تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {لِمَنِ اتَّقٰى:} یعنی گیارہ اور بارہ کو دو دن جمرات کو کنکر مار کر چلا آئے تب بھی جائز ہے اور اگر کوئی تاخیر کرے یعنی پورے تین دن منیٰ میں ٹھہرا رہے تو بھی جائز ہے، بشرطیکہ دل میں تقویٰ ہو اور حج کے احکام خلوص سے ادا کرے۔ (ابن کثیر)
➌ { اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ:} حج کے موقع پر لوگ حشر کی طرح جمع ہوتے ہیں اس لیے حج کے ذکر کے ساتھ حشر کا دن یاد دلا کر اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حکم دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہو کر شعب انصار میں کھڑے ہو کر یہ حکم سنایا تھا، کہ لوگو یہ دن روزوں کے نہیں بلکہ کھانے پینے اور ذکر اللہ کرنے کے ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:3919:صحیح] سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ایام معدودات ایام تشریق ہیں اور یہ چار دن ہیں دسویں ذی الحجہ کی اور تین دن اس کے بعد کے یعنی دس سے تیرہ تک، [تفسیر ابن جریر الطبری:547/2] سیدنا ابن عمر، ابن زبیر، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم، عطاء مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابو مالک، ابراہیم نخعی، یحییٰ بن ابی کثیر، حسن، قتادہ، سدی، زہری، ربیع بن انس، ضحاک، مقاتل بن حیان، عطاء خراسانی رحمہ اللہ علیہم، امام مالک رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:547/2]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ تین دن ہیں دسویں گیارہویں اور بارہویں ان میں جب چاہو قربانی کرو لیکن افضل پہلا دن ہے مگر مشہور قول یہی ہے اور آیت کریمہ کے الفاظ کی ظاہری دلالت بھی اسی پر ہے کیونکہ دو دن میں جلدی یا دیر معاف ہے تو ثابت ہوا کہ عید کے بعد تین دن ہونے چاہئیں اور ان دنوں میں اللہ کا ذکر کرنا قربانیوں کے ذبح کے وقت ہے، اور یہ بھی پہلے بیان ہو چکا ہے کہ راجح مذہب اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے کہ قربانی کا وقت عید کے دن سے ایام تشریق کے ختم ہونے تک ہے، اور اس سے مراد نمازوں کے بعد کا مقررہ ذکر بھی ہے اور ویسے عام طور پر یہی اللہ کا ذکر مراد ہے، اور اس کے مقررہ وقت میں گو علماء کرام کا اختلاف ہے لیکن زیادہ مشہور قول جس پر عمل درآمد بھی ہے یہ ہے کہ عرفے کی صبح سے ایام تشریق کے آخر دن کی عصر کی نماز تک، اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی دارقطنی میں ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ،
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے اور آپ رضی اللہ عنہ کی تکبیر پر بازار والے لوگ تکبیر کہتے ہیں یہاں تک کہ منیٰ کا میدان گونج اٹھتا اسی طرح یہ مطلب بھی ہے کہ شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے وقت تکبیر اور اللہ کا ذکر کیا جائے جو ایام تشریق کے ہر دن ہو گا، ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ بیت اللہ کا طواف صفا مروہ کی سعی شیطانوں کو کنکریاں مارنی یہ سب اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے ہے۔ [سنن ابوداود:1888، قال الشيخ الألباني:ضعیف] چونکہ اللہ تعالیٰ نے حج کی پہلی اور دوسری واپسی کا ذکر کیا اور اس کے بعد لوگ ان پاک مقامات کو چھوڑ کر اپنے اپنے شہروں اور مقامات کو لوٹ جائیں گے اس لیے ارشاد فرمایا کہ «وَهُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» [23-المؤمنون: 79] اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور یقین رکھو کہ تمہیں اس کے سامنے جمع ہونا ہے اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا پھر وہی سمیٹ لے گا پھر اسی کی طرف حشر ہو گا۔ پس جہاں کہیں ہو اس سے ڈرتے رہا کرو۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى بذكره في الأيام المعدودات وهي أيام التشريق الثلاثة بعد العيد لمزيتها وشرفها، وكون بقية المناسك تفعل بها، ولكون الناس أضيافاً لله فيها، ولهذا حرم صيامها، فللذكر فيها مزية ليست لغيرها، ولهذا قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر الله» ، ويدخل في ذكر الله فيها؛ ذكره عند رمي الجمار، وعند الذبح، والذكر المقيد عقب الفرائض، بل قال بعض العلماء إنه يستحب فيها التكبير المطلق كالعشر وليس ببعيد {فمن تعجل في يومين}؛ أي: خرج من منى، ونفر منها قبل غروب شمس اليوم الثاني {فلا إثم عليه ومن تأخر}؛ بأن بات بها ليلة الثالث، ورمى من الغد {فلا إثم عليه}؛ وهذا تخفيف من الله تعالى على عباده في إباحة كلا الأمرين، ولكن من المعلوم أنه إذا أبيح كلا الأمرين، فالتأخُّر أفضل؛ لأنه أكثر عبادة. ولما كان نفي الحرج قد يفهم منه نفي الحرج في ذلك المذكور وفي غيره، والحاصل أن الحرج منفي عن المتقدم والمتأخر فقط، قيده بقوله: {لمن اتقى}؛ أي: اتقى الله في جميع أموره وأحوال الحج، فمن اتقى الله في كل شيء، حصل له نفي الحرج في كل شيء، ومن اتقاه في شيء دون شيء كان الجزاء من جنس العمل {واتقوا الله}؛ بامتثال أوامره، واجتناب معاصيه {واعلموا أنكم إليه تحشرون}؛ فمجازيكم بأعمالكم، فمن اتقاه وجد جزاء التقوى عنده، ومن لم يتقه عاقبه أشدَّ العقوبة، فالعلم بالجزاء من أعظم الدواعي لتقوى الله، فلهذا حثَّ تعالى على العلم بذلك.