عید غدیر: شعیہ کی عید جو 18 ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے

فونٹ سائز:
تحریر:غلام مصطفی ظہیر امن پوری
مضمون کے اہم نکات

عید غدیر

یہ شیعہ کی عید ہے۔ جو 18 ذوالحجہ کو مناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غدیر خم کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:
”من كنت مولاه فهذا على مولاه.“
”جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔“
اس فرمان نبوی کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل کے ثبوت پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا اہل بیت میں کسی فرد بشر نے اس فرمان نبوی کو خلافت علی رضی اللہ عنہ کے ثبوت پر بطور دلیل پیش نہیں کیا، چہ جائیکہ کہ اسے خلافت بلا فصل پر دلیل بنایا جائے!
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں:
”من صام يوم ثمان عشرة من ذي الحجة كتب له صيام ستين شهرا، وهو يوم غدير خم لما أخذ النبى صلى الله عليه وسلم بيد على بن أبى طالب، فقال: ألست ولي المؤمنين؟، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: من كنت مولاه فعلي مولاه، فقال عمر بن الخطاب: بح لك يا ابن أبى طالب أصبحت مولاي ومولى كل مسلم، فأنزل الله: اليوم أكملت لكم دينكم.“
”جس نے اٹھارہ ذوالحجہ کا روزہ رکھا، اس کے نامہ اعمال میں ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے، وہ غدیر خم کا دن تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: کیا میں مومنوں کا دوست نہیں ہوں، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں، ضرور۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: واہ اے ابن ابی طالب! آپ نے اس حال میں صبح کی کہ آپ میرے اور تمام مسلمانوں کے دوست ہیں، تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ
”آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے۔“
تاريخ بغداد للخطيب: 290/8، الأمالي للشجري: 259,146,42/1

تبصرہ:

روایت ضعیف و منکر ہے۔
➊ علی بن سعید ملی ”ضعیف“ ہے۔
❀ اسے امام دار قطنی رحمہ اللہ نے” ضعیف“ کہا ہے۔
(من تكلم فيه الدارقطني لابن زُريق: 93/2)
➋مطر بن طہمان ابو رجاء وراق اگرچہ صدوق ہے، مگر اس کے حافظہ میں کمزوری تھی۔ ممکن ہے کہ اس روایت میں اس کا حافظہ اثر انداز ہو گیا ہو۔ اہل علم نے اس کے حافظہ پر کلام کیا ہے۔
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”كان يحيى بن سعيد يشبه مطر الوراق بابن أبى ليلى فى سوء الحفظ.“
”امام یحیی بن سعید قطان رحمہ اللہ مطر وراق کو سوء الحفظ ہونے میں ابن ابی لیلی کے مشابہ قرار دیتے تھے۔“
(العلل ومعرفة الرجال: 852)
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”ردی الحفظ“ کہا ہے۔
(مشاهير علماء الأمصار، ص 153)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”کثیر الخطا“ کہا ہے۔
(تقريب التهذيب: 6699)
➌ شہر بن حوشب کثیر الارسال والا وھام ہے۔
(تقريب التهذيب لابن حجر: 2830)

اس حدیث کے بارے میں:

❀ حافظ جورقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”هذا حديث باطل.“
”یہ حدیث باطل ہے۔“
(الأباطيل والمناكير: 367/2)
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”هذا حديث لا يجوز الاحتجاج به.“
”اس حدیث سے حجت لینا جائز نہیں۔“
(العلل المتناهية: 223/1)
❀ حافظ ابن دحیہ کلبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”هذا حديث لا يصح.“
”یہ حدیث ثابت نہیں۔“
(أداء ما رجب، ص 49)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”هذا حديث منكر جدا.“
”یہ حدیث سخت منکر ہے۔“
(البداية والنهاية لابن كثير: 680/7)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ روایت منکر، بلکہ جھوٹ ہے، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ روایت کہ ”اليوم أكملت لكم دينكم“ جمعہ کے روز عرفہ میں نازل ہوئی، کے خلاف ہے۔ اسی طرح اٹھارہ (18) ذی الحجہ غدیر خم کا روزہ جو ساٹھ ماہ کے روزوں کے برابر ہے، بھی غلط اور باطل ہے۔ کیونکہ صحیح بخاری میں ہے کہ رمضان کے روزے دس ماہ کے برابر ہیں تو پھر بتائیے، ایک دن کا روزہ ساٹھ ماہ کے برابر کس طرح ہو سکتا ہے، ہمارے شیخ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ساٹھ مہینے والی روایت ذکر کرنے کے بعد اسے سخت منکر کہا ہے، اس روایت کو حبشون خلال اور احمد بن عبد اللہ بن احمد نیری (کلاہما صدوق) نے علی بن سعید رملی عن ضمری کی سند سے بیان کیا ہے۔ یہ روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی سند سے نہایت کمزور اور ضعیف اسناد سے مروی ہے۔ اس کے ابتدائی الفاظ ”من كنت مولاه فعلي مولاه“ تو یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللهم وال من والاه“ کا اضافہ بھی مضبوط سند سے مروی ہے، رہا روزے کا مسئلہ تو یہ بالکل درست نہیں اور اللہ کی قسم یہ آیت بھی غدیر خم کے دن نازل نہیں ہوئی، یہ تو غدیر خم سے کئی دن پہلے یوم عرفہ میں نازل ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
(البداية والنهاية: 214/5)
❀ حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو” ضعیف“ قرار دیا ہے۔
(الدر المنثور: 457/2، وفي نسخة: 19/3)
حدیث: من كنت مولاه فعلي مولاه متواتر ہے۔ اس کا صحیح مفہوم آئندہ صفحات میں واضح کر دیا گیا ہے۔

خلافت بلا فصل اس سے ثابت نہیں:

اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت ثابت نہیں ہوتی، بالفرض مان لیں کہ اس آیت سے خلافت علی ولی اللہ ثابت ہوتی ہے، تو خلافت ہم بھی مانتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اسلام کے چوتھے خلیفہ ہیں۔ خلیفہ بلا فصل والی بات پھر بھی ثابت نہیں ہوتی۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”لما نصب رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا بغدير خم فنادى له بالولاية هبط جبريل عليه السلام عليه بهذه الآية: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (5-المائدة:3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے مقام پر علی رضی اللہ عنہ کو کھڑا کر کے ان کی ولایت کا اعلان فرمایا، تو سیدنا جبریل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
”آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کیا ہے۔“(5-المائدة:3)
(تاريخ دمشق لابن عساكر: 237/42)

تبصرہ:

یہ جھوٹی روایت ہے۔
➊ یحیی بن عبد الحمید حمانی ضعیف ہے۔
حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”ضعفه الجمهور.“
”جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے۔“
(البدر المنير: 224/3)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”ضعفه الأكثرون.“
”اسے اکثر محدثین نے ضعیف کہا ہے۔“
(فيض القدير للمناوي: 69/6)
➋ ابو ہارون عمارہ بن جوین عبدی کذاب اور متروک ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”مضعف عند الأئمة.“
”ائمہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔“
(تفسير ابن كثير: 21/3)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”الأكثر على تضعيفه أو تركه.“
”اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف یا متروک ہے۔“
(میزان الاعتدال: 173/3)
امام حماد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”كذابا يروي بالغداة شيئا وبالعشي شيئا.“
”یہ جھوٹا ہے، گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا تھا۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 364/6)
امام یحیی بن معین، امام ابو حاتم اور امام ابوزرعہ رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے۔
امام شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”كنت ألقي الركبان أسال عن أبى هارون العبدي فلما قدم أتيته فرأيت عنده كتابا فيه أشياء منكرة فى على رضى الله عنه فقلت: ما هذا؟ قال: هذا الكتاب حق.“
”میں قافلوں سے ملاقات کر کے ابو ہارون عبدی کے بارے میں پوچھا کرتا، جب وہ آیا، میں نے اس کے پاس ایک کتاب دیکھی، جس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منکر روایتیں تھیں، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ کتاب حق ہے۔“
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 363/6، وسنده صحيح كالشمس)
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ”متروک الحدیث“ کہا ہے۔
(سوالات ابن هاني: 2270)
نیز امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی ”متروک الحدیث“ کہا ہے۔
(كتاب الضعفاء والمتروكين: 476)
امام جوز جانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”كذاب مفتر.“
”جھوٹا، افترا باز تھا۔“
(أحوال الرّجال: 146)
اس پر اس کے علاوہ بھی ڈھیروں جروح ہیں۔ یہ غالی شیعہ تھا۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ آیت کریمہ جمعہ کے دن یوم عرفہ کو نازل ہوئی، غدیر خم کا واقعہ حجۃ الوداع کے بعد مدینے کے راستے میں پیش آیا، نہ کہ یوم عرفہ کو۔ لہذا ثابت ہوا کہ یہ آیت غدیر خم کے موقع پر نازل ہی نہیں ہوئی، اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بلا فصل ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
اس مہینے میں ایک حادثہ پیش آیا، جیسا کہ دیگر مہینوں میں بھی بہت سے حادثے پیش آئے۔ لیکن اس کو ایک خاص موسم نہیں بنا لیا گیا اور نہ اسلاف ان مہینوں کی تعظیم کرتے ہیں، جیسے ذی الحجہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم سے واپسی پر خطبہ دیا، آپ نے اس میں وصیت کی کہ کتاب اللہ کو لازم پکڑیں اور اہل بیت کو لازم پکڑیں، جیسا کہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ تو بعض اہل بدعت نے اس میں اضافہ کر دیا، کہنے لگے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر واضح نص ارشاد فرمائی تھی۔ آپ نے ان کا بستر بچھایا، انہیں اونچی جگہ پر بٹھایا اور پھر یہ اہل بدعت ایسا کلام اور عمل بیان کرتے ہیں، جس کے اضطرار سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صحابہ نے یکساں ہو کر یہ نص چھپا لی، وصی سے اس کا حق چھین لیا اور فسق و کفر کے مرتکب ہو گئے، سوائے ایک چھوٹی سی جماعت کے۔ تو بنو آدم کی فطرت اور صحابہ کی امانت و دیانت دیکھیں اور یہ دیکھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بیان حق واجب کیا تھا، تو قطعی طور پر یہ پتہ چل جاتا ہے کہ نص وغیرہ چھپا لینا ممکن ہی نہیں ہے۔ تو یہاں مسئلہ امامت کا بیان مقصود نہیں ہے، بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اس دن کو عید بنانا بدعت ہے، جس کی کوئی اصل نہیں۔ سلف اور اہل بیت میں سے کسی نے اس دن کو عید نہیں بنایا، کیونکہ عید منانا شریعت ہے اور شریعت میں اتباع واجب ہے۔ نئی عید نکالنا درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف ایام میں کئی خطبے دیئے، کئی عہد کیے، کئی واقعات پیش آئے، جیسے غزوہ بدر، غزوہ حنین، خندق، فتح مکہ، دخول مدینہ، ہجرت وغیرہ کے واقعات ہیں، اسی طرح کئی ایسے خطبے ہیں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قواعد دین بیان کیے، لیکن ان دنوں میں عید نہیں بنائی گئی۔ یہ نصاریٰ کی سنت ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو عید بناتے ہیں، یہود کا بھی طریق کار ہے۔ عید منانا شریعت ہے اور شریعت کی پیروی کی جاتی ہے، دین میں اس چیز کا اضافہ نہیں کیا جاتا، جو اس میں ہے ہی نہیں۔
(اقتضاء الصراط المستقيم: 122/2-123)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
”بدعة ظاهرة منكرة.“
”عید غدیر واضح اور منکر بدعت ہے۔“
(البداية والنهاية: 261/15)
نیز فرماتے ہیں:
”في عاشوراء عملت الروافض بدعتهم، وفي يوم غدير خم عملوا الفرح المبتدع.“
”عاشوراء میں روافض نے بدعات جاری کیں، غدیر خم والے دن یہ لوگ عید خوشی مناتے ہیں، جو کہ بدعت ہے۔“
(البداية والنهاية: 317/15)
❀ علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) فرماتے ہیں:
ہم شعار دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے روکتے ہیں، جیسا کہ رافضیوں نے عید الغدیر کے نام سے تیسری عید گھڑ لی ہے۔ بطور شعار کسی خاص وقت اور ہیئت پر کوئی اجتماع قائم کرنا بدعت ہے، اسی طرح کسی خاص ہیئت اور طریقہ پر مشروع عبادت میں اس خیال سے ایک زائد چیز داخل کر دینا کہ یہ عمومی دلائل سے ثابت ہے، تو یہ بالکل درست نہیں، کیونکہ عبادات تعبدی ہیں اور ان کے دلائل توقیفی ہیں۔
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 200/1)
❀ علامہ مقریزی رحمہ اللہ (845ھ) لکھتے ہیں:
”اعلم أن عيد الغدير لم يكن عيدا مشروعا، ولا عمله أحد من سالف الأمة المقتدى بهم، وأول ما عرف فى الإسلام بالعراق أيام معز الدولة على بن بويه، فإنه أحدثه فى سنة اثنتين وخمسين وثلاثمائة فاتخذه الشيعة من حينئذ عيدا.“
”یاد رکھئے کہ عید غدیر شرعی عید نہیں ہے، اسلاف امت میں سے کسی نے یہ عید نہیں منائی، حالانکہ وہ قد وہ تھے۔ یہ عید سب سے پہلے اسلام میں معز الدولہ نے عراق کے اندر متعارف کروائی، یہ بدعت اس نے 352ھ میں جاری کی، اس وقت سے لے کر آج تک شیعہ یہ عید مناتے ہیں۔“
(المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار: 254/2-255)

