مضمون کے اہم نکات
سفر میں اور سواری پر نماز :
اللہ تعالیٰ نے نماز کی فرضیت کے متعلق فرمایا :
إِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتٰبًا مَّوْقُوتًا
بے شک نماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض ہے۔
(النساء : 103)
نماز اتنا اہم فریضہ ہے کہ یہ کسی عذر اور ہنگامی حالت میں بھی ساقط نہیں ہوتی سوائے تین حالتوں کے :
➊ طفولیت
➋ حیض و نفاس
➌ طویل بے ہوشی
کتنی ہی سخت بیماری ہو، بیٹھنا اٹھنا دشوار ہو، تب بھی نماز ادا کی جائے گی چاہے صرف سر یا آنکھ کا اشارا ہی ہو سکے۔
سفر چاہے کتنا دشوار گزار ہو نماز ادا کی جائے گی البتہ قصر کی رعایت ضرور دی گئی ہے۔
دشمن کا خوف ہو، حالت جنگ ہو، گولے برس رہے ہوں نماز ادا کی جائے گی ہاں نماز خوف کی صورت میں تخفیف ضرور کی گئی ہے۔
نماز کے وجوب کی شدت کا پتا اس سے بھی چلتا ہے کہ دیگر عبادات اگر کوئی شخص خود ادا نہ کر سکے تو اس کے بدل یا نیابت کا شرعی طریقہ موجود ہے مثلاً مریض روزہ نہ رکھ سکے تو فدیہ ادا کرنا، حج خود ادا کرنے کی سکت نہ ہو تو حج بدل کروانا لیکن نماز نہ زندگی میں کسی سے پڑھوائی جاسکتی ہے اور نہ ہی زندگی کے بعد میت کی طرف سے کوئی دوسرا پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی اس کا فدیہ دیا جا سکتا ہے۔
حالت سفر میں اللہ تعالیٰ نے نماز کی تخفیف کر دی جسے اصطلاح میں قصر نماز کہا جاتا ہے۔ قصر کا مطلب ہے کم کرنا۔ قصر نماز کا حکم ہجرت کے چوتھے سال سفر جہاد کے دوران نازل کیا گیا جسے ہر قسم کے سفر میں جاری رکھا گیا۔ ارشاد ہے :
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلٰوةِ
”جب تم زمین میں سفر پر جارہے ہو تو تم پر نماز قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ “
(النساء: 101)
قصر نمازوں کی رکعتیں :
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پہلے دو، دو رکعت نماز فرض ہوئی تھی۔ بعد میں سفر میں نماز اپنی حالت (دو رکعت) پر ہی رہی البتہ حضر کی نماز پوری (موجودہ رکعتوں کے ساتھ) کر دی گئی۔
(بخاری : 3935، 1090۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین: 685۔ احمد : 272/6۔ نسائی : 255/1)
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی یہی عمل رہا۔
(بخاری : 1102۔ مسلم : 689۔ ابو داود : 1223۔ ابن ماجہ : 1071)
قصر نمازوں کی رکعات کا نقشہ درج ذیل ہے :
فجر : 2 سنت، 2 فرض
ظہر : 2 فرض
عصر : 2 فرض
مغرب : 3 فرض
عشاء : 2 فرض، وتر
قصر نماز سنت یا واجب ؟
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبان کے ذریعے مسافر پر دو رکعتیں، مقیم پر چار رکعتیں (ظہر، عصر اور عشا کی) اور حالت خوف میں ایک رکعت نماز فرض ہے۔
(مسلم : 647، کتاب صلوۃ المسافرین۔ احمد : 237/1۔ ابو داود : 1247)
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی باتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم دورانِ سفر دو رکعت نماز ادا کریں۔
(صحیح نسائی : 112۔ ابن حبان : 1451۔ موطا : 145/1)
یعلی بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا : بتائیے کہ لوگوں کا سفر میں نماز قصر کرنا کیسا ہے؟ حالانکہ اللہ عزوجل نے فرمایا : اگر تمہیں ڈر ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے اور اب کفار سے ڈر خوف والی کیفیت تو ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے بھی تعجب ہوا تھا جو تمہیں ہوا ہے۔ پس میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
صدقة تصدق الله بها عليكم فاقبلوا صدقته
یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تم پر کیا ہے سو اس کا صدقہ قبول کرو۔
(مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین : 686۔ ابو داود : 1199)
عمر رضی اللہ عنہ، ابن عمر رضی اللہ عنہ، جابر رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام شوکانی رحمہ اللہ، امام ابن حزم رحمہ اللہ، امام داؤد ظاہری رحمہ اللہ، نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ نماز قصر کو واجب کہتے ہیں۔
امام مالک بن انس رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ کی رائے میں قصر نماز سنت موکدہ ہے۔ قصر کرنا یا پوری پڑھنا دونوں طرح جائز ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قصر نماز سنت ہے اور مکمل پڑھنا مکروہ ہے۔
عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کہتے ہیں سنت کو لازمی پکڑیں، قصر کریں، پوری نہ پڑھیں اگرچہ قصر نماز غیر واجب ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفر قصر بھی کرتے اور پوری بھی پڑھتے تھے۔
(دار قطنی : 188/2۔ بیہقی : 141/3)
اس حدیث کو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام ابن حجر رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ اور امام البانی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(دیکھیے : مجموع الفتاوی لابن تیمیہ : 145/24۔ ارواء الغلیل : 7/4۔ تلخیص الحبیر : 92/2۔ فقه الحدیث جلد اول باب صلوۃ السفر)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت میں ہے کہ میں نے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں عمرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری نماز پڑھی اور میں نے قصر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عائشہ تو نے اچھا کیا۔
