عشرہ ذی الحجہ کے فضائل کے متعلق ضعیف روایات
عشرہ ذی الحجہ کے متعلق کتاب و سنت سے صحیح دلائل پیچھے بیان ہو چکے ہیں۔ البتہ ان ایام کے فضائل میں کچھ ضعیف و موضوع روایات بھی ہیں، جنھیں بیان کرنے اور ضبطِ تحریر میں لانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ضعیف اور موضوع روایت سے نہ تو کوئی فضیلت و منقبت ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی شرعی مسئلہ کشید ہوتا ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی روایت منسوب کرنے کی وجہ سے واعظ و مبلغ گناہ گار اور شدید وعید کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔ ذیل میں عشرہ ذی الحجہ کے فضائل کے متعلق کچھ ضعیف و موضوع روایات پیشِ خدمت ہیں:
① سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صام العشر فله بكل يوم صوم شهر، وله بكل يوم التروية سنة، وله بصوم يوم عرفة سنتان
”جس نے عشرہ ذی الحجہ کے روزے رکھے، اس کے لیے ہر دن کے عوض ایک مہینے کے روزوں، یومِ ترویہ (آٹھ ذی الحجہ) کے بدلے ایک سال کے روزوں اور یومِ عرفہ کے بدلے دو سال کے روزوں کا ثواب ہے۔“
كتاب الموضوعات لابن الجوزي: 1137۔
یہ حدیث موضوع ہے جیسا کہ ابن جوزی نے اسے ”الموضوعات میں بیان کیا ہے۔ حافظ ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ سلیمان تیمی کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں محمد بن سائب کلبی کذاب راوی ہے۔ (کتاب الموضوعات : 526/2) امام بخاری کہتے ہیں : کلبی کو یحیی بن معین اور عبد الرحمن بن مہدی نے متروک قرار دیا ہے۔ اس کے بعد امام بخاری علی عن یحيی عن سفیان کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ سفیان نے بیان کیا کہ مجھے کلبی نے کہا: كل ما حدثتك عن أبى صالح فهو كذب ”میں تجھے ابو صالح سے جو بھی حدیث بیان کروں وہ جھوٹ ہے۔“ (میزان الاعتدال: 577/3) اور سند مذکور میں کلبی ابو صالح سے روایت کر رہے ہیں جو ان کی اپنی زبانی کذب وافترا ہے۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من عشر ذي الحجة، يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة، وقيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر
”عشرہ ذی الحجہ سے بڑھ کر کوئی ایسے ایام نہیں جن میں عبادت اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہو۔ ان میں ہر دن کا روزہ سال کے روزوں کے برابر اور ان میں سے ہر رات کا قیام لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔“
جامع الترمذي: 758۔ سنن ابن ماجه: 1728۔ شعب الإيمان للبيهقي: 3757۔ مسند أبي عوانة: 3021۔ سلسلة الأحاديث الضعيفة: 5142۔ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں مسعود بن واصل اور نہاس بن قسم ضعیف راوی ہیں۔
③ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أن شابا كان صاحب سماع وكان إذا أهل هلال ذي الحجة أصبح صائما، فأرسل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما يحملك على صيام هذه الأيام؟ قال: بأبي وأمي يا رسول الله! إنها أيام المشاعر وأيام الحج عسى الله أن يشركني فى دعائهم، فقال: لك بكل يوم تصومه عدل مائة رقبة تعتقها، ومائة بدنة تهديها إلى بيت الله، ومائة فرس تحمل عليها فى سبيل الله، فإذا كان يوم التروية فذلك عدل ألف رقبة، وألف بدنة وألف فرس تحمل عليها فى Sبيل الله، وصيام سنتين قبلها وسنتين بعدها
ایک نوجوان موسیقی کا رسیا تھا لیکن جب ذوالحجہ کا چاند طلوع ہوتا تو وہ روزہ رکھنا شروع کر دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا: ”ان دنوں کے روزوں پر تجھے کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ یہ مناسکِ حج کے دن ہیں۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ مجھے ان (حجاج) کی دعا میں شامل کر لے۔“ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے ہر دن کے بدلے جو تو روزہ رکھتا ہے سو گردن آزاد کرنے، سو اونٹ قربانی کے جو تو بیت اللہ کی طرف قربانی کے لیے بھیجے اور سو گھوڑے جو تو راہِ جہاد میں سواری کے لیے پیش کرے کے برابر ثواب ہے اور جب ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا دن ہو (اس دن کے روزے کا ثواب) ایک ہزار گردن، ایک ہزار قربانی کے اونٹ اور ایک ہزار گھوڑے جو تو راہِ جہاد میں سواری کے لیے وقف کرے، کے برابر ثواب ہے اور عرفہ (نو ذوالحجہ) کا دن، یہ (اس دن کے روزے کا اجر) دو ہزار گردن آزاد کرنے، دو ہزار اونٹ قربان کرنے اور دو ہزار گھوڑے جو جہاد کے لیے وقف ہیں، کے برابر اور دو سال کے گزشتہ روزوں اور دو سال کے آئندہ روزوں کے برابر اجر و ثواب ہو گا۔“
كتاب الموضوعات: 560/2۔
امام ذہبی کہتے ہیں: ”یہ حدیث موضوع کی قبیل ہے اور اس کا راوی محمد بن عمر المحرمی بہت ہی جھوٹا شخص ہے۔“ محمد بن عمر الحرمی متروک و کذاب راوی ہے۔
ابو حاتم کہتے ہیں: یہ بہت ہی کمزور راوی ہے اور ابن معین کہتے ہیں، یہ حدیث میں کچھ حیثیت کا مالک نہیں۔
میزان الاعتدال: 669/3۔
عشرہ ذی الحجہ اور رمضان المبارک کا آخری عشرہ؟
ان دونوں عشروں کی افضلیت کے متعلق کتاب و سنت میں متعدد دلائل آتے ہیں، ان میں سے افضل عشرہ کون سا ہے؟ تو اس بارے میں صحیح اور درست موقف یہ ہے کہ سال بھر کے دنوں سے عشرہ ذی الحجہ افضل ہے اور سال بھر کی راتوں میں سے رمضان کی آخری دس راتیں افضل ہیں۔ اس بارے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فتویٰ بڑا عمدہ و معاون ہے:
سوال:”عشرہ ذی الحجہ اور رمضان کے آخری عشرہ میں سے کون سا عشرہ افضل ہے؟
جواب: ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن، رمضان کے آخری دس دنوں سے افضل ہیں اور رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں ذوالحجہ کی دس راتوں سے افضل ہیں۔“
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”جب فاضل اور سمجھ دار شخص اس جواب پر غور و خوض کرے گا تو وہ اسے شافی و کافی پائے گا کیونکہ ذوالحجہ کے دس دنوں کے علاوہ ایام کے اعمال اللہ تعالیٰ کو دس ذوالحجہ کے اعمال سے زیادہ محبوب نہیں اور ان ایام میں یومِ عرفہ، یومِ نحر اور یومِ ترویہ بھی ہیں (جو خاص فضیلت کے حامل ہیں) اور رمضان کی آخری دس راتیں شب بیداری کی راتیں ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر عبادت کیا کرتے تھے اور ان راتوں میں شبِ قدر بھی ہے۔ چنانچہ جو شخص اس تفصیل کے بغیر جواب دے گا، اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ صحیح دلیل پیش کر سکے۔“
مجموع فتاوى ابن تيمية: 287/25۔