اللہ تعالیٰ کی ثناء، نماز وتر، قنوت کے احکامات اور وتر ترک کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

أبواب الوتر

اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کرنا

① سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
”اے اللہ! میں تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں تیری ناراضی سے، تیری معافی کی پناہ میں آتا ہوں تیری سزا سے، تیرے (عذاب) سے تیری ہی پناہ میں آتا ہوں، میں پوری طرح تیری تعریف کر ہی نہیں سکتا، تو اس طرح ہے جس طرح تو نے خود اپنی ذات کی تعریف کی ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1414۔ ترمذی، کتاب الدعوات 3566۔ نسائی، قیام اللیل وتطوع النہار 3/ 247۔ ابن ماجہ اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا 1179۔ روایت صحیح ہے۔

نماز وتر کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أحب أن يوتر بخمس فليفعل
”یقیناً وتر حق ہے، پس جو شخص پانچ وتر پڑھنا چاہے تو وہ پڑھ لے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1422 النسائی، قیام اللیل و تطوع النہار 3/ 238۔ ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا 1190۔ یہ روایت صحیح ہے۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! رات کی نماز (تہجد) کی کیا کیفیت ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خفت الصبح فأوتر بواحدة
”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پس جب تمہیں صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر ایک رکعت وتر پڑھ لو“۔
بخاری، کتاب الاذان 1140۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین و قصرہا 737 ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1321۔
③ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء سے نمازِ فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔
بخاری، کتاب الجمعہ 1140۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرہا 737۔

قنوت اور اس کے متعلق احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوتِ (نازلہ ) کی۔
بخاری، کتاب الجمعہ 1002۔ مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ 676-677۔
② سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے، میں انہیں وتر میں پڑھتا ہوں:
اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت تباركت ربنا وتعاليت
”اے اللہ! مجھے ان میں ہدایت دے جن کو آپ نے ہدایت دی، اور مجھے ان میں عافیت دے جن کو آپ نے عافیت دی، اور کارساز بن میرا ان میں جن کی آپ نے کارسازی کی، اور برکت دے میرے لیے اس میں جو آپ نے مجھے دے رکھا ہے، اے ہمارے رب! آپ برکت والے ہیں اور بلند ہیں“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1413، 1214۔ ترمذی، کتاب الصلوۃ 4663۔ یہ روایت صحیح ہے۔
③ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
”اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے سے تیری ناراضی سے اور تیرے بچاؤ کے ذریعے سے تیرے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں اور میں تیرے ذریعے سے تجھ سے پناہ چاہتا ہوں، جس طرح تو نے اپنی ثنا خود بیان کی ہے ویسے میں تیری ثنا بیان نہیں کر سکتا“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 12 : 1412، 1413 ۔ ترمذی، کتاب الصلوۃ 4663 ۔ روایت صحیح ہے۔

ترک وتر کی ممانعت

① سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا
”وتر حق (واجب) ہے۔ تو جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1419۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 418/5 حدیث 23083۔