صنعت و حرفت، ہاتھ کی کمائی اور ممنوع پیشے اسلام کی نظر میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

صنعت و حرفت :

اسلام نے زراعت کی ترغیب بھی دی ہے اور اس کی خوبیاں بھی بیان کر دی ہیں، نیز اس خدمت کو باعث ثواب بھی قرار دیا ہے، لیکن اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ ملتِ اسلامیہ کی سرگرمیاں صرف زراعت کے لیے وقف ہو کر رہ جائیں، جس طرح سیپی کا کیڑا سیپی کے اندر رہ جاتا ہے۔ اسلام نے اپنے پیروؤں کے لیے صرف کاشتکاری پر اکتفاء کرنا اور بیلوں کی دُم کے پیچھے پیچھے چلتے رہنا ناپسند کیا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ملت پیش آمدہ خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکے گی، اس لیے اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باعث ذلت قرار دیا اور زمانہ نے اس کی پوری طرح تصدیق کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا تبايعتم بالعينة وأخذتم أذناب البقر ورضيتم بالزرع وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه عنكم حتى ترجعوا إلى دينكم
” جب تم عینہ کی بیع کرنے لگو گے (ایک خاص قسم کی بیع جس میں سود کی شکل پیدا ہو جاتی ہے) اور بیلوں کی دُم پکڑے رہو گے زراعت کو پسند کرو گے اور جہاد کو ترک کرو گے تو اللہ تم پر ذلت مسلط فرمائے گا، پھر اسے دور نہیں کرے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف لوٹ نہ آؤ۔“
ابو داود کتاب البيوع باب في النهي عن العينة ح : 3462
لہذا زراعت کے ساتھ ساتھ صنعت و حرفت اور جہاد کی تیاری بھی ضروری ہے۔
ان چیزوں کے ذریعہ خوشگوار زندگی کی ضرورتیں اور ایک آزاد اور طاقتور اُمت نیز ایک مستحکم اور خود کفیل حکومت کے لوازمات پورے ہو سکتے ہیں۔ صنعت وحرفت اسلام کی رُو سے ایک جائز خدمت ہی نہیں ہے بلکہ جیسا کہ علماء اور ائمہ نے کہا ہے فرض کفایہ ہے۔ اس مفہوم میں کہ اسلامی جماعت کے اندر صنعت و حرفت اور ہر فن کو جاننے والے اتنی وافر تعداد میں رجال کار ہونے چاہئیں کہ اسلامی حکومت کی ضرورتیں پوری ہو جائیں اور وہ اپنا کام ٹھیک طریقہ سے انجام دے سکے۔ اگر صنعت و فن کے کسی گوشہ میں اس طرح کمی واقع ہو جاتی ہے کہ اس خدمت کو انجام دینے والا کوئی شخص بھی نہیں ملتا تو پوری جماعت گنہگار ہو جاتی ہے اور خاص طور سے اولوالامر اور اہل حل و عقد۔
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”فرض کفایہ ہر وہ علم ہے جس سے انسان دنیوی معاملات میں بے نیاز نہیں ہوسکتا، جیسے طب کہ بقائے جسم کے لیے ضروری ہے۔ اور حساب کہ معاملات اور وصیت و میراث کی تقسیم وغیرہ کے لیے ضروری ہے۔ اور یہ ایسے علوم ہیں کہ اگر کوئی شہر ان کے جاننے والوں سے خالی ہو جائے تو لوگ تکلیف میں پڑیں گے۔ اور جب کوئی شخص ان کاموں میں لگ جاتا ہے تو دوسروں پر سے ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہماری رائے میں اس بات پر تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ طب اور حساب فرض کفایہ ہیں اور بنیادی نوعیت کے کام اور صنعتیں بھی فرض کفایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً : زمین جوتنا، کپڑے بننا، جانوروں کی دیکھ بھال کرنا، بلکہ پچھنے لگانا اور سلائی کا کام کرنا بھی۔ اگر کوئی شہر پچھنے لگانے والوں سے خالی ہو جائے تو ہلاکت تیزی کے ساتھ لوگوں کی طرف بڑھے گی، کیونکہ جس نے بیماری پیدا کی ہے اس نے دواء بھی پیدا کی ہے اور اس کے استعمال کی طرف رہنمائی بھی کی ہے نیز اس کی فراہمی کے اسباب بھی مہیا کیے ہیں، لہذا ان کو ترک کر کے اپنے کو ہلاکت کے لیے پیش کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔“
قرآن نے کتنی ہی صنعتوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور ان کا ذکر نعمت کی حیثیت سے کیا ہے۔ مثلاً سیّدنا داود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا :
وَ أَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ 10 أَنِ اعْمَلْ سَبِغٰتٍ وَ قَدِّرْ فِى السَّرْدِ
”ہم نے لوہے کو ان کے لیے نرم کر دیا کہ زرہیں بناؤ اور ان کی کڑیاں ٹھیک اندازہ سے جوڑو۔“
السباء : 10-11
وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْ بَأْسِكُمْ ۚ فَهَلْ أَنْتُمْ شٰكِرُونَ
”اور ہم نے انہیں تمہارے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی، تاکہ لڑائی میں تمہارا بچاؤ کرے۔ پھر کیا تم شکر گزار ہو؟“
الانبياء : 80
اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کے بارے میں فرمایا :
وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ 12 يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ
”اور ہم نے ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا۔ اور ایسے جن ان کے تابع کیے جو اپنے رب کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب چکھاتے۔ وہ ان کے (سلیمان کے) لیے بناتے جو انہیں منظور ہوتا، اونچی عمارتیں، مجسمے، بڑے بڑے حوض (جیسے لگن) اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں، اے آلِ داود شاکرانہ طریقہ پر عمل کرو۔“
السباء : 12-13
اسی طرح قرآن نے ذوالقرنین کے لوہے کی بلند و بالا دیوار تعمیر کرنے اور سیدنا نوح علیہ السلام کے کشتی بنانے کا ذکر فرمایا ہے، اور اس کے علاوہ بہت سی سورتوں میں شکار کی مختلف قسموں کا ذکر فرمایا ہے۔ مثلاً : مچھلی کا شکار، آبی جانوروں کا شکار اور خشکی کے جانوروں کا شکار۔ نیز موتی اور مرجان وغیرہ نکالنے کے لیے غوطہ لگانا۔
اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن نے لوہے کی صحیح قدر و قیمت بتا دی جس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی، نہ کسی دینی کتاب میں اور نہ دنیوی کتاب میں۔ فرمایا :
وَ أَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ
”اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت قوت ہے اور لوگوں کے لیے منافع بھی ہیں۔“
الحديد : 25
جس ہنر یا پیشہ سے معاشرہ کی ضرورت پوری ہوتی ہو یا اس سے حقیقی فائدہ پہنچتا ہو وہ عمل صالح ہے جبکہ اس کو اختیار کرنے والا خلوص اور ہنر مندی کے ساتھ اس کو انجام دے جیسا کہ اسلام نے حکم دیا ہے۔ اسلام نے ایسے کتنے پیشوں کو معزز بنایا جو لوگوں کی نظروں میں حقیر تھے مثال کے طور پر بکریاں چرانے والے کو لوگ عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے :
ما بعث الله نبيا إلا رعى الغنم، قالوا وأنت يا رسول الله؟ قال نعم كنت أرعاها على قراريط لأهل مكة
”اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔“ صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے بھی؟ فرمایا : ” ہاں، میں مکہ والوں کی بکریاں اُجرت پر چرایا کرتا تھا۔“
بخاری کتاب الاجارة : باب رعى الغنم على قراريط ح : 2262
محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، بکریاں چرایا کرتے تھے! اور پھر اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بکریاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ مقررہ اجرت پر اہل مکہ کی بکریاں چراتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروؤں کو یہ قصہ سنایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ عزت و افتخار کام کرنے والوں کے لیے ہے نہ کہ عیش پرستوں اور بے کاروں کے لیے۔
قرآن نے ہمیں سیدنا موسی علیہ السلام کا قصہ سنایا ہے کہ آپ نے ایک بوڑھے بزرگ کے پاس اُجرت پر کام کیا تھا۔ اس بزرگ نے آٹھ سال تک خدمت کرنے کی شرط پر اپنے ہاں رکھ لیا تھا، جس کا معاوضہ یہ طے ہوا تھا کہ وہ اپنی ایک لڑکی کا نکاح آپ سے کردیں گے۔ سیدنا موسی علیہ السلام بڑے اچھے خادم اور اجیر ثابت ہوئے اور اس بزرگ کی لڑکی کی فراست صحیح ثابت ہوئی :
قَالَتْ إِحْدٰىهُمَا يٰأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ
”ان دو میں سے ایک لڑکی نے کہا : ابا جان! انہیں ملازم رکھ لیجئے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو قوی بھی ہو اور امانت دار بھی۔“
القصص : 26
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سیدنا داود علیہ السلام زرہ بناتے تھے، سیدنا آدم علیہ السلام کاشتکاری کرتے تھے، سیدنا نوح علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے، سیدنا ادریس علیہ السلام سلائی کا کام کرتے تھے اور سیدنا موسی علیہ السلام بکریاں چرانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔
مستدرك حاكم (2 / 596) (واسناده موضوع لاجل عبد المنعم فقد كذبه احمد وغيره)
لہذا مسلمان کو اپنے پیشہ پر خوش ہونا چاہیے کیونکہ ہر نبی کوئی نہ کوئی پیشہ اختیار کرتا رہا ہے اور صحیح حدیث میں ہے :
ما أكل أحد طعاما قط خيرا من أن يأكل من عمل يده ۖ وإن نبي الله داود كان يأكل من عمل يده
”جس نے اپنے ہاتھ سے کام کر کے کھایا اس سے بہتر کسی کا کھانا نہیں ہے اور اللہ کے نبی داود علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کام کر کے کھاتے تھے۔“
بخاری کتاب البیوع باب كسب الرجل وعمله بيده ح : 2072

