عید الاضحی کے 11 مسنون افعال صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر طارق ہمایوں شیخ کی کتاب عید الاضحٰی سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عید الاضحی (10 ذوالحجہ) کو کرنے کے مسنون افعال

❀ سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑھ کر عظمت والا دن یوم النحر (10 ذوالحجہ) ہے اور اس کے بعد یوم القر (11 ذوالحجہ) ہے۔ “
(سنن ابوداؤد: 1765، مسند احمد: 4/350)
یہ حدیث حاکم، ابن خزیمہ، ابن حبان اور بیہقی نے بھی روایت کی ہے.
❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور اہل مدینہ کے ہاں دو دن تھے جن میں وہ کھیل کود کر لیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ دو دن کیا ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہم دور جاہلیت میں ان دنوں میں کھیل کود کر لیا کرتے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے اچھے دن دیے ہیں۔ اضحی (قربانی) کا دن اور فطر کا دن۔ “
(سنن ابوداؤد: 1134، سنن نسائی: 1557)

پاک عمدہ کپڑے، خوشبو اور غسل:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن ہر بالغ (مسلمان) پر غسل، مسواک اور خوشبو لگانا اگر میسر ہو ضروری ہے۔ “
(صحیح بخاری: 887،880 صحیح مسلم: 252 846، 847 سنن ابوداؤد: 344، سنن نسائی: 1376، سنن ترمذی: 494، سنن ابن ماجہ: 1084، موطا امام مالک: 142)
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن ہر بالغ مسلمان پر نہانا واجب ہے۔ “
(صحیح بخاری: 895، صحیح مسلم: 844 سنن ابوداؤد: 344، سنن نسائی: 1378، سنن ابن ماجہ: 1089)
❀ سیدنا نافع رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن عید گاہ جانے سے پہلے غسل کیا کرتے تھے۔
(موطا امام مالک: 422، مصنف عبدالرزاق: 5753، سنن بیہقی: 6125)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کیا کرتے تھے۔
(سنن ابن ماجہ: 1315)
❀ جمعہ، عیدین اور خاص مواقع پر عمدہ لباس کا اہتمام کرنا مسنون ہے۔
(صحیح بخاری: 886، صحیح مسلم: 892،538 سنن ابوداؤد: 1076، سنن نسائی: 1381)
❀ جمعہ کے دن عید ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن دو عیدیں (دو خوشیاں) جمع ہو گئی ہیں، اور جو چاہے اس کے لیے یہ نماز عید (جمعہ کے لیے) کفایت کرے گی۔ “
(سنن ابوداؤد: 1070، سنن ابن ماجہ: 1310)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ رب العزت اس بندے سے محبت کرتا ہے جو اس کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال بھی کرے (عمدہ لباس اور شرعی زینت سے بدن آراستہ ہو)۔ “
(سنن ترمذی: 2819)

وضاحت:

جمعہ کے روز غسل، مسواک اور خوشبو کی تاکید ہے تو عیدین جو کہ مسلمانوں کے خوشی کے تہوار ہیں ان پر بھی غسل کرنا، مسواک کرنا، خوشبو لگانا اور عمدہ لباس زیب تن کرنا افضل ہے۔
لہذا اسراف سے بچتے ہوئے غسل کرنا، مسواک کرنا، پاک و صاف عمدہ لباس یا نیا لباس پہننا، مردوں کا خوشبو لگانا اور عورتوں کو نمائشی بناؤ سنگھار سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے، بغیر خوشبو لگائے، بے پردگی اور بے ہودگی سے بچتے ہوئے عید گاہ میں نماز عید میں شامل ہونا چاہیے۔

نماز عید الاضحی سے پہلے کچھ نہ کھانا:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کی نماز ادا کرنے سے پہلے کچھ بھی تناول نہ فرماتے بلکہ نماز کے بعد گھر واپس لوٹ کر اپنی قربانی میں سے کھاتے۔
(سنن ترمذی: 542، موطا امام مالک: 426)

عیدگاہ میں نماز ادا کرنا:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید الفطر اور عید الاضحی ادا کرنے عید گاہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری: 956،982 صحیح مسلم: 885884 845، 844، سنن نسائی: 1590، سنن ابوداؤد: 2811، سنن ابن ماجہ: 3161)
❀ بارش ہونے کی صورت میں (صرف ایک دفعہ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز مسجد ہی میں ادا فرمائی۔
(سنن ابوداؤد: 1160، سنن ابن ماجہ: 1313)

عید گاہ جاتے اور واپس آتے راستہ بدلنا:

❀ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز کے لیے عید گاہ جاتے ہوئے ایک راستہ اختیار فرمایا اور واپسی دوسرے راستے سے تشریف لائے۔
(صحیح بخاری: 986، سنن ابوداؤد: 1156، سنن ابن ماجہ: 1299، سنن ترمذی: 541)

