عقیقہ کے گوشت کا مصرف، سری پائے اور رسمِ مہندی کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

عقیقہ کے گوشت کا مصرف

ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عقیقہ کا گوشت کھانے، صدقہ کرنے اور ہدیہ کرنے میں قربانی کے مثل ہے، شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے اور ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: عقیقہ کرنے والے کو اس کے گوشت میں اختیار ہے، وہ اپنی مرضی سے اس میں تصرف کر سکتا ہے۔
المغنى مع الشرح الكبير: 124/11۔
لہذا عقیقہ کرنے والے کے لیے مستحب طریقہ یہ ہے کہ وہ عقیقہ کا گوشت خود بھی کھائے، عزیز و اقارب کو بھی کھلائے اور فقراء و مساکین پر صدقہ بھی کرے۔

عقیقہ کے سری پائے صدقہ کرنا

عامۃ الناس میں یہ بات رائج ہے کہ عقیقہ میں چونکہ بچے کے سر کا صدقہ دیا جاتا ہے، اس لیے عقیقہ کے جانور کا بالخصوص سر اور بالعموم پائے خود استعمال نہیں کرنے چاہئیں اور ان چیزوں کو صدقہ کرنا لازم ہے۔ اپنی پسند ناپسند کو شریعت میں کتاب و سنت میں داخل کرنے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ سری پاؤں کا حکم عام گوشت کے حکم کی مثل ہے، انہیں خود بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور صدقہ وغیرہ کرنا بھی جائز و مباح ہے۔

عقیقہ کے موقع پر رسمِ مہندی

بعض لوگ عقیقہ کی خوشی میں چراغاں کرتے، مہندی کا اہتمام کرتے اور ناچ گانے کی تقریب کا انعقاد کرتے ہیں، یہ عمل سراسر خلافِ شریعت اور رب تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے اور عقیقہ کے مسنون طریقہ پر عمل کو اختیار کرنا چاہیے۔

فضیلتہ الشیخ مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کا فتویٰ:

سوال: کیا عقیقہ کے موقع پر مہندی لگانا احادیث سے ثابت ہے؟
جواب: اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں عبادات و معاملات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اپنانے کا پابند بنایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ کیا، لیکن اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواتین اور دیگر صحابیات کے بارے میں کہیں بھی ثابت نہیں کہ انہوں نے مہندی، گانا بجانا، طبلے سارنگیاں وغیرہ جیسی محرکات کا ارتکاب کیا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک رسم ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، عقیقہ کا صحیح ثواب تب ملے گا، جب اسے سنتِ رسول کے مطابق کیا جائے، حدیثِ نبوی ہے:
من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد
”جس نے ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر نہیں تو وہ مردود ہے۔“
مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور: 1718۔
لہذا ایسا عمل کبھی بھی اللہ کے ہاں درجہ قبولیت تک نہیں پہنچتا جو شرع کے خلاف ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بعید ہو۔
احکام و مسائل از مبشر احمد ربانی: 529۔