ممنوع کام اور پیشے :

البتہ کچھ کام اور پیشے ایسے ہیں جن کو اختیار کرنا اسلام نے اپنے پیروؤں کے لیے حرام ٹھہرایا ہے۔ ان کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ معاشرہ کے عقیدہ، اخلاق، عزت اور تہذیبی اقدار کے لیے یہ چیزیں سخت مضر ہیں۔

قحبہ گری :

مثال کے طور پر زنا کاری کو اسلام نے حرام ٹھہرایا ہے لیکن اکثر مغربی ممالک نے اس پیشہ کو جائز کر دیا ہے۔ اور وہ اس کی اجازت بلکہ باقاعدہ لائسنس دیتے ہیں اور طوائف کے پیشہ کو بھی دیگر پیشوں کی طرح ایک پیشہ قرار دے کر ان کو حقوق عطا کرتے ہیں، جبکہ اسلام نے اس پیشہ کی جڑ پر تیشہ چلایا ہے اور کسی آزاد عورت یا لونڈی کے لیے یہ جائز نہیں رکھا کہ وہ جسم فروشی کو کمانے کا ذریعہ بنالے۔ بعض اہل جاہلیت لونڈیوں پر یومیہ ٹیکس عائد کرتے تھے۔ یہ ٹیکس انہیں اپنے مالکوں کو ادا کرنا پڑتا تھا خواہ کسی طریقہ سے کما کر لائیں اور اس کی ادائیگی کے لیے کتنی ہی لونڈیاں زنا کا پیشہ اختیار کرتی تھیں۔ اور بعض اہل جاہلیت ان کو اس کام کے لیے بالکل مجبور کر دیتے تھے تاکہ دنیا کا حقیر فائدہ اور گھٹیا اور ناپاک کمائی حاصل کریں۔ جب اسلام آیا تو اس نے اپنے فرزندوں اور اپنی دختروں کو اس پستی سے نکالا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا :
وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا
”اپنی لونڈیوں کو قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں، محض اس لیے کہ دنیوی فائدہ تم کو حاصل ہو جائے ؟“
النور : 33
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن ابی (رئیس المنافقین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس کے ساتھ اس کی لونڈی بھی تھی جو بہت زیادہ خوبصورت تھی اور جس کا نام معاذہ تھا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لونڈی فلاں یتیموں کی ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے زنا کی اجازت دیں گے تاکہ اس کا نفع ان یتیموں کو ملے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔
هذا منكر و اخرجه مسلم في كتاب التفسير باب في قوله تعالى (ولا تكرهوا فتيتكم) ح : 3029 بلفظ اخر، وللتفصيل انظر تفسير الدر المنثور – (5/ 46-47) تفسير رازي – ج 23 ص 220
اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گندے پیشہ کی بالکل ممانعت کر دی، خواہ اس کی کمائی سے کسی مجبور کو فائدہ پہنچتا ہو اور خواہ کیسی ہی ضرورت اور کتنا ہی اچھا مقصد کیوں نہ پیش کیا جائے تاکہ اسلامی معاشرہ اس قسم کی خبیث اور مہلک باتوں سے پاک رہے۔

رقص اور جنسی جنون :

