مضمون کے اہم نکات
استغفار، ضرورت و اہمیت
آدمی کو دنیا میں رہتے ہوئے جابجا مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ریگزارِ حیات میں سفر کرتے ہوئے وہ مصائب کی کڑی دھوپ میں جلتا ہے۔ غم و اندوہ کی تاریکیوں میں بھٹکتا اور حزن و ملال کے گہرے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے۔ دورِ جدید کا انسان زندگی کی الجھنوں میں الجھتا اور پریشانیوں میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ خوشی کا متلاشی رہتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی کا پہلو ڈھونڈتا ہے۔ تاہم وہ سچی خوشی سے محروم رہتا ہے۔ صحرائے حیات میں سفر کرتے ہوئے نخلستانِ امید اسے دکھائی نہیں دیتا۔ اس سلسلے میں تین باتیں مسلمان و اہلِ ایمان سے ایسی کہی گئی ہیں جو اس کی ڈھارس بندھاتی اور اس کے قلب کو طمانیت اور خوشی سے آشنا کرتی ہیں۔
① پہلی تسلی بخش بات:
تو یہ ہے کہ مسلمان کی زندگی میں پیش آنے والی مصائب و مشکلات اس کے بعض گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: [ما يصيب المسلم من نصب، ولا وصب، ولا هم، ولا حزن، ولا أذى، ولا غم، حتى الشوكة يشاكها، إلا كفر الله بها من خطاياه.]
بندۂ مومن کو جو بھی دکھ درد، مرض اور رنج و غم لاحق ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کی کچھ خطائیں معاف کر دیتا ہے۔ [صحیح البخاری، حدیث: 5642، ومسند أحمد: 11141-8027]
◈ ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: [ما من شيء يصيب المؤمن في جسده يؤذيه، إلا كفر الله عنه به من سيئاته]
جو بھی شے مومن کو لاحق ہوتی ہے اس کے بدن میں، جو اسے ایذا دیتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کی کچھ برائیاں معاف کر دیتا ہے۔
[مسند أحمد: 16899]
◈ رسول اللہ ﷺ نے ایک اور موقع پر فرمایا: [إذا كثرت ذنوب العبد، ولم يكن له ما يكفرها من العمل ، ابتلاه الله عز وجل بالحزن ليكفرها عنه]
جب بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کی کوئی نیکی ان گناہوں کا کفارہ بننے کو نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے غم میں مبتلا کر دیتا ہے تاکہ وہ ان گناہوں کا کفارہ بن جائے۔
[مسند أحمد:25236(ضعیف)، والسلسلة الضعيفة، حدیث: 2695]
② دوسری تسلی بخش بات:
انسانی زندگی کی عام مصائب و مشکلات کا باعث یہی گناہ ہوتے ہیں لیکن اس سلسلے کی دوسری اطمینان بخش بات یہ ہے کہ بہت تھوڑے گناہ ہیں جن کی پاداش میں مصائب و مشکلات آتی ہیں۔ زیادہ تر گناہ تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے معاف فرما۔
دیتا ہے۔ اس کا ارشاد عالی ہے: [وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ]
اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہی کرتوتوں کی وجہ سے (پہنچتی ہے)، اور بہت سی باتوں سے تو وہ درگزر ہی فرماتا ہے۔
[الشوریٰ: 30]
◈ اگر وہ تمام گناہوں کی پکڑ کرنے لگے تو روئے زمین پر کوئی جاندار باقی نہ بچے فرمایا: [وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوۡا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہۡرِہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیۡرًا]
اور اگر اللہ لوگوں کو اس وجہ سے پکڑتا جو انہوں نے کمایا تو وہ اس (زمین) کی پشت پر چلنے والا کوئی جاندار نہ چھوڑتا، لیکن وہ انہیں ایک ایک مقررہ وقت تک ڈھیل دیتا ہے، پھر جب ان کا مقررہ وقت آ جائے گا (تو وہی انہیں سزا دے گا) یقیناً اللہ اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے۔ [ فاطر:45]
◈ مزید فرمایا: [وَ لَوۡ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِظُلۡمِہِمۡ مَّا تَرَکَ عَلَیۡہَا مِنۡ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنۡ یُّؤَخِّرُہُمۡ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ]
اور اگر اللہ لوگوں کے ظلم پر ان کا مؤاخذہ کرے تو اس (زمین) پر کوئی چلنے پھرنے والا نہ چھوڑے، لیکن وہ ایک مقررہ وقت تک انہیں ڈھیل دیتا ہے، پھر جب ان کا مقررہ وقت آ پہنچتا ہے تو وہ ایک گھڑی بھی آگےپیچھے نہیں ہو سکتے۔ [النحل:61]
◈ ایک حدیث قدسی میں ہے: کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [يا عبادي: إنما هي أعمالكم أحصيها لكم، ثم أوفيكم إياها فمن وجد خيرا فليحمد الله، ومن وجد غير ذلك فلا يلومن إلا نفسه]
اے میرے بندو! یہ تمہارے ہی تو اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں۔ پھر تمہیں ان کا پورا بدلہ دے دیتا ہوں۔ سو جو بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے سوا (کچھ اور) پائے، وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔ [صحيح مسلم، حديث: 2577]
گناہ آدمی کو مصیبتوں میں مبتلا کرتے ہیں۔ اسے پریشانیوں میں ڈالتے ہیں۔ یہی گناہ بعض دفعہ اسے تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔
③ تیسری مسرت انگیز بات:
مسلمان کو یہ بتائی گئی ہے کہ گناہوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا تدارک ممکن ہے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی توبہ و استغفار کی راہ اختیار کرے۔ اللہ تعالیٰ سے صدق دل سے معافی چاہے اور گناہوں کے بد اثرات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آئے۔ جو آدمی حالات کی تنگی کا شکار ہے اس کے لیے سنگین حالات کے شکنجے سے نجات پانے کا یہی ایک کارگر نسخہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: [من أكثر من الاستغفار، جعل الله له من كل هم فرجا، ومن كل ضيق مخرجا، ورزقه من حيث لا يحتسب]
جو آدمی کثرت سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر رنج سے راحت اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کرتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ [مسند أحمد:2234(ضعیف)، و سنن ابن ماجہ، حديث: 3819]
◈ یوں استغفار اس مریض کے لیے دوائے شافی ہے جو گناہوں کی بیماری میں مبتلا ہے۔
◈ یہ اس شخص کے لیے سفینہ نجات ہے جو معصیتوں کے غلیظ جوہڑ میں غوطے کھاتا ہے۔
◈ استغفار اس خستہ حال آدمی کے لیے خوشحالی کا پیغام ہے جس کی کمر مصائب و مشکلات اور آفات و آلام نے توڑ ڈالی ہے۔
◈ جو شخص رنج و غم کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، استغفار اس کے لیے حزن و ملال سے سبکدوشی کا مژدۂ جاں فزا ہے۔
◈ یہ اس بے بس آدمی کے لیے راہ کشادہ ہے جس کے لیے زمین تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ پڑ گئی ہے۔