(دار قطنی: 182/3)
یہ حدیث بھی ضعیف ہے لہذا اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
(دیکھیے : مجموع الفتاوی لابن تیمیہ : 146/24۔ نصب الرایہ : 91/2۔ ارواء الغلیل : 8/3۔ فقه الحدیث باب صلوۃ السفر، ص : 72)
حاصل :
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر قصر نماز ہی پڑھی لہذا ہمیں بھی قصر نماز ہی پڑھنا چاہیے۔
➋ قصر نماز اللہ کی طرف سے بندے کے لیے انعام ہے لہذا اس انعام کو قبول کرنا چاہیے۔
➌ اگر کوئی پوری نماز پڑھ لے تو اس کا بھی جواز ہے۔
سفر سے مراد :
ایسا سفر جس میں اپنے شہر، گاؤں یا بستی سے نکل کر کسی دوسری بستی، شہر یا علاقے میں جانا ہو۔
اپنا شہر چاہے کتنا بڑا ہو اس میں سفر کرتے ہوئے قصر نہیں کی جائے گی۔
قصر نماز کے لیے فاصلہ :
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز قصر کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت پر جاتے تو دو رکعتیں (ظہر، عصر، عشا کی) پڑھا کرتے۔ (تین میل یا تین فرسخ راوی کو شبہ ہے کہ ان میں سے کون سا لفظ بولا تھا)
(ابو داود : 1201۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین : 691)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی چار رکعت نماز (پوری نماز) پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی۔
(ابو داود : 1202۔ بخاری : 1089۔ مسلم، کتاب صلوۃ المسافرین : 690)
نوٹ :
ذوالحلیفہ مدینہ منورہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام ابن قیم رحمہ اللہ، امام شوکانی رحمہ اللہ، نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ عرف عام میں جسے سفر سمجھا جاتا ہے، اس سفر میں نماز قصر کی جائے گی۔
(فقه الحدیث، باب صلوۃ السفر)
امام نووی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ قصر کے لیے کم از کم مسافت تین میل ہے۔
(بخاری تشریح مولانا داود راز)
ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا کہ جب مسافر کا ارادہ طویل سفر کا ہو تو وہ جب شہر سے تین میل باہر آ جائے تو قصر شروع کر دے۔
مولانا داؤد راز رحمہ اللہ صحیح بخاری کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اکثر اہل حدیث علماء اڑتالیس میل سفر پر نماز قصر کے قائل ہیں۔
صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ سنن ابو داود کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اپنے شہر کی حد کو چھوڑ کر کم از کم تین فرسخ یعنی نو میل کی مسافت پر قصر کرنا چاہیے۔ نو میل 22، 23 کلومیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔
امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا موقف یہ ہے کہ اڑتالیس میل ہاشمی کے برابر سفر ہو تو قصر کرے۔ ان کی دلیل یہ حدیث ہے : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اہل مکہ چار بُرید (اڑتالیس میل) سے کم سفر پر قصر نہ کرو اور چار بُرید مکہ سے عسفان تک کا فاصلہ ہے۔
(دار قطنی : 347/1۔ بیہقی : 127/3۔ طبرانی کبیر : 11162 عن ابن عباس رضی اللہ عنہ)
لیکن یہ حدیث مرفوع نہیں موقوف ہے۔ اس کی سند میں راوی عبدالوہاب بن مجاہد بن جبر متروک ہے اس لیے قابل حجت نہیں۔
حاصل :
➊ بہتر یہ ہے کہ تین فرسخ یعنی 22، 23 کلومیٹر (نو میل) کے فاصلے پر جب جانا ہو تو نماز قصر کرے۔
➋ فقہا میں سے جس کی رائے پر بھی عمل کرے درست ہے۔
قصر کتنے دن کے قیام میں :
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (فتح مکہ پر) 19 دن ٹھہرے اور برابر قصر کرتے رہے۔ اس لیے ہم 19 دن کے سفر میں قصر کرتے ہیں اور اس سے زیادہ دن ہوں تو پوری نماز پڑھتے۔
(بخاری : 1080، 4298، 4299۔ ترمذی : 549)
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں ٹھہرنے کی مدت 17 دن ہے۔
(بخاری : 1080، 1081۔ ابو داود : 1230، 1232)
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں قیام کی مدت 15 دن مذکور ہے۔
(ابو داود : 1231)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک میں 20 دن قیام فرمایا اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصر نماز پڑھتے رہے۔
(ابو داود : 1235۔ احمد : 295/3۔ ابن حبان : 2749)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مکہ کے ارادے سے (حج کے لیے) نکلے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم برابر دو رکعت پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے ۔ میں (راوی) نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں کتنے دن قیام کیا، کہا : دس دن تک۔
بخاری : 1081
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسک حج ادا کرنے والے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج ادا کرنے کے بعد تین دن تک مکہ مکرمہ میں ٹھہر سکتے ہیں۔
(مسلم، کتاب الحج، باب جواز الاقامه بمکه للمهاجر)
