مضمون کے اہم نکات
عشرہ ذوالحجہ میں کرنے والے اعمال
❀ ارشاد باری تعالی ہے:
وَالْفَجْرِ ﴿1﴾ وَلَيَالٍ عَشْرٍ ﴿2﴾
” (ہم کو) قسم ہے فجر کی۔ اور دس راتوں کی۔ “
(89-الفجر:1–2)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ذوالحجہ کی دس راتیں ہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دس دنوں میں کیے گئے اعمال سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں ہے۔ “ لوگوں نے پوچھا اور جہاد میں بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں جہاد میں بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنا مال و جان لے کر (جہاد کے لیے) نکلا اور واپس ساتھ کچھ نہ لایا (شہید ہو گیا)۔ “
(صحیح بخاری: 969، سنن ابوداؤد: 2438، سنن ابن ماجہ: 1727، سنن ترمذی: 757)
❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان (پہلے) دس دنوں سے زیادہ کوئی دن برتر نہیں۔ نہ ہی ان ایام میں کیے گئے اعمال سے کوئی عمل زیادہ پسندیدہ ہے۔ پس ان دنوں میں کثرت سے اللہ کی تہلیل، کبریائی اور تعریف کیا کرو۔ “
(مسند احمد: 2/75)
اللہ تعالیٰ کی خاطر اعمال کرنا
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ ﴿٦٠﴾
”اور وہ لوگ (اللہ کی راہ میں) جو کچھ دینا ہوتا ہے دیتے ہیں اور (پھر بھی) ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے رب کے پاس واپس جانا ہے۔ “
(23-المؤمنون:60)
کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو زنا، چوری اور شراب نوشی کا مرتکب ہوتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اے صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ آدمی ہے جو روزہ رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے اور اسے ڈر رہتا ہے کہ شاید (اس کا عمل) قبول نہ ہو۔ “
(سنن ابن ماجہ: 4198، سنن ترمذی: 3175)
دکھاوے اور شہرت کے لیے اعمال کرنا
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو (کسی نیک کام میں) دکھلاوا کرے گا، اللہ اس کی (بدنیتی) حقیقت (قیامت کے دن) ظاہر کر دے گا اور جو شہرت کے لیے نیکی کرتا ہے اللہ اس کی تشہیر (روز قیامت) کر دے گا۔ “
(صحیح بخاری: 6499، صحیح مسلم: 2987 سنن ابن ماجہ: 4207، سنن ترمذی: 2381، مسند احمد: 4013)
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ عزوجل فرماتا ہے میں دوسرے شریکوں کے مقابلے میں، شراکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جس نے (بظاہر) میرے لیے عمل کیا، اس میں میرے سوا کوئی اور شریک کر لیا تو میں اس سے لاتعلق ہو جاتا ہوں۔ اور وہ (عمل) اسی کے لیے ہوتا ہے جسے اس نے (میرا) شریک بنایا۔ “
(صحیح مسلم: 2985 سنن ابن ماجہ: 4202)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب قیامت کے دن سب لوگ جمع ہوں گے تب اعلان کیا جائے گا، جس نے اللہ کے لیے کیے گئے عمل میں کسی کو شریک کیا، وہ اس عمل کا ثواب غیر اللہ ہی سے مانگے، کیونکہ اللہ تعالیٰ دوسرے شریکوں کے مقابلے میں شراکت سے سب سے زیادہ بے نیاز ہے۔ “
(سنن ابن ماجہ: 4203، سنن ترمذی: 3154)
❀ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا:
”کیا میں تمہیں دجال کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک بات سے آگاہ نہ کروں؟“ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں (فرمائیے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شرک خفی (چھپا ہوا شرک) دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو اور نماز کو اس لیے خوبصورت (لمبا) کرے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ “
(سنن ابن ماجہ: 4204، مسند احمد: 3/30)
❀ سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اس نے شرک کیا، جس نے دکھاوے کا روزہ رکھا اس نے شرک کیا، جس نے دکھاوے کا صدقہ کیا اس نے شرک کیا۔ “
(مسند احمد: 43)
پسندیدہ اعمال
ناخن اور بال نہ کٹوانا
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس کے پاس قربانی کا جانور ہو جسے وہ (10 ذوالحجہ کو) ذبح کرنا چاہتا ہو تو ذوالحجہ کا چاند نظر آجانے کے بعد اپنے (سر، بغل اور زیر ناف) بال نہ کٹوائے اور نہ ہی ناخن ترشوائے، حتی کہ وہ قربانی کر لے۔ “
(صحیح مسلم: 1977سنن ابوداؤد: 2791، سنن ترمذی: 1523)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مجھے اضحی کے دن کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ اسے بطور عید مناؤں جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے خاص کیا ہے۔ “ ایک آدمی نے پوچھا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیے) اگر مجھے دودھ دینے والے جانور کے سوا کوئی اور جانور نہ ملے تو کیا میں اس جانور کی قربانی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ (نماز عید کے بعد) تم اپنے سر کے بال کاٹ لو، ناخن اور مونچھیں تراش لو، (بغل) اور زیر ناف بالوں کی صفائی کر لو۔ اللہ عزوجل کے ہاں تمہاری یہی کامل قربانی ہے۔ “
