ترک زکاۃ کی ممانعت اور اہل وعیال پر خرچ کرنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

ترک زکاۃ کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من صاحب ذهب ولا فضة لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار فأحمي عليها فى نار جهنم فيكوى بها جنبه و جبينه و ظهره كلما بردت أعيدت له فى يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة و إما إلى النار
”اگر کوئی سونے اور چاندی والا اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا تو اس شخص کے لیے آگ کی پلیٹیں (تختیاں) تیار کی جائیں گی، پھر انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس شخص کی پیشانی، اس کے پہلوؤں اور اس کی پشت کو داغا جائے گا، جب بھی وہ ٹھنڈی ہونے لگیں گی تو انہیں دوبارہ گرم کیا جائے گا اور یہ عمل اس کے ساتھ اس دن مسلسل جاری رہے گا جو پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا، حتی کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ پھر اسے اس کی راہ دکھا دی جائے گی جنت کی طرف یا پھر جہنم کی طرف۔“
عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اونٹوں کے بارے میں؟ فرمایا:
ولا صاحب إبل لا يؤدي منها حقها ومن حقها حلبها يوم وردها إلا إذا كان يوم القيامة بطح لها بقاع قرقر أوفر ما كانت لا يفقد منها فصيلا واحدا تطأه بأخفافها و تعضه بأفواهها كلما مر عليه أولاها رد عليه أخراها فى يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة و إما إلى النار
”اسی طرح اونٹوں کا مالک جو ان کا حق ادا نہیں کرتا ان کا حق یہ ہے کہ جب انہیں پانی کے گھاٹ پر لایا جائے تو ان کا دودھ دھویا جائے (اور غریب لوگوں کو پلایا جائے) تو جب قیامت کا دن ہوگا تو اسے ایک صاف چٹیل چکنے میدان میں الٹا لٹایا جائے گا اور وہاں اس کا سارا مال، حتیٰ کہ اونٹ کا وہ بچہ جس کا دودھ چھڑایا گیا ہو بھی موجود ہوگا وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے اور اس دن جو پچاس ہزار سال کا ہوگا اس پر یہ سلسلہ اس طرح جاری رہے گا کہ جب پہلا جانور گزر جائے گا تو آخری کو پھر لوٹایا جائے گا حتی کہ تمام بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور اسے اس کی راہ دکھا دی جائے گی یا تو جنت کی طرف ہوگی یا پھر جہنم کی طرف۔“
عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! گائے اور بکری کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولا صاحب بقر ولا غنم لا يؤدي منها حقها إلا إذا كان يوم القيامة سطح له بقاع قرقر لا يفقد منها شيئا ليس فيها عقصاء ولا جلحاء ولا عضباء تنطحه بقرونها و تطأه بأظلافها كلما مر عليه أولاها رد عليه أخراها فى يوم كان مقداره خمسين ألف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله إما إلى الجنة وإما إلى النار
”اسی طرح اگر کوئی شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہے لیکن وہ ان کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا تو جب قیامت کا دن ہوگا اسے ایک صاف چٹیل چکنے میدان میں الٹا لٹایا جائے گا وہاں وہ اپنے مال میں سے کسی کو کم پائے گا نہ اس میں کوئی ایسی بکری ہوگی جس کے سینگ اندر کی طرف مڑے ہوئے ہوں نہ ہی بن سینگ والی ہوگی اور نہ ہی کوئی ایسی ہوگی جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں۔ وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے روندیں گی اور اس دن جو پچاس ہزار سال کا ہوگا یہ سلسلہ اس طرح جاری رہے گا کہ ان میں سے ایک گزر جائے گی تو دوسری کو لایا جائے گا حتی کہ تمام بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور اسے اس کی راہ دکھا دی جائے گی یا تو جنت کی طرف یا پھر جہنم کی طرف۔“
پھر عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! گھوڑوں کے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الخيل ثلاثة : هي لرجل وزر وهى لرجل ستر وهى لرجل أجر ، فأما الذى هي له وزر فرجل ربطها رياء و فخرا ونواء على أهل الإسلام فهي له وزر ، و أما التى له ستر فرجل ربطها فى سبيل الله ثم لم ينس حق الله فى ظهورها ولا رقابها فهي له ستر ، و أما التى هي له أجر فرجل ربطها فى سبيل الله لأهل الإسلام فى مرج وروضة فما أكلت من ذلك المرج والروضة من شيء إلا كتب له عدد ما أكلت حسنات و كتب له عدد أرواثها وأبوالها حسنات ولا تقطع طولها فاستنت شرفا أو شرفين إلا كتب الله له عدد آثارها وأرواثها حسنات ، ولا مر بها صاحبها على نهر فشربت منه ولا يريد أن يسقيها إلا كتب الله له عدد ما شربت حسنات
”گھوڑے تین قسم کے ہیں: ایک بندے کے لیے بوجھ, دوسرا اوٹ پردہ اور تیسرا بندے کے لیے اجر ہے۔ پس وہ شخص جس کے لیے یہ بوجھ ہے وہ ایسا شخص ہے جس نے اسے فخر و ریا کے لیے باندھ رکھا ہے اور اہل اسلام سے دشمنی کے طور پر اسے تیار کرتا ہے تو ایسا گھوڑا اپنے مالک کے لیے بوجھ ہے۔ اور رہا وہ گھوڑا جو اس کے لیے (جہنم سے) اوٹ اور پردہ ہے وہ وہ آدمی ہے جس نے اسے اللہ کی راہ کے لیے تیار کیا، پھر وہ اس پر سواری کرنے اور اس سے احسان کرنے کے بارے میں اللہ کا حق نہیں بھولتا، تو یہ گھوڑا اپنے مالک کے لیے جہنم سے اوٹ اور پردہ ہے اور رہا وہ گھوڑا جو اس کے لیے اجر ہے تو وہ آدمی جس نے اہل اسلام کے لیے اللہ کی راہ میں اسے چراگاہ اور باغ میں باندھ رکھا ہے تو وہ گھوڑا اس چراگاہ اور باغ سے جو کچھ کھاتا ہے تو وہ جس قدر اس سے کھاتا ہے اسی قدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور وہ جس قدر اس سے پیتا ہے اور جس قدر پیشاب اور لید کرتا ہے وہ سب اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں، اور وہ جس قدر چلتا ہے چکر یا دو چکر لگاتا ہے اور جس قدر اس کے قدموں کے نشانات ہیں وہ سب نیکیاں شمار ہوتی ہیں اور اگر گھوڑے کا مالک اسے کسی نہر پر لے جاتا ہے اور وہ وہاں سے پانی پی لیتا ہے جبکہ مالک کا اسے پانی پلانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، تو پھر بھی اس نے جس قدر وہاں سے پانی پیا ہوگا اللہ اسی قدر اس کے لیے نیکیاں لکھ لے گا۔“
عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تو گدھوں کے بارے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما أنزل على فى الحمر شيء إلا هذه الآية الفاذة الجامعة ، فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره
”اللہ نے گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں کیا سوائے اس نادر آیت کے جو کہ تمام امور کو محیط ہے: پس جو شخص ذرہ برابر نیکی کرتا ہے وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ذرہ برابر برائی کرتا ہے وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔“
بخاري، كتاب الزكاة 1402۔ مسلم، كتاب الزكاة 987/24۔ الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنا الذى لا يؤدي زكاة ماله يخيل إليه ماله يوم القيامة شجاعا أقرع له زبيبتان فيلزمه – أى يطوقه – أنا كنزك أنا تركتك
”جو شخص اپنے مال کی زکوۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کے مال کو ایک گنجے سانپ کی شکل میں بنا دیا جائے گا جس کے دونوں جبڑوں سے زہریلی جھاگ نکل رہی ہوگی اور وہ طوق کی طرح اس کی گردن میں پڑا ہوگا اور وہ کہہ رہا ہوگا، میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں ۔“
نسائى، الزكاة 28/5 باب مانع زكاة ماله۔ مسند احمد 133/2۔