حافظ عبدالستار حماد رحمہ اللہ لکھتے ہیں : اس فرمانِ نبوی کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرین نے دین کی سر بلندی کے لیے مکہ چھوڑا تھا، اس لیے مکہ فتح ہونے کے باوجود ان کی مسافرانہ حالت برقرار رہنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق تین دن رات تک قیام سے ایک مسافر انسان مقیم کے حکم میں نہیں آتا۔ اس بنا پر بعض محدثین کا خیال ہے کہ آمد اور روانگی کی مدت نکال کر تین دن رات کے قیام کا پختہ ارادہ ہو تو قصر کرنا چاہیے۔ نیز یہ قصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارادے کے تحت کی۔
(فتاویٰ اصحاب الحدیث)
امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ، امام شوکانی رحمہ اللہ، امام ابن حجر رحمہ اللہ، نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ، مولنا عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ کی رائے کے مطابق چار دن کے قیام کا ارادہ ہو تو قصر کی جائے اگر اس سے زیادہ دن ٹھہرنا ہو تو نماز پوری پڑھی جائے گی۔
(فقہ الحدیث : تشریح بخاری از مولانا داؤد راز)
اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کے خیال میں 19 دن قیام کا ارادہ ہو تو قصر کی جائے۔
(تشریح بخاری از مولنا داؤد راز)
حنفیہ کے مطابق اگر 15 دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو قصر کی جائے۔
حاصل :
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے دن کسی جگہ قیام کا ارادہ ہو تو قصر کی جائے۔ صحابہ کرام، محدثین اور فقہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف سفر اور ان کے دنوں کی تعداد سے جو جو نتیجہ اخذ کیا اس کے مطابق اپنی رائے قائم کر لی۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام سفر ہنگامی اور دنوں کے تعین کے بغیر کیے کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سفر در اصل غزوات تھے مثلا فتح مکہ اور تبوک کا سفر۔ غزوے میں یہ پتا ہی نہیں ہوتا کہ کتنے دن سفر میں لگیں گے اور کتنے دن کسی ایک جگہ قیام کرنا پڑے گا۔
➌ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کا سفر امن کی حالت میں کیا۔ اس سفر میں آپ کے کل دس دن صرف ہوئے جن میں سے چار دن مسلسل آپ نے مکہ میں قیام کیا اور اس میں قصر نماز ادا کی۔ اور اسی صورت کو سامنے رکھتے ہوئے اکثر فقہا و محدثین نے قصر کے لیے زیادہ سے زیادہ چار دن کے قیام کی تحدید فرمائی۔
➍ بعض علماء کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار دن سے زیادہ قیام کیا ہی نہیں جس سے یہ پتا چلتا کہ اس سے زیادہ دن کا قیام ہو تو قصر کی جاسکتی ہے یا نہیں کی جاسکتی۔ جب کہ قصر نماز کے حکم میں مطلق سفر کا ذکر ہے لہذا مسافرت کی حالت میں جب تک کسی دوسرے شہر میں ٹھہریں، قصر ہی پڑھی جائے گی۔
جب مدت قیام میں تردد ہو :
یعنی مسافر کہے کہ آج سفر کروں گا یا کل واپسی کروں گا لیکن کسی وجہ سے ایسا نہ کر سکے تو یہ حالت تردد ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ اور غزوہ تبوک کے موقع پر تردد کی حالت میں رہے اور قصر ادا کرتے رہے۔ (احادیث پیچھے گزر چکی ہیں)
ابن عمر رضی اللہ عنہ ایک بار آذربائیجان کے علاقے میں گئے۔ برف کی وجہ سے راستے بند ہو گئے تو آپ کو چھ ماہ مسلسل قیام کرنا پڑا۔ اس دوران آپ مسلسل قصر پڑھتے رہے۔
(بیہقی فی السنن الکبری : 152/3۔ نصب الرایہ للنووی : 185/2۔ فقہ الحدیث)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ صحابہ کرام رامہرمز کے علاقے میں نو ماہ رہے اور قصر نماز ادا کرتے رہے۔
(بیہقی : 152/2 ۔ نصب الرایہ : 186/2 ـ فقہ الحدیث، صلوۃ السفر)
انس رضی اللہ عنہ کسی غزوے کی وجہ سے فارس کے علاقے میں دو سال مقیم رہے اور قصر کرتے رہے۔
(تہذیب الآثار، مسند عمر : 257/1۔ فقہ الحدیث، صلوۃ السفر)
کیوں کہ غزوات و جنگ میں قیام کی مدت غیر یقینی ہوتی ہے۔ جید علمائے احناف کی رائے ہے کہ حالت تردد میں واپسی تک قصر ہی کی جائے گی۔
(نیل الاوطار : 483/2 ۔ سبل السلام : 619/2)
ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امیر صنعانی رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے۔
(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ۔ سبل السلام از امیر صنعانی، فقہ الحدیث)
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اجماع ہے کہ جب تک مسافر اقامت کی نیت نہ کرے وہ قصر کر سکتا ہے خواہ اسے کئی برس گزر جائیں۔
(جامع ترمذی : 578)
عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ 20 دن تبوک میں تردد کی حالت میں گزارے لہذا اگر 20 دن سے زیادہ لگ جائیں تو پھر پوری نماز شروع کر دے۔
(احکام و مسائل)
حاصل :
➊ اگر کسی کام کے لیے کسی شہر میں ٹھہرے اور اس کام کے متعلق پتا ہی نہیں کہ کب ہوگا لیکن اندازہ ہے کہ اتنے دن لگ سکتے ہیں تو اس اندازے کو قیام کی مدت سمجھا جائے اور اسی کے مطابق قصر یا پوری نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا جائے۔
➋ بارش شروع ہو گئی یا دریا میں سیلاب آگیا، ارادہ یہ ہے کہ جیسے ہی موسم بہتر ہوگا، کوچ کر جانا ہے تو یہ حالت تردد ہے کیوں کہ اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
