اسلامی حاکم کا فریضہ: کتاب و سنت کی نصرت اور بدعت کی روک تھام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

مسلمان حاكم كا فريضه

حاکمِ وقت کا حق ہے کہ وہ دینِ اسلام اور شریعتِ محمدیہ کی مدد و نصرت کے لیے اپنی طاقت استعمال کرے اور جو شخص بغیر علم کے فتویٰ دیتا اور دینِ اسلام کی مخالفت کرتا ہو اور ایسے امور کی اجازت دیتا ہو جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اور دین کی شمع کو بجھانے کی سعیِ بے سود کرتا ہو، وہ جہالت کی بنا پر کرتا ہو یا ہوائے نفس کی وجہ سے، اسے روکے اور اسے بزور روکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں برائیوں ”جہالت اور خواہشاتِ نفسانی کی پیروی“ سے محفوظ رکھا ہے۔
❀ ارشادِ الہی ہے:
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ‎﴿١﴾‏ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ‎﴿٢﴾‏ وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ‎﴿٣﴾‏ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ‎﴿٤﴾
”قسم ہے تارے کی جب کہ وہ غروب ہوا، تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔“
(53-النجم:1-4)
جو لوگ اللہ جل وعلا کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، ائمہ اسلام رحمہم اللہ اور ان لوگوں کی مخالفت کرتے ہیں جو سنت اور اس کے مقاصد کی مقدور بھر معرفت رکھتے ہیں ان کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے:
أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ ‎﴿٢٣﴾‏
”درحقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشاتِ نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں، حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے۔“
(53-النجم:23)
پھر سلطانِ معظم کے سامنے جب حقیقتِ حال اور مسئلہ کی حقانیت واضح ہو جائے تو وہ صاحبِ قوت و اقتدار ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرے تاکہ اللہ کا دین اور اس کا کلمہ بلند ہو، توحید کی حقیقت واضح ہو اور افضل الرسل اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوت نکھر کر لوگوں کے سامنے آ جائے، ہدایت اور دینِ حق اور نورِ الہی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کیا گیا ہے اس کا اظہار ہو۔ جاہلوں کی جہالت اور جھوٹوں کے کذب و افتراء سے شریعتِ مطہرہ پاک و صاف ہو۔ نیز:
➊ جاہلوں کی جہالت دور ہو۔
➋ جھوٹوں کے کذب و افتراء کا پردہ چاک ہو۔
➌ بدعتیوں کی بدعات کا خاتمہ ہو جو مشرکین کی سی بدعات کرتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور سنت کی تنقیص کرتے اور توحیدِ الہی میں رخنہ اندازی کرتے ہیں۔
➍ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مطہرہ کی تنقیص، اس میں حیل و حجت اور طعن کرنے والوں کو اس کے مطابق سزا دی جا سکے۔ پس مسلمانوں کے حکمران کا فرضِ اولین ہے کہ وہ کتاب و سنت کی حمایت و نصرت اور جہاد فی سبیل اللہ کا اعلان کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کا دین بلند اور اس کے افضل ترین نبی جو خاتم المرسلین ہیں، کی شریعت کا دور دورہ ہو۔ اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کا ڈنکا بجے، ایسے طریقے سے اللہ کی عبادت ہو جس میں خواہشِ نفس اور بدعت کا دخل نہ ہو۔ کوئی سربراہِ مملکت اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کا اس وقت تک حقدار نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اتباعِ رسول اور دینِ حق کی نصرت کے لیے کمر بستہ نہ ہو۔