◈ وہ مایوس شخص جو اپنے آپ سے اکتا گیا ہے اور وہ پریشانی کے باعث تنگدلی کا شکار رہتا ہے، استغفار اس کی مایوسی اور پریشانی دور کر کے اسے نئی زندگی عطا کرتا اور فراخدلی سے آشنا کرتا ہے۔
◈ استغفار ہر اس آدمی کی گمشدہ متاع ہے جو سچی خوشی ڈھونڈتا پھرتا ہے لیکن اسے نہیں پاتا۔
◈ یہ ہر اس شخص کے لیے آسودہ حالی کی نوید ہے جو مالی طور پر تنگدستی کا شکار رہتا ہے۔
◈ وہ بے اولاد شخص جو اولاد کی تمنا کرتا ہے، استغفار کرنے سے اسے اولاد ملتی ہے۔
◈ وہ مریض جو کسی دیرینہ بیماری کا شکار ہے اور زندگی سے مایوس ہو گیا ہے، استغفار اس کے لیے شفایابی اور تندرستی کا سندیسا لاتا ہے۔
◈ ان تمام پریشان حال افراد کے دکھ درد کا درماں ہے، استغفار۔
❀ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: اس شخص کے لیے سعادت ہے جو اپنے اعمال نامے میں بہت استغفار پاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 3818]
استغفار، قرآن مجید کی روشنی میں
استغفار اور مغفرت و بخشش کن الفاظ میں مانگی جائے؟ اس حوالے سے سب سے بہترین الفاظ اور کلمات وہ ہیں جو قرآن مجید میں مختلف انبیائے کرام علیہم السلام یا دیگر صالحین کے حوالے سے منقول ہیں۔ پھر وہ دعائیں ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے بطور استغفار اختیار کیا ہے یا ان کے ذریعے استغفار کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ہم سب سے قبل قرآنی دعائیں ذکر کریں گے اور اس کے بعد نبوی دعائیں ذکر کریں گے۔
استغفار کی قرآنی دعائیں:
◈ ابو البشر سیدنا آدم اور اماں حوا علیہم السلام سے غلطی سرزد ہوئی تو انہوں نے ان الفاظ میں استغفار کیا:
[1] [رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]
اے ہمارے رب! ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور تو نے ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقیناً ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ [الأعراف:23]
◈ سیدنا نوح علیہ السلام نے ان الفاظ میں اللہ کے حضور استغفار کیا:
[2] [رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنًا وَّ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ]
میرے رب! تو میری اور میرے والدین کی مغفرت فرما اور (ہر) اس شخص کی جو میرے گھر میں مومن ہو کر داخل ہو اور مؤمنین اور مؤمنات کی (بھی) مغفرت فرما۔ [ نوح:28]
◈ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مختلف مواقع پر اللہ کے حضور ان الفاظ میں بخشش و معافی کے طالب ہوئے:
[3] [رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡحِسَابُ]
اے ہمارے رب! جس دن حساب قائم ہوگا اس دن مجھے، میرے والدین کو اور تمام مومنوں کو معاف فرمانا۔ [إبراهيم:41]
[4] [رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ اغۡفِرۡ لَنَا رَبَّنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ]
اے ہمارے رب! تو ہمیں ان لوگوں کے لیے فتنہ (آزمائش) نہ بنا جنھوں نے کفر کیا، اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب! بے شک تو ہی بڑا زبردست، خوب حکمت والا ہے۔[الممتحنة:5]
[5] [وَ تُبۡ عَلَیۡنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ]
اور ہم پر توجہ فرما، بے شک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ [البقرة: 128]
◈ سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے لیے استغفار کرتے ہوئے یوں دعا کی:
[6] [یَغۡفِرُ اللّٰہُ لَکُمۡ ۫ وَ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ]
اللہ تمہاری مغفرت کرے اور وہ رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ [ يوسف: 92]
◈ سیدنا یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہوتے ہیں:
[7] [لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ]
تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بلاشبہ میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔ [الأنبياء:87]
◈ نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: جس مسلمان نے بھی ان الفاظ کے ساتھ کسی معاملے کے لیے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرمایا ہے۔
[جامع الترمذي، حدیث: 3505]
◈ سیدنا موسیٰ علیہ السلام متعدد مواقع پر معافی کے حصول کے لیے ان الفاظ میں بارگاہِ ایزدی میں التجا پرداز ہوئے:
[8] [رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ فَاغۡفِرۡلِیۡ]
اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، لہذا تو میری مغفرت فرما۔ [القصص:16]
[9] [اَنۡتَ وَلِیُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَ ارۡحَمۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡغٰفِرِیۡنَ]
تو ہی ہمارا کارساز ہے، لہذا ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو بخشنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ [الاعراف:155]
[10] [سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ]
(اے اللہ!) تو پاک ہے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں۔ [الاعراف:143]
[11] [رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِاَخِیۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِیۡ رَحۡمَتِکَ ۫ۖ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ]
اے میرے رب! تو مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
[الاعراف:151]
◈ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اللہ کے حکم سے بنو عمالقہ کی بستی میں داخل ہوتے وقت اس کلمے کے ساتھ استغفار کرنے کا حکم دیا تھا:
[12] [حِطَّۃٌ]
(اے اللہ!) ہمیں بخش دے۔ [البقرة: 58]
◈ فرعون کی قوم کے جادوگر ایمان لانے کے بعد اپنے گناہوں کے لیے اللہ کے حضور یوں دعا گو ہوئے:
[13] [اِنَّـاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغۡفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَکۡرَہۡتَنَا عَلَیۡہِ مِنَ السِّحۡرِ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرٌ وَّ اَبۡقٰی]
بے شک ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ہمیں بخش دے ہماری خطائیں اور وہ جادو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا، اور اللہ بہت بہتر اور وہی باقی رہنے والا ہے۔
[طٰہٰ:73]
[14] [اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنۡ کُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ]
بے شک ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے گا، اس لیے کہ ہم پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ [الشعراء:51]
