کیا قربانی اور زکوٰۃ دوسرے ملک بھیجنا جائز ہے؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

قربانی ایک علاقے سے دوسرے علاقے بھیجنا ؟

سوال:

ایک ملک میں رہنے والا دوسرے ملک کو اپنی زکوۃ کی رقم بھیج سکتا ہے یا اپنی قربانی دوسرے ملک میں کروا سکتا ہے؟ (واضح رہے کہ ملکوں کی کرنسی کے نرخ میں کافی فرق ہوتا ہے) اسی طرح ایک شہر سے دوسرے شہر یا علاقے کو زکوۃ اور قربانی بھیج سکتا ہے؟

الجواب:

بغیر شرعی عذر کے ایک علاقے کے لوگ دوسرے علاقے میں زکوۃ نہ بھیجیں۔
ميں زكوة نه تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم
ان کے امیروں سے لے کر ان کے غریبوں کو زکوۃ دی جاتی ہے۔
(صحیح بخاری: 1395 صحیح مسلم: 19)
دوسرے ملکوں میں قربانی بھیجنے کا ثبوت مجھے معلوم نہیں ہے۔
[فتاویٰ علمیہ: 1/ 640، 647]