قربانی کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے بال اور ناخن کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب قربانی کے احکام و مسائل سے ماخوذ ہے۔

عيد الاضحٰي كے دن قرباني كرنے كے بعد ناخن كاٹے جائيں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ کرے تو اسے اپنے بال اور ناخن تراشنے سے رک جانا چاہئے۔“ (صحیح مسلم: 1977)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قربانی کرنے والے شخص کو یکم ذوالحجہ سے لے کر قربانی کرنے تک اپنے بال نہیں کاٹنے چاہئیں اور ناخن نہیں تراشنے چاہئیں۔
اگر کسی کا ناخن ٹوٹ جائے یا ایسی خرابی ہو جائے کہ ناخن تراشنا ضروری ہو تو پھر ایسا کرنا جائز ہے جیسا کہ اجماع سے ثابت ہے۔
ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر مجھے صرف مادہ جانور (دودھ دینے والا) قربانی کے لئے ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراش لو اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں یہ تمہاری پوری قربانی ہے۔“
(سنن ابی داود: 2789 وسندہ حسن)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ اگر یکم ذوالحجہ سے لے کر نماز عید تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے پوری قربانی کا ثواب ملتا ہے۔ سبحان اللہ۔
اگر قربانی کا ارادہ رکھنے والا کوئی شخص ناخن یا بال کٹوا دے اور پھر قربانی کرے تو اس کی قربانی ہو جائے گی لیکن وہ گناہگار ہو گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے بال اور ناخن تراشنے سے رک جانا چاہئے۔“
(صحیح مسلم: 1977)
اس حدیث میں ”ارادہ کرے“ سے ظاہر ہے کہ قربانی کرنا واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر مجھے صرف مادہ قربانی (دودھ دینے والا جانور) ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراشو اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں تمہاری یہ پوری قربانی ہے۔“
(سنن ابی داود: 2789 وسندہ حسن)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ اگر ذوالحجہ کے چاند سے لے کر نماز عید سے فارغ ہونے تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے قربانی کا ثواب ملتا ہے۔ (دیکھئے یہی کتاب: ص 12-15)
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحى فليمسك عن شعره وأظفاره
”جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے بال اور ناخن تراشنے سے رک جانا چاہیے۔“
(صحیح مسلم: 1977، ترقیم دارالسلام: 5119)
اس حدیث میں ”ارادہ کرے“ سے ظاہر ہے کہ قربانی کرنا واجب نہیں بلکہ سنت ہے۔
دیکھئے المحلی لابن حزم (7/ 355 مسئلہ 973)۔
درج بالا حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لیے ناخن تراشنا اور بال مونڈنا منڈوانا، تراشنا ترشوانا جائز نہیں ہے۔
[دیکھئے یہی کتاب: ص 14]
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر مجھے صرف مادہ قربانی (دودھ دینے والا جانور) ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراشو اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں تمہاری یہ پوری قربانی ہے۔“
(سنن ابی داود: 2789 وسندہ حسن، وصححہ ابن حبان، الموارد: 1043، والحاکم: 4/ 223 والذہبی)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ اگر ذوالحجہ کے چاند سے لے کر نماز عید سے فارغ ہونے تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے قربانی کا ثواب ملتا ہے۔ [دیکھئے یہی کتاب: ص 12-15]