حاملہ جانور کی قربانی اور پیٹ کے بچے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

حاملہ جانور کی قربانی

حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے اور اس کے پیٹ کا بچہ حلال ہے۔ اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!
تنحر الناقة ونذبح البقرة والشاة فنجد فى بطنها الجنين، أنلقيه أم نأكله؟ قال: كلوه إن شئتم فإن ذكاته ذكاة أمه
”ہم اونٹنی نحر کرتے ہیں اور گائے اور بکری ذبح کرتے ہیں تو ہم اس کے پیٹ میں بچہ پاتے ہیں، کیا ہم اسے پھینک دیں یا کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو کھا لو، اس لیے کہ اس کا ذبح کرنا اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے۔“
حسن لشواھدہ: سنن أبی داود کتاب الضحایا، باب ما جاء فی ذکاة الجنین: 2827 یہ روایت اگر چہ ضعیف ہے۔ کیونکہ مجالد بن سعید ضعیف راوی ہے۔ لیکن مسند احمد ، 39/3، اور صحیح ابن حبان: 5889۔ میں یہ روایت حسن لذاتہ سند سے مروی ہے ۔ لہذا یہ حدیث دلیل ہے کہ حاملہ جانور کو ذبح کرنا ، اس کی قربانی کرنا جائز ہے اور اس کے پیٹ کا بچہ کھانا حلال ہے۔

محمد بن ابراہیم آل الشیخ کا فتویٰ:

سوال: کیا حاملہ بکری کی قربانی درست ہے؟
جواب: حاملہ بکری کی قربانی جائز ہے، جیسے غیر حاملہ کی قربانی درست ہے۔ بشرطیکہ عیوب سے پاک ہو، جن سے قربانی کے جانوروں کا پاک ہونا لازم ہے۔
فتاوی و رسائل محمد بن إبراهیم آل الشیخ: 127/6

فوائد:

①حاملہ جانور کے پیٹ کا بچہ اگر حاملہ جانور کے ذبح کے بعد مردہ حالت میں پایا جائے تو بالاتفاق حلال ہے۔ لیکن اگر حاملہ جانور کے ذبح کے بعد زندہ ہو تو اسے ذبح کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ مستقل علیحدہ نفس ہے جسے کھانے کے لیے اس کو ذبح کرنا لازم ہے۔
شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فإن ذكاته ذكاة أمه
”حاملہ کے پیٹ کے بچہ کا ذبح کرنا اس کی ماں کا ذبح کرنا ہے۔“
سے مراد یہ ہے کہ حاملہ جانور کو ذبح کرنا اس کے بچے کو ذبح کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر حاملہ جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے پیٹ کا بچہ مردہ حالت میں ملے تو وہ بالاتفاق حلال ہے۔ لیکن اگر وہ پیٹ سے مستقل زندہ حالت میں نکلے تو حاملہ جانور کے ذبح کرنے سے وہ حلال نہیں ہوگا۔ نووی، شافعی، حسن بن زیاد اور ابو حنیفہ کے صاحبین (ابو یوسف اور محمد) کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں بشرطیکہ جنین کے جسم پر بال اُگ چکے ہوں۔ لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ حاملہ جانور کے پیٹ سے مردہ حالت میں خارج ہونے والا بچہ حرام ہے اور اس کی ماں کو ذبح کرنا اس کے حلال ہونے کے لیے ناکافی ہے۔
خطابی کہتے ہیں: ”یہ حدیث دلیل ہے کہ مذبوحہ جانور کے پیٹ کے بچے کو کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس کی ماں کو ذبح کیا گیا ہو، خواہ بچے کو دوبارہ نہ ہی ذبح کیا جائے۔“
عون المعبود: 34/8 تا 35
② ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”حاملہ جانور کو ذبح کرنا اس کے بچے کے حلال ہونے کے لیے کافی ہے خواہ اس کے بال اُگے ہوں یا نہ، یعنی مذبوحہ جانور کا بچہ جب ماں کے پیٹ سے مردہ حالت میں خارج ہو یا مذبوحہ جانور کے پیٹ میں مردہ پایا جائے یا پیٹ سے خارج ہونے کے بعد مذبوحہ جانور کی مثل حرکت کرے تو وہ بچہ حلال ہے۔“
المغنی مع الشرح الکبیر: 54/11
③ اگر مذبوحہ جانور کے پیٹ کا بچہ زندہ نکلے جسے ذبح کرنا ممکن ہو پھر اسے ذبح نہ کیا اور وہ ذبح کیے بغیر مر جائے تو وہ حلال نہیں ہے، احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں:
إن خرج حيا فلا بد من ذكاته لأنه نفس أخرى
”اگر مذبوحہ جانور کے پیٹ کا بچہ زندہ نکلے تو اسے ذبح کرنا لازم ہے، اس لیے کہ وہ ایک اور جان ہے۔“
المغنی مع الشرح الکبیر: 54/11