عرفہ کے روزے کی فضیلت اور ذوالحجہ کے نو روزے رکھنے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

عرفہ کے روزہ کی فضیلت

عرفہ کا روزہ انتہائی فضیلت کا حامل ہے کہ اس دن کے روزہ سے دو سالوں، ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہ معاف ہوتے ہیں، لہذا اس دن کے روزہ کا اہتمام کرنا انتہائی مستحب عمل ہے۔ سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفر السنة التى قبله والسنة التى بعده
”میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ عرفہ کے دن کا روزہ دو سال، ایک سال گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“
صحيح مسلم: 1162۔ سنن أبي داود: 2420۔ جامع الترمذي: 749۔ سنن ابن ماجه: 1713۔

فوائد:

علمائے کرام بیان کرتے ہیں کہ عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، سے مراد صغیرہ گناہ ہیں۔ اگر صغیرہ گناہ نہ ہوں تو کبائر میں تخفیف واقع ہوتی ہے اور اگر روزہ دار صغائر و کبائر سے پاک ہو تو اس مناسبت سے درجات بلند ہوتے ہیں۔ چنانچہ ملا علی قاری، مرقاۃ شرح مشکوۃ المصابیح میں امام الحرمین کا قول بیان کرتے ہیں: ”عرفہ کا روزہ صغیرہ گناہ مٹاتا ہے۔“
قاضی عیاض کہتے ہیں: ”اہل السنت والجماعت بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ البتہ کبیرہ گناہ توبہ یا رحمتِ الٰہی ہی سے مٹتے ہیں۔ پھر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ عرفہ کا روزہ اگلے سال کے گناہوں کا کفارہ کیسے بنتا ہے، حالانکہ اس سال کے گناہ تو آدمی پر ہوتے ہی نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس روزہ دار کو آئندہ سال گناہوں سے محفوظ رکھے گا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے رحمت اور ثواب سے اس قدر نوازے گا کہ یہ رحمت و ثواب گزشتہ و آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“
تحفة الأحوذي: 377/3۔

ذوالحجہ کے نو روزے رکھنا

ذوالحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے رکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور مستحب عمل ہے، لہذا ان دنوں کے روزوں کا اہتمام مشروع ہے۔
بعض امہات المومنین سے مروی ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يصوم تسع ذي الحجة، ويوم عاشوراء، وثلاثة أيام من كل شهر، أول اثنين من الشهر والخميس
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے (پہلے) نو دن کا، دس محرم کا، ہر مہینے تین دن اور مہینے کی پہلی سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے۔“
صحيح سنن أبي داود: 2437۔ سنن النسائي: 2419۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور ہنیدو بن خالد صحابی اور ان کی زوجہ محترمہ صحابیہ ہیں ، لہذا ان کا غیر معروف ہونا قادح نہیں۔

ایک تعارض اور اس کا حل:

مذکورہ بالا حدیث دلیل ہے کہ ذوالحجہ کے ابتدائی نو دنوں کے روزے رکھنا مسنون و مستحب عمل ہے۔ لیکن اس بیان کردہ حدیث کے معارض سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث ہے:
ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صائما فى العشر قط
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالحجہ کے دس دنوں میں کبھی بھی روزہ کی حالت میں نہیں دیکھا۔“
صحيح مسلم: 1176۔
اس تعارض کا حل امام نووی رحمہ اللہ یوں پیش کرتے ہیں:
”علماء بیان کرتے ہیں کہ حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہم پیدا ہوتا ہے کہ عشرہ ذوالحجہ کے روزے مکروہ ہیں، یہاں عشرہ ذوالحجہ سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی نو دن ہیں۔ یہ مفہوم کشید کرنے سے ان روزوں کی کراہت ثابت نہیں ہوتی بلکہ ان دنوں کے روزے بہت مستحب ہیں۔ بالخصوص نو ذی الحجہ یعنی عرفہ کا روزہ تو خاص استحباب کا حامل ہے۔ اس کی فضیلت کے متعلق احادیث گزر چکی ہیں اور صحیح بخاری میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشرہ ذی الحجہ کے مقابلے میں باقی ایام کی عبادات افضل نہیں۔“ (یہ روایت دلیل ہے کہ دیگر عبادات کی طرح ان دنوں کے روزے بھی افضل و مستحب ہیں)۔“
حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ ذوالحجہ کے روزے نہیں رکھے، سے یہ مفہوم اخذ کیا جائے گا کہ (ہو سکتا ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عارضے، مرض یا سفر وغیرہ کی وجہ سے ان دنوں کے روزے نہ رکھے ہوں یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دنوں میں روزے سے نہ دیکھا ہو اور ان کی نفی سے حقیقت میں روزوں کی نفی لازم نہیں آتی، کیونکہ ان روزوں کے اثبات پر سنن ابی داؤد اور سنن نسائی کی یہ روایت بھی دال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے نو روزے رکھا کرتے تھے۔
شرح النووي: 72/8۔