◈ بنی اسرائیل میں سے بچھڑے کی پرستش کرنے والوں نے اپنی گناہوں کی معافی کے لیے یوں دعا کی تھی:
[15] [لَئِنۡ لَّمۡ یَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَ یَغۡفِرۡ لَنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ]
اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ کیا اور ہمیں نہ بخشا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں (شامل) ہو جائیں گے۔ [الأعراف:149]
◈ سیدنا سلیمان علیہ السلام مغفرت اور بادشاہت کے حصول کے لیے اللہ کی بارگاہ میں یوں عرض پرداز ہوئے:
[16] [رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ ہَبۡ لِیۡ مُلۡکًا لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ مِّنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ]
اے میرے رب! مجھے بخش دے، اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر کہ وہ میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو، بلاشبہ تو ہی بہت عطا کرنے والا ہے۔ [ص:35]
◈ ملکہ سبا (بلقیس) نے اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے یوں معافی مانگی اور اسلام قبول کر لیا:
[17] [رَبِّ اِنِّیۡ ظَلَمۡتُ نَفۡسِیۡ وَ اَسۡلَمۡتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ]
اے میرے رب! بے شک (اب تک سورج کی عبادت کر کے) میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اور (اب) میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی فرماں بردار ہو گئی ہوں۔ [النمل:44]
◈ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے امتیوں کی معافی کے لیے یوں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی:
[18] [اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ]
اگر تو انہیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ [المآئدة:118]
◈ بعض سابقہ انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں نے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا:
[19] [رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ اِسۡرَافَنَا فِیۡۤ اَمۡرِنَا وَ ثَبِّتۡ اَقۡدَامَنَا وَ انۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ]
ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کاموں میں ہم سے جو زیادتیاں ہوئیں وہ معاف کر دے۔ اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ [آل عمران:147]
◈ حاملین عرش اور ان کے گرد رہنے والے فرشتے ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے اہل ایمان کی بخشش کی دعا کرتے:
[20] [رَبَّنَا وَسِعۡتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحۡمَۃً وَّ عِلۡمًا فَاغۡفِرۡ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَ قِہِمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ]
اے ہمارے رب! تو (اپنی) رحمت اور (اپنے) علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، لہذا تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی، اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ [المؤمن:7]
◈ نبی کریم ﷺ کو ان الفاظ میں بخشش و معافی طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے:
[21] [رَّبِّ اغۡفِرۡ وَ ارۡحَمۡ وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ]
اے میرے رب! میری مغفرت فرما، اور (مجھ پر) رحم فرما، اور تو ہی سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ [المؤمنون:118]
◈ روزِ قیامت نبی کریم ﷺ اور آپ کے امتی ان الفاظ میں دعا کریں گے:
[22] [رَبَّنَاۤ اَتۡمِمۡ لَنَا نُوۡرَنَا وَ اغۡفِرۡ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ]
اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہماری مغفرت فرما، بے شک تو ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ [التحريم:8]
◈ اللہ تعالیٰ کے نیک اور برگزیدہ بندے کن الفاظ میں اپنے رب کے حضور معافی کے طالب ہوتے ہیں یا لوگوں کو کن الفاظ میں اپنے خالق کے سامنے معافی کی درخواست پیش کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی رہنمائی کے لیے بعض اہل اللہ کی دعائیں یوں ذکر کی ہیں:
[23] [رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَ ارۡحَمۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰحِمِیۡنَ]
اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، لہذا تو ہماری مغفرت فرما اور ہم پر رحم کر، اور تو ہی سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ [المؤمنون:109]
[24] [رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ]
اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لائے، پس تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ [آل عمران:16]
[25] [رَبَّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ کَفِّرۡ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الۡاَبۡرَارِ]
اے ہمارے رب! پھر ہمارے گناہ بخش دے، اور ہم سے ہماری برائیاں دور کر دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ فوت کر۔ [آل عمران:193]
[26] [غُفۡرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الۡمَصِیۡرُ]
اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ [البقرة:285]
[27] [رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ]
اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جنہوں نے ایمان میں ہم سے پہل کی اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی کینہ نہ رکھ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو بہت نرمی والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [الحشر: 10]
[28] [رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ اِصۡرًا کَمَا حَمَلۡتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ۚ وَ اعۡفُ عَنَّا ٝ وَ اغۡفِرۡ لَنَا ٝ وَ ارۡحَمۡنَا ٝ اَنۡتَ مَوۡلٰىنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَی الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ]
اے ہمارے رب! اگر ہم سے بھول چوک ہو جائے تو ہماری گرفت نہ کر۔ اے ہمارے رب! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں وہ ہم سے نہ اٹھوا اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ [البقرة:286]
ہم تو مائل بہ کرم ہیں!
اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادِ عالی (جسے حدیثِ قدسی کہتے ہیں) ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا۔ آپ نے اسے اللہ تعالیٰ سے روایت کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو مخاطب کر کے فرمایا:
[يَا عِبَادِي: إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوا]
اے میرے بندو! بلاشبہ میں نے اپنے اوپر ظلم حرام قرار دیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام ہی قرار دیا ہے، اس لیے ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔
[يَا عِبَادِي: كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ]
اے میرے بندو! تم سبھی گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں تو مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔
[يَا عِبَادِي: كُلُّكُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ]
اے میرے بندو! تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، تو مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔
[يَا عِبَادِي: كُلُّكُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ كَسَوْتُهُ، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ]
اے میرے بندو! تم میں سے ہر ایک عریاں ہے سوائے اس کے جسے میں پہناؤں، تو مجھ سے پہناوا مانگو، میں تمہیں پہناؤں گا۔
[يَا عِبَادِي: إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ]
اے میرے بندو! بلاشبہ تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں تمام گناہ معاف کرتا ہوں، سو مجھ سے معافی چاہو، میں تمہیں معاف کروں گا۔
[يَا عِبَادِي: إِنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي، فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي، فَتَنْفَعُونِي]
اے میرے بندو! تم میرے نقصان کو ہرگز نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور تم میرے فائدے کو ہرگز نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے فائدہ دو۔
[يَا عِبَادِي: لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا]
اے میرے بندو! تمہارے اگلے اور پچھلے (تمام) جن و انس تم میں سے ایک انتہائی متقی آدمی کے دل کے مطابق ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کسی شے کا اضافہ نہیں ہوگا۔
[يَا عِبَادِي: لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا]
اے میرے بندو! تمہارے اگلے اور پچھلے (تمام) جن و انس تم میں سے ایک انتہائی فاجر آدمی کے دل کے مطابق ہو جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں کسی شے کی کمی نہیں ہوگی۔
[يَا عِبَادِي: لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ، وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ، قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي، إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ]
اے میرے بندو! تمہارے اگلے اور پچھلے (تمام) جن و انس اگر ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور مجھ سے مانگیں، پھر میں ہر انسان کو اس کی حاجت عطا کروں (اس کی ضرورت پوری کر دوں) تو یہ امر میرے پاس موجود (خزانوں) میں اتنی بھی کمی نہیں کرے گا جتنی کمی کرتی ہے سوئی کہ جب اسے سمندر میں ڈالا جائے۔
[يَا عِبَادِي: إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ]
اے میرے بندو! یہ تمہارے ہی تو اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں۔ پھر تمہیں ان کا پورا بدلہ دے دیتا ہوں۔ تو جو شخص بھلائی پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو اس کے سوا پائے، وہ صرف خود کو ملامت کرے۔
سعید بن عبد العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو ادریس خولانی رحمہ اللہ جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو فرطِ عقیدت سے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے۔ [صحیح مسلم، حدیث: 2577]
اللہ تعالیٰ نے اس عظیم الشان حدیث میں اپنی رب العالمینی کا اظہار کیا اور اپنی بے پایاں رحمت کے مختلف پہلوؤں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اس کی رحمت کا ہی مظہر ہے کہ وہ بلا امتیاز لوگوں کی جملہ ضروریات کا بندوبست کرتا ہے۔ وہی ان کے کھانے پینے کا اور لباس کا بندوبست کرتا ہے۔ وہ ان کی تمام چھوٹی بڑی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یوں اس نے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں بھی اس کے حضور پیش کریں تاکہ وہ انھیں پورا کرے۔ حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔
اگر وہ اگلے پچھلے تمام لوگوں کو عطا کرتا رہے تو بھی اس کے خزانوں میں ذرہ بھر کمی نہیں آتی۔ جس طرح سمندر میں سوئی ڈبو کر نکالی جائے تو سمندر کے پانی میں قطرہ بھر کمی نہیں آتی۔
انسان خطائیں کرتے ہیں۔ ان سے گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔ یوں ان کی ایک بہت بڑی ضرورت یہ بھی ہے کہ ان کی خطائیں معاف کر دی جائیں۔
گناہوں کا بوجھ ان کے کندھوں پر سے اتار دیا جائے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ زمین پر بسنے والی دونوں عاقل مخلوقیں، یعنی جن و انس کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ان کے گناہ معاف کر دیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مخلوقوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کے گناہ معاف کر دے گا۔ شرط یہ عائد کی ہے کہ وہ اس کے حضور گناہوں کی معافی چاہیں۔ اگر وہ اس سے معافی چاہیں گے تو وہ ان کے گناہ معاف کر دے گا۔
یہ بھی فرمایا کہ تمہیں اچھے برے جیسے بھی حالات پیش آ جائیں وہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگر تمہیں بہتر حالات پیش آتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں معاف فرما دیا۔ اگر برے حالات پیش آتے ہیں تو خود کو ملامت کرو، خود کو قصوروار ٹھہراؤ کہ تمہاری بداعمالیوں کا نتیجہ یہی تھا۔