اہل وعیال پر خرچ کرنا

① سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے بچوں پر خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا ؟ جبکہ میں انہیں اس طرح بھی نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ وہ میرے ہی بیٹے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم لك أجر ما أنفقت عليهم
”ہاں! جو کچھ تم ان پر خرچ کرو گی تمہیں اس کا ثواب ملے گا۔“
بخاري، كتاب النفقات 5369۔ مسلم 1001/47۔
② سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، حجتہ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ مجھے شدید تکلیف تھی۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں میں کسی تکلیف میں مبتلا ہوں، میں مال دار آدمی ہوں اور میری صرف ایک بیٹی ہے جو میری وارث بنے گی۔ کیا میں اپنے مال کا دو تہائی حصہ صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ”نہیں۔“
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نصف؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ”نہیں۔“
میں نے عرض کیا: تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الثلث والثلث كثير أو كبير إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس ، و إنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله إلا أجرت بها حتى ما تجعل فى في امرأتك
”تہائی، اور تہائی بہت ہے۔ اگر تم اپنے وارثوں کو مال دار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں محتاج چھوڑ جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ اور تم اللہ کی رضا کی خاطر جو بھی خرچ کرو گے اس کا تمہیں اجر دیا جائے گا حتی کہ تم اپنی اہلیہ کے منہ میں جو (لقمہ وغیرہ) دو گے اس کا بھی تمہیں اجر دیا جائے گا۔“
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں (بیماری کی وجہ سے) اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنك لن تخلف فتعمل عملا صالحا تبتغي به وجه الله إلا ازددت به درجة و رفعة ولعلك أن تخلف حتى ينتفع بك أقوام و يضر بك آخرون اللهم أمض لأصحابي هجرتهم ولا تردهم على أعقابهم
”نہیں! تم ہرگز پیچھے نہیں رہو گے تم اللہ کی رضا کے لیے جو نیک اعمال کرو گے ان سے تمہارے درجات میں اضافہ ہوتا جائے گا اور تمہارا مرتبہ بلند ہوتا رہے گا۔ اور شاید تم بعد تک زندہ رہو گے یہاں تک کہ بعض لوگوں کو تم سے نفع پہنچے گا اور کچھ لوگوں کو تمہاری وجہ سے نقصان پہنچے گا۔ اے اللہ ! میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ہجرت کامل کر دے اور انہیں ایڑیوں کے بل مت لوٹا (یعنی ان کو مکہ میں موت نہ آئے)۔“ لیکن بیچارے سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے جن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اظہار رنج و ترس کرتے تھے کہ وہ مکہ ہی میں انتقال کر گئے ۔
بخاری، کتاب الجنائز 1295۔ مسلم، كتاب الوصية 1628/5۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من يوم يصبح فيه العباد إلا ملكان ينزلان يقول أحدهما: اللهم أعط منفقا خلفا ، ويقول الآخر: اللهم أعط ممسكا تلفا
”ہر روز جب بندے صبح کرتے ہیں تو دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو نعم البدل عطا فرما۔ اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ ! مال کو روک کر رکھنے والے (بخیل) کو تلف و تباہی سے دو چار کر۔“
بخارى، كتاب الزكاة 1442۔ مسلم ، كتاب الزكاة 1010/57۔