علم طب نہ جانتے ہوئے علاج کرنے کی ممانعت
① عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تطبب ولم يعلم منه طب فهو ضامن
”جو شخص علم طب نہیں رکھتا، لیکن وہ اس کے باوجود علاج کرتا ہے تو (نقصان ہو جانے کی صورت میں) وہ ضامن ہے“۔
ابوداؤد، كتاب الديات 4586۔ النسائي، القسامة 406/8۔
بیماری کے متعدی ہونے کا عقیدہ رکھنے کی ممانعت
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا عدوىٰ ولا طيرة ويعجبني الفأل
”کوئی بیماری متعدی ہے نہ بدشگونی کی کوئی حیثیت ہے، البتہ فال مجھے پسند ہے“۔
انہوں نے پوچھا: فال کیا چیز ہے؟ فرمایا:
كلمة طيبة
”اچھی بات“۔
بخاری، کتاب الطب 5756۔ مسلم، كتاب السلام 11 / 2224۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا عدوىٰ ولا طيرة ، وإنما الشؤم فى ثلاث : فى الفرس ، والمرأة ، والدار
”کوئی بیماری متعدی ہے نہ بدشگونی کی کوئی حیثیت ہے، نحوست صرف تین چیزوں: گھوڑے، عورت اور گھر میں ہے“۔
بخاری، کتاب الطب 5772۔ مسلم، كتاب السلام 2225/115۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا عدوىٰ ولا طيرة ولا هامة ولا صفر
”بیماری کا متعدی ہونا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کوئی چیز نہیں ہے“۔
بخاری، کتاب الطب 5757۔ مسلم، کتاب السلام 2220/101۔