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو اگر برے حالات اور مشکلات سے واسطہ پڑے تو اسے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور کثرت سے استغفار کرنا چاہیے۔
استغفار، احادیث نبویہ کی روشنی میں
توبہ و استغفار اور گناہوں کی بخشش مانگنے کے حوالے سے نبی کریم ﷺ سے متعدد دعائیں مروی ہیں۔ ان سب کا یہیں ذکر ممکن نہیں، ہم ان میں سے اہم اور ضروری دعاؤں کا ذکر کرتے ہیں:
استغفار کی نبوی دعائیں
[1] [أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ]
میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں۔
[صحیح مسلم، حدیث: 591؛ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین بار استغفار کرتے۔ اس حدیث کے راوی ولید کہتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا: آپ کیسے استغفار کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ[أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ] پڑھا کرتے تھے۔]
[2] [سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي]
پاک ہے تو اے اللہ! اے ہمارے رب! اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے معاف کر دے۔ [صحیح البخاری، حدیث: 794، و صحیح مسلم، حدیث: 484]
[3] [رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ]
اے میرے رب! مجھے معاف کر دے اور میری توبہ قبول فرما، بلاشبہ تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔
[سنن ابی داؤد، حدیث: 1516، و سنن ابن ماجہ، حدیث: 3814، محدث البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے]
◈ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو ایک مجلس میں سو مرتبہ (یہی مذکورہ بالا) استغفار کہتے ہوئے شمار کرتے تھے۔
[4] [أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ]
میں معافی چاہتا ہوں بڑی عظمت والے اللہ سے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ زندہ ہے، سب کو سنبھالنے والا، اور میں اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
[سنن ابی داؤد، حدیث: 1517، و جامع الترمذی، حدیث: 3577، محدث البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے]
◈ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے آپ کا یہ فرمان عالی بیان کرتے ہیں کہ جو شخص یہ (مذکورہ بالا) کلمات پڑھتا ہے، اسے بخش دیا جاتا ہے اگرچہ اس نے میدانِ جہاد سے بھی راہِ فرار اختیار کی ہو۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کثرت کے ساتھ یہ کلمات پڑھا کرتے تھے:
[5] [سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ]
پاک ہے اللہ اپنی تعریف کے ساتھ، میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
[صحیح مسلم، حدیث: 484]
[6] [أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ]
میں اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6307، و صحیح مسلم، حدیث: 2702]
◈ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کہ میں ایک دن میں ستر سے زائد بار اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرتا ہوں۔
سید الاستغفار:یہ استغفار کے سب سے افضل کلمات ہیں:
[7] [اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ]
اے اللہ! تو میرا رب ہے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ اور میں قائم ہوں تیرے عہد اور تیرے وعدے پر، جہاں تک میں طاقت رکھتا ہوں۔ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اُس کے شر سے جو میں نے کیا۔ میں اقرار کرتا ہوں اپنے آپ پر تیری نعمت کا اور اعتراف کرتا ہوں اپنے گناہ کا۔ پس تو مجھے معاف کر دے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص دن میں یقین سے یہ کلمات پڑھے اور اسی روز شام ہونے سے پہلے وفات پا جائے، وہ اہل جنت میں سے ہے۔ اور جو رات میں یقین سے یہ کلمات پڑھے اور صبح ہونے سے پہلے وفات پا جائے، وہ اہل جنت میں سے ہے۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6306]
[8] [اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي]
اے اللہ! تو بہت زیادہ معاف کرنے والا، بڑا فیاض و سخی ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، لہذا مجھے معاف کر دے۔
[جامع الترمذی، حدیث: 3513، و سنن ابن ماجہ، حدیث: 3850، و مسند احمد:35384]
[9] [اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي وَجِدِّي وَخَطَئِي وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي]
یا الہی! میری غلطیاں، نادانیاں، اپنے معاملے میں زیادتیاں اور میرے وہ گناہ جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، معاف فرما دے، یا اللہ! جو گناہ میں نے ہنسی مذاق میں کیے یا دانستہ طور پر کیے، یا بھول چوک میں ہوئے یا جان بوجھ کر کیے، الغرض یہ سب میری ہی طرف سے ہوئے، سب کو بخش دے۔
[صحیح البخاری، حدیث: 6398، و صحیح مسلم، حدیث: 2719]
[10] [اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِّنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ]
یا الہی! بلاشبہ میں نے اپنی جان پر بہت زیادہ ظلم کیا ہے اور تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا، لہذا تو اپنی جناب سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، بلاشبہ تو ہی بڑا بخشنے والا، انتہائی مہربان ہے۔
[صحیح البخاری، حدیث: 834، وصحیح مسلم، حدیث: 2705]
[11] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، أَسْأَلُكَ حُبَّكَ ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ]