اسی طرح اسلام رقص کے پیشہ کا بھی قائل نہیں ہے جو صنفی جذبات کو ابھارتا ہے اور نہ کسی ایسی چیز کا قائل ہے جو طبیعت میں جنسی ہیجان پیدا کرتی ہے مثلاً : فحش گانے، حیا سوز ایکٹنگ اور اس قسم کے دوسرے بے ہودہ کام۔ اگرچہ لوگوں نے اس قسم کی چیزوں کا نام ”فن“ رکھا ہے اور اس کو ”ترقی“ میں شمار کرتے ہیں لیکن الفاظ کا یہ نہایت گمراہ کن استعمال ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے نکاح کے علاوہ ہر قسم کے جنسی تعلق کو حرام قرار دیا ہے اور ہر اس قول و عمل کو جو ناجائز تعلقات کا دروازہ کھول دے، حرام ٹھہرایا ہے۔ قرآن نے زنا کی حرمت بیان کرنے کے لیے جو معجزانہ اسلوب اختیار کیا ہے اس میں یہی راز مضمر ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ہے :
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰى ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَ سَاءَ سَبِيلًا
”زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بے حیائی کا فعل اور بہت برا راستہ ہے۔“
الاسراء : 32
یعنی زنا کی ممانعت پر اکتفاء نہیں فرمایا، بلکہ اس کے قریب جانے کی بھی ممانعت فرمائی۔ اوپر ہم نے جو باتیں بیان کیں نیز جن باتوں کو لوگ جذبات انگیز سمجھتے ہیں وہ سب اس بے حیائی سے قریب کرنے والی باتیں ہیں بلکہ اس پر آمادہ کرنے والی اور اس کی ترغیب دینے والی ہیں۔ تو یہ کتنے برے کام ہیں جو لوگ کرتے ہیں !

مجسموں اور صلیب وغیرہ کی صنعت :

اسلام میں مجسمے حرام ہیں، جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اور مجسمہ سازی کی حرمت اور زیادہ شدید ہے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں :
كنت عند ابن عباس إذ جاءه رجل فقال يا ابن عباس إني رجل إنما معيشتى من صنعة يدى وإنى أصنع هذه التصاوير فقال ابن عباس لا أحدثك إلا ما سمعت من رسول الله سمعته يقول من صور صورة فإن الله يعذبه حتى ينفخ فيها الروح وليس بنافخ فيها أبدا فربا الرجل ربوة شديدة فقال ابن عباس ويحك إن أبيت إلا أن تصنع فعليك بهذا الشجر وكل شيء ليس فيه روح
”میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے کہا : ”اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! میرا ذریعہ معاش کاریگری ہے اور میں اس قسم کی تصویریں بناتا ہوں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے وہی تمہیں سناؤں گا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو تصویر بنائے گا اسے اللہ تعالیٰ عذاب دیتا رہے گا حتی کہ وہ اس میں روح پھونک دے لیکن وہ کبھی اس میں روح پھونک نہ سکے گا۔“ یہ سن کر اس شخص کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: ”اگر تم تصویر بنانا ہی چاہتے ہو تو پھر درخت وغیرہ یا غیر ذی روح کی تصویریں بناؤ۔“
بخاری کتاب البيوع : باب بيع التصاوير التي ليس فيها روح ح : 2225 ۔ مسلم کتاب اللباس : باب تحریم تصویر صورة الحيوان ح : 2110
یہی حکم بت، صلیب اور ان جیسی دوسری چیزوں کا ہے۔
رہی فوٹو گرافی کی تصویریں تو ہم بیان کر چکے ہیں کہ شریعت کی روح سے قریب تر بات یہ ہے کہ یہ جائز ہیں یا زیادہ سے زیادہ انہیں مکروہ کہا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ فی نفسہ حرام مقصد کے لیے نہ ہوں، مثلاً عورتوں کے ان اعضاء کو نمایاں کرنا جن سے فتنہ کا احتمال ہو یا ایسی تصویر جس میں مرد کو عورت سے بوس و کنار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہو نیز ایسی تصویریں جن کی تعظیم و تقدیس کی جاتی ہے جیسے ملائکہ، انبیاء وغیرہ کی تصویریں۔

نشہ آور اور مخدر عقل اشیاء کی صنعت :

اس سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ اسلام نے شراب کی ترویج میں کسی بھی قسم کی شرکت کو حرام ٹهرایا ہے۔ خواہ اسے بنایا جائے یا تقسیم کیا جائے یا نوش کیا جائے۔ جو شخص بھی اس کا مرتکب ہوگا وہ بزبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ملعون ہے۔
حشیش اور افیون جیسی مخدر عقل چیزوں کی حرمت بھی نشہ آور چیزوں ہی کی طرح ہے۔ ان چیزوں کا لین دین ان کی تقسیم اور ان کی صنعت سب ہی حرام ہیں۔ اسی طرح اسلام اس بات کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ مسلمان کوئی ایسی صنعت یا پیشہ اختیار کرے، جو حرمت پر مبنی ہو یا جس سے کسی حرام چیز کی ترویج ہوتی ہو۔