➌ مریض بے ہوش ہو گیا یا اس کی طبیعت زیادہ نڈھال ہو گئی۔ دوا علاج سے چند گھنٹوں یا ایک دو دن میں اس کی صحت بحال ہو سکتی ہے اور اس کی صحت بحال ہونے پر کوچ کا ارادہ ہے تو یہ حالت تردد ہے۔
➍ اگر مریض کی حالت دیکھ کر یہ لگ رہا ہے کہ اتنے دن صحت بحال ہونے میں لگ سکتے ہیں تو یہ حالت تردد نہیں۔
➎ اگر کسی سے رقم یا کوئی چیز لینے کے لیے ٹھہرے اور یہ علم نہیں کہ یہ شخص کب دے گا؟ تو یہ حالت تردد ہے۔
دوپہر کے وقت کوچ کا ارادہ ہو تو :
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں ہوا کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے، پھر کوچ کر جاتے، حالانکہ ہمیں شبہ سا ہوتا تھا کہ سورج ڈھلا بھی ہے یا نہیں؟
(ابو داؤد : 1204 ۔ مسند احمد : 113/3 عن ابو معاویہ)
انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو اس وقت تک کوچ نہ کرتے جب تک کہ ظہر کی نماز نہ پڑھ لیتے۔ ایک شخص نے ان سے کہا : اگر چہ نصف النہار ہی ہوتا۔ انہوں نے کہا : (ہاں) اگر چہ نصف النہار ہی ہوتا۔
(ابو داؤد : 1205 ۔ نسائی : 499)
انس رضی اللہ عنہ ہی سے ایک روایت کا مضمون یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو عصر تک موخر کر لیتے ۔ پھر اترتے اور دونوں کو جمع کر کے پڑھتے اور اگر سفر شروع کرنے سے پہلے ہی سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور سوار ہو جاتے۔
(ابو داؤد : 1218 ۔ بخاری: 1112 ۔ مسلم : 704 ۔ نسائی : 284/1)
حاصل :
➊ سورج ڈھلنے کے فوراً بعد ظہر کی نماز پڑھ کر کوچ کر لے اگر چہ ابھی اذان نہ ہوئی ہو اور دیکھنے میں یوں لگے کہ ابھی تو زوال ہی کا وقت ہے۔
➋ اگر زوال کے وقت کوچ کرتا ہے تو ظہر کو موخر کر کے عصر کے وقت عصر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیا جائے۔
➌ اگر کہیں راستے میں اتر کر ظہر کی نماز ادا کر سکتے ہیں یا ادا کرنا چاہتے ہیں تو ایسا بھی کیا جاسکتا ہے۔
مغرب کے وقت کوچ کرے تو :
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مکہ میں ان کی اہلیہ صفیہ بنت ابو عبید رضی اللہ عنہا کے متعلق بتایا گیا (یعنی وفات کی خبر دی گئی) تو آپ نے سفر کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نکل آئے اور کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں جلدی میں ہوتے تو ان دونوں نمازوں (مغرب اور عشاء) کو جمع کر لیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی، تب اترے اور دونوں نمازوں کو جمع کر کے پڑھا۔
(ابو داؤد : 1207 ۔ ترمذی : 555)
سالم رحمہ اللہ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے سے روایت ہے کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی بیوی صفیہ بنت ابو عبید رضی اللہ عنہا کی بیماری کی خبر ملی۔ (چلتے ہوئے) میں نے ان سے کہا: نماز؟ (یعنی نماز کا وقت ختم ہوا چاہتا ہے)۔ آپ نے فرمایا : چلے چلو۔ پھر میں نے دوبارہ کہا تو آپ نے فرمایا : چلے چلو۔ جب ہم دو یا تین میل چلے تو آپ اترے اور نماز پڑھی یعنی مغرب اور عشاء اور فرمایا کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیزی میں سفر کے لیے نکلنا چاہتے تو ایسا ہی کرتے۔
(بخاری : 1092 ـ ابو داؤد : 1217 اور بیہقی : 160/3 سے بھی یہی مسئلہ واضح ہوتا ہے)
علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج غروب ہونے کے بعد چلتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا۔ پھر (سواری سے) اترتے اور مغرب کی نماز پڑھتے۔ کھانا طلب کر کے کھاتے، پھر عشاء کی نماز پڑھتے، پھر کوچ کرتے اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
(ابو داؤد : 1234)
حاصل :
➊ مغرب کے وقت کوچ کرنے کی جلدی ہو تو مغرب کو موخر کر کے عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھا جا سکتا ہے۔
➋ دو نمازیں جب اکٹھی پڑھی جائیں تو ان میں خفیف سا وقفہ کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً : کھانا کھانا، قضائے حاجت کرنا کسی سے بات چیت کرنا، اقامت کہنا وغیرہ۔
سفر شروع کرتے وقت اپنے گھر یا اپنی بستی میں نماز :
اگر کوئی مسافر سفر کا ارادہ کر چکا ہو۔ تیاری مکمل ہے اور وہ نماز پڑھ کر سفر پر روانہ ہو جائے گا تو وہ مکمل نماز فرض پڑھے گا البتہ سنتیں چھوڑ سکتا ہے۔
بعض تابعین رحمہ اللہ کے خیال میں جب سفر کا ارادہ کر لیا تو اب قصر نماز ہی پڑھے گا۔
(تحفۃ الاحوذی : 135/3)
اپنی شہری آبادی ختم ہونے کے بعد نماز قصر کا حکم شروع ہوگا۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کی رائے یہی ہے۔
(نیل الاوطار : 480/2 ۔ فقہ الحدیث)
امام بخاری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ اہل کوفہ سے (اپنے گھر سے) نکلے تو اس وقت نماز پڑھنا شروع کر دی جب کہ ابھی کوفہ شہر کے گھر دکھائی دے رہے تھے۔
(بخاری: 1089)
حاصل :
➊ اپنے گھر سے نکلتے وقت چاہے ایک نماز پڑھے یا دو نمازیں اکٹھی کر کے پڑھے مکمل نماز پڑھے، اسی میں احتیاط ہے۔