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں نیکیاں کرنے کا، برائیاں چھوڑنے کا، مسکینوں سے محبت کرنے کا اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرمائے۔ اگر تیرا کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنے کا ارادہ ہو تو مجھے آزمائش سے بچا کر موت دے دینا اور میں تجھ سے تیری محبت اور اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل کی محبت مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے۔
[مسند احمد:22109، وجامع الترمذی، حدیث: 3235، والمستدرک للحاکم: 1934، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے، نیز فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل، یعنی امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ اس حدیث کے آخر میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے: ’’اسے یاد رکھو اور دوسرے لوگوں کو بھی سکھاؤ۔]
[12] [اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي، وَبَارِكْ لِي فِي رِزْقِي]
یا الہی! میرے گناہ معاف فرما دے، میرے لیے میرا گھر کشادہ کر دے اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔
[مسند احمد: 16599، وصحیح الجامع: 1265]
[13] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ]
یا الہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، یا الہی! اس لیے کہ تو واحد ہے، یکتا ہے، ایسا بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔ (میں سوال کرتا ہوں) کہ تو میرے گناہ بخش دے، یقیناً تو خوب بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
[سنن النسائی، حدیث: 1302، و مسند احمد: 18974]
[14] [اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْهَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ]
یا الہی! مجھے گناہوں اور غلطیوں سے پاک کر دے۔ یا الہی! مجھے ان سے اس طرح صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ یا الہی! مجھے پاک کر دے (میرے گناہوں کو) برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی سے دھو کر۔ [سنن النسائی، حدیث: 402]
[15] [اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَهِلْتُ]
یا الہی! میرے پوشیدہ اور علانیہ، جو میں نے بھول چوک میں کیے یا جانے بوجھ کر کیے، جنہیں میں جانتا ہوں اور جن کا مجھے پتہ نہیں چل سکا، تمام گناہ معاف فرما دے۔
[المستدرک للحاکم:1945، ومسند احمد: 17114، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے الاصابہ میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے]
[16] [اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ]
اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے آرام و عافیت سے بہرہ ور فرما اور میں روزِ قیامت (میدانِ حشر میں) کھڑے ہونے کی تنگی سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔
[سنن ابن ماجہ، حدیث: 1356، وسنن ابی داود، حدیث: 766، وسنن النسائی، حدیث: 1618]
[17] [اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي]
یا الہی! مجھے معاف کر دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما۔
[صحیح مسلم، حدیث: 2697، وسنن ابی داود، حدیث: 832، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے (ایک اعرابی سے) فرمایا تھا: ’’یہ کلمات تیرے لیے تیری دنیا و آخرت جمع کر دیں گے۔ ابوداؤد کے الفاظ ہیں کہ جب وہ اعرابی کھڑا ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس نے اپنے ہاتھ خیر سے بھر لیے ہیں]
[18] [اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَأَسْأَلُكَ عَزِيمَةَ الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَقَلْبًا سَلِيمًا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ مِمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ]
الہی! میں تجھ سے معاملے کی مضبوطی اور ہدایت کی پختگی کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کے اسباب اور تیری بخشش کے سامان کا سوال کرتا ہوں۔ اور تجھ سے تیری نعمت کا شکر کرنے اور تیری بہترین عبادت کرنے (کی توفیق) کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے سلامتی والے دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں اور تجھ سے وہ خیر و بھلائی مانگتا ہوں جسے تو جانتا ہے۔ اور اس برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں جسے تو جانتا ہے اور میں تجھ سے ان گناہوں کی معافی مانگتا ہوں جنہیں تو جانتا ہے، بلاشبہ تو ہی چھپی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔
[مسند احمد:17133، و جامع الترمذی، حدیث: 3407، و سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، حدیث: 3228، و المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث: 7138 واللفظ لہ]
[19] [رَبِّ اغْفِرْلِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ]
میرے پروردگار! روزِ جزاء میرے گناہوں کو معاف فرما دینا۔
[صحیح مسلم، حدیث: 214۔ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! ابنِ جدعان جاہلیت کے دور میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلایا کرتا تھا، کیا یہ اعمال اسے فائدہ دیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں، کیونکہ اس نے ایک دن بھی نہیں کہا: میرے پروردگار! روزِ جزاء میرے گناہوں کو معاف فرما دینا]
[20] [اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِّنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَدْخِلْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا]
اے اللہ! مجھے بخش دے۔ اے اللہ! روزِ قیامت مجھے اپنی مخلوق میں سے کثیر لوگوں کے اوپر کر دے، اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما اور قیامت کے دن مجھے باعزت مقام میں داخل فرما۔ [صحیح البخاری، حدیث: 4323، وصحیح مسلم، حدیث: 2498]
[21] [اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَعِذْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ]