عید الاضحی کی نماز جلد ادا کرنا:

❀ عید الاضحی کے دن سب سے پہلا کام نماز عید ادا کرنا ہے۔
(صحیح بخاری: 951، 968 صحیح مسلم: 885، سنن ابوداؤد: 2800، سنن ترمذی: 1508، سنن نسائی: 1580)
❀ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ نماز عید الفطر یا عید الاضحی کے لیے تشریف لائے تو امام کے تاخیر کر دینے کو انہوں نے ناپسند فرمایا اور کہا ”ہم تو اس وقت فارغ ہو چکے ہوتے تھے، اس وقت توضیحی (نماز اشراق) کا وقت ہو چکا ہے۔ “
(سنن ابوداؤد: 1135، سنن ابن ماجہ: 1317)

عورتوں کا نماز عید کے لیے جانا:

❀ ارشاد ربانی ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
” (تیرے رب کا حکم ہے) تو اپنے رب کے لیے نماز ادا کر اور تو (اس کے لیے) نحر کر (قربانی دے)۔ “
(108-الکوثر:2)
اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب عورتوں اور مردوں سب کے لیے ہے۔
❀ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ پردے میں بیٹھی ہوئی عورتوں کو بھی عید کے دن ساتھ لے جائیں۔ پوچھا گیا کہ جو ایام (حیض) میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ بھی خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شامل ہوں۔ “ ایک عورت کہنے لگی: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو وہ کیسے کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس کی بہن (سہیلی) اسے اپنی چادر کا حصہ اوڑھا دے۔ “
(صحیح بخاری: 974، صحیح مسلم: 890 سنن ابوداؤد: 1136، سنن نسائی: 1559، سنن ابن ماجہ: 1307، سنن ترمذی: 540)

حیض والیوں اور کنواری لڑکیوں کا عید گاہ جانا:

❀ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں عید گاہ کی طرف جانے کا حکم تھا۔ کنواری لڑکیاں اور حیض والیاں بھی پردہ میں باہر آتیں۔ یہ سب مردوں سے پیچھے رہتیں۔ جب مرد تکبیر کہتے یہ بھی تکبیر کہتیں اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی دعا کرتیں۔ اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔
(صحیح بخاری: 97، صحیح مسلم: 890، سنن ابوداؤد: 1138)
❀ نو عمر اور حیض والی عورتوں پر بھی واجب ہے کہ وہ عید گاہ میں حاضر ہوں۔ حیض والی عورتیں عید گاہ میں علیحدہ رہیں۔
(صحیح بخاری: 974، صحیح مسلم: 890 سنن ابوداؤد: 1137، سنن نسائی: 1560، سنن ابن ماجہ: 1308، سنن ترمذی: 540)

عید کی مبارک باد دینا:

سنن بیہقی میں لکھا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب نماز ادا کرنے کے بعد لوٹتے تو ایک دوسرے کو تقبل الله منا ومنكم کے الفاظ کہتے۔

وضاحت:

معانقہ (گلے ملنا) کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں، اس لیے یہ فعل سنت نہیں۔ یہ معاشرتی رسم ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں لہذا گلے ملنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

قربانی کے جانور ذبح کرنا:

❀ فرمانِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ قربانی کے جانور کو نمازِ عید ادا کرنے کے بعد ذبح کرنا ہے۔ اگر نماز سے پہلے ذبح کر لیا تو دوبارہ نماز کے بعد ایک اور جانور ذبح کرنا ہو گا۔
(صحیح بخاری: 954،5562 صحیح مسلم: 1960 سنن ابوداؤد: 2800، سنن ترمذی: 1508، سنن نسائی: 1580، موطا امام مالک: 1051)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کے بعد عید گاہ ہی میں قربانی کے جانور ذبح فرماتے۔
(صحیح بخاری: 982، سنن نسائی: 1590، سنن ابوداؤد: 2811، سنن ابن ماجہ: 3161)

قربانیوں کا گوشت کھانا:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہر اونٹ میں سے ایک ایک بوٹی لے کر پکایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کچھ گوشت کھایا اور شوربا پیا۔
(سنن ابن ماجہ: 3158، مسند احمد: 3/331)

عید کے دن خوشی منانا اور کھیل کھیلنا:

خوشی منانا اور کھیل وغیرہ کھیلنا جائز ہے۔ لیکن ایسے افعال نہ کیے جائیں جس کے کرنے سے منع کیا گیا ہو اور جن کے کرنے سے گناہ ہو۔
(صحیح مسلم: 892 سنن ابن ماجہ: 3158، سنن نسائی: 15941598 مسند احمد: 3/331)