➋ اگر اپنے گھر کی بجائے شہر یا بستی کی کسی اور جگہ پر ہو اور وہیں سے سفر پر نکل جاتا ہے تو قصر نماز پڑھ سکتا ہے، گو پوری بھی پڑھی جاسکتی ہے۔
➌ جب سفر شروع کر دیا تو چاہے اپنے شہر کے مکان دکھائی دے رہے ہوں یا ان کے اندر سے گزر رہا ہو تب بھی نماز قصر پڑھ سکتا ہے اور پوری بھی پڑھ سکتا ہے۔
➍ بہتر یہی ہے کہ بستی سے باہر نکلنے کے بعد قصر نماز شروع کرے۔
➎ مسافر ابھی گھر میں ہے تو وہ جمع تقدیم یا جمع تاخیر نہیں کر سکتا۔ یہ مولانا عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ کی رائے ہے۔
(احکام و مسائل، ج : دوم)
قصر نماز کی اختمامی حد :
علی رضی اللہ عنہ سفر سے واپسی پر جب کوفہ شہر کے سامنے پہنچے تو قصر نماز پڑھی۔ لوگوں نے کہا کہ کوفہ تو یہ سامنے ہے۔ آپ نے جواب دیا : جب تک ہم شہر میں داخل نہ ہو جائیں مکمل نماز نہیں پڑھیں گے۔
(بخاری : 1089)
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی سفر سے واپسی پر بستی میں داخل ہونے سے پہلے تک قصر کرتے رہتے تھے۔
(نصب الرایہ : 183/2)
حاصل :
➊ سفر سے واپسی پر اپنے شہر کی آبادی شروع ہو جائے تو قصر نماز کا حکم بھی ختم ہو جاتا ہے۔
سفر میں دو نمازیں اکٹھی پڑھنا :
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔
(مسلم : 705)
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو ظہر اور عصر جمع کر لیتے اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو موخر کر لیتے حتی کہ عصر کے وقت اترتے (اور انہیں جمع کر کے پڑھتے) اور مغرب میں بھی ایسے ہی کر لیتے یعنی اگر سفر شروع کرنے سے پہلے سورج غروب ہو جاتا تو مغرب اور عشاء جمع کر لیتے ۔ اگر سورج غروب ہونے سے پہلے چل پڑتے تو مغرب کو موخر کر لیتے حتی کہ عشاء کے لیے اترتے اور ان دونوں کو اکٹھا ادا کرتے۔
(ابو داؤد : 1208)
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت کا یہی مضمون ابو داؤد : 1220 میں بھی آیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، ابن باز رحمہ اللہ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ سب کا مسلک یہی ہے کہ مسافر دو نمازیں اکٹھی کر سکتا ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ صرف جمع صوری جائز ہے دیگر کوئی صورت جائز نہیں۔ وہ یہ کہ ایک نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھا جائے۔ اسی طرح دونوں نمازیں اکٹھی پڑھی جائیں گی لیکن اپنے اپنے وقت کے اندر اندر۔ اس لیے اسے جمع صوری کہتے ہیں یعنی دیکھنے میں یہ لگے کہ اکٹھی پڑھی ہیں لیکن اصل میں الگ الگ ہی پڑھی جائیں۔
(المغنی : 112/2 ـ الحجۃ لمحمد بن حسن الشیبانی : 159/1 – فقہ الحدیث، صلوۃ السفر)
ظہر و عصر کو جمع کرنے کا طریقہ :
➊ ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد عصر کی نماز بھی پڑھ لی جائے۔ یہ جمع تقدیم کہلاتی ہے۔
➋ زوال کے وقت سفر شروع کیا لیکن ظہر کی نماز نہیں پڑھی عصر کے وقت پہلے ظہر اور پھر عصر کی دو دو رکعت نماز اکٹھی ادا کر لی جائے ۔ یہ جمع تاخیر کہلاتی ہے۔
مغرب اور عشاء کو ملانے کا طریقہ :
➊ مغرب کی نماز کے ساتھ ہی عشاء کی نماز بھی پڑھ لی جائے یہ جمع تقدیم ہے۔
➋ مغرب دیر کر کے پڑھی جائے اور ساتھ ہی عشا بھی پڑھ لی جائے یہ جمع تاخیر کہلاتی ہے۔
➌ دو نمازوں کے درمیان وقفہ بھی کر سکتے ہیں۔
سفر میں نماز کے لیے اذان کہنا :
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے۔ تمہارا رب بکریوں کے اس چرواہے پر خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر اکیلا ہونے کے باوجود نماز کے لیے اذان کہتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ عز و جل فرماتا ہے : دیکھو ! میرے اس بندے کو جو نماز کے لیے اذان اور اقامت کہتا ہے اور مجھ سے ڈرتا ہے۔ میں نے اس بندے کو بخش دیا ہے اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔
(ابو داؤد : 1203 ۔ نسائی : 687 ۔ ابن حبان : 260)
حاصل :
➊ سفر میں نماز کے لیے اذان دی جاسکتی ہے۔
اکٹھی دو نمازوں کی الگ الگ اقامت :
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز جمع کی، ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ۔
(مسلم : 218 ۔ ابوداؤد : 1905 ابن ماجہ : 3774)
بغیر کسی عذر کے قیام میں اکٹھی دو نمازیں پڑھنا :
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشا کی نمازیں بغیر کسی خوف یا سفر کے اکٹھی پڑھیں۔
(ابو داؤد : 1210 ۔ مسلم باب جمع بین الصلوتین فی الحضر : 705 ۔ موطا : 144/1)
ایک روایت میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مقیم ہوتے ہوئے بغیر کسی خوف یا بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازیں جمع کر کے پڑھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد کیا تھا؟ انہوں نے کہا : یہی کہ امت کو مشقت نہ ہو۔
(ابو داؤد : 1211 ۔ مسلم : 706 ، 705)
مندرجہ ذیل حالات میں مقیم بھی دو نمازیں جمع کر سکتا ہے۔
➊ بیماری کی شدت کے باعث
➋ سخت بارش کی وجہ سے
➌ یا اگر کوئی شدید مجبوری در پیش ہو
سفر میں قرآت مختصر کرنا :
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی جس کی ایک رکعت میں سورہ التین کی تلاوت فرمائی۔
