر عمل کرنا تقلید کے خلاف نہیں ہے۔“
شرح صحيح مسلم، جلد: 45/1۔
اگر سعیدی صاحب عوام و خواص کو نبوی طریقہ اختیار کرنے کی دعوت دیتے اور عامیوں کو تقلیدِ شخصی کی اتھاہ گہرائیوں سے آزادی دلانے کی راہ دکھاتے اور قولِ امام کی بجائے قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی دعوت دیتے تو کتنا اچھا ہوتا، پھر المیہ یہ ہے کہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ قول ثابت ہی نہیں، ابو حنیفہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ولا يعق عن الغلام ولا عن الجارية
”لڑکے اور لڑکی کی طرف سے عقیقہ نہ کیا جائے ۔“
ضعيف: الجامع الصغير لمحمد بن حسن شيباني، ص: 534۔ اس قول کی سند میں محمد بن حسن شیبانی ضعیف راوی ہے، تفصیل کے لیے لسان المیزان اور الجرح والتعدیل کا مطالعہ کیجیے۔
راجح موقف:
عقیقہ واجب ہے، یہ موقف راجح اور اقرب الی الصواب ہے، کیونکہ جس حدیث سے جمہور علماء نے عقیقہ کے استحباب کی دلیل لی ہے، اس روایت سے عقیقہ کے استحباب کی دلیل لینا درست نہیں۔ نیز اس روایت سے استدلال کرنے میں جمہور علماء اور احناف افراط و تفریط کا شکار ہوئے ہیں، کیونکہ سیاقِ حدیث نہ تو عقیقہ کے مکروہ ہونے پر دال ہے اور نہ اس سے عقیقہ کا وجوب ساقط ہوتا ہے، بلکہ اس حدیث میں لفظ عقیقہ کے استعمال کو مکروہ قرار دیا گیا اور اس لفظ کے نام کی تبدیلی پر زور دیا گیا ہے کہ اس کو نسیکہ یا ذبیحہ کہا جائے، کیونکہ لفظ عقوق اور عقیقہ کا مادہ ایک ہے، اور عقوق کا معنی نافرمانی ہے، لہذا اس اشتباہ و مماثلت کا ازالہ مقصود ہے عقیقہ کی کراہت و استحباب مقصود نہیں۔ چنانچہ علامہ سندی رحمہ اللہ مذکورہ حدیث کی توضیح یوں بیان کرتے ہیں: ”اس حدیث میں عقیقہ کی توہین اور اس کے وجوب کو ساقط کرنا مقصود نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اس (لفظ عقیقہ) نام کو ناپسند کیا ہے اور یہ پسند فرمایا کہ اس کا اس سے بہتر نام یعنی نسیکہ یا ذبیحہ وغیرہ ہو۔“
شرح سنن نسائي للسندى : 498/5۔
نیز اس مسئلے کی مزید وضاحت کے لیے محدثِ شہیر حافظ عبد اللہ روپڑی رحمہ اللہ کا فتویٰ قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے، جسے قارئین کی خدمت میں من وعن پیش کیا جاتا ہے۔
سوال: عقیقہ واجب ہے یا سنت ؟
جواب: عقیقہ کے واجب و غیر واجب ہونے میں اختلاف ہے۔ حسن بصری تابعی رحمہ اللہ اور ظاہریہ وجوب کے قائل ہیں اور جمہور کہتے ہیں سنت ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: نہ فرض ہے، نہ سنت۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک قربانی کے ساتھ منسوخ ہو گیا ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ بھی روایت ہے کہ یہ جاہلیت کی رسم تھی، اسلام نے اسے مٹا دیا ہے۔ شاید امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو عقیقہ کی احادیث نہ پہنچی ہوں۔ یہ تمام اقوال امام شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الاوطار میں ذکر کیے ہیں، امام شوکانی رحمہ اللہ کا میلان جمہور کے مذہب کی طرف معلوم ہوتا ہے، جمہور کی دلیل جو حدیث پیش کی ہے، اس حدیث میں ”أحب“ (جو دوست رکھے) کا لفظ چاہتا ہے کہ عقیقہ ضروری نہ ہو، مگر دلیل کمزور ہے، کیونکہ دوسری احادیث سے ضروری ثابت ہوتا ہے، کیونکہ بعض روایتوں میں صیغہ امر آیا ہے
أهريقوا عنه دما ”اس سے خون بہاؤ“ جو وجوب کے لیے ہے اور بعض میں ”رهينة“ کا لفظ آیا ہے۔ جس کا معنی ہے کہ عقیقہ نہ ہو تو بچہ ماں باپ کی شفاعت نہیں کر سکتا، یا عقیقہ ایسے لازمی ہے جیسے کوئی شے گروی ہوتی ہے اور قرض کی ادائیگی کے بغیر چھوٹ نہیں سکتی اور بعض نے اس کے معنی کیے ہیں کہ وہ گروی کی طرح بند ہے۔
جب تک عقیقہ نہ کیا جائے، نہ نام رکھا جائے اور نہ بال اتارے جائیں اور بال اتارنے سے تو چارہ نہیں، پس عقیقہ بھی ضروری ہو گیا اور بعض روایتوں میں ”أمرنا“ کا لفظ آیا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عقیقہ کا حکم دیا، اس سے بھی وجوب ثابت ہوتا ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار میں کہتے ہیں، اگرچہ یہ الفاظ وجوب کے لیے ہیں، مگر ”من أحب“ کا لفظ قرینہ صارفہ ہے، اس لفظ سے ثابت ہوتا ہے کہ الفاظ سے وجوب مراد نہیں، بلکہ امرِ استحبابی ہے، لیکن امام شوکانی رحمہ اللہ کا یہ کہنا ٹھیک نہیں، کیونکہ امر کا صیغہ یا امر کا لفظ کبھی قرینہ کے ساتھ استحباب کے لیے آ جاتا ہے، لیکن ”من أحب“ کے معنی استحباب کے لیے مشکل ہے، علاوہ اس کے ”رهينة“ کا لفظ استحباب کے لیے تسلی بخش دلیل نہیں، دیکھیے قرآن میں ہے:﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي﴾ ”کہہ دے اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔“ (سورة آل عمران: 31) اس آیت میں وہی محبت کا لفظ ہے، مگر باوجود اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ضروری ہے۔ ٹھیک اسی طرح حدیثِ مذکور کو سمجھ لینا چاہیے، اصل بات یہ ہے جیسے شرط ہوتی ہے ویسے ہی جزا کا حکم ہوتا ہے۔ اللہ کی محبت چونکہ ضروری ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع بھی ضروری ہے۔ اسی طرح عقیقہ چونکہ ضروری ہے جیسا کہ ابھی بیان ہوا ہے، اس لیے لڑکے کی طرف سے دو بکریاں (یعنی دونوں مسنہ) ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک ضروری ہے، یعنی کم نہ کرے، ہاں اگر حدیث یوں ہوتی کہ جو عقیقہ کرنا دوست رکھے تو وہ عقیقہ کرے تو پھر یہ حدیث استحباب کی دلیل بن سکتی تھی اب نہیں، علاوہ اس کے محبت کے لفظ سے خلوص مقصود ہے، پس اس صورت میں مطلب یہ ہو گا جو اخلاص سے عقیقہ کرے وہ دو ہم عمر بکریاں لڑکے کی طرف سے کرے اور ایک لڑکی کی طرف سے اور ظاہر ہے کہ اخلاص ضروری ہے، پس عقیقہ خود ہی ضروری ہے۔
فتاوى أهل حديث، ج: 2، ص: 549،548۔