(سنن ابوداؤد: 2789، سنن نسائی: 4370)
نماز
فرائض کی طرف جلدی کرنا۔ زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرنا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک یہ سب سے افضل عمل ہے۔
❀ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ کے آگے کثرت سے سجدہ ریز ہوا کر، اللہ کے آگے ایک سجدہ کرنے سے اللہ تیرا ایک درجہ بلند فرما دے گا اور تیری ایک خطا مٹا دے گا۔ “
(صحیح مسلم: 1093)
روزے
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار کام نہیں چھوڑتے تھے:
➊ عاشورہ کا روزہ
➋ عشرہ ذوالحجہ کے روزے
➌ ایام بیض کے (ہر مہینے کی 13، 14 اور 15 تاریخ کے) تین روزے
➍ فجر کی دو سنتیں۔
(مسند احمد: 287/6)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے پہلے 9 دن، عاشورہ محرم اور ہر ماہ کی پہلی سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھا کرتے تھے۔
(سنن ابوداؤد: 2437، سنن نسائی: 2374)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ یوم عرفہ کے روزہ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے گناہ معاف فرما دیں گے۔ “
(صحیح مسلم: 1162 سنن ترمذی: 749)
ادائیگی عمرہ و حج (جو مسلمان حج پر جانے کا ارادہ رکھتا ہو)
❀ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:
وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ ﴿٩٧﴾
”اور جو کوئی اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس گھر کا حج کرے، اور جو کوئی (استطاعت کے باوجود اس حکم سے) انکار کرے تو (یاد رکھو اس سے اللہ کو تو کچھ بھی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ) اللہ تو دنیا جہاں سے بے نیاز ہے۔ “
(3-آل عمران:97)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس شخص نے اللہ کے گھر کا حج کیا اور بے ہودگی و فسق و فجور سے بچا رہا تو وہ اس حالت میں لوٹے گا جیسے ماں کے بطن سے آج ہی پیدا ہوا ہے۔ “
(صحیح بخاری: 1521، صحیح مسلم:1536 – 1350)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”حج مبرور (اللہ کی بارگاہ میں مقبول حج) کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ “
(صحیح بخاری: 1773، 1820صحیح مسلم: 1349، سنن نسائی: 2628، سنن ابن ماجہ: 2888، 2889)
تہلیل، تکبیر اور تحمید
❀ رب العالمین نے فرمایا:
وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ
”اور (تمہارے رب کا حکم ہے) گنتی کے (ان چند دنوں میں) اللہ کو یاد کرتے رہو۔ “
(2-البقرة:203)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دس دنوں سے زیادہ کوئی دن برتر نہیں اور نہ ہی ان ایام میں کیے گئے اعمال سے کوئی عمل زیادہ پسندیدہ ہے۔ پس ان دنوں میں کثرت سے اللہ کی تہلیل، تکبیر (کبریائی) اور تحمید (تعریف) کیا کرو۔ “
(مسند احمد: 2/75)
تہلیل لا إله إلا الله تکبیر الله أكبر تحمید الحمد لله
تہلیل ، تکبیر، تحمید علیحدہ علیحدہ تمام احادیث کی کتب میں موجود ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اذکار کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ ان دنوں میں اللہ کی کبریائی بیان کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہن عیدین میں تکبیرات کہتے تھے۔
❀ الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر كبيرا (بیہقی: 3/316) میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله والله أكبر، الله أكبر ولله الحمد (ابن ابی شیبہ: 2/187) میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہیں۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان دس دنوں میں بازار کی طرف نکل جاتے اور لوگ ان بزرگوں کی تکبیر سن کر تکبیر کہتے۔ اور محمد بن باقر نفل نمازوں کے بعد بھی تکبیر کہتے۔ (صحیح بخاری قبل از حدیث: 969)
❀ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں عید گاہ کی طرف جانے کا حکم تھا۔ کنواری لڑکیاں اور حیض والیاں بھی پردہ میں باہر آتیں۔ یہ سب مردوں سے پیچھے رہتیں۔ جب مرد تکبیر کہتے یہ بھی تکبیر کہتیں اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی دعا کرتیں۔ اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔
(صحیح بخاری: 971، صحیح مسلم: 888، 891 سنن ابوداؤد: 1138)
وضاحت:
یہ تکبیرات صرف فرض نمازوں کے بعد ہی نہیں بلکہ تمام عشرہ میں (1 ذوالحجہ نماز فجر تا 13 ذوالحجہ بعد از نماز عصر تک) پڑھتے رہنا ہے۔
اعمال صالح:
وہ اعمال جن کے بارے میں عام طور پر لوگ غفلت کا شکار رہتے ہیں، مثلاً:
➊ قرآن کی تلاوت
➋ بہت زیادہ صدقہ کرنا
➌ مساکین پر خرچ کرنا
➍ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، وغیرہ۔
مندرجہ بالا اعمال پر ہمیشگی اختیار کرنا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