(ابو داؤد : 1221 ۔ بخاری : 767 ۔ مسلم : 464)
حاصل :
➊ سفر میں جب نماز قصر ہے تو قرآت بھی مختصر کی جائے۔
➋ اگر لمبی قرآت کر لے تو اسے گناہ بھی نہیں ہو گا۔
سفر میں سنتیں :
حفص بن عاصم بن عمر رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ایک سفر میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر (اپنی منزل پر) آگئے اور کچھ لوگوں کو قیام کرتے دیکھا اور پوچھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل (سنت) پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر مجھے نفل (سنت) ہی پڑھنے ہوتے تو میں اپنی (فرض) نماز پوری کر لیتا۔ اے بھتیجے! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھیں۔ حتی کہ اللہ نے ان کو قبض کر لیا اور میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں۔ انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں۔ حتی کہ اللہ نے انہیں قبض کر لیا۔ اور میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ نے ان کو قبض کر لیا۔ اور میں عثمان رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں حتی کہ اللہ نے ان کو قبض کر لیا۔
(ابو داؤد : 1223۔ مسلم : 689 ۔ بخاری : 1102 نیز دیکھئے بخاری : 1103، 1101)
اور اللہ کا فرمان ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں بہترین نمونہ ہے۔
(سورہ الاحزاب : 21)
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے خود دیکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد منزل مقصود تک پہنچنا چاہتے تو پہلے مغرب کی تکبیر کہلواتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تین رکعت پڑھا کرتے۔ پھر تھوڑے توقف کے بعد عشا پڑھاتے اور اس کی دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیتے۔ عشاء کے فرض کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنتیں وغیرہ نہیں پڑھتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے بعد کھڑے ہو کر نماز (تہجد) پڑھتے۔
(بخاری : 1092)
حاصل :
➊ سفر میں سنتیں نہ پڑھنا ہی سنت ہے۔
➋ اگر کسی نے لاعلمی میں سنتیں پڑھ لیں تو اسے گناہ نہیں ہوگا۔
سواری پر فرض نماز :
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر فرض نماز نہیں پڑھتے تھے اور فرماتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر نفل نماز پڑھ لیتے، اس کا منہ چاہے جدھر بھی ہوتا لیکن فرض نماز پڑھنا ہوتی تو سواری سے اتر جاتے اور قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔
(بخاری : 1099)
حاصل :
➊ سفر کے دوران فرض نماز سواری پر ادا کرنے کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔
➋ اگر یہ علم ہو کہ کئی دن تک سواری پر سفر جاری رہے گا اور سواری کو روکنا بھی اپنے بس میں نہیں تو اس صورت میں سواری پر فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے۔
➌ اگر سواری میں قیام یا قعدے کی صورت بیٹھنا ممکن ہو مثلاً ریل گاڑی یا ہوائی جہاز، پک اپ، کشتی وغیرہ تو ایسی صورت میں سواری میں فرض نماز ادا کرنا جائز ہے۔ چاہے قبلہ رخ ہو یا نہ ہو۔
➍ اگر سواری اپنے بس میں ہو تو اسے روک کر فرض نماز اتر کر ادا کی جائے گی۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے جدید فقہی مسائل از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
عورتوں کے لیے سواری پر نماز کا حکم :
عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا عورتیں اپنی سواری کے جانوروں پر نماز پڑھ لیا کریں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کسی حال میں انہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی پریشانی کی کیفیت ہو یا اطمینان کی۔
محمد بن شعیب راوی نے کہا : یہ فرائض کے متعلق بات ہے۔
(ابو داؤد : 1228 ۔ بیہقی : 7/2)
مراد یہ کہ خواتین سواری پر فرض نماز نہیں پڑھ سکتیں۔ انہیں چاہیے کہ قیام کے دوران نماز پڑھ کر سفر شروع کریں یا پھر منزل پر اتر کر نماز ادا کریں۔
سفر کے دوران نفل نماز :
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور نفل پڑھنا چاہتے تو اپنی اونٹنی کو قبلہ رخ کرتے اور تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کر لیتے پھر نماز پڑھتے رہتے، خواہ اس کا رخ کسی طرف بھی ہوتا۔
(ابو داؤد : 1225 ۔ احمد : 203/3 من حدیث ربعی بن عبد اللہ رحمہ اللہ)
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر نفل پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ قبلہ کی طرف تھا۔
(ابوداؤد : 1226۔ مسلم : 700- موطا : 150/1)
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں کسی نے یہ خبر نہیں دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے ضحٰی (چاشت) کی نماز پڑھتے دیکھا۔ ہاں! اُم ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں غسل کیا اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنی ہلکی پھلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ پوری طرح کرتے تھے۔
(بخاری : 1103)
ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ ملک شام سے واپس آئے تو ہم ان سے عین التمر میں ملے۔ میں نے دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کا منہ قبلہ سے بائیں طرف تھا، اس پر میں نے کہا کہ میں نے آپ کو قبلہ کے سوا دوسری طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا : اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی ایسا نہ کرتا۔
(بخاری : 1100)
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نفل اور وتر پڑھا کرتے تھے اس کا رخ خواہ کسی طرف ہی ہوتا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز اس پر نہ پڑھتے۔
(ابو داؤد : 1224 ۔ مسلم : 39/700 بخاری : 1098)
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹنی پر نفل پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اشاروں سے نماز پڑھ رہے تھے اس کا خیال کیے بغیر کہ سواری کا منہ کدھر ہے لیکن فرض نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں کرتے تھے۔
(بخاری : 1097)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا۔ میں واپس آیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مشرق کی طرف تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کے لیے رکوع سے زیادہ جھکتے تھے۔
(ابوداؤد : 1227۔ مسلم : 540)
نفل نماز سے مراد وہ تمام نمازیں ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفل کے طور پر پڑھا اور ان کا وقت فرض نمازوں سے قبل یا بعد میں نہیں رکھا۔
مثال :
➊ نماز ضحٰی (چاشت)، اشراق، اوابین
➋ تحیۃ الوضو
➌ تحیۃ المسجد
➍ نماز استخارہ
➎ نماز تراویح
➏ نماز کسوف و خسوف
➐ تہجد
اور اس کے علاوہ نوافل وغیرہ۔
حاصل :
➊ اپنے شہر کا سفر ہو یا بیرون شہر کا سفر، سفر طویل ہو یا مختصر نفل نماز سواری پر پڑھی جاسکتی ہے۔
➋ نفل نماز شروع کرتے وقت اگر سواری اپنے بس میں ہو تو قبلہ کی طرف رخ کر لینا چاہیے، بعد ازاں سواری کا رخ جدھر بھی ہو جائے کوئی حرج نہیں۔
➌ اگر سواری اپنے بس میں نہ ہو تو کسی طرف بھی رخ ہو نماز نفل شروع کی جاسکتی ہے اور مکمل کی جاسکتی ہے۔
➍ وتر نفل نماز ہے اس لیے یہ بھی سواری پر پڑھے جاسکتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وتر واجب ہیں اس لیے سواری پر نہیں پڑھے جاسکتے۔
➎ اگر قیام، رکوع اور سجود ممکن نہ ہو تو سواری پر نفل نماز اشاروں سے ادا کی جائے گی۔
➏ اگر قیام، رکوع سجدہ میں سے کوئی چیز ممکن ہے تو اسے اپنی اصل صورت میں ادا کیا جائے گا۔
➐ نفل نماز ادا کرنا ایک بہترین عبادت بھی ہے اور سفر کے وقت کا اچھا استعمال بھی۔
➑ سواری پر اور سفر میں نفل نماز کی سہولت در اصل دین حق کے آسان ہونے کی ایک دلیل ہے۔
مسافر امام کی اقتدا میں مقیم کی نماز :
عمر رضی اللہ عنہ جب مکہ تشریف لائے تو انہوں نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور فرمایا : اے مکہ والو! اپنی نماز پوری کر لو بے شک ہم تو مسافر لوگ ہیں۔
(موطا : 149/1 ۔ فقہ الحدیث)
حاصل :
➊ مسافر مقیم لوگوں کی امامت کرا سکتا ہے۔
➋ مسافر امام دو رکعت قصر پڑھے اور مقیم اس کے بعد اپنی نماز مکمل کر لیں۔
مقیم کی اقتداء میں مسافر کی نماز :
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا : مسافر کا کیا معاملہ ہے کہ جب وہ اکیلا نماز پڑھے تو قصر پڑھتا ہے اور مقیم امام کی اقتدا میں نماز پڑھے تو چار رکعتیں پڑھتا ہے۔ آپ نے کہا : یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
(مسند احمد : الفتاوی الاسلامیہ : 378/1 ۔ فقہ الحدیث)
حاصل :
➊ مسافر کو مقیم امام کی اقتدا میں پوری نماز پڑھنا چاہیے۔
اگر مسلسل نمازیں قضا ہو جائیں :
➊ اگر کسی ہنگامی صورت یا سفر میں ایک یا مسلسل دو یا دو سے زیادہ نمازیں قضا ہو جائیں تو ان کی قضا میں ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے گا۔
➋ مثلاً ظہر اور عصر کی نماز قضا ہوگئی اور مغرب کی نماز کا وقت آگیا تو پہلے ظہر، پھر عصر اور پھر مغرب ادا کی جائے گی۔
➌ اگر ظہر، عصر، مغرب قضا ہو گئی اور عشاء کا وقت آگیا تو پہلے ظہر، پھر عصر، پھر مغرب اور پھر عشا کی نماز ادا کی جائے گی۔
سفر نماز میں قضا نماز کا گھر میں آکر حکم :
➊ سفر میں قضا ہونے والی نماز گھر میں آکر پوری پڑھی جائے گی۔ کیوں کہ سفر ختم ہونے کی وجہ سے سفر کے احکام اب نہیں رہے۔
(دیکھیے احکام و مسائل ، ج دوم از عبد المنان نور پوری رحمہ اللہ)
➋ بعض علماء کے خیال میں گھر آکر سفر میں قضا ہونے والی نماز قصر ہی ادا کی جائے گی۔
دوران حج منی، عرفہ اور مزدلفہ میں نماز :
وہیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منی میں حالت امن میں دو رکعت نماز پڑھائی۔
(بخاری : 1083، 1656)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی میں دو رکعت قصر پڑھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بھی (ان کی اقتدا میں) دو رکعت نماز پڑھی۔ لیکن بعد میں آپ (عثمان رضی اللہ عنہ) نے منی میں پوری نماز پڑھی۔
(بخاری : 1082 ۔ 1655)