الہی! میرے گناہ معاف فرما دے اور میرے دل کے غصے کو نکال باہر کر اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے محفوظ فرما۔
[یہ دعا نبی کریم ﷺ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں کہی گئی دعا سے ماخوذ ہے: ’’الہی! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے غصے کو نکال باہر کر اور اسے گمراہ کن فتنوں سے محفوظ فرما۔ (الأربعين في مناقب أمهات المؤمنين، ص: 85، و عمل اليوم والليلة لابن السني، حدیث: 457)ابن السنی کی ایک دوسری روایت میں ’’اسے گمراہ کن فتنوں سے محفوظ فرما‘‘ کے بجائے ’’اسے شیطان سے محفوظ فرما‘‘ کے الفاظ ہیں]
[22] [اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ، وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ، وَسِرَّهُ]
اے اللہ! میرے تمام گناہ معاف فرما دے، چھوٹے اور بڑے، پہلے اور بعد والے، ظاہر اور پوشیدہ۔
[صحیح مسلم، الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود، حدیث: 483]
[23] [رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي]
اے میرے رب! مجھے معاف کر دے۔ اے میرے رب! مجھے معاف کر دے۔
[سنن ابی داود، الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه وسجوده؟ حدیث: 874]
وہ اوقات و مواقع جن میں استغفار کرنا مستحب ہے
عبادات کی انجام دہی کے بعد:
عبادات کی انجام دہی کے بعد استغفار کرنا اس لیے مستحب ہے کہ عبادات کی ادائیگی میں کمی و کوتاہی ہو جاتی ہے۔ استغفار اس کمی و کوتاہی کا کفارہ بن جاتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: [ثُمَّ اَفِیۡضُوۡا مِنۡ حَیۡثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسۡتَغۡفِرُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]
پھر جہاں سے سب لوگ لوٹیں وہیں سے تم بھی لوٹو اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، بہت رحم کرنے والا ہے۔
[سورۃ البقرۃ: 199]
وقتِ سحر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے اُن بندوں کی تعریف کی ہے جو وقتِ سحر اس سے معافی کا سوال کرتے ہیں۔ ارشادِ الہی ہے: [وَ الۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ]
اور سحری کے اوقات میں بخشش طلب کرنے والے ہیں۔ [سورۃ آل عمران:17]
مجلس کے اختتام پر:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھتا ہے اور وہاں وہ بہت غل اٹھاتا اور شور شرابا کرتا ہے، پھر وہ مجلس میں سے اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھتا ہے تو مجلس میں اس سے جو کچھ سرزد ہوا تھا وہ معاف کر دیا جاتا ہے:
[سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ]
پاک ہے تو اے اللہ! اپنی تعریف کے ساتھ۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔
[جامع الترمذی، حدیث: 3433، محدث البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے]
مرنے والے کے لیے دعائے مغفرت:
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب میت کی تدفین سے فراغت پا لیتے تو وہیں ٹھہرتے اور فرماتے:
[اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ وَاسْأَلُوا لَهُ التَّثْبِيتَ، فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ]
اپنے بھائی کے لیے مغفرت مانگو اور اس کے لیے ثابت قدمی کا سوال کرو کیونکہ اب اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
[سنن ابی داود، حدیث: 3221، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے]
استغفار کے فوائد و ثمرات
◈ استغفار کرنے سے حکمِ الٰہی کی تعمیل ہوتی ہے۔
◈ استغفار کرنے سے رزق میسر آتا اور اس میں اضافہ ہوتا ہے۔
◈ استغفار جنت میں داخلے کا پروانہ ہے۔
◈ استغفار کرنے سے گناہ معاف ہوتے اور خطائیں مٹ جاتی ہیں۔
◈ استغفار کرنے کے بعد آدمی کے درجات کی بلندی کا باعث ہے۔
◈ استغفار کرنے سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔
◈ استغفار کرنے سے دل کو پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔
◈ استغفار کرنے سے بے اولادوں کو اولاد ملتی ہے۔
◈ استغفار کرنے سے صحت و تندرستی قائم رہتی ہے اور انسان اپنی جسمانی و روحانی قوتوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔
قرآن مجید کی یہ آیت دیکھیے:
اس میں استغفار کے فوائد بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں:
[فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا]،[یُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدۡرَارًا]،[وَّ یُمۡدِدۡکُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّ بَنِیۡنَ وَ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ جَنّٰتٍ وَّ یَجۡعَلۡ لَّکُمۡ اَنۡہٰرًا]
[تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے]،[ وہ تم پر بہت برستی ہوئی بارش اتارے گا]،[ اور وہ مالوں اور بیٹوں کے ساتھ تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں باغات عطا کرے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کردے گا]
[سورۃ نوح: 10تا12]
◈ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کے متعلق مروی ہے کہ ان سے آکر کسی نے قحط سالی کی شکایت کی تو انہوں نے اسے استغفار کی تلقین کی۔
کسی دوسرے شخص نے فقر و فاقہ کی شکایت کی، اسے بھی انہوں نے یہی نسخہ بتایا۔
ایک اور شخص نے اپنے باغ کے خشک ہونے کا شکوہ کیا، اسے بھی فرمایا: استغفار کر۔
ایک شخص نے عرض کی: میرے گھر اولاد نہیں ہوتی، اسے بھی کہا: اپنے رب سے استغفار کر۔
کسی نے جب ان سے کہا کہ سب کو آپ نے استغفار ہی کی تلقین کیوں کی؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت کر کے فرمایا کہ میں نے اپنے پاس سے یہ بات نہیں کی۔ یہ وہ نسخہ ہے جو ان سب باتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔
◈ استغفار بھی ذکرِ الٰہی ہے، اور ذکرِ الٰہی اطمینانِ قلب کا باعث ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ]
آگاہ رہو! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔ [سورۃ الرعد:28]
استغفار کی افادیت کے متعلق اسلاف کے اقوال
◈ حضرت لقمان رحمہ اللہ نے اپنے فرزند سے فرمایا:پیارے بیٹے! کچھ گھڑیاں ایسی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کسی سائل کو نامراد نہیں لوٹاتا، اس لیے استغفار کثرت سے کیا کرو۔
[شعب الإيمان للبيهقي: 389/2، حدیث: 1120]
◈ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ہمارے لیے عذاب سے دو طرح کی امان تھی۔ ایک امان تو رخصت ہوئی۔ وہ تھی نبی کریم ﷺ کی ہمارے درمیان موجودگی۔ دوسری امان استغفار ہے جو ابھی ہمارے ساتھ ہے۔ یہ بھی چلی گئی تو ہم تو تباہ ہو جائیں گے۔
[مسند أحمد (الموسوعة الحديثية): 393/4]
◈ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے:اپنے گھروں میں، دستر خوانوں پر، راستوں میں، بازاروں میں اور اپنی مجلسوں میں کثرت سے استغفار کیا کرو۔ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کب معافی ملتی ہے۔
[التوبة لابن أبي الدنيا، رقم: 151]
◈ حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
یہ قرآن تمہیں تمہاری بیماری اور اس کے علاج سے آگاہ کرتا ہے۔ تمہاری بیماری تو گناہ ہیں اور ان کا علاج استغفار ہے۔
[شعب الإيمان للبيهقي: 347/9، حدیث: 6745]
استغفار کے فوائد و ثمرات سچے واقعات کی روشنی میں
خوشحالی در آئی:
ایک خاتون بیان کرتی ہیں کہ شوہر کی وفات کے بعد وہ پانچ بچوں کے ساتھ تنہا رہ گئیں اور مایوسی و پریشانی نے انہیں گھیر لیا۔
آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے گزر بسر مشکل تھی، اور شوہر کے چھوڑے ہوئے تھوڑے سے پیسے انہوں نے ایک کاروبار میں لگا دیے۔
ایک دن ریڈیو پر استغفار کے فضائل سن کر انہوں نے اسے اپنا معمول بنا لیا اور اپنے بچوں کو بھی کثرت سے استغفار کرنے کی تلقین کی۔
صرف چھ ماہ کے اندر، ان کی پرانی املاک پر ایک تعمیراتی منصوبہ شروع ہوا جس سے انہیں لاکھوں روپے حاصل ہوئے۔
خاتون کے بڑے بیٹے نے قرآن مجید حفظ کر لیا اور بعد میں وہ علاقے کے تمام دینی مدارس کا نگران مقرر ہوا، جس سے ان کے گھر میں خوشحالی آئی اور وہ اللہ کے فضل سے آسودہ حال ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام اولاد کو سیدھے راستے پر ڈال دیا اور وہ سب اپنا معاشرتی کردار بہترین طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ یوں اللہ تعالی کے بے پایاں فضل و کرم سے میری تمام پریشانیاں دور ہوئیں اور مجھے سچی خوشی میسر آئی۔
گھریلو اتفاق:
ایک آدمی نے بتایا کہ جب بھی ہم میاں بیوی میں ان بن ہو جاتی ہے تو میں غصے ہو کر گھر سے باہر نکل جاتا ہوں۔ لیکن جونہی گھر کے دروازے سے باہر قدم رکھتا ہوں، شدت سے دل چاہتا ہے کہ لوٹ جاؤں اور اہلیہ کو منا لوں۔ میں نے اہلیہ کو یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی کہ کیا آپ جانتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے۔ میں نے کہا: بتاؤ تو معلوم ہو۔ وہ بولی: جونہی آپ لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل جاتے ہیں، میں استغفار پڑھنا شروع کر دیتی ہوں۔ پھر آپ آ کر مجھے منا لیتے ہیں۔
قید سے رہائی:
ایک آدمی نے بتایا کہ میرے خلاف ایک سال سے زائد عرصے کے لیے قید کے آرڈر جاری ہوئے۔ مجھے نبی کریم ﷺ کی حدیث یاد آئی (جس نے استغفار لازم کر لیا……) چنانچہ ذکرِ الہی اور استغفار کو میں نے وردِ زبان کر لیا۔ دو مہینے گزرے تھے کہ سرکاری لوگوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ تمہارے خلاف دیے گئے آرڈر کی مدت ختم ہوئی اور تمہیں بری کر دیا گیا ہے۔ میں وہاں سے نکلا تو میرے ایک دیرینہ محسن نے مجھے بلایا اور کہا کہ مجھے پتہ چلا تھا، تم جیل میں تھے۔ تمہاری معاشی حالت اچھی نہیں۔ اس نے مجھے لاکھوں روپے دیے اور کہا کہ اس روپیہ کو اپنی ضروریات کے لیے کام میں لاؤ۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے مجھے پھر بلایا اور اتنی ہی رقم میرے حوالے کی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے کثرتِ استغفار کی بدولت میری مشکلات آسان کیں اور اس آدمی کے دل میں میرے لیے رحم ڈال دیا۔
امِ یوسف ماں بن گئی:
یہ واقعہ کویت کے قرآن کریم ریڈیو پر نشر کیا گیا۔ یہ واقعہ امِ یوسف کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میری شادی کو دس پندرہ برس ہو گئے تھے، میرے کوئی اولاد نہ تھی۔ اس دوران میں نے اندرون و بیرونِ ملک تمام مشہور ڈاکٹروں سے رجوع کیا تھا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ ایک روز میں نے ایک دینی درس میں شرکت کی۔ درس کا موضوع تھا استغفار کے فضائل۔ بس پھر کیا تھا، میں نے استغفار کو وردِ زبان کر لیا۔ ابھی چھ مہینے نہیں گزرے تھے کہ میں امید سے ہو گئی۔ میرے ایک بیٹا ہوا جس کا نام میں نے یوسف رکھا۔ وہ اب ماشاء اللہ چھ برس کا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا خوبصورت وعدہ:
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
[إن الشيطان قال: وعزتك يارب! لا أبرح أغوي عبادك ما دامت أرواحهم في أجسادهم]
شیطان نے کہا: یا رب! تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کی روحیں ان کے بدنوں میں رہیں گی۔
[فقال الرب عزوجل: وعزتي وجلالي! لا أزال أغفر لهم ما استغفروني]
رب عزوجل نے فرمایا: میری عزت اور میرے جلال کی قسم! میں انہیں معاف کرتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی طلب کرتے رہیں گے۔
بلاشبہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، جس نے اپنے گناہ گار بندوں سے یہ امید افزا وعدہ فرمایا۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جس نے اپنے کوتاہ کار بندوں پر یہ فضل و کرم فرمایا۔
[المستدرک للحاکم: 7865، و مسند أحمد: 11237]