عيد بابا شجاع الدين :

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قاتل ابولولو فیروز مجوسی کی قبر کہاں ہے؟ اس کا صحیح علم اللہ کے پاس ہے، البتہ روافض نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی دشمنی میں ایران میں اس کا مزار بنا رکھا ہے اور اس کی تعظیم کرتے ہیں، روافض اسے ”بابا شجاع الدین“ کہتے ہیں اور ہر سال 9 ربیع الاول کو عید بابا شجاع الدین کے نام سے عید مناتے ہیں۔
❀ مشہور شیعہ، نعمت اللہ جزائری نے ان الفاظ میں باب قائم کیا ہے:
”نور سماوي يكشف عن ثواب يوم قتل عمر بن الخطاب.“
(الأنوار النعمانية: 108/1)
❀ عباس قمی شیعہ نے لکھا ہے:
”إن هذا يوم عيد، وهو من خيار الأعياد.“
”یہ عید کا دن ہے اور یہ بہترین عید ہے۔“
(الكنى والألقاب: 55/2)
❀ شیعہ عالم ملا باقر مجلسی (111ھ) نے لکھا ہے:
”قال جماعة: إن قتل عمر بن الخطاب قد كان فى اليوم التاسع من شهر ربيع الأول، والناس يسمونه عيد بابا شجاع الدين .“
”ایک جماعت نے کہا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ربیع الاول کی 9 تاریخ کو قتل (شہید) ہوئے، لوگ (روافض) اسے عید ”بابا شجاع الدین“ کہتے ہیں۔“
(بحار الأنوار: 372/98)
❀ علامہ کو رانی حنفی رحمہ اللہ (893ھ) فرماتے ہیں:
”إن فى بلاد العجم بلدا يسمى كاشان، فيه غلاة الروافض، لهم مزار عظيم معظم، يقولون: إنه قبر أبى لؤلوة قاتل عمر.“
”بلاد عجم (ایران) میں ایک ”کاشان“ نامی شہر ہے، جس میں غالی روافض رہتے ہیں، وہاں انہوں نے ایک بہت بڑا مزار بنا رکھا ہے، روافض کہتے ہیں کہ یہ قاتل عمر ابولولو کی قبر ہے۔“
(الكوثر الجاري: 460/6)

عید یوم الغار:

کسی زمانہ میں بعض غالی رافضی 26 ذوالحجہ کو عید یوم الغار کے نام سے مناتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں چھپے تھے۔
❀ مورخ اسلام حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”هذا جهل وغلط.“
”یہ جہالت اور غلط ہے۔“
(العِبَرُ في خبر من غبر: 176/2)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غار میں داخل ہونا ثابت ہے، مگر کس تاریخ اور دن کو داخل ہوئے، اس کا ذکر نہیں، اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