ذوالحجہ کے ابتدائی آٹھ دنوں میں تکبیرات کہنا
عید الاضحیٰ کا چاند نظر آنے پر تکبیرات شروع کرنے کے بارے میں کوئی واضح صحیح دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ اس بارے میں منقول مرفوع و موقوف روایات ضعیف اور ناقابل حجت ہیں، لہذا صحیح موقف کی رو سے عید الاضحیٰ میں تکبیرات کا آغاز نو ذوالحجہ کی فجر کے وقت کرنا چاہیے اور اختتام تیرہ ذوالحجہ کی عصر کے بعد کرنا چاہیے، جیسا کہ گزشتہ بحث میں مفصل وضاحت بیان ہوئی ہے۔
ضعیف روایات کا بیان:
① عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أيام أعظم عند الله ولا أحب إليه من العمل فيهن من هذه الأيام العشر، فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد
”ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم دن نہیں ہیں اور ان دنوں کے اعمال سے بڑھ کر عام دنوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب نہیں۔ سو تم ان دنوں میں تہلیل و تکبیر اور تحمید کا کثرت سے اہتمام کرو ۔“
ضعيف : مسند أحمد : 75/2، 131/2۔ یزید بن ابی زیاد کوفی ضعیف مدلس راوی ہے اور اس حدیث میں اس کا عنعنہ بھی ہے۔
② ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ما من أيام أفضل عند الله ولا العمل فيهن أحب إلى الله عز وجل من هذه الأيام العشر، فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير وذكر الله، فإنها أيام التهليل والتكبير وذكر الله
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن باقی دنوں سے افضل ہیں اور ان کے اعمال باقی دنوں کے اعمال سے زیادہ محبوب ہیں۔ چنانچہ ان دنوں میں تہلیل و تکبیر اور ذکر کا بکثرت اہتمام کرو، کیونکہ یہ تہلیل و تکبیر اور ذکر اللہ کے دن ہیں۔“
ضعيف جدا : شعب الإيمان للبيهقي: 356/3 ضعیف ترغیب و ترهيب: 7305۔
عبد الله بن محمد بن وہب دینوری متہم بالکذب اور یحیی بن عیسی رملی ضعیف راوی ہے۔
③ صحیح بخاری میں معلق روایت ہے:
كان ابن عمر وأبو هريرة يخرجان إلى السوق فى أيام العشر يكبران ويكبر الناس بتكبيرهما
”سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بازار میں نکل کر تکبیرات کہتے اور لوگ بھی ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیرات کہتے تھے۔“
صحيح بخاری کتاب العیدین، باب فضل العمل في ايام العشر ، اسناده ضعیف
(یہ اثر معلق اور بے سند ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں یہ اثر مجھے مفصل سند کے ساتھ نہیں ملا اور امام بیہقی اور امام بغوی نے بھی اس اثر کو معلق روایت کیا ہے)
فتح الباري : 590/30.
④ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ويذكروا اسم الله فى أيام معلومات کی تفسیر بیان کی ہے کہ ایام معلومات سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔
صحیح بخاری، کتاب العيدين، باب فضل العمل في ايام التشريق.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس تفسیری قول سے یہ استدلال لینا کہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں تکبیرات مشروع ہیں، درست نہیں کیونکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ ایام معلومات، یوم نحر اور اس کے بعد کے تین دن ہیں اور امام طحاوی نے اس مؤخر الذکر قول کو راجح قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾
”اور وہ چند معلوم دنوں میں اللہ کا ذکر کریں جو اللہ نے انھیں پالتو جانور عطا کیے ہیں۔“
الحج:28
سے معلوم ہوتا ہے کہ ایام معلومات سے مراد قربانی کے دن ہیں (ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن نہیں)۔
فتح البارى : 590/2.
نیز سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا ذاتی فعل بھی ان کے اول الذکر قول کے مخالف ہے، جیسا کہ عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن ابن عباس كان يكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
”بلاشبہ ابن عباس رضی اللہ عنہ عرفہ کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
صحيح: مستدرك حاكم : 299/1، بیهقی : 314/3۔