عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

عشرہ ذی الحجہ کے فضائل و مسائل

ذوالحجہ کا مہینہ اسلامی تاریخ میں ممتاز اہمیت کا حامل ہے اور بعض خصائص کی وجہ سے اس کی اہمیت دیگر مہینوں سے زیادہ ہے، ملاحظہ فرمائیے:

① حرمت کا مہینا:

ذوالحجہ حرمت والا مہینا ہے۔ اس اعتبار سے اس کا احترام کرنا، باہمی جنگ و جدل سے گریز کرنا، حتی کہ اگر دشمن حملہ آور نہ ہو تو ان سے بھی جنگ میں پہل کرنا حرمت والے مہینوں میں جائز نہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴾
”بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر حال میں لڑو، جیسے وہ ہر حال میں تم سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔“
التوبة: 36
یہ آیت دلیل ہے کہ چار مہینے حرمت والے ہیں۔ ان مہینوں کی وضاحت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السماوات والأرض السنة اثنا عشر شهرا منها أربعة حرم ثلاث متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب مضر الذى بين جمادى وشعبان
”زمانہ گھوم کر (مہینوں کی ترتیب کی) اس ہیئت میں آ گیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ تین مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم لگاتار ہیں اور چوتھا مہینا رجب جو جمادی (الآخرة) اور شعبان کے درمیان ہے۔“
صحيح البخاري: 4662۔

② حج کا مہینا:

ذوالحجہ کو اس اعتبار سے بھی فوقیت حاصل ہے کہ یہ حج کا مہینا ہے اور مسلمانوں کا مقدس فریضہ حج اس ماہ ادا کیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں۔

③ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن:

ذوالحجہ کے ابتدائی دس ایام خاص اہمیت کے حامل ہیں اور ان دنوں میں فرائض و نوافل اور نیک اعمال کا اجر و ثواب باقی ایام میں کی جانے والی عبادات سے افضل و برتر ہے۔ دلائل حسب ذیل ہیں:
① فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴾
”فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم.“
الفجر: 1-2
اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں جن کی مزید فضیلت اس حدیث میں ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما العمل فى أيام العشر أفضل منها فى هذه، قالوا: ولا الجهاد فى سبيل الله؟ قال: ولا الجهاد إلا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشيء
”ذوالحجہ کے دس دنوں سے افضل کوئی عمل نہیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد بھی نہیں مگر وہ شخص جو اس حال میں نکلا کہ اس نے اپنی جان اور مال کو خطرے میں ڈالا پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا۔“
صحيح البخاري: 969۔

فوائد:

① معلوم ہوا کہ عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے اعمال کا ثواب دیگر دنوں کے اعمال سے زیادہ ہے۔ لہذا ان ایام میں عبادت، نوافل، نفلی روزوں اور اذکار کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے۔
② البتہ ایسا مجاہد جو مال و جان لے کر غلبہ اسلام کے لیے دشمنان دین کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور راہِ جہاد میں تن من دھن قربان کر دے، اس کا یہ عمل عشرہ ذی الحجہ میں کیے گئے عمل کے برابر یا اس سے افضل ہے۔