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ سے سنا کہ ہمیں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منی میں چار رکعت نماز پڑھائی۔ پھر اس کا ذکر میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا تو آپ نے کہا : «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی میں دو رکعت پڑھی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی منی میں دو رکعت پڑھی۔ کاش میرے حصہ میں ان چار رکعتوں کی بجائے دو مقبول رکعتیں ہوتیں۔
(بخاری : 1084)
مراد یہ کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے منی میں چار رکعت یعنی پوری نماز پڑھنے کو اچھا نہیں جانا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے چار رکعت پڑھانے پر اظہار افسوس کیا۔
عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی۔ بعد میں سفر نماز اپنی حالت پر رہی اور حضر کی نماز پوری کر دی گئی۔
زہری راوی کہتے ہیں کہ میں نے عروہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود کیوں (سفر حج میں) پوری نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کی۔
(بخاری : 350 ۔ مسلم : 685 ۔ موطا : 146/1)
عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دوران منی میں پوری نماز پڑھائی اور اس کی تاویل یہ کی کہ منی میں بہت سے مسلمان جمع ہیں وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ نماز دو رکعت ہی ہے۔
(تشریح بخاری از مولانا داؤد راز رحمہ اللہ ۔ ابو داؤد : 1198)
ڈرائیور اور ملاح کے لیے نماز کا حکم :
ڈرائیور اور ملاح حضرات روز سفر کرتے ہیں اور یہ ان کا پیشہ بھی ہے لیکن وہ مسافر ہیں اس لیے دوران سفر قصر کریں گے۔
(احکام و مسائل، از عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ، ج دوم)
ملازم اور طالب علم کے لیے نماز کا حکم :
اگر ملازم یا طالب علم روزانہ اپنی بستی سے نکل کر کسی ایسی بستی یا شہر میں جاتا ہے جو نماز قصر کی مسافت کی دوری پر ہے تو وہ اثنائے راہ اور وہاں جا کر نماز قصر پڑھے گا جب کہ گھر آ کر نماز پوری پڑھے گا۔
اگر ملازم یا طالب علم کچھ دن ملازمت کی جگہ پر رہے اور کچھ دن اپنے گھر رہے تو اگر وہ ملازمت یا اسکول والے شہر میں چار دن سے زیادہ رہے تو پوری نماز پڑھے گا اور اگر چار دن سے کم رہے تو قصر کرے گا البتہ دوران سفر قصر کر سکتا ہے بشرطیکہ یہ سفر تین فرسخ (22،23 کلومیٹر) کے برابر یا اس سے زیادہ ہو۔
(احکام و مسائل، ج دوم)
مولانا عبد الستار حماد رحمہ اللہ لکھتے ہیں : فقہائے اسلام نے وطن کی دو قسمیں لکھی ہیں :
➊ وطن اصلی : جہاں انسان اپنے گھر والوں کے ساتھ رہائش رکھتا ہے۔
➋ وطن اقامت : وہ مقام جہاں وہ شرعی مسافت (یعنی چار روز) سے زیادہ دنوں کے لیے رہائش پذیر ہو۔ مثلاً کاروبار، تعلیم یا کسی اور ضرورت کے تحت کسی دوسری جگہ جا کر رہنا۔ ایسی دونوں جگہوں پر نماز پوری پڑھی جائے گی۔
(فتاوی اصحاب الحدیث از مولانا عبد الستار حماد رحمہ اللہ)
بعض علما کے خیال میں وطن اصلی یعنی جائے اقامت صرف وہی ہے جہاں کسی شخص کے گھر والے رہتے ہوں اور دیگر تمام جگہوں پر وہ مسافر ہی کے حکم میں ہے، چاہے وہ ساری عمر کسی دوسری جگہ گزار دے۔ لہذا وہ نماز قصر ادا کرے گا۔
(فتوی مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ)
میکے میں قصر نماز :
اگر لڑکے یا لڑکی کی شادی ہوگئی اور ان کی رہائش ماں باپ سے الگ کسی اور شہر میں ہے، اگر یہ شہر قصر نماز کی مسافت کے برابر یا اس سے زیادہ دوری پر ہے تو وہ اپنے ماں باپ کے گھر آ کر قصر کریں گے۔
(احکام و مسائل، ج دوم از عبد المنان نور پوری رحمہ اللہ)
جہاں جائیداد ہو وہاں قصر کا حکم :
اقامت کا تعلق جائیداد سے نہیں رہائش سے ہے لہذا اگر کسی شہر میں جائیداد ہو تو بھی اگر وہاں رہائش نہیں ہے تو قصر نماز ہی ادا کی جائے گی، اگر جائیداد والے شہر میں اپنے یا بیوی بچوں کے لیے ذاتی مکان وغیرہ ہو تو اس میں آ کر نماز پوری پڑھی جائے گی۔
جب کہ مولانا عبدالستار حماد رحمہ اللہ کا خیال ہے کہ جہاں جائیداد ہو وہاں نماز پوری پڑھی جائے گی۔
(فتاوی اصحاب الحدیث از مولانا عبد الستار حماد رحمہ اللہ)
دو شہروں میں رہائش :
اگر کسی شخص کی دو شہروں میں رہائش ہو تو وہ دونوں میں جا کر مکمل نماز پڑھے گا۔
اگر کسی کی ایک بیوی ایک شہر میں رہتی ہو اور دوسری بیوی دوسرے شہر میں اور اس نے بیوی کو اپنی رہائش دے رکھی ہو تو یہ شخص اپنی بیوی کے ہاں جا کر پوری نماز پڑھے گا کیوں کہ بیوی کا گھر شوہر کا بھی گھر ہوتا ہے اور اگر بیوی اپنے میکے میں رہتی ہے تو یہ شوہر کا گھر نہیں لہذا شوہر یہاں قصر نماز پڑھے گا۔
ماخذ :
➊ صحیح بخاری تشریح از مولانا داؤد راز رحمہ اللہ۔
➋ صحیح مسلم۔
➌ سنن ابی داؤد تشریح صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ۔
➍ سنن ابن ماجہ تشریح صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ۔
➎ فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری رحمہ اللہ۔
➏ فقہ السنہ از عاصم الحداد رحمہ اللہ۔
➐ جدید فقہی مسائل از مولانا خالد سیف اللہ رحمانی رحمہ اللہ۔
➑ فتاوی اصحاب الحدیث از مولانا عبد الستار حماد رحمہ اللہ۔
➒ احکام و مسائل از مولانا عبد المنان نور پوری رحمہ اللہ۔