محدثین کے نزدیک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہی حیثیت
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا شمار اہل الرائے میں ہوتا ہے، انہیں محدثین میں شمار نہیں کیا گیا، اس لیے ان کی فقہ کو صحیح اسلامی فقہ نہیں کہا جا سکتا۔ ابو حنیفہ رحمہ اللہ اہل الرائے میں سے تھے، جن کی ائمہ کرام رحمہم اللہ نے مذمت کی ہے۔
❁ امام سفیان بن سعید ثوری، قاضی شریک بن عبداللہ اور امام حسن بن صالح بن حیی رحمہم اللہ بیان کرتے ہیں:
[أدركنا أبا حنيفة، وما يعرف بشيء من الفقه ما نعرفه إلا بالخصومات]
ہم نے ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو دیکھا، وہ (اسلامی) فقہ سے آشنا نہ تھے، ہم نے انہیں (دین میں) جھگڑے کرتے ہی دیکھا۔
[تاريخ بغداد للخطيب: 559/15، وسنده صحيح]
ان ائمہ کی مراد یہ تھی کہ امام حنیفہ رحمہ اللہ کے کلام میں رائے کا غلبہ تھا، جس کی بنیاد پر وہ دیگر محدثین سے دین میں اختلاف کرتے تھے۔ محدثین کے علم کے مقابلے میں جو ہے، وہ علم نہیں ہے، وہ محض رائے زنی ہے، جو محدثین کے ہاں شدید مذموم ہے۔